05/12/2022
اس مرغے کی قیمت ڈیڑھ کروڑ روپیہ تھی ۔
یہ لڑائی کا بادشاہ مانا جاتا تھا اور مالک نے اس کی دیکھ بھال کیلئے ایک نوکر رکھا ہوا تھا اور اسکے لیئے ایک خاص الگ کمرہ تیار تھا صبح ناشتے میں بادام کھلائے جاتے تھے ۔
اسکی قسمت خراب تھی لڑائی میں اسے شکست ہوئی وہیں پر اسکی موت واقع ہوگئی اور مالک نے اسے اٹھانا تک گوارہ نہیں کیا ۔
اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ انسان کی زندگی بھی بالکل اس مرغے کی مانند ہے وہ جب عروج پر ہوتا ہے تو اسکے دوست، رشتہ دار عزیز و اقارب واہ واہ کرتے رہتے ہیں اور جب اسکا عروج ختم ہوتا ہے تو کوئی بھی اسکے نزدیک نہیں آتا تو خیال کریں مسلسل عروج نہیں رہتا توعروج میں رہ کر زوال کے اسباب پیدا نہ کریں عروج اور زوال زندگی کا حصہ ہیں ۔
نوٹ :- یہ پیغام ان چمچوں کیلئے ہے جو امیروں کے ارد گرد دم ہلاتے رہتے ہیں کہ جب آپکی اہمیت ختم ہوگی آپ جوتوں پر بٹھانے کے قابل بھی نہیں سمجھے جاؤ گے اس لیئے علاقے داری اور دوستی کو اہمیت دیں مسلسل نہ امیر آپکے ساتھ ہوگا نہ آپ اسکے خاص رہو گے اس لیئے آئے ہوئے غریبوں کا خاص خیال رکھیں ۔