07/17/2026
منڈی بہاؤالدین سے تعلق رکھنے والا شبر عباس پانچ سال سے اٹلی میں اپنی فیملی سمیت رہ رہا تھا۔ یہ لوگ اٹلی کے دیہی قصبے نوویلارا میں کھیتوں میں مزدوری کرتے تھے۔ شبر کی ایک 18 سالہ بیٹی ثمن عباس تھی۔ ٹک ٹاک کے ذریعے ثمن کی دوستی اٹلی ہی میں ایک اور پاکستانی لڑکے ثاقب ایوب کے ساتھ ہوگئی۔
ایک روز ثمن کے والدین کے پاس ثمن اور ثاقب کی ایک تصویر پہنچی، جس میں وہ دونوں ایک سڑک پر سرِعام بوس و کنار کر رہے تھے۔ اس تصویر سے ثمن کے والدین شدید طیش میں آگئے۔ مزید یہ کہ ثاقب کا تعلق ایک نچلی ذات سے تھا۔ والدین نے ثمن کا رشتہ پاکستان میں اس کے ایک اور کزن اکمل سے طے کر دیا، لیکن ثمن نے اس زبردستی کی شادی سے مکمل انکار کر دیا۔
ثمن پر جب مزید دباؤ بڑھا تو اس نے پولیس سے مدد مانگی کہ اسکے والدین اس کی زبردستی شادی کرنا چاہتے ہیں۔ نومبر 2020ء میں ثمن کو ایک شیلٹر ہوم میں منتقل کر دیا گیا تاکہ والدین اسے کوئی نقصان نہ پہنچا سکیں۔ والدین اسے پیار محبت کے مختلف حیلے بہانوں سے بلاتے رہے، حتیٰ کہ اپریل 2021ء میں ثمن گھر آگئی۔
لیکن کچھ روز بعد جب ثمن سے ثاقب کا رابطہ نہ ہوسکا تو اس نے پولیس کو اطلاع دی۔ پولیس 5 مئی کو ثمن کے گھر پہنچی تو وہاں ثمن کا چچا دانش اور چھوٹا بھائی علی حیدر ملے، جنہوں نے متضاد بیانات دیے۔ اگلے دن گھر میں صرف کمسن علی ملا، جسے پولیس نے حفاظتی تحویل میں لے لیا۔ تفتیش کے دوران پولیس کو گھر کے قریب لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی 29 اپریل کی فوٹیج ملی، جس میں ثمن کے چچا، دو کزن اور والدین بیلچے، لوہے کے راڈ اور بالٹی لے کر جاتے اور تقریباً ڈھائی گھنٹے بعد واپس آتے دکھائی دیے۔ اگلی رات (30 اپریل) ثمن کو اس کے والدین کے ساتھ باہر جاتے دیکھا گیا، جس کے بعد وہ کبھی زندہ نہیں دیکھی گئی۔
وقوعے کے بعد یہ تمام افراد اٹلی سے فرار ہوگئے، جن کی گرفتاری کے لیے اٹلی پولیس نے انٹرپول و دیگر ذرائع سے مدد لی۔ چنانچہ مئی 2021ء کے آخر میں کزن اکرام فرانس سے، چچا دانش ستمبر 2021ء میں فرانس ہی سے، کزن نعمان فروری 2022ء میں اسپین سے، والد شبر عباس نومبر 2022ء میں پاکستان سے گرفتار ہو کر اگست 2023ء میں اٹلی کے حوالے کیا گیا، جبکہ والدہ نازیہ تین سال تک مفرور رہی اور بالآخر 31 مئی 2024ء کو آزاد کشمیر کی سرحد کے قریب ایک گاؤں سے انٹرپول اور پاکستانی پولیس کے مشترکہ آپریشن میں گرفتار ہوئی اور اگست 2024ء میں اٹلی لائی گئی۔ تفتیشی رپورٹ میں شبر عباس کو "جھگڑالو، جلد غصہ کرنے والا اور شراب کا عادی" شخص قرار دیا گیا۔
دورانِ تفتیش چچا دانش حسنین نے ایک امام مسجد کے سمجھانے پر ثمن کے قتل کا اعتراف کر لیا اور بتایا کہ اسے 30 اپریل اور یکم مئی 2021ء کی درمیانی شب قتل کیا گیا۔ دانش کی نشاندہی پر ثمن کی لاش گھر کے قریب ایک ویران فارم ہاؤس سے ملی۔ پوسٹ مارٹم اور دانتوں کے تجزیے سے تصدیق ہوئی کہ اس کا گلا گھونٹ کر قتل کیا گیا تھا، جس سے گردن کی ہڈی ٹوٹ چکی تھی۔
ملزمان کے خلاف 10 فروری 2023ء کو ٹرائل کا آغاز ہوا۔ استغاثہ نے سی سی ٹی وی فوٹیج، مقتولہ کا ڈی این اے، پوسٹ مارٹم رپورٹ اور ثمن کے 16 سالہ چھوٹے بھائی علی حیدر کا بیان پیش کیا۔ بھائی نے گواہی دی کہ فیملی پر غیرت کا بہت دباؤ تھا، چچا اور کزن نے ہی ثمن کی قبر کھودی تھی۔ عدالت میں کسی ملزم نے اعترافِ جرم نہیں کیا، الٹا ایک دوسرے پر ملبہ ڈالتے رہے۔ والد شبر نے عدالت میں روتے ہوئے بیان دیا کہ وہ بے گناہ ہے۔ وہ بیٹی کے پیچھے صرف یہ دیکھنے کیلئے گئے تھے کہ وہ کہاں گئی ہے، کیونکہ رات کا وقت تھا، دیر ہو چکی تھی۔ چچا اور کزن کے وکلاء نے سزا میں رعایت کی استدعا کی۔
ٹرائل کورٹ نے 19 دسمبر 2023ء کو فیصلہ سنایا، جس میں والدین کو قتل اور خاندانی رشتے کے تقدس کو پامال کرنے پر عمر قید، جبکہ چچا دانش کو قتل اور لاش چھپانے کے الزام میں 14 سال قید کی سزا سنائی۔ عدالت نے چھوٹے بھائی علی حیدر کی گواہی کو ناقابلِ اعتبار قرار دیتے ہوئے دونوں کزنوں کو بری کر دیا۔ ٹرائل کورٹ فیصلے کے مطابق ثاقب نے ثمن کی گمشدگی کے اگلے ہی روز واٹس ایپ پر ایک اور لڑکی سے دوستی شروع کر دی تھی۔ (ثاقب ہرجانے کیلئے ثمن کیس میں بطور گواہ شریک ہوا، لیکن اس کے رویے اور غلط بیانی سامنے آنے پر اس کی ہرجانے کی استدعا مسترد کر دی گئی)
اس فیصلے کیخلاف دونوں فریق اپیل میں گئے۔ ایپلٹ کورٹ نے علی حیدر کے بیان کو قابلِ اعتبار قرار دیتے ہوئے والدین کی عمر قید برقرار رکھی، چچا دانش کی سزا 14 سال سے بڑھا کر 22 سال کر دی (لاش کی نشان دہی پر کچھ رعایت دی گئی)، جبکہ بری ہونے والے دونوں کزنوں کو مجرم قرار دے کر عمر قید کی سزا سنائی۔
اس فیصلے کے خلاف ملزمان نے سپریم کورٹ آف اٹلی میں اپیل دائر کی، جس کا فیصلہ کل 15 اپریل کو سنایا گیا۔
عدالت نے قرار دیا کہ یہ قتل کوئی اچانک یا وقتی اشتعال کا نتیجہ نہیں تھا، بلکہ انتہائی بے دردی سے باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا تھا۔ والدین اس جرم سے بری الذمہ نہیں ہو سکتے، کیونکہ انہوں نے خود اپنی بیٹی کو قاتلوں کے حوالے کیا تھا، اور ان کا فوری طور پر پاکستان فرار ہونا ان کے گناہ گار ہونے کی واضح دلیل ہے۔ اٹلی کی سرزمین پر کسی بھی ثقافتی یا مبینہ مذہبی روایت کی آڑ میں کسی بھی خاتون کی آزادی، وقار اور جینے کے حق کو سلب کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دی جا سکتی۔ یہ اصول ناقابلِ سمجھوتہ ہیں۔
سپریم کورٹ نے اپیل خارج کرتے ہوئے ایپلٹ کورٹ کی دی گئی تمام سزائیں برقرار رکھیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
☆ اٹلی میں سزائے موت پر 1948ء سے پابندی ہے، وہاں سب سے بڑی سزا عمر ہے، جسکی مدت عام طور پر 26 سال تک ہوتی ہے۔
☆ وقت کرتا ہے پرورش برسوں ۔۔۔۔ حادثہ ایک دم نہیں ہوتا
،