Punjabi Sufi

Punjabi Sufi اک بار درود شریف پڑھ لیجیئے

03/05/2023

تحریر: مجنوں بھائی
تاریخ انسانی

قرآن کریم میں بیان کیا گیا ہے کہ حضرت صالح علیہ السلام کی قوم آپ کو جھوٹا کہتی تھی.
ان لوگوں کا اعتراض یہ تھا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ انہی میں سے ان کا ایک رشتہ دار نوجوان اٹھ کر ان کے کفر و شرک پر انگلیاں اٹھانے لگتا. ایک ایسا بچہ جو ان کے سامنے پیدا ھوا پلا بڑھا جوان ھوا اور چالیس سال کی عمر کو پہنچ کر ان کے سامنے دعوے کرنے لگا کہ اسے اللہ کی طرف سے نبی بنا کر بھیجا گیا ہے وہ سوچتے کہ وہ نہ تو کہیں گیا تھا اور نہ ہی باھر سے کوئی شخص آیا تھا جو اس کو ایسی باتوں کی تعلیم دیتا پھر کیسے ممکن تھا کہ وہ خود کو ان سے الگ قرار دے رہا تھا.

آپ کو اس سارے خطے میں سب سے بڑا جھوٹا قرار دے دیا گیا (نعوذبااللہ) یہ خطہ شام اور حجاز کے درمیان وادی القریٰ میں مختلف شہروں کی شکل میں تھا یہ سبھی کے سبھی لوگ اس زمانے میں روئے زمین پر خدا کے سب سے بڑے نافرمان تھے.عرصہ دراز تک مسلسل تبلیغ کرنے کے بعد صرف چند درجن افراد نے آپ کی باتوں پر یقین کیا اور گناہوں کی زندگی ترک کر کے ایک اللہ پر ایمان لے آئے تھے. ان افراد کا تعلق انتہا غریب اور پسے ہوئے طبقے سے تھا ۔یہ عموماً ھوتا ھے کہ ھمیشہ سے ھدایت کا راستہ معاشرے کے سب سے کمزور ترین افراد کو ہی ملتا رہا ہے آپ علیہ السلام نے اتنی قلیل تعداد کے ایمان لانے پر بھی اللہ کا شکر ادا کیا ۔ آپ پہلے کی طرح اپنے ان ساتھیوں کے ھمراہ روزانہ صبح اپنی قوم کے افراد کے پاس جا کر ان کو اللہ تعالیٰ کی راہ کی طرف آنے کی دعوت دیا کرتے. لیکن یہ قوم دنیا کی زندگی کی رنگینیوں میں اس قدر کھو چکی تھی کہ ان کے پاس اپنے خالق کے بارے میں سوچنے کا وقت ہی نہیں تھا جیسا کہ میں بتا چکا ہوں کہ ان کے پاس قدرتی وسائل کی فراوانی تھی ان کے کھیت فصلوں کی شکل میں دولت اگلتے باغات ان کے لیے لذیذ ترین شیریں پھل اگایا کرتے نہریں ندیاں اور جھرنے ان کو جنت جیسا خوبصورت ماحول فراھم کرتے تھے. ساتھ میں یہ لوگ پیشہ ور سنگ تراش تھے ان جیسی سنگ تراشی کے نمونے تاریخ میں کہیں نہیں ملتے. آج سے چھ ھزار سال پہلے ان لوگوں نے ایسی جدید مشینیں ایجاد کر لی تھیں جو سنگلاخ پہاڑوں کو مکھن کی طرح کاٹ دیا کرتیں اور پھر ان کے ذریعے اتنی آسانی سے پہاڑی گھروں میں نقش و نگار بنا لیا کرتے کہ آج بھی سنگ تراشی کے خوبصورت نمونوں کو دیکھ کر انسان حیرت میں ڈوب کر رہ جاتا ہے ان کے ہاں یہ کاروبار عروج پر تھا یقینا ان کے ہاں ایسی کنسٹرکشن کمپنیاں اور انجینیرز تھے جو لوگوں کے لیے نت نئے طریقے اور ڈیزائنوں سے گھر بنایا کرتے تھے یقینا ایسے بلڈرز گروپ ھونگے جو وسیع و عریض پہاڑی ٹاؤن تخلیق کرکے دولت کمایا کرتے ھونگے صابن اس دور میں ہی ایجاد ہوا تھا اور حضرت صالح علیہ السلام کی قوم ہی صابن کی موجد سمجھی جاتی ہے ۔ صابن انڈسٹری کے ذریعے بھی کئی لوگ دولت کے انبار لگائے ہوئے تھے ۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ وہ کوئی غیر ترقی یافتہ یا غیر تہذیب یافتہ قوم نہ تھے بلکہ ھم سے زیادہ قابل اور تعمیراتی شعبے میں ھم سے کہیں زیادہ آگے تھے.

اتنی تفصیل بیان کرنے کا میرا مقصد یہ ہے کہ میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ اس وقت کیسے حالات تھے جس کی وجہ سے یہ لوگ آپ علیہ السلام کو جھٹلاتے تھے آپ خود ہی فیصلہ کیجیے اتنی ترقی یافتہ اور معاشی سپرپاور کے پاس اللہ کی باتیں سننے کا کہاں وقت تھاوہ حضرت صالح علیہ السلام کو ایسا کند زھن کم فہم اور بیوقوف شخص سمجھتے تھے جو خود تو اس قابل نہیں تھا کہ کچھ روپیہ پیسہ کما سکتا، کوئی کنسٹرکشن کمپنی بنا کر یا پھر کھیتی باڑی کے ذریعے دولت کما سکتا اس کی بجائے وہ ان کا مزا کرکرا کرنے ا جایا کرتا تھا. کئی بار آپ علیہ السلام کو نعوذبااللہ قتل کرنے کا پروگرام بنایا گیا لیکن آپ گرد ھر وقت آپ کے جانثاروں کا گروہ موجود رھتا جس کی وجہ سے یہ لوگ ناکام تھے.ثمود والوں میں ایک گروہ تو بالکل پکے پکے ایتھئیسٹ کا تھا جو کسی بھی دین مذھب یا خدا کو سرے سے مانتے ہی نہ تھے جبکہ اکثریت بت پرستوں پر مشتمل تھی سنگتراشی میں مہارت کی وجہ سے وہ پتھر کے بت بھی ایسے ایسے شاندار تراشا کرتے تھے جیسے زندہ انسان ھوں. دکھ اور افسوس کی بات یہ تھی کہ یہ لوگ اپنی ساری ترقی اور کامیابی کا کریڈٹ انہی بتوں کو دیا کرتے تھے. حالانکہ یہ وہ خوش قسمت لوگ تھے جن کو اللہ نے اس قدر سہولتیں دے کر ان کے لیے آسان کر دیا تھا کہ وہ ھر فکر سے بے نیاز ہو کر اپنے خالق کی حمد و ثنا کریں اس کی عبادت کریں اس کا شکر ادا کریں اور اس کے نیک بندوں میں شامل ہو جائیں. وہ لوگ آپ کا ان الفاظ میں مذاق اڑاتے کہ اگر ھم باطل پرست ھوتے تو ھم کو یہ دھن دولت سرسبز و شاداب باغات رزق اور مال و دولت کی ایسی فراوانی حاصل نہ ھوتی. ھمارے عالیشان محلات اور بارعب عظیم پہاڑوں میں ھمارے سنگلاخ گھر ھماری شان نہ بڑھا رھے ھوتے. حضرت صالح علیہ السلام ان کو یہ سب اللہ کی نعمتیں بتایا کرتے لیکن وہ ھنس کر بات کانوں کے اوپر سے گزار دیا کرتے. جب آپ علیہ السلام نے ھمت نہ ھاری اور مسلسل تبلیغ میں لگے رھے تو آپ کی قوم کے بڑوں نے ایک میٹنگ بلائی جس میں قوم کے سرکردہ اور دانشور افراد شامل تھے. اس اجلاس کا ایجنڈا یہ تھا کہ کیسے صالح علیہ السلام کو ان کی سرگرمیوں سے باز رکھا جا سکے اجلاس میں شریک ھر شخص کا خیال تھا کہ اگر صالح کو نہیں روکا گیا تو نئی نسل کو ان کی گمراہ کن تعلیمات متاثر کر سکتی تھیں جس سے قوم کے لوگ گمراہ ھو کر ان کے خداؤں کے منکر ھو سکتے تھے جس کے نتیجے میں ان پر عذاب نازل ھو جاتا اور ان کی خوشحالی ختم کر دی جاتی. میٹنگ میں اس بات پر غور کیا گیا کہ کچھ ایسا کیا جائے جس کی وجہ سے حضرت صالح علیہ السلام اپنی تبلیغی سرگرمیوں سے بھی باز ا جائیں اور ان کے کے ماننے والے بھی ان سے بدظن ھو کر ان کو جھوٹا سمجھنے لگ جائیں ان سے دور ھو جائیں ان سے متنفر ھو جائیں. بہت زیادہ غور و خوض کے بعد طے کیا گیا کہ مناظرے کی قسم کا کوئی پروگرام ترتیب دیا جائے جو کھلے عام ھو اور اس میں جب آپ علیہ السلام کو ناکامی ھو تو اس ناکامی کو بھرہور طریقے سے کیش کیا جائے لوگوں کو آپ علیہ السلام سے متنفر کیا جائے. دوسرے گروہ نے بھی مناظرے کی حمایت کی لیکن ساتھ ہی ایک اور نئی تجویز دی کہ مناظرہ ایسا ھو جس کے بعد حضرت صالح علیہ السلام تبلیغی سرگرمیوں سے باز ا جائیں ان کے ساتھ بھی ان سے بدظن ھو جائیں اور ساتھ میں ان کے خداؤں کی ایسی سچائی سامنے ا سکے جس سے بھٹکے ہوئے لوگ واپس بھی ا جائیں اور ھمیشہ کے لیے کسی بھی تبلیغ کرنے والے کا راستہ بند ہو جائے.

دیر تک غور و فکر اور بحث و مباحثہ کے بعد طے کیا گیا کہ مناظرے میں حضرت صالح علیہ السلام کو ھرانے اور نیچا دکھانے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ اپنے معبودوں اور صالح کے خدا کا مقابلہ کروایا جائے. ان لوگوں کو پختہ یقین تھا کہ ان کے معبود بت ان کے ساتھ ہیں اور ان کی خوشحالی اور مال و دولت کی فراوانی کی اصل وجہ وہی تھے. ان کا ایمان تھا کہ یہ مقام و مرتبہ انہی کی دین تھا نعوذبااللہ۔.

کچھ کا خیال تھا کہ یہ ایک مشکل مرحلہ ھوگا ان کے دلوں میں ایک خوف تھا کہ اگر ان کے بتوں نے ان کی مناجات قبول نہ کی اور کوئی معجزہ نہ دکھایا تو پھر کیا ان کو صالح علیہ السلام کے خدا پر ایمان لانا پڑے گا؟ انہوں نے جب اجلاس میں اپنے اس خدشے کا اظہار کیا تو ان کو کہا گیا کہ فکرمند ھونے کی ضرورت نہیں ہے. اگر ھمارے خداؤں نے ھماری دعا قبول کرتے ہوئے ھماری کوئی بات نہ مانی تو ھم صالح کے خدا کے لیے بھی ایک ایسا ناممکن العمل چیلنج دیں گے جسے وہ پورا نہ کر سکے گا چنانچہ ھم نہ اپنے خداؤں کو چھوڑیں گے نہ اس کے خدا کو ماننا پڑے گا. اجلاس کے تمام شرکاء اب ایک نکتے پر متفق ھو گئے تھے کہ پہلے ھم اپنے خداؤں کے سامنے دعا کریں گے فلاں معجزہ رونما ہو جائے. اگر وہ معجزہ رونما نہ ھوا تو ھم شور مچا دیں گے کہ ھمارے خدا صالح علیہ السلام کی گستاخیوں کی وجہ سے ھم سے روٹھ چکے ہیں اس لیے ھماری کوئی دعا قبول نہیں کر رھے. اس لیے اب ھم صالح علیہ السلام کے خدا سے معجزہ طلب کریں گے. اجلاس میں شریک اھل دانش نے معجزے کے طور پر جو ثبوت مانگنے کا مشورہ دیا وہ نہایت ہی عجیب و غریب اور بھونڈا سا تھا. کیونکہ وہ سنگ تراشی کے ماھر تھے اس لیے انہوں نے پتھروں میں سے ہی کسی زندہ جاندار کے تخلیق کیے جانے کا معجزہ طلب کرنے کا فیصلہ کر لیا۔.

طے کیا گیا کہ صالح علیہ السلام سے کہا جائے گا کہ وہ لوگ کیونکہ سنگتراشی کے ماھر ہیں ان کے گھر اور خدا انہی پہاڑوں کے پتھروں سے تخلیق کیے جاتے ہیں لہذا صالح علیہ السلام کا خدا بھی موقع پر بغیر ایک سیکنڈ ضائع کیے انہی پتھروں کے اندر سے ایک ایسی اونٹنی پیدا کرے جو دس ماہ کی حاملہ ہو تاکہ پتھروں سے تخلیق ھوتے ہی وہ ایک بچے کو بھی جنم دے ،اور پھر ظاھر ھے بچے کی پیدائش کے ساتھ ہی اس کے تھنوں میں دودھ بھی اتر آئے گا. اس کے بعد وہ اونٹنی ان کے درمیان ہی رھے گی. بظاھر یہ ایک انتہائی ناممکن سا کام لگتا تھا بڑی ہی چالاکی اور ذھانت سے ایک تخلیق کے نتیجے میں بہت سی تخلیقات کا مطالبہ کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا تھا. پتھروں سے اونٹنی کی تخلیق اور اونٹنی سے اس کے بچے کی تخلیق اور بچے کی تخلیق کے ساتھ ہی دودھ کی تخلیق.. ان کے لیے . یہ طے ھونے کے بعد اجلاس برخاست کر دیا گیا تھا۔.

اگلے روز جب حضرت صالح علیہ السلام اپنی قوم کی تبلیغ کے لیے نکلے تو سب نے نہایت خوشدلی سے آپ سے بات کی اور ھر شخص نے کہا کہ اے صالح علیہ السلام ھم نے فیصلہ کر لیا ہے کہ ھم تمہاری بات سنیں گے اور مانیں گے تیرے رب پر ایمان بھی لائیں گے تم کو ھماری ایک شرط ماننا پڑے گی. آپ علیہ السلام کو ان کی باتوں سے خوشی ہوئی. آپ نے پوچھا کون سی شرط ماننا پڑے گی. انہوں نے کہا کہ شرط کے بارے میں ھمارے بڑے بتائیں گے لیکن اے صالح ء آپ کا ھمارا جھگڑا اب ھمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گا. چنانچہ آپ کی ملاقات کل کے اجلاس والے سب سے معزز افراد سے ملاقات کا اھتمام کیا گیا. انہوں نے حضرت صالح علیہ السلام سے کہا اے صالح !ھمارے بھائی ھم تمہاری بات ماننے کے لیے تیار ہیں ھم ضرور تیرے رب پر ایمان لے آئیں گے لیکن ھماری ایک شرط ہے فلاں دن ھم اپنے خداؤں کو سجا سنوار کر شہر سے باھر سب سے بڑے میدان میں لے آئیں گے تم بھی اپنے پیروکاروں کے ھم راہ وہاں ا جانا. وہاں ھم اپنے رب سے بھی کوئی معجزہ طلب کریں گے اور تمہارے رب سے بھی.... جس کے رب نے معجزہ دکھا دیا اس کے رب کو سچا مان لیا جائے گا اور اس پر ایمان لے آئیں گے. حضرت صالح علیہ السلام نے ان کا چیلنج قبول کر لیا اور فرمایا کہ ٹھیک ہے میں تم لوگوں کی ھر شرط ماننے کو تیار ھوں لیکن آیک بات یاد رکھنا جب میرے رب سے اس کی سچائی کا معجزہ مانگ لیا جائے اور معجزہ رونما ھونے کے بعد بھی اگر اس پر ایمان نہ لایا جائے تو اس کا قانون ھے کہ وہ اس کے بعد کوئی رو رعایت نہیں کرتا ایمان نہ لانے والوں کو شدید عذاب کا سامنا کرنا پڑتا ہے. آپ علیہ السلام کی قوم کے بڑوں نے آپ کی یہ شرط منظور کر لی۔.

مقررہ دن پر بت پرستوں نے صبح صبح بتوں کو نہلا دھلا کے خوبصورت شاہی لباس پہنائے ان کو خوبصورت سجی سجائی سواریوں پر بڑی شان کے ساتھ بٹھایا گیا اور جلوس کی شکل میں شہر سے باھر پہاڑوں کے درمیان میں وسیع و عریض میدان کی طرف روانہ ھو گئے. دوسری جانب حضرت صالح علیہ السلام اپنے ایک سو بیس اھل ایمان ساتھیوں کے ھمراہ اللہ کی حمد و ثناء اور تسبیح کرتے ہوئے اسی میدان کی جانب چل پڑے. یہ ایک تاریخی موقع تھا بت پرستوں کے خداؤں کی آج آزمائش کا دن تھا دوسری جانب صالح علیہ السلام کی ان کے مطابق شکست کا دن تھا یہ سب بت پرست مختلف شہروں سے خداؤں کی سچائی کے مناظرے کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے کے لیے آئے ہوئے تھے. جس میدان میں مناظرے کا پروگرام تھا وہاں کوئی دو اڑھا لاکھ لوگ جمع ھو چکے تھے عمائدین شہر اور قوم کے بڑے ایک طرف سجی سنوری مسندوں پر براجمان تھے جب کہ ان کے بت جن کی وہ پوجا کرتے تھے بلندی پر لگے تخت کے اوپر بٹھائے گئے تھے. مناظرے کا آغاز بت پرستوں کی بتوں کی عبادت سے شروع ھوا وہ بلند آواز میں ان کی شان میں حمد کر رہے تھے. جبکہ اس دوران حضرت صالح علیہ السلام اپنے ساتھیوں کے ھمراہ ایک طرف خاموشی سے تماشا دیکھ رھے تھے. حمد و ثناء مکمل ھونے کے بعد دعاؤں کا سلسلہ شروع ہو گیا. وہ لوگ ان کے کاھن پجاری اور سبھی بڑے چھوٹے رو رو کر اپنے بتوں سے کوئی معجزہ دیکھنے کی فرمائش کر رھے تھے لیکن پتھر کے ان حقیر ٹکڑوں نے کیا سننا تھا اور کیا ماننا تھا. بالآخر تھک ھار کر اور مایوس ھوکر وہ لوگ خاموش ھو گئے. انہوں نے گویا ایک طرح سے شکست تسلیم کر لی تھی. وہ کسی حد تک مایوس تو ضرور تھے لیکن ایک بات کا انہیں اطمینان تھا صالح علیہ السلام کا رب بھی کچھ ایسا نہیں دکھا سکے گا جس سے ان کے معبودوں کی سبکی ہوتی. پروگرام کے مطابق پجاریوں نے شور مچانا شروع کر دیا کہ یہاں ایک شخص اپنے ساتھیوں سمیت موجود ھے جو خداؤں کا سخت گستاخ ہے اس کی وجہ سے معبود ناراض ھوگئے. ورنہ معجزہ دکھائی دے جانا تھا. اب حضرت صالح علیہ السلام کی باری تھی آپ سے کہا گیا کہ آپ اپنے رب کی قدرت اور طاقت کا معجزہ دکھاییے. آپ علیہ السلام نے کہا کہ تم لوگ فیصلہ کر لو کہ کس قسم کا معجزہ دیکھنا چاہتے ھو تم لوگ تو اپنے معبودوں سے اپنی پسند کا معجزہ مانگ رھے تھے لیکن میں ایسا نہیں کروں گا میں تمہاری مرضی کے معجزے کے لیے اپنے رب سے دعا کروں گا. قوم نے یہ سنا تو ان کو انتہائی مسرت ہوئی کہ صالح ع تو خود ہی دام میں پھنس گئے اپنی مرضی سے کوئی چھوٹی موٹی ناقابل یقین چیز دکھانے کی کوشش کرتے تو شاید کامیاب ہو جاتے یہ تو خود انہوں نے ان کو کھلا آپشن دے دیا تھا. ان لوگوں نے پہلے سے جو سوچ رکھا تھا اسی معجزے کا مطالبہ کر دیا. ایک شخص نے بلند آواز میں پکار کر کہا تاکہ میدان میں موجود تمام افراد سن لیں اے صالح علیہ السلام. ھم سپ آپ کے خدا کی طاقت دیکھنا چاھتے ہیں آپ کہتے ہیں کہ وہ کچھ بھی کرنے پر قادر ھے ھر چیز اس کی ھے. کیا یہ سچ ھے؟ حضرت صالح علیہ السلام نے اسی طرح بلند آواز میں جواب دیا کہ ھاں میرا رب ھر چیز کرنے پر قادر ھے. اس شخص نے کہا تو پھر اے صالح علیہ السلام آپ اپنے رب سے دعا کیجیے کہ یہ سامنے جو پہاڑ نظر ا رہا ھے اس کی سامنے والی چٹان کے ٹکڑے سے ایک ٹکڑا الگ کرکے بالکل اسی طرح تراش کر جیسے ھم تراشتے ہیں لیکن.... زندہ اونٹنی تراش کر نکال. یہ اونٹنی دس مہینے کی حاملہ ھو اور پھر یہ معجزہ ھونے کے بعد ختم نہیں ھو جائے بلکہ ھمارے درمیان ھمیشہ رھے تاکہ یہ کوئی شعبدہ بازی نہ ھو. اگر تم ایسا کرنے میں کامیاب ھو گئے تو ھم تمہارے خدا کو سچا سمجھ لیں گے. اس پر ایمان لے آئیں گے. آپ علیہ السلام نے کہا ٹھیک ہے... میں اپنے رب سے دعا کروں گا اور یقیناً وہ یہ معجزہ رونما کرے گا لیکن اے میری قوم کے لوگو! تمہارے لیے بہتر ھوتا کہ تم ویسے ہی ایمان لے آتے. اگر اتنے بڑے معجزے اور نشانی کو آپ لوگوں نے اپنے سامنے رونما ھوتے ہوئے دیکھ لیا تو تم سب پر فرض ھو جائے گا کہ تم سب کے سب مسلمان ھو جاؤ. اس کے بعد تمہارے پاس گنجائش نہیں رھے گی.دوسری بات. کیونکہ تم نے ایک ایسے معجزے کی خواھش کی ھے جو مجسم شکل میں تمہارے ساتھ رہے تمہارے درمیان موجود رھے تو یہ محض ایک اونٹنی نہی ھوگی بلکہ یہ تم نے اللہ کی قدرت کی نشانی مانگی ھے. اللہ کی قدرت کی اس نشانی کو تمہیں عزت بھی ویسی ہی دینی ھوگی.... اگر تم نے اسے وہ عزت نہ دی تو تم کو عذاب ا پکڑے گا اور پھر تمہارے لیے کہیں جائے امان نہ ھوگی. یوں سمجھ لو تم نشانی نہیں بلکہ اس کے ساتھ اللہ کا قہر و غضب بھی مانگ رہے ھو.

یہاں پر اشفاق احمد صاحب کی بات یاد آتی ہے. وہ فرمایا کرتے تھے یہ ملک پاکستان حضرت صالح علیہ السلام کی اونٹنی ھے. میں بہت عرصے تک اس جملے کا صحیح مطلب سمجھنے کی کوشش کرتا رہا. پھر کئی سال پہلے جب ریسرچ کا کام شروع کیا تو بہت سے رازوں سے پردے اٹھتے چلے گئے. تب اشفاق صاحب کے جملے کی سمجھ ا گئی.

حضرت صالح علیہ السلام نے اپنی قوم کو وارننگ دیتے ہوئے فرمایا کہ یہ اونٹنی جس کی تم فرمائش کر رھے ھو یہ دنیا کی عام اونٹنیوں سے یکسر مختلف ھوگی. اس کی جسامت بہت بڑی ھوگی اس کا دودھ بذات خود بہت بڑا معجزہ ھوگا اسی طرح اس کی خوراک بھی بہت زیادہ ھوگی بالکل اسی طرح اس کا مقام اور احترام بھی سب سے زیادہ بلند ھوگا. اس لیے بہتر یہی ہے کہ تم اس معجزے کے مطالبے سے باز ہی ا جاؤ تو اچھا ھے. اس پر آپ کی قوم نے کہا اے صالح علیہ السلام ھم کو لگتا ہے کہ تمہارا خدا بھی ایسا ناقابل یقین معجزہ دکھانے سے عاجز ھے اس لیے تم بہانے بنا رھے ھو ھم وعدہ کرتے ہیں کہ اگر آپ ایسا ناقابل یقین منظر ھمیں دکھانے میں کامیاب ھو جاتے ھو تو ھم تمہاری ھر شرط ماننے کو تیار ہیں. اب یہ لوگ ایمان لانے کی بجائے یہ معجزہ دیکھنے کے لیے مچل رھے تھے ان کے لیے یہ ایک سنسنی خیز کھیل تھا جس میں ان کے سامنے ایک منظر پیش کیا جاتا جو ناقابل یقین ھوتا. جس طرح آجکل ھم سب جلدی سے جلدی دجال سے ملاقات کرنے کے لیے تڑپ رہے ہیں. ھمیں تجسس سا ہے کہ اس کو دیکھیں جس سے تمام انبیاء اپنی امتوں کو ڈرایا کرتے تھے. جس کے شر سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی پناہ مانگا کرتے تھے ھم اسے کسی مووی کیریکٹر کی طرح اپنے سامنے دیکھنا چاہتے ہیں. ھم سمجھتے ہیں کہ ھم اسے کسی مووی کی طرح ٹی وی اسکرین پر دیکھیں گے اور جب دل بھر جائے سوئچ آف کریں گے اور وہ غائب ھو جائے گا. ھم بھول جاتے ہیں کہ جب وہ آئے گا تو صرف اپنے ماننے والوں کو زندہ چھوڑے گا باقی جو بھی اس کو خدا ماننے سے انکار کرے گا اسے اس کے اھل خانہ سمیت زندہ جلا دیا کرے گا... جس طرح فلسطین شام میں چھوٹے چھوٹے بچوں کو بھونا جا رہا ہے... گھر کے گھر تباہ کیے جا رہے ہیں. ھم دجال سے ملنے کے لیے بیتاب ہیں...

حضرت صالح علیہ السلام کی قوم بھی اب اس معجزے کے لیے ضد کرنے لگی ان کا مقصد اب ھدایت حاصل کرنا نہیں تھا بلکہ اپنے تجسس کی تسکین کرنا تھا.

ان کے لیے اللہ کی طرف سے یہ معجزہ سوائے دل لگی اور عجوبے کے کچھ نہیں تھا. ان کے بار بار اصرار اور ضد کرنے پر حضرت صالح علیہ السلام کچھ دیر تک سوچتے رھے وہ اپنی قوم کو کسی بڑے عذاب کا شکار ھوتے نہیں دیکھنا چاہتے تھے اس لیے چاہتے تھے کہ وہ معجزہ دیکھنے کی ضد نہ کریں. نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے کہ آپ اپنے ساتھیوں سے فرمایا کرتے کبھی معجزہ دیکھنے کی ضد نہ کر بیٹھنا اس ضمن میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت صالح علیہ السلام کی قوم کی مثال دیا کرتے کہ جنہوں نے معجزہ دیکھنے کے بعد بھی رب کی سچائی پر یقین نہیں کیا تھا. ایمان نہیں لائے تھے. معجزہ اتمام حجت ھوتا ھے اس کے بعد کسی معذرت یا ایکسیوز کی گنجائش نہیں رہ جاتی. اس کے بعد تو پھر ھر بات کو من و عن تسلیم کرنا اور عمل کرنا ھر صورت میں لازم ھو جاتا ہے. جب آپ علیہ السلام کو محسوس ھوا کہ یہ لوگ ھر صورت میں معجزہ ہی دیکھ کر یقین کریں گے تو آپ علیہ السلام نے ان کو آپشن دیا کہ تم لوگ اونٹنی کے متعلق پوری تفصیل بتاؤ تاکہ بعد میں تم لوگ یہ نہ کہہ سکو ھم نے تو ایسی نہیں بلکہ ایسی اونٹنی کی فرمائش کی تھی. لوگوں نے اپنے سردار جندع بن عمرو کی طرف اشارہ کیا کہ ھماری طرف سے جندع بن عمرو جو فرمائش کرے گا ھم اس کو ہی تسلیم کریں گے. جندع نے کہا اے صالح آپ سامنے پہاڑ کی چٹان سے ایک ایسی اونٹنی نکال کر دکھائیں جس کی پیشانی سیاہ ھو اور باقی سارا بدن سفید ھو اس کے جسم کے بال لمبے لمبے اور سفید ھوں..اور ریشم جیسے نرم و ملائم ھوں یہ اونٹنی اتنی خوبصورت ھو کہ اس جیسی کبھی کسی نے نہ دیکھی ھو یہ دس ماہ کی حاملہ ھو اور اس حال میں ھو کہ پیدا ھوتے ہی فوراً بچے کو جنم دے دے. بچہ بھی اس کا بالکل ھم شکل ھو.

حضرت صالح علیہ السلام نے ایک بار پھر ان سے اللہ پر ایمان لانے کے متعلق سوال کیا. انہوں نے کہا کہ اگر یہ معجزہ رونما ھوگیا تو ھم تیرے رب پر ایمان لے آئیں گے. حضرت صالح علیہ السلام نے دو رکعت نماز کی نیت باندھی آپ کے اھل ایمان ساتھی آپ کے پیچھے صفیں باندھ کر کھڑے ہو گئے. اور نماز کے بعد آپ علیہ السلام نے ھاتھ اٹھا دییے اور ساتھیوں سے کہا کہ میں دعا کروں گا اور تم میری دعا کے مکمل ھونے کے بعد آمین کہنا. حضرت صالح علیہ السلام نے دعا شروع کی. اس معجزے کے رونما ھونے کے لیے اللہ تعالیٰ سے فریاد کی اے اللہ میری قوم جیسا معجزہ دیکھنا چاہتی ہے بالکل ویسا ہی دکھا دے اور ان کے دلوں میں ایمان کی شمع روشن کر دے. آپ کے ساتھیوں نے آمین کہا.. قوم کے تمام لوگ جو اس وقت میدان میں تھے ان کی نظریں اس چٹان کی طرف جمی ہوئی تھیں اور وہ پہلی بار ایسا کچھ دیکھنے جا رھے تھے جو نہ تو پہلے کبھی کسی نے دیکھا اور سنا تھا. اور نہ ہی قیامت تک کوئی انسان دیکھ یا سن سکے گا. پتھروں سے کسی بہت بڑے جاندار کا پیدا ھو جانا ایسا ھے جسے سائنس کسی بھی صورت تسلیم نہیں کر سکتی. اھل ثمود دم سادھے بیٹھے تھے لاکھوں افراد جیسے سانس بھی نہیں لے رہے تھے سب کی نظریں اس مخصوص پہاڑ ہر گڑی ھوئی تھیں. وہ سب پلک بھی نہیں جھپک رھے تھے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ اس دوران کچھ ایسا ھو جائے جسے ان کی نگاہ پکڑ نہیں سکی تھی. لوگوں کا تجسس عروج پر تھا. اچانک ایک خوفناک گڑگڑاھٹ کی آواز گونجی. پہاڑ اور چٹانیں اس سے لرز کر رہ گئے. عین اسی جگہ پر پہاڑ کا ایک ٹکڑا جس کی شکل کسی اونٹنی سے ملتی جلتی تھی پہاڑ سے آھستہ آھستہ الگ ھو کر باھر آنے لگا.

چند لمحوں بعد اونٹنی کی شکل کی وہ چٹان ایک زندہ اونٹنی بن کر سب کے سامنے موجود تھی. ثمود قوم کے لاکھوں افراد دنیا کے سب سے حیران کن واقعہ کو دیکھ کر حیرت سے سن ھوچکے تھے. سب سے پہلے جندع بن عمرو اپنے چھ ھزار ساتھیوں کے ھمراہ آپ علیہ السلام کے قدموں پر گر پڑا اور کفر کی زندگی سے تائب ھو کر اپنے ساتھیوں سمیت مسلمان ھو گیا۔
مجنوں

جاری

05/04/2023
15/08/2022

Kherianwali Mehfil

10/08/2020

بلڈنگ آفس

29/07/2020
14/07/2020

#حسرت

Address

House No. 4, Street No. 13 Mafikeng
Mafikeng
0345

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Punjabi Sufi posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Punjabi Sufi:

Share