28/02/2023
🎉🎉❤️❤️❤️ مسجد پاک ویگہ شریف ❤️❤️❤️🎉🎉
فنِ تعمیر کا ایسا شاہکار جو کسی شہنشاہ یا بادشاہ نے نہیں ایک ڈاکٹر تعمیر کیا ہے
ہم میں سے بشتر لوگ مغلیہ فنِ تعمیر سے بخوبی واقف ہیں، اور بہت سےمغلیہ فنِ تعمیر کے نمونوں خصوصا” مساجد کو بعینہ دیکھ بھی چکے ہیں۔ یہ تمام مساجد اور اسطرز کی تعمیرتقریبا” 200 سال پہلے ختم ہو چکی ہے۔ اس کی وجہ ہے کہ نہ وہ جذبے رہے اور نا وہ کاریگر، ایک طرح سے آج کے جدید اور تیز دور میں اس طرز کی کوئی عمارت بنانا جوئے شیر لانے کے عین مترادف ہے۔ لیکن ناممکن نہیں کیونکہ پاک ویگہ مسجد اسکی سب سے بڑی مثال ہے۔جو 2001-2002 میں شروع ہوئی اورابھی تک تکمیل کے مراحل سے گزر رہی ہے۔
پاک ویگہ مسجد گجرات کے نواحی گاؤں کیرانوالہ میں واقع ہے یہ گاؤں گجرات سے منڈی بہاوالدین جاتے ہوئے منگوال سٹاپ سے دائیں جانب واقع ہے. جو کہ اب گجرات کی نئی پہچان بن گیاہے۔
اس مسجد کے بانی مرحوم ڈاکٹر فرح حفیظ صاحب ہیں جنہوں ایک خواب میں اس جگہ کا اشارہ پایا اور اس چھوٹے سے گاؤں میں عظیم وشان شہکار کی بنیاد عشقِ حقیقی کے نیک جزبات کیساتھ رکھی۔
ڈاکٹر صاحب کو مسجد کے ڈیزائن کے حوالے سے خواب میں اشارے ملے، یہ مسجد ہوبہو دلی انڈیا کی موتی مسجد کا عکس ہے اور اوپری ڈھانچہ ہی نہیں اس کی تعمیر بھی 200 سال پہلے کے قوائد و ضوابط اور تعمیری اصولوں پر کی گئی۔ اس مسجد کی تعمیر میں کسی قسم کا کوئی روائتی سیمنٹ ، ریت، بجری،مسالحہ استعمال نہیں ہوا، بنیادوں میں بڑے پتھر ، چونا اور درختوں کے چار چار فٹ کے موٹے تنے استعمال ہوئے ہیں ، تعمیراتی کام میں بے شمار مشکلات کا سامنا رہا لیکن بقول ڈاکٹر صاحب اور معانین مسجد کی تعمیر کے حوالے سے اگر کوئی مشکل پیش آتی تو خواب میں اس کے حل کیطرف نشاندہی کر جاتی تھی۔
سب سے اہم اور اور حیران کن بات بلکہ میں تو اسے کرشمہ کہوں گا کہ مسجد کی تعمیر میں کسی قسم کے روائتی مستری مزدوروں کی خدمات نہیں لی گئیں بلکہ ڈاکٹر فرح صاحب اور ان کے معاونین بمعہ کیرانوالہ گاؤں کے لوگ ہی اس نادر نمونے کو بنانے میں دن رات سچی لگن اور کڑی محنت سے کام کرتے رہے۔
اس مسجد کے بانی مرحوم ڈاکٹر فرح سعید صاحب ہیں جنہوں ایک خواب میں اس جگہ کا اشارہ پایا اور اس چھوٹے سے گاؤں میں عظیم وشان شہکار کی بنیاد عشقِ حقیقی کے نیک جزبات کیساتھ رکھی۔
ڈاکٹر صاحب کو مسجد کے ڈیزائن کے حوالے سے خواب میں اشارے ملے، یہ مسجد ہوبہو دلی انڈیا کی موتی مسجد کا عکس ہے اور اوپری ڈھانچہ ہی نہیں اس کی تعمیر بھی 200 سال پہلے کے قاعد و ضوابط اور تعمیری اصولوں پر کی گئی۔ اس مسجد کی تعمیر میں کسی قسم کا کوئی روائتی سیمنٹ ، ریٹ، مسالحہ استعمال نہیں ہوا، بنیادوں میں بڑے پتھر ، چونا اور درختوں کے چار چار فٹ کے موٹے تنے استعمال ہوئے ہیں ، تعمیراتی کام میں بے شمار مشکلات کا سامنا رہا لیکن بقول ڈاکٹر صاحب اور معانین مسجد کی تعمیر کے حوالے سے اگر کوئی مشکل پیش آتی تو خواب میں اس کے حل کیطرف نشاندہی کر جاتی تھی۔
سب سے اہم اور اور حیران کن بات بلکہ میں تو اسے کرشمہ کہوں گا کہ مسجد کی تعمیر میں کسی قسم کے روائتی مستری مزدوروں کی خدمات نہیں لی گئیں بلکہ ڈاکٹر فرح صاحب اور ان کے معاونین بمعہ کیرانوالہ گاؤں کے لوگ ہی اس نادر نمونے کو بنانے میں دن رات سچی لگن اور کڑی محنت سے کام کرتے رہے۔
دیواروں، محررابوں جھروکوں پر کی گئی نقش نگاری کا کام کسی ہندوستانی ماہر خطاط یا سنگ تراش کا نہیں بلکہ میرے اور آپ جیسے عام لوگوں کا کیا ہوا ہے جو کسی معجزے سے کم نہیں۔
قارئین سے گزارش ہے کہ سنگِ مر مرسے سجی عشق و محبت سے بنی اس دلکش و خوبصورت مسجد کو دیکھنے ضرور جائیں ان شاءاللہ آپ کے قلوب و اذہان ضرور منور ہوں گے اور آپ اس مسجد کے بانی کے جذبےاور ان کے مسجد سے عشق ، کے معترف ہوں گے قدم قدم پر سبحان اللہ کہے بغیر رہ نہیں پائیں گے۔
جزاک اللہ
عمرفاروق مغل