31/03/2026
زندگی ایک کتاب کی طرح ہے اور سانسیں ایک قلم کی طرح جب تک سانسوں کی قلم چلتی رہے گی زندگی کی کتاب میں کہانیاں لکھتی چلی جائیں گی ۔ کہانیوں سے میری مراد ایسے شہر ایسی جگہ یا ایسے لوگ ہیں جن کے ساتھ ہم یادگار وقت گزارتے ہیں یہ وقت گزر جانے کے بعد ہماری زندگی کی کتاب میں سوائے ایک کہانی/مضمون کے کچھ اہمیت نہیں رکھتا ہر کہانی اپنا ایک مقام رکھتی ہے، کچھ کہانیاں اقبال کے شعروں کی طرح گہری تو کچھ منٹو کے فسانوں کی طرح بے باک ،زندگی کہیں جون ایلیا کہ مصروں کی طرح بے ترتیب تو کہیں خلیل الرحمن قمر کے الفاظوں کی طرح ایسی جنہیں بھولنا ناممکن ہو
آج میری کتاب میں بھی ایسی ایک کہانی اپنے اختتام کو پہنچی ۔ جو تقریبا (450 دن)/64.2 ہفتوں پر محیط تھی
Leaving Kuala Lumpur after 450 day 🥱
جب کوئی کہانی ختم ہوتی ہے تو وہ دراصل کسی نئی کہانی کے شروع ہونے کا سبب بنتی ہے۔ زندگی میں کوئی بھی انجام آخری نہیں ہوتا،
ہر اختتام ایک نئی شروعات کی علامت ہوتا ہے۔
زندگی مسلسل بدلتے ہوئے واقعات اور کہانیوں کا سلسلہ ہے ۔
۔۔
۔
۔۔۔
۔۔