20/08/2026
دِل میں اِک لہر سی اُٹھی ہے ابھی
کوئی تازہ ہَوا ‘ چلی ہے ابھی
شور برپا ہے خانۂ دِل میں
کوئی دِیوار سی گِری ہے ابھی
بھری دُنیا میں جی نہیں لگتا
جانے کِس چیز کی کمی ہے ابھی
تُو شریکِ سُخن نہیں ہے تو کیا؟
ہم سُخن تیری خامشی ہے ابھی
یاد کے بے نشاں جزیروں سے
تیری آواز آ رہی ہے ابھی
شہر کی بے چراغ گلیوں میں
زندگی تجھ کو ڈُھونڈتی ہے ابھی
سو گئے لوگ اس حویلی کے
ایک کھڑکی مگر کُھلی ہے ابھی
تم تو یارو ابھی سے اُٹھ بیٹھے
شہر کی رات‘ جاگتی ہے ابھی
کُچھ تو نازک مزاج ہیں ہم بھی
اور یہ چوٹ بھی نئی ہے ابھی
وقت اچھا بھی آئے گا ”ناصرؔ“
غم نہ کر زندگی پڑی ہے ابھی