North Face of Pakistan

North Face of Pakistan Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from North Face of Pakistan, Photographer, Skardu.
(4)

🌄
Trying to explore the beauty of nature🏞️
|| Flim ||Tour Operator video Editor
I Make 30 second Movies 🎥
Cont=03554346507
https://youtube.com/?si=77DlNqvQrRl0yXL-

14August Uswa public school gamba
15/08/2026

14August
Uswa public school gamba

Baltistan k star ⭐️ Manthokha waterfalls Kharmang
12/08/2026

Baltistan k star ⭐️
Manthokha waterfalls
Kharmang

06/08/2026

The ultimate message of Karbala is sacrifice, humanity, and serving others. On this Chehlum, we tried to contribute a small act of kindness by hosting a free plant and book distribution stall. May we continue to cultivate knowledge and life in our communities.

روز اربعین عسکردو بلتستان، مرکزی و قدمی دستہ آل عباء سکمیدان سکردو 🤲😔😔
06/08/2026

روز اربعین ع
سکردو بلتستان، مرکزی و قدمی دستہ آل عباء سکمیدان سکردو 🤲😔😔

Kawardu water fall skardu
01/08/2026

Kawardu water fall skardu

اسد عاشورہ گمبہ سکردو 2026
28/07/2026

اسد عاشورہ گمبہ سکردو 2026

*اسد عاشورا کی پہلی صدا: 1957، گمبہ سکردو* تحریر : محمد نذیر بلتستان، جہاں پہاڑوں کی سکوت میں تاریخ کی آوازیں گونجتی ہیں...
25/07/2026

*اسد عاشورا کی پہلی صدا: 1957، گمبہ سکردو*

تحریر : محمد نذیر

بلتستان، جہاں پہاڑوں کی سکوت میں تاریخ کی آوازیں گونجتی ہیں، وہ واحد سرزمین ہے جو نہ صرف جغرافیائی اعتبار سے منفرد ہے بلکہ تہذیبی ،ثقافتی اور مذہبی بوقلمونی میں بھی اپنی مثال آپ ہے۔ یہاں کی ایک منفرد روایت، جس نے نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں ایک خاص پہچان حاصل کی، وہ ہے "اسد عاشورا" یعنی جولائی کے آخری ایّام میں واقعۂ کربلا میں اہل بیت پر ڈھائے گئے مظالم کی یاد میں عزاداری کا انعقاد۔یہاں اسلام سے قبل یعنی بلتستان بدھ مت تہذیب کا گہوارہ تھا، لیکن چودہویں صدی عیسوی کے بعد جب ایران سے مذہبی مبلغین یہاں تشریف لائے، تو اس خطے کا مذہبی رنگ تبدیل ہونے لگا۔ اثنائے عشری تشیع کی بنیادیں مضبوط ہوئیں، اور رفتہ رفتہ یہ مذہب یہاں کی ثقافت میں رچ بس گیا۔ ڈوگرہ راج کے دور تک اس خطے میں مذہبی ہم آہنگی اور تہذیبی تال میل دیکھنے کو ملا، لیکن کربلا کے دل سوز سانحے کو جس انوکھے انداز میں بلتستان نے اپنایا، وہ اس خطے کی روحانی حساسیت اور ثقافتی شعور کا عکاس ہے۔بلتستان کا موسم اور جغرافیہ اس کی رسوم و روایات کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ جولائی کے مہینے میں یہاں گرمی اپنی شدت کو چھوتی ہے، اور یہی موسم اس احساس کو ابھارنے کے لیے سب سے موزوں سمجھا گیا، جس میں کربلا کے پیاسے شہداء نے صبر و استقامت کے ساتھ دین کی بقا کے لیے جان کا نذرانہ پیش کیا۔ یہی سوچ بلتستان کے عزاداروں کو اس بات پر آمادہ کرتی ہے کہ وہ عاشورائے محرم کے ساتھ ساتھ "اسد عاشورا" بھی منائیں، تاکہ موسم کی شدت کے ذریعے کربلا کے مصائب کو زیادہ شدت سے محسوس کیا جا سکے۔بلتستان میں اسد عاشورا کے جلوس کی باقاعدہ ابتدا 27 جولائی 1957 کو گمبہ سکردو سے ہوئی۔ اس جلوس کے بانی اس وقت کے میر واعظ آغا احمد شاہ تھے، جو صدر غلام اسحاق خان کے مشیر بھی رہے۔ ابتدائی جلوس میں صرف سترہ عزادار شامل تھے، اور نوحہ خوانی کا آغاز معروف مدح خواں کاچو مدح علی خان نے کیا۔چند سال تک صرف بلتی میں ہی نوحہ خوانی ہوتے ریے، 1960 میں پہلی بار اردو زبان میں نوحہ خواجہ رشید نے پڑھا، جو کہ خواجہ رہین کے چچازاد بھائی تھے۔ نوحہ یہ تھا "حسین ترے لہو کی خوشبو فلک کے دامن سے آ رہی ہے" آج بھی دلوں کو دہلا دیتا ہے۔ دوسرا نوحہ، "سورج سے ذرا کہہ دو پردے میں چلا جائے"، جذبوں کے آتش فشاں کی مانند ہر سال اس روایت کو تازگی عطا کرتا ہے۔ شروع میں جلوس میں صرف ایک دستہ ہوتا تھا، جس میں گمبہ سکردو کے نوحہ خوانوں کے علاوہ خواجہ علی جو بھی سکردو سے آکر نوحہ خوانی کرتے تھے۔ خواجہ علی جو، جنہوں نے 1960 سے اپنی وفات تک مسلسل نوحہ خوانی کی، اس روایت کے ایک اہم ستون تصور کیے جاتے ہیں۔ اردو نوحے کی باقاعدہ روایت کی بنیاد بلتستان میں انہی کی مرہونِ منت ہے۔اُس دور میں بلتستان میں نوحے مرغوب صاحب لکھ کر دیا کرتے تھے، اور بعض اوقات وہ خود بھی گمبہ جلوس میں آکر نوحے پڑھا کرتے تھے۔ ان کا انداز، زبان اور جذبہ آج بھی نوحہ خوانی کی روایت میں زندہ ہے۔جلوس صادق آباد امام بارگاہ سے شروع ہو کر خانقاہ معلی گمبہ سکردو پر اختتام پذیر ہوتا ہے۔ اس دوران عزادار بلتی اور اردو نوحہ خوانی کے ساتھ سینہ زنی کرتے ہیں، علمِ عباس اور شبیہِ امام حسین علیہ السلام کو لے کر کربلا کے نقشِ پا پر اشک بار چلتے ہیں۔ 1977 سے مضافاتی دیہات سے بھی مختلف دستے اس جلوس کا حصہ بننے لگے، اور آج الحمدللہ سترہ کے قریب دستے اس مرکزی جلوس میں شریک ہوتے ہیں، جو اس روایت کو ایک ہمہ گیر ثقافتی اور مذہبی تجربہ بنا دیتے ہیں۔
بلتستان میں اردو زبان صرف ایک ذریعۂ ابلاغ نہیں، بلکہ ایک ثقافتی آئینہ بھی ہے۔ مرثیہ، نوحہ اور خطابت کے ذریعے اردو نے یہاں کی عزاداری ثقافت میں گہری جڑیں بنا لی ہیں۔ یہ اردو نوحے نہ صرف دلوں کو چھوتے ہیں بلکہ بین الثقافتی ربط و ضبط کا ایک نیا باب بھی کھولتے ہیں۔ اسد عاشورا کے نوحے بلتی جذبات اور اردو شعریت کا نادر امتزاج پیش کرتے ہیں، جو یہاں کی عزاداری کو ایک جداگانہ پہچان عطا کرتے ہیں۔ذوالفقار علی بھٹو کے دورِ حکومت میں اس جلوس کو باضابطہ روٹ پرمٹ دیا گیا، جو اس بات کا اعتراف تھا کہ یہ محض ایک مذہبی سرگرمی نہیں، بلکہ ایک ثقافتی ورثہ بھی ہے۔ آج بھی بلتستان کے باشندے اس روایت کو نہایت عقیدت و احترام سے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اسد عاشورا بلتستان میں صرف ایک مذہبی تقریب نہیں، بلکہ ایک ایسی روایت ہے جو موسم، تاریخ، ثقافت اور عقیدت کو یکجا کرتی ہے۔ جہاں باقی دنیا میں عاشورا محرم میں منایا جاتا ہے، وہاں بلتستان جولائی میں بھی اس واقعے کی تپش کو محسوس کر کے اپنے عقیدے کی سچائی کا عملی ثبوت دیتا ہے۔ یہ عاشورا صرف اشکوں کی کہانی نہیں، بلکہ بلتستان کی اجتماعی روح کا مظہر ہے، جو ہر سال جولائی میں تاریخ سے مکالمہ کرتی ہے اور انسانیت، قربانی اور حق کی فتح کا پیغام دیتی ہے۔
Copy..

Chunda valley
23/07/2026

Chunda valley

21/07/2026

SKardu ka ak khobsurat nazara

Beauty of Baltistan

Dm
03554346507

13/07/2026

Beauty of Baltistan

Dm
03554346507

Address

Skardu

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when North Face of Pakistan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to North Face of Pakistan:

Shortcuts

Share

Category