22/07/2026
وہ حاملہ تھیں لیکن وہ ہجرت کرنا چاہتی تھی۔ انہوں نے گھانا سے سپین کی طرف رخت سفر باندھا اور صحرائے صحارا عبور کرتے ہوئے سپین پہنچیں۔ اس ہجرت کا نتیجہ یہ نکلا کہ آج ان کے دو بیٹے عالمی سطح پر نام بنا چکے ہیں۔
'میں بہت تیز دوڑتا ہوں لیکن اتنا تیز نہیں جتنا میری ماں دوڑی تھی۔ وہ مو۔ت سے بچ نکلیں اور صحرائے صحارا عبور کر کے سپین پہنچیں۔ آج جو کچھ ہوں ان کی بدولت ہوں' یہ کہنا ہے سپین کے نیکو ولیمز کا جن کے اہم ترین اسسٹ پر ارجنٹینا کے خلاف فائنل میچ میں فیران ٹورس نے شاندار گول سکور کیا۔ یہ جملہ انہوں نے یورپی چیمپئن شپ 2024 کے فائنل کے بعد کہا تھا۔ انہوں نے اس ٹورنمنٹ کے بعد اپنا میڈل اپنی والدہ کو پہنایا تھا۔
نیکو ولیمز آرتھر ایک ایسے فٹبالر ہیں جن کی زندگی تارک وطن خاندان کی جدوجہد، قربانی اور محبت کی مکمل داستان ہے۔ ان کی پیدائش 12 جولائی 2002 کو ہسپانوی شہر پیمپلونا میں ہوئی۔ وہ سپین کے کلب آتھلیٹک بلباؤ کے لیے ونگر کے طور پر کھیلتے ہیں اور سپین کی قومی ٹیم کا اہم ترین حصہ ہیں۔
ان کے والد فیلکس اور والدہ ماریا 90 کی دہائی میں گھانا سے ہجرت کر کے نکلے تھے۔ اس وقت ماریا حاملہ تھیں۔ دونوں نے پیدل صحرائے صحارا عبور کیا جو کہ ایک انتہائی خطرناک اور جان لیوا سفر تھا۔ کئی مشکلات جھیلنے کے بعد وہ افریقہ کے ہسپانوی زیر انتظام علاقے میلیلیا پہنچے اور پھر ہسپانوی سرزمین پر قدم رکھا۔ ابتدا میں کچھ عرصہ ملاگا اور میڈرڈ میں گزارا جس کے بعد ایک فلاحی ادارے نے انہیں بلباؤ منتقل کیا۔ وہاں ایک مشنری راہب سے ان کی ملاقات ہوئی جنہوں نے ریلوے سٹیشن پر انہیں خوش آمدید کہا، رہائش کا بندوبست کیا اور چونکہ حاملہ ماریا کے پاس صحت کارڈ نہیں تھا اس لیے طبی نگرانی کا انتظام بھی کروایا۔ 15 جون کو ماریا نے اپنے پہلے بیٹے کو جنم دیا اور شکریہ کے طور پر اسی راہب کے نام پر بیٹے کا نام رکھا۔ یہی بیٹا آگے چل کر مشہور فٹبالر اناکی ولیمز بنا۔
کچھ عرصے بعد اس خاندان کو ایک قصبے میں روزگار ملا اور بعد میں وہ مستقل طور پر بلباؤ کے قریب آباد ہو گئے جہاں 8 برس بعد نیکو ولیمز کی پیدائش ہوئی۔ نیکو اور اناکی نے اپنا بچپن زیادہ تر پیمپلونا میں گزارا۔ نیکو نے فٹبال کا آغاز 9 برس کی عمر میں اپنے آبائی شہر کے مقامی کلب سے کیا۔ پھر 2012 میں اوساسونا کی اکیڈمی جوائن کی اور بالآخر دو 2013 میں آتھلیٹک بلباؤ کی مشہور زمانہ یوتھ اکیڈمی کا حصہ بن گئے جہاں انہیں سکاؤٹس نے دریافت کیا تھا۔ آج وہ آتھلیٹک بلباؤ کی سینئر ٹیم کے لیے تقریباً 200 کے قریب میچز کھیل چکے ہیں اور 37 گول سکور کرنے کے ساتھ ساتھ 37 بار گول اسسٹ بھی کیے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اناکی نے بین الاقوامی سطح پر گھانا کی نمائندگی کا انتخاب کیا جبکہ نیکو نے اپنی جائے پیدائش یعنی سپین کے ساتھ کھیلنا مناسب سمجھا۔
انہیں گراؤنڈ میں نسل پرستانہ سلوک کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ خاص طور پر ایک میچ کے دوران ایتلیتیکو میڈرڈ کے سٹیڈیم میں انہیں نسلی طعنے دیے گئے جس کے بعد ہسپانوی فٹبال فیڈریشن نے متعلقہ سٹینڈ کو دو میچز کے لیے بند کرنے کی سزا دی۔
حال ہی میں فیفا ورلڈ کپ فائنل 2026 میں سپین بمقابلہ ارجنٹینا میں سپین نے ارجنٹینا کو ایک صفر سے شکست دے فتح حاصل کی۔ یہ اس ورلڈ کپ میں کسی ایک بھی میچ میں پلئینگ الیون کا حصہ نہیں تھے جبکہ متبادل کے طور پر ہی آ آتے رہے۔ فائنل میں بھی وہ بینچ پر بیٹھے رہے تاہم دوسرے ہاف میں بطور متبادل میدان میں اترتے ہی انہوں نے فوری اثر دکھایا شروع کیا اور اضافی وقت میں فیران ٹوریس کے فیصلہ کن گول پر اہم پاس دے کر اپنی ٹیم کو فتح دلائی۔
اس تاریخی فتح کے بعد انہوں نے ایک بار پھر وہی کام کیا۔ انہوںننے اپنا میڈل سٹینڈ میں بیٹھی اپنی والدہ کے حوالے کیا اور ان کی اب تک کی محنت اور صبر کو گویا انہیں انعام دیا۔ دیکھا جائے تو نیکو اور ان کے بھائی اناکی کی کامیابیاں تب ممکن ہوئیں جب ان کے والدین نے ہجرت کا فیصلہ کیا۔۔ اور نتائج آپ کے سامنے ہیں۔۔۔ ہجرت میں برکت ہے ❤️