Maulana Muhammad Akbar Haqqani

Maulana Muhammad Akbar Haqqani Islamic Channel Islamic Bayanat share

شیخ الحدیث حضرت مولانا حسن جان کون تھے ؟شیخ حسن جان شھید رح 15 ستمبر 2007ء مولانا حسن جان مدنی، خیبر پختونخوا سے تعلق رک...
16/05/2026

شیخ الحدیث حضرت مولانا حسن جان کون تھے ؟

شیخ حسن جان شھید رح 15 ستمبر 2007ء
مولانا حسن جان مدنی، خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے مشہور عالم دین، مسجد درویش اور جامعہ امداد العلوم کے سربراہ تھے۔ 5 جنوری 1938ء کو چارسدہ کے علاقہ پڑانگ یاسین زئی میں پیدا ہونے والے حسن جان زندگی میں وہ شخصیت بننے میں کامیاب ہو گئے جن کی شخصیت سے انکار ان کی زندگی میں بھی کسی کو کرنے کی جرأت نہ ہو سکی۔

دینی تعلیم:
دارالعلوم نعمانیہ اتمانزئی میں ابتدائی دینی تعلیم حاصل کی، پھر جامعہ اشرفیہ لاہور چلے گئے۔ 1957ء کے بعد مولوی عالم اور مولوی فاضل کی سند حاصل کی۔ 1971ء میں جامعۂ پشاور سے ایم.اے اسلامیات میں گولڈ میڈل حاصل کیا اور صدارتی ایوارڈ بھی حاصل کیا۔ مولانا حسن جان اُن 18 طلبہ میں سے تھے جنہیں سب سے پہلے مدینہ یونیورسٹی میں پاکستان کی طرف سے طالب علمی کا شرف حاصل ہوا۔ چونکہ مدینہ یونیورسٹی کا قیام صرف 6 ماہ پہلے ہوا تھا، اس لیے وہاں پر صرف کلیہ شریعہ کی تعلیم دی جاتی تھی اور باقی شعبے مولانا حسن جان کی واپسی کے بعد قائم ہوئے۔ مولانا حسن جان نے مدینہ میں چار سال قیام کیا۔ اس دوران مسجد نبوی میں قرآن حفظ کیا۔
(قلم کمان مفتی محمد امجد مردانوی)

دنیاوی تعلیم:
مولانا حسن جان نے دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ عصری تعلیم بھی حاصل کی انہوں نے پرائمری تعلیم کے بعد گورنمنٹ ہائی سکول نمبر 2 بنوں میں 1962ء میں میٹرک کے بعد انہیں دینی تعلیم کے لیے شمالی وزیرستان جانا پڑا۔ اور مدرسہ حسینیہ نورک میں تعلیم حاصل کی۔ جو ایف آر بنوں میں ہے وہاں وہ چھوٹی سی مسجد میں رہتے تھے۔ انہوں نے صرف و نحو کی تعلیم لکی مروت سے حاصل کی بعد میں دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک میں داخلہ لیا۔ بعد میں مدرسہ تعلیم القرآن کوہاٹ سے بھی کچھ تعلیم حاصل کی۔ ضروریات کی بنا پر واپس بنوں چلے گئے اور مدرسہ معراج العلوم میں داخلہ لیا۔ پھر جامعہ اشرفیہ لاہور سے مزید تعلیم حاصل کی۔ بعد میں دورہ حدیث سے فارغ ہوئے اور اسی سال تعلیمی بورڈ لاہور سے عربی فاضل اور پھر اگلے سال ایف اے کا امتحان دیا۔

درس و تدریس:
مولانا حسن جان نے رزق حلال کمانے کے لیے سکول میں بھی درس و تدریس کا پیشہ اپنایا اکبر میموریل کالج مردان میں اسلامیات کے استاد کے لیے انٹرویو ہو رہے تھے تو مولانا نے بھی انٹرویو دیا۔ جلبئی صوابی کے ایک سکول میں ان کی تقرری ہوئی مگر یہاں آ کر انہیں تسلی اس لیے نہیں ہوئی کہ وہ بالغوں کی محفل سے نکل کر بچوں کی مجلس میں آ گئے تھے جس کے بعد ملازمت چھوڑ کر مدرسے کی طرف آ گئے.

تصانیف:
مولانا حسن جان کئی کتابوں کے مصنف تھے،

النظوم الإقتصادي في الدولة الإسلامية،
أحسن الخبر في مبادي علم الثر
مقدمة علوم القرآن
احسن البیان
سفر نامہ شام (عرب ممالک)
سفر بیت المقدس
امام بخاری کے دیس میں
ماہنامہ الحق میں بھی ان کے مضامین شائع ہوتے رہتے ہیں۔لبنان کے رسالہ اجتماع میں ان کے مقالات وقتاً فوقتاً شائع ہوتے رہتے تھے۔

سیاسی خدمات:
دیوبندی مکتب فکر سے تعلق رکھنے کی وجہ سے جمیعت العلماء اسلام سے ان کا تعلق رہا۔ 1990ء سے 1993ء تک وہ قومی اسمبلی کے رکن رہے۔ خان عبدالولی خان ان سے شکست کے بعد ان کی عظمت کو تسلیم کرتے ہوئے سیاست سے کنارہ کش ہو گئے۔ وہ اسلامی نظریاتی کونسل کے رکن بھی رہے اور مرکزی رؤیت ہلال کمیٹی کے رکن بھی رہے۔ وفاق المدارس پاکستان کے نائب امیر بھی رہے۔ انہوں نے افغانستان، ہندوستان، ازبکستان، ایران، سعودی عرب، لبنان، شام، فلسطین، مصر، جنوبی افریقا اور کینیا سمیت بہت سے ممالک کا سفر کیا۔ 15 مرتبہ حج کی سعادت حاصل کی۔ اس کے علاوہ مولانا ایک معتدل سوچ رکھنے والے عالم دین رہے۔ خودکش دھماکوں کی شدید مخالفت کی اور ان کا کہنا تھا کہ مسلمان کا خون دوسرے مسلمان کے لیے حرام ہے۔

مسجد درویش:
آپ مسجد درویش کے خطیب اور جامعہ امدادیہ العلوم کے سربراہ تھے۔ اس مدرسے اور مسجد نے دین کی اشاعت اور لوگوں کی رہنمائی میں جو اہم کردار ادا کیا ہے اسے کوئی نظرانداز نہیں کر سکتا۔ دین کے لیے اس مدرسے اور مسجد کی خدمات صوبہ سرحد کیا پورے ملک میں قابل تقلید ہیں

شہادت:
15 ستمبر 2007ء کو افطاری کے بعد تقریباً سات بجے پشاور کے وزیر باغ کے علاقے میں تین نامعلوم افراد نے گولیاں مار کر شہید کر دیا.

شہید اسلام شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس رحمہ اللہ کے ممبر اج خالی 😭😭😭😭Maulana Muhammad Akbar Haqqani  Muhammad Akbar Haq...
08/05/2026

شہید اسلام شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس رحمہ اللہ کے ممبر اج خالی
😭😭😭😭
Maulana Muhammad Akbar Haqqani Muhammad Akbar Haqqani Muhammad Raza SaQib Mustafai

08/05/2026

مولانا حسن جان مولانا ادریس کے سسر تھے ، دو ہزار سات میں مولانا حسن جان اپنے ایک شاگرد کی غداری کی وجہ سے دھوکے سے شہید کیے گئے ، مولانا حسن جان نے دو ہزار سات میں خود کش حملوں کے خلاف فتویٰ دیا تھا ، یہ وہ وقت تھا جب سانحہ لال مسجد ہوا تھا ، اور بہت سے علما کشمکش کا شکار تھے کہ ہمیں اس موقع پر کیا کرنا چاہیے ؟ ہمیں مسلح لوگوں کے ساتھ جانا ہے یا پر امن جہدوجہد کرنی ہے ؟ اس سوال کے جواب پر بھی کئی سال لگے لیکن مولانا حسن جان اس وقت بھی کلیئر تھے اور کھل کر بندوق کی مخالفت کی ، ایسا نہیں کہ انہیں یہ معلوم نہیں تھا کہ اس مخالفت کا انجام کیا ہو گا بلکہ وہ اپنے سیاسی شعور اور دینی منصب کی لاج رکھتے ہوئے دیانت سے بات کر رہے تھے ،

ہم نے انہیں بھیڑیوں کے آگے ڈال دیا ، تب سال دو ہزار سات کا تھا

یہ دو ہزار چھبیس ہے ، آج ان کے داماد نے سچ کہنے کی جرات کی اور جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ، انہوں نے جمعہ کے بیان میں کہہ دیا کہ اس وقت پاکستان کو اللہ نے جو عزت دی ہے اسکا کریڈٹ جنرل عاصم منیر کو جاتا ہے۔

بس اس بات کی دیر تھی کہ ایک جہان ان پر ٹوٹ پڑا ، پاکستان کی بات گناہ ٹھہری ، عاصم منیر کا تذکرہ جرم ٹھہرا ، دو ہزار سات میں صرف ایک گروہ تھا جو اختلاف رائے پر لوگوں کو مارتا تھا ، آج اس گروہ کے ساتھ نظریاتی اعتبار سے منظور پشتین کے کارکن اور عمران خان کے کارکن بھی مل چکے ہیں ، یہ لوگ اپنے مخالف کے اختلاف کو برداشت نہیں کرتے ، نظریاتی ماحول یہ بناتے ہیں اور بندوق والے کام کر دیتے ہیں ،

مولانا ادریس ایم پی اے رہے ، لاکھوں لوگ ان کے شاگرد ہیں ، انہوں نے اپنی عُمر قال اللہ و قال الرسول کہتے ہوئے بسر کر دی ، وہ اپنا حلقہ اثر رکھتے تھے ، ریاست کو چاہیے تھا ان کی حفاظت کرتی ، لیکن انہیں بھیڑیوں کے آگے ڈال دیا گیا ،

ہمارے دوست سلمان حقانی نے کیا پیاری بات کہی جن علماء کے سامنے جاتے ہی عظمت سے سر جھک جاتا ہے یہ لوگ ان پر گولی چلا دیتے ہیں ،

اختلاف رائے پر سفید داڑھیاں نوچنے والے ، سفید لباس خون سے رنگین کرنے والے ، قتل پر چوں چراں کرنے والے تمام لوگوں کو خدا غارت کرے ـ

آج شیخ ادریس صاحب کے رسم قل کے موقع پر سینیٹر عطاء الحق درویش صاحب نے فرمایا کہ وقوعہ کے روز صبح ھم جمعیت سیکرٹریٹ میں ت...
08/05/2026

آج شیخ ادریس صاحب کے رسم قل کے موقع پر سینیٹر عطاء الحق درویش صاحب نے فرمایا کہ وقوعہ کے روز صبح ھم جمعیت سیکرٹریٹ میں تھے اور مولانا فضل الرحمن صاحب آرام فرما رھے تھے۔ تقریبا 8 بجے مولانا صاحب اٹھے اور مجھے کہا ۔عطاء الحق! میں نے ایک عجیب خواب دیکھا۔
خواب میں دیکھا کہ میں سو رہا تھا اور جب نیند سے بیدار ھوا تو میری پگڑی غائب تھی۔ اور مجھے میری پگڑی نہیں مل رہی تھی۔میں اسی تلاش میں تھا کہ میری آنکھیں کھل گئیں۔

میں اب حیران ھوں کہ پگڑی گم ھونے کی کیا تعبیر ھوگی؟
عین اسی وقت حضرت شیخ کی شہادت کی اطلاع مل گئی۔ تو مولانا صاحب رو پڑے کہ اچھا میری پگڑی گم ہونے کی تعبیر مل گئی۔ اور اناللہ واناالیہ راجعون کہا۔

 #شیخ ابن شیخ الحدیث مولانا انیس احمد ترنگزئی صاحبدہ مشرانو چی سہ فیصلہ وے زمونگہ پہ سر سترگو قبولہ دا دہ شیخ الحدیث مول...
08/05/2026

#شیخ ابن شیخ الحدیث مولانا انیس احمد ترنگزئی صاحب
دہ مشرانو چی سہ فیصلہ وے زمونگہ پہ سر سترگو قبولہ دا
دہ شیخ الحدیث مولانا تقی عثمانی صاحب پہ حکم سرہ
اوس زمونگہ شیخ مولانا انیس احمد ترنگزئی دے
دہ شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس صاحب پہ شان عزت قدر بہ ورکوو

انتہائی افسوس ناک خبر کوئٹہ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے مولوی عبدالخالق دومڑ  شہید ہوگئے۔😭اخر کب تک چلے گا یہ سلسلہ ا...
08/05/2026

انتہائی افسوس ناک خبر
کوئٹہ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے مولوی عبدالخالق دومڑ شہید ہوگئے۔😭
اخر کب تک چلے گا یہ سلسلہ اخر کب تک علماکی لاشیں اٹھاتے رھیں گے😭

#علماء #عالم #بریخبر
#شھید
#علماءدیوبند

کل استاذ محترم حضرت مولانا امداد اللّٰہ صاحب ناظم تعلیمات بنوری ٹاؤن نے کلاس میں فرمایا: کہ شیخ ادریس رح کے بارے میں ایک...
07/05/2026

کل استاذ محترم حضرت مولانا امداد اللّٰہ صاحب ناظم تعلیمات بنوری ٹاؤن نے کلاس میں فرمایا:
کہ شیخ ادریس رح کے بارے میں ایک ایسی بات بتاتا ہوں کہ آج تک کسی کو پتہ نہیں تھا ۔
وہ یہ کہ جب مولانا فضل الرحمٰن صاحب اپنے وفد کے ہمراہ افغانستان تشریف لے گئے اور میں بھی ساتھ تھا
اور وہاں امیر المومنین حضرت مولانا شیخ ہیبت اللّٰہ اخونزادہ صاحب سے صرف دو حضرات کی ملاقات ہوئی۔
1۔ مولانا فضل الرحمٰن صاحب
2۔حضرت مولانا شیخ ادریس صاحب رح
امیر المومنین صاحب نے شیخ ادریس صاحب کا بے حد احترام کیا اور فرمایا کہ میں آپ کا شاگرد ہوں ۔ میں آپ کے پاس پڑھتا تھا 4 سے 5 مہینے ۔
اللّہ اکبر کس قدر عظیم ہستی تھی 😭😢
Copy

ایک وفادار دوست کی جدائی پرمیرے قائد محترم کی آنکھوں میں آنسوں کی یہ حالت ہے😭بعض غم دہ زغمولو نہ وی.Muhammad Akbar Haqqa...
07/05/2026

ایک وفادار دوست کی جدائی پرمیرے قائد
محترم کی آنکھوں میں آنسوں کی یہ حالت ہے😭
بعض غم دہ زغمولو نہ وی.
Muhammad Akbar Haqqani

اف شیخ صاحب 😭 ڈیر دے خفہ کڑوووو۔    غم دے ڈیر زورور ووووواللہ تعالیٰ دے اغیار تباہ وبرباد کڑیMaulana Muhammad Akbar Haqq...
07/05/2026

اف شیخ صاحب 😭 ڈیر دے خفہ کڑوووو۔ غم دے ڈیر زورور ووووو
اللہ تعالیٰ دے اغیار تباہ وبرباد کڑی
Maulana Muhammad Akbar Haqqani
Muhammad Akbar Haqqani

Address

Mingora Khyber Pakhtunkhwa
Swat
19130

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Maulana Muhammad Akbar Haqqani posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Maulana Muhammad Akbar Haqqani:

Share

Category