بیت المقدس

بیت المقدس مسلمانوں کی مقدس جگہ. یہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے معراج کی رات تمام انبیاء ع کی امامت کروائ... یہ مسلمانوں کا قبلہ اول بھی رہا

09/05/2024

لکڑی کے علاوہ کائنات میں ہر چیز ملے گی جب کہ لکڑی زمین پر ہی ملے گی۔

ہمیں اللہ رب العزت کا شکر ادا کرنے والا دل مل جائے جو ہر وقت شکر میں رہےشکر کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ انسان کی زبان پ...
29/04/2024

ہمیں اللہ رب العزت کا شکر ادا کرنے والا دل مل جائے جو ہر وقت شکر میں رہے
شکر کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ انسان کی زبان پہ نعمت کی کمی کے شکوے نہ ہوں اور یہ کم درجہ ہے مگر ہے بڑا آسان اور یہیں سے شکریے کی ابتداء کی جاسکتی ہے اور بڑےے شکر کی جانب لے جائے گی۔
بڑے شکر میں یہ ہے کہ اللہ کی نافرمانی والے کام نہ ہوں اور جو نعمتیں اللہ نے دی ہیں ان سے انسانیت کی بھلائی کی جا رہی ہو
اگر دماغ کو شکریے پہ لگانا ہےتو سوچ یہ بنی ہو کہ میں کس طرح انسانیت کو نفع پہنچا سکتا ہوں اور سب سے بڑا نفع انسان کو سیدھے رستےپہ لگانا ہے اور اس دوران تکلیف آئے چاہے گرمی سردی کی صورت میں تکلیف ہو یا پھرزبان سے کسی کی طرف سے پہنچائی جانے والی تکلیف ہو ان اذیتوں کو برداشت کیا جانا بھی نعمت کا شکر ہی ہے اور یہ بڑے شکر میں شمار ہوتا ہے۔
جب کسی انسان کا مال ضائع ہو رہا ہوتو انسان کے دل میں درد اٹھتا ہے اور اسے سمجھاتا ہے کہ آپ کا مال ضائع ہو رہا ہے اور ممکن ہو سکے تو اسے اس کی حفاظت کر کے دیتا ہے تاکہ مال ضائع نہ ہو۔
اسی طرح کسی کا دین ضائع ہونا بھی بہت بڑٰ تکلیف دہ چیز لگے کہ اس کا آخرت کے حوالے سے کتنا بڑا نقصان ہو رہا ہے یہ بڑے شکر میں شامل ہے۔
اس طرح یہ ایک باقاعدہ محنت بن جاتی ہے جو دوسروں کے اور اپنے دین کی حفاظت اور بڑھوتری کی باقاعدہ محنت کہلاتی ہے جسے باقاعدہ سیکھنے کےلیے مختلف اوقات میں اجتماعات منعقد ہوتے ہیں۔
3-مئی-2024ء کو اسلام آباد کا 2 روزہ اجتماع منعقد ہو رہا ہے جو مسجد ابوالقاسم اسلام آباد موٹر وے لنک روڈ کے ساتھ منعقد ہو رہا ہے۔
اجتماع کی لوکیشن گوگل میپ پر: https://maps.app.goo.gl/5xrStSjjDeR12KcAA
تاریخ: 3-مئی-2024ء(جمعہ-عصر)
دعاء: 5-مئی-2024ء (اتوار-صبح)
یہ اجتماع چھٹیوں کے دنوں میں منعقد ہو رہا ہے جس میں ملازم پیشہ افراد کے لیے آسانی ہے۔
خود بھی ابھی سے تیاری کیجیے اور دوسروں کو بھی تیار فرمائیے اور اس میسج کو شیئر کیجیے کیوں کہ آپ کی وجہ سے ایک انسان راہ راست پر آ گیا تو آپ کی نجات کے لیے ان شاء اللہ کافی ہے

28/04/2024

مولانا عبیداللہ سندھی 1915ء میں انگریز کی پکڑ سے چھپتے چھپاتے براستہ بلوچستان افغانستان میں داخل ہوئے۔
ان کا ساتھ اس وقت مولانا شیخ عبدالرحیم نے دیا تھا اور افغانستان میں داخلے کے وقت شیخ عبدالرحیم نے گھریلو زیور مولانا کو تحریک ریشمی رومال کی کامیابی کے لیے گفٹ کیا تھا تاکہ ان کا حصہ بھی اس میں شامل ہو کسے اور وہ وہاں سےواپس آگئے اور مولانا عبیداللہ سندھی صاحب افغانستان داخل ہوگئے۔
آج شیخ عبدالرحیم کو کوئی نہیں جانتا کہ وہ آزادی کے گمنام ہیرو تھے اور اس آزادی کے پیچھے ان کا ہاتھ تھا جب سارے برصغیر میں آزادی کے مجاہدین کی پکڑ دکڑ ہو رہی تھی تو اس وقت کوئی کسی آزادی کے لیےےکام کرنے والے کا ساتھ دیتے ہوئے ڈرتا تھا۔
اس مشکل وقت میں شیخ الہند کی تحریک ریشمی رومال کو کامیاب کرانے والےے کتنے عظیم لوگ ہوں گے۔
غالبا وہ 15 اگست 1915ء کا دن تھا جب شیخ عبدالرحیم نے مولانا عبیداللہ سندھی کو افغانستان میں داخل کرایا تھا۔
آج اس ہیرو کے لیے سورۃ فاتحہ اور قل پڑھ کے ایثال ثواب کیجیے اور پوسٹ کو آگے شیئر کیجیے کیوں کہ ہم اپنے محسنوں کو کبھی نہیں بھلاتے۔

29/03/2024

آپﷺ نے قسمیں کھا کر فرمایا عیسیٰ ابن مریمؑ ضرور عادل بادشاہ بن کر نازل ہوں گے۔ غامدی اس کا منکر ہے۔

29/03/2024

غامدی نے ایک نیا شوشا چھوڑا ہے کہ عیسیؑ وفات پا چکے جب کہ قرآن کے مطابق انہیں ابھی موت نہیں آئی

28/03/2024

آئمہ مساجد جوں ہی مدرسے سے فارغ التحصیل ہوں تو فورا کوئی نہ کوئی اسکل یا مہارت سیکھ لیں تاکہ آپ معاشی طور پر آزاد ہوں اور کوئی ایرا غیرا کمیٹی ممبر آپ کو تنگ نہ کر سکے۔
کمیٹی ممبر خود جاہل ہوتے ہیں اور انہوں نے اکثر مؤذن اور آئمہ غلط تلفظ والے سلیکٹ کیے ہوتے کیوں کہ ان جاہلوں کو اکثر خود بھی معلوم نہیں ہوتا کہ کس کو سلیکٹ کرنا ہے اور کس کو نہیں۔
اس سلسلے میں آئمہ کو اور تمام مدارس کے طلبہ کو معاشی طور پر اپنے پاؤں پہ جلد سے جلد کھڑا ہونا ہوگا کیوں کہ جن جگہوں پر ایسا ہے وہاں کوئی بھی تنگ نہیں کرتا کیوں کہ ان جاہلوں کو معلوم ہوتا ہے کہ امام صاحب کو تنگ کیا تو وہ چھوڑ جائیں گے۔۔۔ اور جہاں ان کو معلوم ہو کہ امام صاحب معاشی طور پر ان پہ مکمل انحصار کر رہے ہیں تو یہ ظالم امام کو خوب ذہنی ٹارچر کرتے ہیں جو کہ ناجائز اور خبیث عمل ہے۔
بر صغیر کی ذہنی غلام قوم یا تو غلام بن جاتی ہے یا پھر غلام بنا لیتی ہے یعنی درمیانہ راستہ اعتدال والا انہیں معلوم ہی نہیں ہے اور اس میں وقت لگے گا۔۔۔ مگر اب نصیحت و وعظ کی بجائے عملی طور آئمہ کرام کو ان کااس چیز میں مقابلہ کرنا ہوگا جو کہ ان کمیٹی ممبر کا ہتھیار ہوتا ہے جسے وہ بے دریغ استعمال کرتے ہیں اور وہ ہے معاش۔

11/01/2024

23 مارچ 1940 کو صرف پاکستان کے قیام کی قرارداد منظور نہیں کی گئی بلکہ اس کے علاوہ تین اور بھی قراردادیں پیش کی گئی تھیں ، جن میں ایک قرارداد یہ تھی کہ
"ہم فلسطین کی تقسیم کو نہیں مانتے"
یہ قرارداد قائداعظم محمد علی جناح نے خود پیش کی تھی یعنی قیام پاکستان کی قرارداد میں فلسطین کی تقسیم کو رد کیا گیا ہے اورآج ایک طبقہ اٹھ کر کہتا ہے کہ فلسطین کی تقسیم کو تسلیم کر کے دو ریاستیں بنائی جائیں
یعنی اسرائیل کو بھی تسلیم کر لیا جائے
ہم کبھی بھی فلسطین کی مقدس زمین اسرائیل کو دینا تسلیم نہیں کرتے۔
جس قرارداد کی وجہ سے پاکستان بنا اسی قرارداد میں فلسطین کی حمایت کا کھلم کھلا اعلان ہے اور آج کچھ لوگ ہمارے ہی درمیان سے اٹھتے ہیں اور غیروں کی بولی بولتے ہوئے کہتے ہیں کہ
" فلسطین کا مسئلہ فلسطینیوں کا ہے یہ مسئلہ آپ کا نہیں ہے"
ان میں ایک نام سید مزمل شاہ کا بھی ہے جو کہ دیسی لبرل بن چکا ہے اور بولتے بولتے اس کے منہ سے تھوک نکلنا شروع ہو جاتا ہے اور خود کو دنیا کا سب سے بڑا عقل مند اور سمجھ دار انسان سمجھتا ہے اور بے وقوف انسان کی نشانی ہوتی ہے کہ وہ خود کو سب سے زیادہ سمجھ دار تصور کرتا ہے
کہتے ہیں کہ زیادہ بولنے والا آدمی ہمیشہ نقصان کرتاہے اوریہی کام سید مزمل کر رہا ہے۔
تمام دیسی لبرلز سن لیں ہم کبھی بھی فلسطین کے مسئلے کو عربوں کا مسئلہ نہیں بلکہ ہم فلسطین کو امت مسلمہ کا مسئلہ سمجھتے ہیں اور اللہ کی خاص کردی زمین بیت المقدس کو کبھی بھی کسی کے حوالے نہیں کریں گے۔

28/11/2023

مسجد اقصیٰ میں دو عمارتیں ہیں ایک پیلے رنگ کے گنبد والی جس کے نیچے مقدس چٹان ہے اور دوسری کالے گنبد والی عمارت ہے جو مسجد کا مرکزی ہال ہے۔
پیلے گنبد کے نیچے والی مقدس چٹان اور حجر اسود دونوں جنت سے آئے ہیں اور قرب قیامت کے وقت دونوں کو اللہ واپس اٹھا لے گا
پیلے گنبد کے نیچے مقدس چٹان پریہودی لوگ اپنا ہیکل تعمیر کرنا چاہتے ہیں اور ان کا ماننا ہے کہ ہمارا مسیحا جب آئے گا تو وہ ہمیں یہیں سے بیٹھ کر حکومت کرتے ہوئے نجات دلائے گا۔
اس مقصد کے لیے وہ اس پیلے رنگ کی عمارت کو جلد از جلد گرانا چاہتے ہیں اور اس کی جگہ ہیکل تعمیر کرنا چاہتے ہیں۔
کچھ لوگ مسلمانوں کو ورغلانے کے لیے غلط باتیں پھیلاتے ہیں کہ قران پاک میں اللہ نے یہودیوں کو قیامت تک کے لیے ارض مقدس میں داخل ہونے کا کہہ دیا ہے تو لہذا یہ یہودیوں کا ہوا جب کہ یہ سارا سر غلط فہمی ہے سرا سر فراڈ اور دھوکہ دہی ہے کیوں کہ اللہ تعالی نے قرآن پاک میں یہودیوں کو اس وقت ارض مقدس میں داخل ہونے کا کہا تھا جب وہ مسلمان تھے لیکن جب انہوں نے حضرت عیسی علیہ السلام پہ بھی ایمان نہیں لایا اور پھر حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر بھی ایمان نہیں لایا تو وہ مسلمان کیسے رہے ؟
اس لیے اب بیت المقدس مسلمانوں کا ہوا جو کہ اللہ کا خاص کردہ ہے اور یہ اللہ کی خاص جگہ ہے اسے اللہ تعالی نے قیامت تک کے لیے اپنے لیے خاص کر دیا ہوا ہے ۔
یہودی جس وقت یہاں بحیثیت مسلمان ہوا کرتے تھے تو اس وقت انہوں نے نافرمانیاں کی تھیں جس وجہ سے اللہ نے انہیں یہاں سے نکال باہر کیا اور ان کی جگہ عیسائیوں کو آباد کیا اور پھر جب عیسائیوں نے بھی انکار کیا تو ان کی جگہ اللہ نے مسلمانوں کو لا کے آباد کر دیا جو کہ حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کے دور خلافت میں یہاں آ کر اباد ہوئے تھے اور عیسائیوں نے خود بیت المقدس کی چابیاں مسلمانوں کے حوالے کی تھیں کیوں کہ ان کی مقدس کتاب میں لکھا تھا کہ فلاں فلاں نشانیوں والا بندہ آئے گا اس کے ساتھ جنگ نہیں کرنی اور بیت المقدس اس کو دے دینا ہے تو وہ نشانیاں انہوں نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ میں پائیں اور بیت المقدس ان کو دے دیا ۔
اس وجہ سے بیت المقدس آج تک مسلمانوں کے پاس ہے مگر یہودی دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ ہماری جگہ ہے اللہ نے ہمیں دے دی تھی ۔
یہودی تو دعویٰ کرتے ہی ہیں لیکن بعض مسلمانوں کے روپ میں چھپے لوگ اندر سے یہ دھوکہ دیتے ہیں کہ اللہ نے قرآن پاک میں یہودیوں کو کہا ہے کہ :
داخل ہو جاؤ اس ارض مقدس میں یعنی بیت المقدس میں تو اس سے مراد قیامت تک کے لیے جب کہ قیامت تک کے لیے نہیں مراد بلکہ مراد اس وقت تھی جب تک وہ مسلمان تھے اور پھر دوسری جگہ جب اللہ نے فرمایا کہ کہ
ہم نے ان پر ذلت اور مسکن طاری کر دی ہے
تو یہ والی آیت کوئی نہیں سناتا بلکہ وہ یہی سناتے ہیں کہ اللہ تعالی نے ان کو یہاں پہ داخل کر دیا ہوا ہے ۔۔۔یہ جھوٹ ہے اور ایک اور چیز جو ہمارے اندر پھیلائی جاتی ہے کہ کالے گنبد کی طرف توجہ دو یعنی گویا پیلا والا گنبد اور اس کے نیچے مقدس چٹان ہماری ہے ہی نہیں۔۔۔ اور یہ ایک مدت سے ذہن سازی کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جب کہ کالا گنبد بھی ہمارا ہے پیلا گنبد بھی ہمارا ہے ان شاءاللہ یہودی اس میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکیں گے چاہے وہ یہودی ہوں یا چاہے وہ صہیونی ہوں اور چاہے وہ کوئی بھی ہو وہ مسلمانوں سے اس جگہ کو نہیں چھین سکتے یہ مسلمانوں کی مقدس زمین ہےمسلمان اس پہ اپنا حق رکھتے ہیں۔
یہودی یہاں ناجائز قبضہ کرنا چاہتے ہیں جس میں انہیں صاف ناکامی ہوگی اور عالم اقوام اس غلط فہمی سے نکل آئے کہ اسرائیل یہاں ہیکل تعمیر کر لے گا اور یہ ہو جائے گا اور وہ ہو جائے گا۔۔۔۔ یہ سب کچھ فضول باتیں ہیں کیوں کہ یہ مسلمانوں کا حق ہے۔

28/11/2023

مسجد اقصیٰ صرف بیت المقدس نہیں بلکہ پورا شہر مقدس ہے

28/11/2023

بیت المقدس کی حدود میں مسجد اقصیٰ واقع ہے

28/11/2023

بیت المقدس کی زمین فلسطین میں واقع ہے جہاں اسرائیل قبضہ کر چکا ہے

28/11/2023

بیت المقدس کا معنی ہے مقدس گھر یعنی اللہ رب العزت نے اسے اپنے لیے خاص کر دیا ہوا ہے

Address

بیت المفدس
Rafat

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when بیت المقدس posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category