16/02/2024
اس دن خوب بھر بھر کے مینہ برسا تھا۔زرداد کی فلائیٹ کینسل ہونے پر اسے واپس گھر آنا پڑا تو پہلی نظر ہی ٹیرس پر جھومتی علیزے پر پڑی تھی۔فلائیٹ ڈیلے اور اپنےکام کو لے کروہ انتہائی تفکر میں گھرا ہونےکے باوجود بھی علیزے کو دیکھ کر وہ ایک سکون کے احساس میں مبتلا ہوا تھا اور بنا چینج کیئے ٹیرس کی طرف قدم بڑھائے۔ہروہ منظر جو دور سے دھندلا تھا پاس آنے پر شفاف تھا جبکہ زرداد بےطرح ٹھٹھکا تھا۔دوبٹے کی ڈھال سے آزاد ،کڑاہی دار سفید کاٹن کے سوٹ میں ملبوس لڑکی ،شاید اپنے وجود کی اٹھانوں سے بےخبر تھی جبھی اپنی مستی میں گم مور کی طرح پنکھ پھیلائے ،کھلی فضا میں بازو وا کیئے ہوئے تھے۔زرداد اپنے قدم اسکی طرف اٹھنے سے روک نہیں پایا تھا۔
ایسے ضروری ہو مجھکو تم
جیسے ہوائیں سانسوں کو
ایسے تلاشوں میں تمکو
جیسےکہ پیرزمینوں کو
ہنسنا یا رونا ہو مجھے
پاگل سا ڈھونڈو میں تمہیں
کل مجھ سے محبت ہونا ہو
کل مجھکو اجازت ہونا ہو
ٹوٹےدل کےٹکڑے لےکر
تیرےدرپرہی رہ جاؤنگا۔۔۔۔۔۔۔۔
اسکے سامنے رکتے زردادحیدر کے دل نے کچھ لمحوں میں کتنی صدائیں بن لی تھیں ،سامنے ٹہری لڑکی پوری طرح سے انجان تھی جب اپنے سامنےساکت ہوتے وجود کو دیکھتے وہ رکی تھی۔
"حیدر ،اوہ گاڈ سچ میں ،اللہ تعالی کتنے اچھے ہیں نا اگر اسوقت ہم ان سے کچھ اور مانگ لیتے تو شاید وہ بھی ہمیں دے دیتے۔۔۔ہنم۔۔۔پر ہم ان سے آپکے سوا کیا مانگتے ؟ہاں شاید اپنا میتھ اچھا ہونے کی دعا۔۔۔۔"علیزے اسے دیکھتے بہت ایکسائیٹڈہوئی تھی۔زردادکےشانوں پر اسکا ہاتھ جانہیں سکتا تھا جبھی اسکی کمر کے اردگرد ہاتھ ڈالےاسکے سینے پر سر ٹکائے چہک رہی تھی جبکہ وہ جتنا زاہد وحامد ہوتا،صنف مخالف کے وجودکی نرماہٹیں اسکے اندر ایک یک برق سی بھرنے لگی تھیں وہ چاہ کر بھی علیزے کو جھٹک نہیں پارہا تھا۔اتنی بارش میں اسے اپنا وجود پسینے میں بھیگتا محسوس ہورہا تھا۔
"آپ۔۔نے۔۔۔آپ نے ہمیں کیوں مانگا علیزے۔ہم تو پہلے ہی آپکے ہیں؟"زردادنےٹائی کی ناٹ ڈھیلی کی جو بھیگنے کی وجہ سےکچھ چبھن کا احساس دے رہی تھی جبکہ اسکی وائٹ شرٹ پوری طرح بھیگ چکی تھی۔
"او۔۔۔نہیں تو ،ہم چاہتے ہیں آپ ہمیشہ ہمارے دل میں رہیں۔۔۔۔زردادقلبم شوی ،رادرقلبم شوی(میرے دل کا گہنا بن کے، میرے دل کا دل بن کے)۔"
اس نے پرجوش آواز میں کہا تھا جبکہ زردادچونکا ،وہ بھی اسکی طرح مختلف زبانوں پر عبور چاہتی تھی ،جانے کیوں وہ لڑکی زردادحیدر کی پرچھائی بن کے رہنا چاہتی تھی۔زردادنے بارش میں بھیگے رخساروں کو سہلایا تو وہ جیسےاسکی آزمائش بننے لگی تھی۔
“حیدر آپکو پتا ہے ہمیں بارش بہت پسند ہے۔۔”وہ دونوں ہاتھ آسمان کی اوور کیئےچہرہ اوپر کیئے کن من ہوتی بارش کو پوری طرح خود میں محسوس کرتی بولی تو زرداد نےاثبات میں سرہلایا تھا۔بارش کی بوندوں کو مٹھی میں قید کرتی لڑکی اسوقت زردادحیدر کو اس شام کا سب سے حسین منظر لگی تھی۔وہ بغور اسکی روشن پیشانی ،ناک اور پھر لبوں سے ٹھوڑی تک کا سفر کرتے بارش کےقطروں کو دیکھنے لگا جو ابھی بھی اپنا رستہ بناتےاسکی گردن سےہوتے شرٹ کی اتھاہ گہرائیوں میں گم ہوگئے تھے۔حالنکہ اس مقام پرزردادحیدر کی تلاش ختم ہوجانی چاہیئےتھی پرسفید کاٹن کی شرٹ سےجھانکتے دلفریب منظر کےنشیب وفراز زردادحیدرکو بےساختہ گستاخی پر مجبور کرگئے تھے۔علیزے اپنے اور اسکےرشتے کی گھمبیرتا سےواقف نہیں تھی وہ تو ایک باحواس مرد تھا جس پر حق ملکیت کا احساس پوری طرح اجاگر ہوتے اسےسامنےکے دلفریب مناظرپر بار بار بھٹکنے پر مجبور کررہا تھا۔اس نے بنا محسوس کرائے علیزے پر جھکتے اسےنرم بازووں کا حصار دیا تو علیزے اسکی اتنی سی توجہ پاتےبےحد کہلہلائی تھی جبکہ اسکی نادانیاں زردادحیدرکی بےچینیوں کومزیدبڑھاوا دیتیں شوق رفاقت کےجذبات بھڑکارہی تھیں۔اس نے بوند بوند برستی بارش کے قطروں کو لبوں سے اسکی پیشانی سےچننا چاہا تووہ شرارتی سی علیزےکی ناک کارخ کرگئیں زردادحیدر کےلبوں نے کسی پیاسےمسافر کی مانند اسکی ناک کا سفر کیا تو بوندیں مزیدشرارت بامائل ہوتی لبوں سے گریبان کا سفرطےکرگئیں ۔وہ ان خطاوار بوندوں سےناراض ناراض سےعلیزےکی گردن پر سختی سےلب جماگیا تھا جبکہ وہ کسی بت مانند ٹہری زردادحیدرکا یہ ناآشنا لمس محسوس کررہی تھی جانےکیوں دھڑکنوں میں عجیب سا احساس اجاگر ہوا تھا وہ بےاختیار خود پر جھکے زردادحیدر کی گردن میں بازو حمائل کرگئی تو وہ چونکتے کسی خواب نگری سےواپس آتے علیزے کے الجھن زدہ چہرے کو دیکھنے اور پھر سختی سے لب بھینچے اسکا بازو اپنے گلے سے جھٹکا۔
اس سے پہلے کہ وہ کوئی گھمبیرخطا کرکے اسکےمعصوم ذہن میں کوئی ناگواری پیدا کرتا اسے پیچھے ہٹاتے تیز تیز قدموں سے وہاں نکل گیا تھا اور پھر ملازمہ کے ذریعے اسے پیغام بھیج کر بلوا لیا تھا۔رات گئے تک یہ بارش شدید طوفان کی شکل اختیار کرچکی تھی ،اتنی کہ جون میں بھی سرما کی شدت محسوس ہورہی تھی۔کھانا ان دونوں نے ایک ساتھ ہی کھایا تھا اور کھانا کھاتے ساتھ ہی وہ اپنا لیپ ٹاپ اٹھائے مصروف ہوگیا تھا جبکہ علیزےکے پاس کرنے کو کچھ خاص تھا نہیں جبھی وہ جلدی سونے چلی گئی تھی۔پر کچھ دیر ہی گزری تھی جب ،بادلوں کی گھں گرج اسے وحشت میں مبتلا کرنے لگی اور وہ لاؤنچ میں زرداد کے پاس لوٹ آئی تھی۔
"وہاٹ ہپینڈ علیزے،ہمیں لگا آپ سوگئی ہونگی؟"زرداد نےاسے دیکھ کر اپنا لیپ ٹاپ سیمٹتے ہوئے کہا تو وہ زرداد کےپاس آکر بیٹھی تھی۔
"حیدر۔۔۔وہ۔۔وہ ہم آپکے پاس سوجائیں۔۔ ہمیں بادلوں سے ڈر لگ رہا ہے۔۔۔"زرداد کو اٹھتے دیکھ اس نے فورا اسکا ہاتھ تھاما جب وہ اجنبھے سے اسے دیکھنے لگا تھا۔
"بٹ کیوں؟آئی تھنک دن تک تو آپکی بادلوں سے اچھی خاصی دوستی تھی اینڈآپ انجوائے بھی کررہےتھے انکے ساتھ۔"زرداد نے جمائی روکنے کی ناکام کوشش کرتے ہوئےعلیزے کو غیرسنجیدگی سے لیتے ہوئے کہا۔
"بٹ ابھی ،بہت زور کی آواز ہے ہمیں ،ڈر لگ رہا ہے۔"وہ بھی زرداد کے ساتھ کھڑی ہوئی تو وہ اسے ایک نظر دیکھتےبےبس ہوا تھا کتنی مشکل۔سے تو اس نے شام میں خود کو سنبھالا تھا اگر وہ اسکے پاس آکر رہے گی تو یقینا وہ خود کو مزید پیشمان سا خطاوار محسوس کرتا تبھی اسکے روم کی طرف بڑھ گیا۔چونکہ اسکا روم گھر کے ایج پر تھا جبھی ،باہر ہوتی گھن گرج باآسانی کھڑکی سے اسے دہلا رہی تھی۔
"سوجائیں علیزے ہم یہاں ہیں،کچھ نہیں کہہ رہے بادل آپکو۔۔۔"زردادپر اگرچے نینیدکی خماری تھی اسکےباوجود وہ اسے بہلانے کو اسکے روم میں موجود چئیر پر بیٹھا تھا جبکہ وہ فورا بیڈ کی طرف بڑھتے کمفرٹر میں مقید ہوئی زردادسیل پر مصروف تھا جب ایک بار پھر بادلوں نے اپنا جوبن دکھایا علیزے نے دونوں ہاتھ کان پر رکھے چیخ ماری تو زرداد کو ناچار اپنا شغل ترک کیئے اسکے پاس آنا پڑا تھا۔
"آپ علیزے کے ساتھ سوئیں گے؟"وہ حیرانی سے اسے دیکھ رہی تھی جو اسکے برابر لیٹا انتہائی دلچسپی سے اسکے حیران حیران، تاثرات دیکھ رہا تھا۔
"ہاں کوئی مسئلہ ہے کیا ہمارے ساتھ سونے پر آپکو؟آئی تھنک بادلوں سے نمٹنے کا اور کوئی حل نہیں ہےہمارے پاس۔۔۔"
حیدر نے اسکے تکیے پر بکھرے بال سیمیٹے تھےجب اسکا چہرہ حیدر کے لمس پر عجیب سے احساس سے دہک اٹھا تھا۔
"نہیں ہمیں مسئلہ تو کوئی نہیں ہےلیکن ہم ،آپ۔۔۔ہمارا مطلب ہے آپ یہاں سوجائیں ہم کاؤچ پر جاکر سوجائیں گے۔"علیزے نے اسکے پہلو سے اٹھنا چاہا تھا جب حیدر نے اپنے بازو کا ایک حصار سا اسکے سینے اور بیڈ کے درمیان بنایا تھا۔اسکے بازو کے حصار کو ناسمجھی سے دیکھتی علیزے نے کچھ بولنے کو پرتولے تھے جب حیدر نے اس کے اوپر جھکتے ہوئے اپنے اطلسی ہونٹوں سے اسکے بارفشیں ہونٹوں کو چھوا تھا۔وہ بھی بندہبشر تھا جب حسن کھل کےاسطرح پورے اسحقاق سے بکھرا تھا تو وہ کب تک نظریں چرائے رہ سکتا تھا۔اسی پل اس نے ایک عہد جڑا تھا ،کبھی بھی علیزے کو خود سے الگ نہ کرنے کا،وہ زردادحیدرکیلئےقلب شوی کی مانند رہنے والی تھی جسکی مسکراہٹ ،جسکے بھولےپن میں زردادحیدر کی سانس اٹکنےجارہی تھی۔
علیزے تحیرزدہ سی اسکی حرکت کو دیکھتی اسکی آنکھوں میں دیکھ رہی تھی۔آج کل حیدر اسے اپنے ہونٹوں کے لمس سے جو آشنائی دےرہا تھا وہ علیزےکو پریشان کررہی تھی۔جانے کیوں وہ عجیب احساس میں گھر رہی تھی۔زردادحیدر نے اسکا حیران ہونا بخوبی دیکھا اور مسکراتے ہوئے اس کے اوپر سے ہٹتے اسکے برابر تکیے پر سرٹکاتے اسکا سر اپنے بازو پر رکھا تھا۔
"جب زردادحیدر آپکے آس پاس ہوں لیزے تو؟ آپکو ان سے دور جانے کے بہانے ڈھونڈنا الاؤ نہیں ہے۔ہم یہاں ہیں صرف آپکیلئے اور آپ بیڈ چھوڑ کر صوفے پر جانے کا سوچ رہی ہیں جو کہ ہمیں بلکل پسند نہیں آیا ہےبس یہ عمل اسکی سزا سمجھ لیں آپ جب جب ہم سے دور جانے کی بات کریں گی ہم ایسےہی آپکوسزا دیا کریں گے۔"
حیدر کی آواز میں ناراضگی نمایاں تھی۔علیزے کی جان پر بنی وہ زرا سا اوپر کو اٹھتے اسکا چہرہ دیکھنے لگی تھی جو بلکل سپاٹ تھا۔یقینا وہ علیزے سے تضاد بھرا کوئی مذاق نہیں کرتا تھا۔
"ہم نے اسیلئے بولا تھا تاکہ آپ یہاں کھلے ہوکر سوسکیں ۔لیزے کا بیڈ تو چھوٹا ہے نا اور آپ اس پر نہیں سوسکیں گے حیدر۔۔۔"وہ اسکا ہاتھ اپنے
مخروطی ہاتھوں میں لیئے بےچین سی بولی تھی۔
"اوہوں گنجائش دلوں میں ہونا چاہیئے علیزےحیدربیڈ کا کیا ہے ہم دونوں اتنی آسانی سے اس پر ایڈجسٹ ہوسکتے ہیں۔۔بلکہ آپ چاہیں تو اپنے سونے کیلئے اس بندے کا وسیع سینہ بھی استعمال کرسکتی ہیں یقین مانیں یہ ہمارے لیئے بےحد مسرت کا باعث ہوگا۔"
حیدر نے اسکا ہاتھ اپنے چہرے پر مسلا تھا۔علیزے اسکی داڑھی کی چبھن پر زرا سا مسکائی تھی جبکہ زردادحیدراسکی مسکان کی خوبصورتی میں کھوساگیا تھا۔
"سوری ہمارا ایسا کوئی مطلب نہیں تھا اور ہمیں اچھا لگے گا ،آپ ادھر ہونگے ہم ڈریں گے بھی نہیں۔۔۔"
علیزے نے زرداد کی حرکت دہراتے اسکےہونٹوں کو چھوا اور پھر اپنے رخسار اسکے رخساروں سے مس کیئے،اسکےپیار کا انداز لوٹایا تھا۔علیزے انجانے میں اس شخص کے اندر نئی آگ جلارہی تھی۔
"مت اتنی پیاری لگا کریں علیزے کہ حیدر کی جان نکلنے لگے۔۔۔"
حیدر نے اسے ایک دم خود میں بھینچتے ہوئے گھمبیر آواز میں اسکے کانوں کے پاس سرگوشی کی تو وہ اسکی شدتوں پر گھبرائی تھی۔زردادخود بھی نہیں جانتا وہ اس عمرکی قید سے خود کو آزاد کیوں محسوس کررہا تھا؟اس نے شاید ہی علیزے کے ساتھ عمربھر کے خواب سجائے ہوں بلکہ جوں جوں علیزے ،بالپکن کی حدیں کراس کرتی جوانی کی دہلیز پر قدم دھررہی تھی اسکے اندر ایک عجیب پکڑ دھکڑ ہونے لگی تھی۔جب وہ اپنے اور زرداد کےرشتے کی سمجھ بوجھ میں آئے گی تو کیا تب بھی وہ ایسے بچکانہ حرکت کرسکے گی؟اور سب سے بڑھ کر کیا وہ زرداد کو اپنا ہمسفر بناپائےگی جبکہ ،وقت بڑھتے زردادحیدر کی عمرڈھلنےوالی ہوگی۔۔۔ایک دم کئی جان لیوا سوچیں اس پر حملہ آور ہوئیں تو اسکے اندر سناٹے بھرنے لگے تھے۔علیزے کو ایک رشتے کی آگاہی نہیں بلکہ اپنے ،ماں باپ کی موت کی وجہ بھی پتا چلی تو شاید وہ ہمیشہ کیلئے زردادحیدر سے دور ہوجائےاور تب وہ اسکی جدائی ہرگز برداشت نہیں کرسکے گا۔عجیب منجدھار میں پھنسی زندگی بنتی جارہی تھی جو دل و دماغ کی تاویلیوں میں قید ہوگئی تھی مستقبل کےاندیشے مکمل خوشی نہیں دے پارہے تھے۔زردادنے بےچینی میں گھرتے علیزے سے فاصلہ بنایا تھا۔
"آپ نے کہاتھا آپ علیزے کو میتھ کے ایگزام میں ہیلپ کریں گے کل ہمارا ایگزام ہے اور ہم شاید اس بار بھی فیل ہوجائیں۔" زرداحیدرنے چونک کراسے دیکھا تھا آیا یہ اسکےشدت سے پرلمس پر طرز تغافل تھا یا وہ واقعی ایگزام کو لےکر ٹینس تھی۔پر اسکے تاثرات دیکھ کر کچھ بھی سمجھنے سے قاصر تھا۔
"ہم بھی تو اپنے ایگزام میں فیل ہورہے ہیں علیزے حیدر ،فیل ہونا اتنی بھی بری بات نہیں ہوتی ہے۔"زردادحیدرکھوئےکھوئےاندازمیں جانے اسے کون کون سے مفہوم سمجھانا چاہتا تھا جو ناسمجھی سے اسے دیکھنے لگی تھی۔
"پرمام ،ڈیڈ تو کہتے تھے آپ بہت جینئس ہو پھر آپ کیسے فیل ہوسکتے ہیں؟"علیزے الجھی تھی زردادحیدر اسکی معصومیت کی گتھیاں سلجھانےلگا تھا۔
"اگر آپ چاہتی ہیں نا ہم اور آپ ہمارے ایگزام میں فیل نہ ہوں تو آپکو حیدر کی کچھ باتیں ماننی ہوں گی ۔"
زردادحیدرجانتا بھی تھا کہ وہ اس لڑکی کی عمر سے بڑے حساب چاہتا تھا پر وہ دل کا کیا کرتا جو لمحہ بہ لمحہ اسکی طرف مائل ہورہا تھا۔کہیں رومی کی باتیں سچ تو نہیں تھیں؟وہ کم سن کلی پر ایمان کھورہا تھاپر وہ اسکے نکاح میں تھی یہ الفت فطری تھی جو وہ اسکا بیمار ہورہا تھا۔
"بتائیں نا حیدر ،آپ ہمیشہ اچھی باتیں بتاتے ہیں۔۔"
وہ پراشتیاق انداز میں زردادحیدر کے شانے پر سررکھے بولی تھی۔زردادکیلئے یہ تنہائی اور یہ وجودآزمائش بن رہا تھا جبھی وہ اٹھ بیٹھا۔
"علیزے اگر آپکو کامیاب ہونا ہے تو اپنے خوف پر قابو پانا ہوگا۔بالفرض اگر آج ہم یہاں نا ہوتے تو کیا کرتیں آپ؟کسکو اپنے پاس بلاتیں؟"
زرداد نے اس سچویشن پر بازپرس کی شاید وہ اپنا دھیان بٹانا چاہتا تھا۔
"تو ہم دایا جان کو بلالیتے۔۔۔"علیزے نے جھٹ سے جواب دیا جب وہ نفی میں سرہلا گیا۔
"نہیں علیزے ،دوسروں کےسہارے لینا چھوڑ دیں ،اپنی اون پر جینا سیکھیں۔۔۔"زردادکےلب وہ لہجے میں ایک زمانے کی تھکن آسمٹی تھی جبکہ وہ اسے ناسمجھی سے دیکھنے لگی۔باہر بارش شاید رک چکی تھی تبھی بادلوں کی گھن گرج میں کمی تھی۔
"رہ لیں گی نا آپ اکیلے؟"زردادکا اندازایسا ناقابل فہم تھا کہ وہ سرہلاگئی تھی اور کیا کرتی۔زرداد اسکے قریب سے اٹھ گیا تھا جبکہ علیزے اسے جاتے دیکھ رہی تھی جیسےکسی بچے کا من پسند کھلونا کوئی اور لےگیا ہو۔پر زردادنے کہا تھا اسے ڈرنا نہیں ہے اور وہ واقعی نہیں ڈری۔اس نے اکیلے سنںبھلنا سیکھ لیا تھا۔
#ناول
★★★★★★★★★★★★★★★
آبریش کو سوئے ابھی کچھ دیر گزری تھی جب وہ اسکے روم میں آیا تھا۔چونکہ سیکورٹی کے لحاظ سےنورمحل میں ہر طرح کی بیفکری تھی تبھی وہ بھی ان سب کی طرح دروازے بندکرکے نہیں سوتی تھی۔
اسفندیار نے نائٹ بلب کی روشنی میں اسکے دودھیائی چکمدار چہرے کو دیکھا تھا اور اس پر جھکتے گویا اپنے رشتے کا استحقاق جتاتا لمس چھوڑا تو وہ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی تھی۔
"تم یہاں کیا کررہے ہو؟"
وہ اسے سامنے دیکھ کر چٹخی تھی اس رات کے بعد سے انکا سامنا نہیں ہوا تھا۔
"اماں سائیں بتارہی تھیں کہ انکی بہو مجھے یاد کررہی تھی؟"
وہ آبریش کا ہاتھ تھامے اسکے برابر لیٹا تھا۔وہ اسکی حرکت پر سیخ پا ہوتی اٹھنے لگی تھی جب اسفندیار نے اپنا بازو اسکے سینہ پر رکھتے اسکے اٹھنے کی کوشش ناکام بنادی تھی۔
"اگر بناکسی فضول حرکت کے خاموشی سے لیٹی رہیں گی تو یقین مانیں آپکا اپنا فائدہ ہے۔"
اسفندیار نے اپنے مخصوص دھیمے انداز میں کہتے اسکے تنے تنے نقوش کا جائزہ لیا تھا۔
"ہاں فائدے نقصان کی بات تم نہیں کروگے اسفندیار تو اور کون کرے گا لیکن میں تمہیں یہ بتادوں کہ میں اساوری نہیں ہوں جو تمہاری عیاشی کا سامان کرے۔"
وہ اسکا ہاتھ اپنے سینے سے ہٹانے کی تگ ودو کرتے بولی تھی جبکہ اسکی بات اسفندیار جیسے کول مائینڈ بندے کو بھی چٹخ گئی تھی۔اب کے اس نے آبریش کے دونوں ہاتھ اپنی گرفت میں لیئے تھے۔
"آپ نے مجھے بہت مایوس کیا ہے آبریش لگتا ہی نہیں کہ آپ امریکہ جیسے کھلے ڈلے ماحول سے آئی ہیں ۔وہیں ٹیپکل بیویوں والے طعنے بہرحال میں اپنی اس دن کی حرکت پر معذرت کرنے آیا تھا لیکن یہاں آکر پتا چل رہا ہے کہ آپکا دماغ تو اچھا خاصہ خراب ہوچکا ہے جسے درست کرنے کیلئے مجھے رخصتی کا انتظار کرنا فضول لگ رہا ہے۔"
اسکی گھمبیر آواز نے کمرے کے ماحول کو پرسرار سا بنایا تھا۔
"یہ تمہاری شدید غلط فہمی ہے اسفندیار کہ میں تمہیں رخصتی کا موقع بھی دونگی۔"
اس نے استہرائیہ انداز میں کہتے اسفندیار کا مذاق ہی اڑایا تھا جب اسفندیار نے اس پر جھکتے ہوئے اپنے لب اسکے عریاں لباس سے جھانکتی کہکشاؤں پر رکھتے کچھ خاص لمحے مستعار لیئے تھے۔
"تو موقع چاہیئے کسے آبریش صاحبہ۔۔۔"
اسکا ذومعنی انداز اور حرکتیں آبریش کو ٹھنڈے پسینے سے تر کرگئی تھیں۔یہاں موجود اسفندیار کے اس انداز سے تو وہ ناواقف ہی تھی۔
"کک۔۔۔کیا کررہے ہوتم ،اگر تمہیں لگتا ہے میں اساوری کی طرح تمہاری زورزبردستی پر خاموش ہوجاؤنگی تو۔۔۔۔"
"شش۔۔۔چپ بلکل چپ آبریش ،جانتی ہیں اس لمحے میں آپکی سانس لینے آواز بھی مجھے بلکل اچھی نہیں لگ رہی ہے آیا کہ کسی رقیب کا ذکر۔۔۔"
اسفندیار نے مصنوعی بٹنوں سے اٹی اسکی شرٹ کو اسکے سینے سے رہا کیا تو حددرجہ بولڈ رہنے کے باوجود بھی آبریش اس حرکت پر خود میں سمٹ گئی تھی جبکہ اسفندیار شاید اس بات سے آگاہ ہی نہیں تھا کہ اسوقت وہ آبریش پر اپنے حق جتانے کی ہر حد سےگزر رہا تھا شاید۔
آبریش نے اپنے وجود کو حجاب کی آڑ میں لینے کی خاطر اسفندیار کی طرف پیٹھ کرلی تھی۔
عریاں کہکشاؤں کا منظر تو جیسے بادلوں کی اوٹ میں چھپ گیا تھا پر اسفندیار ان شادابی ہونٹوں کی لذت سے محرومی کا بھی شکار ہوا تھا۔
اسکے ہاتھ آبریش کی کمر کے بل خم میں الجھتے ناف کا پیالہ ناپنے لگے جس نے میں محبت کے كنكر پھینک پھینک کر اپنی پیاس بجھانے کو اپنے لب اسکی کمر پر رکھ دئیے تھے۔
اسقدر جان لیوا لمس ،آبریش کو لگ رہا تھا اگر وہ اسی طرح کچھ دیر مزید اسکے سامنے بےبس ہوئی تو اپنا آپ ہار دے گی۔اس سے پہلے کہ اسفندیار کے ہاتھوں کا پرحدت لمس اسکی پیٹھ سے ہوتے اسکے وجود کو اس بےحجاب لباس سے مکمل آزادی بخشتا وہ اسے جھٹکتے اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔
دل کی دھڑکنیں ادھم مچاتیں ،کسی انہونی کا اشارہ دے رہی تھیں۔
"پلیز اسفندیار تم جاؤ یہاں سے۔"
وہ اسکی جانب ہنوز پیٹھ کیے ٹہری تھی جب وہ بستر سے اٹھتے اسکے مقابل آیا تھا اور اسے پشت سے جکڑے دیوار کے ساتھ لگاتے اسکا رخ اپنی جانب کرلیا ۔
"کیوں؟ابھی سے ہار گئیں آپ جبکہ میں تو آپکو آپکے بھاری لفظوں کے مطلب بھی نہیں سمجھا پایا جو آپ میری ماں کے سامنے بول کر آئی ہیں۔"
اسفندیار کے لہجے نے اسے ڈگمگایا تھا۔وہ اسکی چاہ میں مغلوب ہوکر اسکے وجود پر اپنی راجھستانی قائم کرنے نہیں آیا تھا بلکہ وہ تو اسکے بولے لفظوں کو کسی تماچے کی مانند لوٹانے آیا تھا۔
"آپ نے ہی تو کہا تھا اس محل کے مردوں کو جہاں موقع میسر آئے وہ اسے اپنی عیاشی کا اڈہ بنالیتے ہیں تو آبریش شاہ مجھ پر یہ فرض کردیا گیا ہے کہ ان لفظوں کا قرض لٹاؤں ،میں آپکو بتاؤں کہ آپ کس قدر اپنی بات کی سچی ہیں۔"
دھیرے دھیرے اسفندیار کی آواز ہی نہیں بلکہ اسکی گرفت بھی سختی پکڑ رہی تھی جبکہ وہ گنگ سی ٹہری تھی۔
"مجھے لگا تھا جب کبھی میرے کردار کی گواہی کا موقع آیا تو آپ صف اول آکر مجھے باکردار ثابت کریں گی کیونکہ کئی بار کے ایسے مواقع تھے کہ اپنا پورا حق رکھنے کے باوجود میں نے آپکی طرف دیکھنا بھی گناہ سمجھا تو آپ نے یہ کیسے مان لیا کہ اسفندیارولی اسقدر گراوٹ کا شکار شخص ہوگا جو اپنے گھر کی بیٹی پر بری نگاہ ڈالے گا ؟"
اسفندیار کے دونوں ہاتھ اسکے کندھوں میں گڑ سے گئے تھے۔
آبریش کے دل ودماغ میں دھواں سا بھررہا تھا جب اس نے اپنے لبوں کی جنبش کے ساتھ ،اپنے جبڑوں کا کمال بھی آبریش کے نازک وجود پر چھوڑا تو وہ تڑپ اٹھی تھی۔
"مم۔۔مجھے غلط فہمی ہوئی تھی۔۔سس۔۔سوری اسفندیار۔۔۔"
اسوقت آبریش کو کچھ نظر نہیں آرہا تھا ماسوائے اسکے کہ وہ اپنی غلطی مان کر اس شخص سے جان خلاصی کرلیتی ۔
"ایسے کیسے میری جان ،اتنی آسانی سے معافی تھوڑی نہ ملے گی۔۔۔"
اسفندیار نے کہتے ساتھ ہی اسکے وجود کو لباس کی قید سے رہا کیا تو وہ چیخ اٹھی تھی جبکہ وہ اس پر جھکتے اسکے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں کی ظالم قید میں لےگیا تھا۔۔۔۔
یہ انتہائی خوبصورت ای۔بکس آپ اوریجنل قیمت ❌/ڈسکاؤنٹ پرائس 600 پر حاصل کرسکتے ہیں۔۔۔مزید تفصیلات کیلئے انباکس کریں۔۔۔۔
♡♡。♡♡