04/06/2026
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
مجھے یہ سن کر خوشی ہوئی کہ کاغان ویلی کی اٹھارہ ویلیج کونسلوں کے سیاسی نمائندوں نے مل کر ایک ایکشن کمیٹی قائم کی ہے۔ یہ ایک خوش آئند قدم ہے۔ اگرچہ یہ اقدام بہت پہلے ہو جانا چاہیے تھا، لیکن بہرحال دیر آید درست آید۔
اس کمیٹی کے حوالے سے میرے کچھ خدشات اور سوالات ہیں۔ میری گزارش ہے کہ انہیں مثبت انداز میں لیا جائے۔ اگر ان باتوں میں وزن ہے تو امید ہے کہ ایکشن کمیٹی انہیں اپنے ایجنڈے کا حصہ بنائے گی۔
میں نے کمیٹی کا ایجنڈا پڑھا ہے۔ اس کے بعد یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ موجودہ مطالبات زیادہ تر اُن کاروباری حلقوں کے گرد گھومتے ہیں جن پر حالیہ عرصے میں کے ڈی اے کی جانب سے ٹیکسوں کا بوجھ بڑھایا گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ کمیٹی صرف کاروباری طبقے کے مفادات کا تحفظ کرے گی یا پھر کاغان ویلی کے عام عوام، نوجوانوں اور مقامی آبادی کے حقوق کے لیے بھی آواز اٹھائے گی؟
میری نظر میں یہ کمیٹی اس وقت بھی بننی چاہیے تھی:
* جب پہلی مرتبہ ناران اور کاغان ویلی میں مختلف ٹیکس نافذ کیے گئے۔
* جب ٹورازم پولیس اور دیگر اداروں میں مقامی نوجوانوں کو نظر انداز کرکے باہر کے علاقوں سے بھرتیاں کی گئیں۔
* جب کاغان ویلی میں ڈیم بنا اور بجلی کی پیداوار شروع ہوئی، مگر مقامی لوگوں کو اس کا کوئی خاص فائدہ نہ ملا۔
* جب نیشنل پارکس اور دیگر سرکاری منصوبوں میں مقامی آبادی کو روزگار کے مواقع دینے کے بجائے باہر کے افراد کو ترجیح دی گئی۔
ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ ناران اور کاغان ویلی سے جو ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، وہ کہاں خرچ ہو رہے ہیں؟ اگر یہ ٹیکس واقعی عوامی مفاد کے لیے ہیں تو ان کی تفصیلات عوام کے سامنے آنی چاہئیں اور ان وسائل کا بڑا حصہ وادی کی ترقی، بنیادی سہولیات، سڑکوں، راستوں، صحت اور تعلیم پر خرچ ہونا چاہیے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ بڑے ہوٹلوں اور کئی کاروباروں میں کافی سرمایہ کاری باہر کے لوگوں کی ہے، جبکہ مقامی لوگ زیادہ تر چھوٹے کاروبار، جیپ سروس، ڈھابوں، سیاحتی مقامات اور روزمرہ کی محنت مزدوری سے وابستہ ہیں۔ اس لیے کسی بھی تحریک یا کمیٹی کا اصل مقصد صرف بڑے کاروباروں کا تحفظ نہیں بلکہ پورے علاقے کے عوام کے حقوق کا تحفظ ہونا چاہیے۔
میں ایکشن کمیٹی سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ درج ذیل مسائل کو بھی اپنے ایجنڈے میں شامل کرے:
* مقامی نوجوانوں کے لیے روزگار میں ترجیح۔
* ٹورازم پولیس اور دیگر اداروں میں مقامی بھرتیوں کا کوٹہ۔
* ڈیم اور دیگر قدرتی وسائل سے مقامی آبادی کو براہِ راست فائدہ۔
* ٹیکسوں کی وصولی اور اخراجات میں شفافیت۔
* نیشنل پارکس اور سرکاری منصوبوں میں مقامی افراد کو ملازمتوں کی فراہمی۔
* اندرونی سڑکوں، راستوں اور بنیادی سہولیات کی بہتری۔
* وادی کی آمدنی کو وادی کی ترقی پر خرچ کرنے کا واضح نظام۔
اگر یہ ایکشن کمیٹی واقعی عوامی حقوق، نوجوانوں کے مستقبل اور کاغان ویلی کے مجموعی مفاد کے لیے کام کرے گی تو یقیناً عوام اس کے ساتھ کھڑی ہوگی اور ہر ممکن تعاون کرے گی۔ لیکن اگر اس کا مقصد صرف ایک مخصوص کاروباری طبقے کے مفادات کا تحفظ ہے تو پھر عوامی حمایت حاصل کرنا مشکل ہوگا۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے علاقے، اپنے لوگوں اور آنے والی نسلوں کے بہتر مستقبل کے لیے صحیح فیصلے کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔