01/06/2026
سحر ہونے تک۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!!
تعلیم، خدمت اور سماجی شعور کی ایک روشن داستان کا نام کھوئیاں ہے۔
غالباً 1956ء میں ڈاکٹر شہباز ملک مرحوم کھوئیاں سے پیدل چل کر پچنند پہنچتے اور علم کے چراغ روشن کرتے تھے۔ ابتدا میں پیدل سفر کیا، پھر سائیکل خریدی، لیکن دشوار گزار راستوں نے اس سفر کو مشکل بنا دیا۔ بعد ازاں وقت کی بچت اور سہولت کے لیے گھوڑے پر سفر بھی کیا۔ آخرکار پچنند کے موجودہ محلہ قمرالاسلام میں سکونت اختیار کر لی تاکہ تعلیم کا مشن مزید بہتر انداز میں جاری رکھا جا سکے۔
امتحانات کے دنوں میں دور دراز سے آنے والے طلبہ ان کے گھر میں رہتے، دیے اور بتی کی روشنی میں رات گئے تک پڑھتے اور اپنے مستقبل کو سنوارتے تھے۔ یوں علم سے محبت کا یہ سفر نسل در نسل آگے بڑھتا رہا۔
اس دور میں پچنند کا سرکاری سکول صرف دو کمروں پر مشتمل تھا اور دونوں خستہ حال ہو چکے تھے۔ ڈاکٹر شہباز ملک مرحوم نے اپنی کوششوں سے نئے کمرے تعمیر کروائے اور تعلیمی ماحول کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔
چند روز قبل کھوئیاں آنے کا موقع ملا تو یہ جان کر خوشی ہوئی کہ ڈاکٹر شہباز ملک مرحوم نے جو شمع روشن کی تھی، وہ آج بھی ان کی فیملی کی صورت میں روشن ہے۔ محترمہ ڈاکٹر نسیم ملک صاحبہ اور ان کے خاندان نے تعلیم دوستی کی اس روایت کو نہ صرف برقرار رکھا بلکہ اسے مزید وسعت دی۔
قیمتی اراضی کا عطیہ، نئے کمروں کی تعمیر، لاکھوں روپے مالیت کی کمپیوٹر لیب، اساتذہ کی کمی پوری کرنے میں تعاون، اور دیگر فلاحی کام اس خاندان کی تعلیم دوستی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔
کھوئیاں کے باسی بھی اپنے قصبے کی ترقی میں پیش پیش ہیں۔ اپنی مدد آپ کے تحت گلیاں پختہ کروانا، راستے کشادہ کرنا، صفائی کا بہترین نظام، کچرا ڈرم نصب کرنا اور شہید پاک اوراق کے لیے خصوصی بکسز لگوانا ان کے اجتماعی شعور کی بہترین مثالیں ہیں۔
کھوئیاں یہ پیغام دیتا ہے کہ اگر نیت خالص ہو، محنت مسلسل ہو اور لوگ متحد ہوں تو اپنے علاقے کو مثالی بنایا جا سکتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ڈاکٹر شہباز ملک مرحوم کے درجات بلند فرمائے اور ان کی اولاد و خاندان کو اس خدمت کے جذبے پر قائم رکھے۔ آمین۔
ڈاکٹر شہباز ملک مرحوم
ڈاکٹر نسیم ملک صاحبہ
عابدہ ملک صاحبہ
A beautiful and inspiring story of education, service, and community development.
The town of Khuian stands as a shining example of dedication to education and social welfare. Around 1956, the late Dr. Shahbaz Malik began a remarkable journey, traveling from Khuian to Pichnand to spread the light of knowledge. What started as a mission of one dedicated teacher has grown into a lasting legacy that continues to benefit generations.
Today, the family of Dr. Shahbaz Malik, especially Dr. Naseem Malik and her family, continues to support education through land donations, classroom construction, computer labs, and assistance in addressing teacher shortages. Their commitment has played a vital role in the development of local schools and educational opportunities.
The people of Khuian have also demonstrated extraordinary community spirit. Through self-help initiatives, they have improved roads and streets, enhanced sanitation facilities, installed waste bins, and contributed to the overall betterment of their town.
Khuian serves as a model for other communities, proving that with dedication, unity, and sincere effort, positive change is possible.
May Allah bless the soul of the late Dr. Shahbaz Malik and reward all those who continue his mission of service and education.
Dr. Shahbaz Malik (Late)
Dr. Naseem Malik
Abida Malik
Source: Pichnand Welfare Trust
: پچنند ویلفیئر ٹرسٹ