24/12/2025
دوپہر کا سخت وقت تھا، سورج عین سر پر آگ برسا رہا تھا اور پیاس مسافر کے صبر کا امتحان لے رہی تھی۔ وہ ایک لمبے سفر پر تھا، قدم لڑکھڑا رہے تھے اور ہونٹ خشک ہو چکے تھے۔ دور اسے ایک پرانا کنواں دکھائی دیا، جسے دیکھ کر دل میں امید جاگی اور جسم میں نئی جان آ گئی۔
جیسے ہی وہ کنویں کے قریب پہنچا اور رسی ڈال کر پانی نکالنے لگا، اچانک اس کی نظر کنویں کے اندر پڑی۔ وہاں ایک سانپ پھنسا ہوا تھا، پانی کے کنارے لپٹا ہوا، بے بس اور خوف زدہ۔ ایک لمحے کو مسافر کے دل میں ڈر اُبھرا، پیاس اپنی جگہ تھی مگر ضمیر نے آواز دی۔ وہ چاہتا تو پانی پی کر آگے بڑھ سکتا تھا، مگر اس کی انسانیت نے اسے رکنے پر مجبور کر دیا۔
مسافر نے احتیاط اور ہمت سے کام لیتے ہوئے کنویں میں ایک مضبوط لکڑی اور رسی ڈالی۔ سانپ نے بھی جیسے اس نیکی کو محسوس کر لیا، وہ نقصان پہنچانے کے بجائے آہستہ آہستہ باہر آ گیا۔ باہر آ کر وہ چند لمحے ٹھہرا، پھر خاموشی سے جھاڑیوں میں گم ہو گیا۔
مسافر نے اس کے بعد پانی نکالا، پیاس بجھائی اور دل میں عجیب سا سکون محسوس کیا۔ وہ سمجھ چکا تھا کہ اصل انسانیت یہی ہے کہ انسان اپنی ضرورت کے وقت بھی کسی بے بس کی مدد سے منہ نہ موڑے۔ نیکی ہمیشہ بدلے کی محتاج نہیں ہوتی، مگر وہ انسان کے دل کو اس قدر سیراب کر دیتی ہے کہ پھر پیاس صرف جسم کی رہ جاتی ہے، روح کی
"It was a harsh afternoon, the sun blazing overhead, thirst testing the traveler's patience. He was on a long journey, stumbling, with parched lips. Far ahead, an old well appeared, reviving hope and rejuvenating his spirit. As he approached and began to draw water, he noticed something inside - a trapped snake, coiled near the water’s edge, helpless and frightened. For a moment, fear flickered, but his conscience spoke louder than thirst. He could’ve just drank and left, but his humanity wouldn’t let him.
Carefully, he dropped a sturdy stick and rope into the well. The snake, sensing kindness, didn’t attack; it cautiously emerged. Once out, it paused, then silently slipped into the bushes.
The traveler drew water, quenched his thirst, and felt an inexplicable peace. He realized true humanity is helping the helpless, even when it’s inconvenient. Kindness isn’t always rewarded visibly, but it fills the soul so deeply that only the body remains thirsty, not the spirit." 🌟
Asif Ali Ajjaz