19/10/2026
مکہ مکرمہ کی مسجد میں فاحش فعل اور سزائے موت —
پروپیگنڈے سے بچیے!
سوشل میڈیا پر بعض پڑھے لکھے لوگ بھی تحقیق کے بغیر خبریں اور ویڈیوز آگے پھیلا دیتے ہیں۔ خانہ کعبہ کے قریب حجرِ اسود کو بوسہ دینے میں کسی خاتون کی مدد کرنے والے مرد کی ویڈیو کو غلط رنگ دینا اس کی مثال ہے، حالانکہ محض ایسی ویڈیو کسی ناجائز تعلق کا ثبوت نہیں۔ مسلمان کی ذمہ داری ہے کہ خبر پھیلانے سے پہلے تحقیق کرے۔
دوسری خبر یہ پھیلائی جارہی ہے کہ محض بوسہ لینے پر ان کو قتل کردیا گیا تو جناب سعودی عرب اتنا بھی گرا نہیں کہ محض بوسہ لینے پر اعدام کا حکم دے ہر جگہ کیمرے لگے ہیں مکمل تحقیقات کے بعد حکم دیا جاتا ہے نہیں تو ائے دن پاکستانی طوائفیں پکڑی جاتی ہے بلڈنگوں سے ، نہ تو ان کا سر قلم ہوتا ہے نہ کوڑے مارے جاتے ہیں بلکہ سفر کیا جاتا ہے مملکت سے ۔
سعودی وزارتِ داخلہ کے سرکاری بیان کے مطابق، بنگلہ دیشی شہری نذر الاسلام عبد البصیر اور سیتی اختر نے مکہ مکرمہ کی ایک مسجد کے اندر فاحش فعل کا ارتکاب کیا۔ سکیورٹی اداروں نے انہیں گرفتار کیا، تحقیقات کے بعد ان کے خلاف الزام عائد کیا اور مقدمہ مجاز عدالت میں پیش کیا۔ عدالت نے جرم ثابت ہونے پر وقت اور مقام کی حرمت پامال کرنے اور جرم کی سنگینی کے پیشِ نظر قتل تعزیراً کی سزا سنائی۔ متعلقہ عدالتی مرجع کی توثیق کے بعد فیصلہ حتمی ہوا، پھر شاہی حکم جاری ہوا اور 14 اکتوبر 2026ء کو سزا پر عمل درآمد کیا گیا۔
سعودی عرب میں سنگین فوجداری مقدمات محض گرفتاری کے بعد براہِ راست سزا پر ختم نہیں ہوتے، بلکہ قانون کے تحت تفتیش، نیابتِ عامہ (النیابة العامة) کی کارروائی، مجاز عدالت میں مقدمے کی سماعت اور فیصلے کے بعد متعلقہ عدالتی مراحل سے گزرتے ہیں۔ سزائے موت کے مقدمات میں اعلیٰ عدالتی توثیق اور مقررہ قانونی تقاضوں کی تکمیل کے بعد ہی سزا نافذ کی جاتی ہے۔ اس واقعے میں وزارتِ داخلہ کے سرکاری بیان کے مطابق، دونوں ملزمان کو گرفتار کیا گیا، تحقیقات کے بعد ان پر الزام عائد ہوا، مجاز عدالت نے جرم ثابت ہونے پر قتل تعزیراً کی سزا سنائی، متعلقہ عدالتی مرجع نے فیصلے کی توثیق کی، فیصلہ حتمی ہوا اور پھر شاہی حکم کے بعد سزا پر عمل درآمد کیا گیا۔
اسلامی فقہ میں حد اور تعزیر الگ تصورات ہیں۔ حد وہ سزا ہے جس کی بنیاد شریعت کے مقرر کردہ احکام پر ہوتی ہے، جبکہ تعزیر جرم کی نوعیت اور شرعی و قانونی اصولوں کے مطابق مقرر کی جاتی ہے۔ اس مقدمے میں سرکاری طور پر سزا کو قتل تعزیراً کہا گیا ہے، اس لیے اسے زنا کی حد قرار دینا درست نہیں۔ وزارتِ داخلہ کے بیان میں جرم کی مزید تفصیلات اور ملزمان کے ازدواجی تعلق کے بارے میں وضاحت موجود نہیں، لہٰذا ان امور پر بلا ثبوت قطعی دعویٰ نہیں کرنا چاہیے۔
یہ معاملہ سرکاری بیان کے مطابق مکہ مکرمہ کی ایک مسجد کی حرمت پامال کرنے کا تھا۔ مکہ مکرمہ کی حرمت اور مسجد کا تقدس مسلمانوں کے نزدیک غیرمعمولی اہمیت رکھتے ہیں۔ ایسے حساس واقعات پر گفتگو کرتے ہوئے ضروری ہے کہ اصل خبر، قانونی کارروائی اور ثابت شدہ حقائق کو سامنے رکھا جائے۔ کسی دوسرے ملک کے عدالتی نظام پر تنقید کی جا سکتی ہے، لیکن کسی واقعے کو توڑ مروڑ کر پیش کرنا یا بغیر ثبوت الزام لگانا علمی دیانت کے خلاف ہے۔
قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا﴾
ترجمہ: ’’اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو تحقیق کر لیا کرو۔‘‘ (سورۃ الحجرات: 6)
لہٰذا کسی ویڈیو کو دیکھ کر کسی پر بدکرداری کی تہمت نہ لگائیے، نہ کسی خبر کو توڑ مروڑ کر پیش کیجیے۔ اختلاف یا تنقید ضرور کیجیے، مگر ثبوت اور معتبر معلومات کی بنیاد پر۔ مسلمان کی پہچان یہ ہونی چاہیے کہ وہ افواہوں کے بجائے تحقیق، الزام کے بجائے ثبوت اور پروپیگنڈے کے بجائے دیانت کو ترجیح دے۔
⸻
سعودی وزارتِ داخلہ کا مکمل سرکاری بیان (عربی متن)
جدة 3 جمادى الأولى 1448هـ الموافق 14 أكتوبر 2026م واس
أصدرت وزارة الداخلية اليوم، بيانًا بشأن تنفيذ حُكم القتل تعزيرًا بجانيين في منطقة مكة المكرمة، فيما يلي نصه:
قال تعالى: “وَلَا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ بَعْدَ إِصْلَاحِهَا”، وقال تعالى: “وَلَا تَبْغِ الْفَسَادَ فِي الْأَرْضِ إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْمُفْسِدِينَ”، وقال تعالى: “وَاللَّهُ لَا يُحِبُّ الْفَسَادَ”، وقال تعالى: “إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَسْعَوْنَ فِي الْأَرْضِ فَسَادًا أَنْ يُقَتَّلُوا أَوْ يُصَلَّبُوا أَوْ تُقَطَّعَ أَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُمْ مِنْ خِلَافٍ أَوْ يُنْفَوْا مِنَ الْأَرْضِ ذَلِكَ لَهُمْ خِزْيٌ فِي الدُّنْيَا وَلَهُمْ فِي الْآخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيمٌ”.
أقدم كل من/ نذر ال اسلام عبد ال بصير والمرأة/ سيتي اختر -بنجلاديشيي الجنسية- على فعل الفاحشة داخل أحد المساجد بالعاصمة المقدسة، وبفضل من الله تمكنت الجهات الأمنية من القبض على المذكورين، وأسفر التحقيق معهما عن توجيه الاتهام إليهما بارتكاب الجريمة، وبإحالتهما إلى المحكمة المختصة؛ صدر بحقهما حُكم يقضي بثبوت ما نسب إليهما والحُكم بقتلهما تعزيرًا لخطورة وجسامة ما أقدما عليه بانتهاكهما حرمة الزمان والمكان، وأصبح الحُكم نهائيًا بعد تأييده من مرجعه، وصدر أمر ملكي بإنفاذ ما تقرر شرعًا بحق المذكورين.
وتم تنفيذ حُكم القتل تعزيرًا بكل من/ نذر ال اسلام عبد ال بصير و/ سيتي اختر -بنجلاديشيي الجنسية- يوم الأربعاء بتاريخ 3 / 5 / 1448هـ الموافق 14 / 10 / 2026م بمنطقة مكة المكرمة.
ووزارة الداخلية إذ تعلن ذلك، لتؤكد للجميع حرص حكومة المملكة العربية السعودية على استتباب الأمن وتحقيق العدل وتنفيذ أحكام الشريعة الإسلامية في كل من يتعدى على حرمة المساجد وينتهك الأعراض، وتحذر في الوقت نفسه كل من تسوّل له نفسه الإقدام على مثل ذلك بأن العقاب الشرعي سيكون مصيره.
والله الهادي إلى سواء السبيل.
انتهى.
⸻
مکمل اردو ترجمہ
جدہ، 3 جمادی الاولیٰ 1448ھ، مطابق 14 اکتوبر 2026ء — واس
وزارتِ داخلہ نے آج مکہ مکرمہ کے علاقے میں دو مجرموں کے خلاف قتل تعزیراً کی سزا نافذ کیے جانے کے متعلق ایک بیان جاری کیا، جس کا متن درج ذیل ہے:
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’اور زمین میں اس کی اصلاح کے بعد فساد نہ پھیلاؤ۔‘‘ اور فرمایا: ’’اور زمین میں فساد پھیلانے کی کوشش نہ کرو، بے شک اللہ فساد پھیلانے والوں کو پسند نہیں کرتا۔‘‘ اور فرمایا: ’’اللہ فساد کو پسند نہیں کرتا۔‘‘ اور فرمایا: ’’بے شک جو لوگ اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کرتے ہیں اور زمین میں فساد پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں، ان کی سزا یہ ہے کہ انہیں قتل کیا جائے، یا سولی دی جائے، یا ان کے ہاتھ اور پاؤں مخالف سمتوں سے کاٹ دیے جائیں، یا انہیں زمین سے نکال دیا جائے۔ یہ دنیا میں ان کے لیے رسوائی ہے اور آخرت میں ان کے لیے بڑا عذاب ہے۔‘‘
نذر الاسلام عبد البصیر اور خاتون سیتی اختر، دونوں بنگلہ دیشی شہریت کے حامل، نے مقدس شہر مکہ مکرمہ کی ایک مسجد کے اندر فاحش فعل کا ارتکاب کیا۔ اللہ کے فضل سے سکیورٹی ادارے مذکورہ دونوں افراد کو گرفتار کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ ان سے تحقیقات کے نتیجے میں اس جرم کے ارتکاب کا الزام عائد کیا گیا۔ جب ان کا مقدمہ مجاز عدالت میں پیش کیا گیا تو عدالت نے ان کے خلاف منسوب جرم ثابت ہونے کا فیصلہ سنایا اور وقت و مقام کی حرمت پامال کرنے کے باعث ان کے فعل کی سنگینی اور شدت کے پیشِ نظر قتل تعزیراً کی سزا مقرر کی۔
متعلقہ عدالتی مرجع کی توثیق کے بعد فیصلہ حتمی ہوگیا، اور مذکورہ افراد کے حق میں شرعی طور پر طے شدہ سزا نافذ کرنے کے لیے شاہی حکم جاری کیا گیا۔
چنانچہ نذر الاسلام عبد البصیر اور سیتی اختر، دونوں بنگلہ دیشی شہریوں، کے خلاف قتل تعزیراً کی سزا بدھ، 3 جمادی الاولیٰ 1448ھ، مطابق 14 اکتوبر 2026ء کو مکہ مکرمہ کے علاقے میں نافذ کردی گئی۔
وزارتِ داخلہ یہ بیان جاری کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ مملکت سعودی عرب کی حکومت امن و امان برقرار رکھنے، انصاف قائم کرنے اور ان تمام افراد پر شریعتِ اسلامی کے احکام نافذ کرنے کے لیے پُرعزم ہے جو مساجد کی حرمت پامال کرتے اور لوگوں کی عزت و آبرو پر حملہ کرتے ہیں۔ وزارت ان تمام افراد کو خبردار بھی کرتی ہے جن کے دل میں ایسا جرم کرنے کا خیال آئے کہ انہیں شرعی سزا کا سامنا کرنا پڑے گا۔اور اللہ ہی سیدھے راستے کی رہنمائی کرنے والا ہے۔