Sada Apna Gopal Pur

Sada Apna Gopal Pur Nice page plz like this

میرے مالک تیری قدرت اور تیری حکمت تو ہی جانتا ہے میرے مالک اس تاریخ  18 اکتوبر 2023 کا آغاز ظلم کی ایک نئی داستان سے ہوا...
18/10/2023

میرے مالک تیری قدرت اور تیری حکمت تو ہی جانتا ہے میرے مالک اس تاریخ 18 اکتوبر 2023 کا آغاز ظلم کی ایک نئی داستان سے ہوا میرے مالک اس تاریخ کا آغاز تقریباً ایک ہزار مسلمانوں کی قربانی سے ہوا اور ایسی قربانیاں جس میں اسلامی تاریخ کے سب سے کم عمر شہید بھی شامل تھے اور ایسی قربانی کے جن کے منہ سے ایک آہ نکلنے کا بھی موقعہ نہیں ملا ایک پل میں جیتے جاگتے انسان ایسے گوشت بن کر بکھر گئے جیسے کسی درندے نے نوچے ہوں میرے مالک تیرے محبوب کی زبان سے ادا ہوا ایک ایک لفظ سچ ثابت ہوا دشمن ہم پر ٹوٹ پڑے اور ہم تعداد میں زیادہ ہونے کے باوجود ہار رہے ہیں تیرے محبوب نے جو وجوہات بتائیں وجوہات بھی وہی ہیں دشمن کی دل سے ہمارا خوف نکل گیا اور ہمارے دلوں میں موت کا ڈر پیدا ہو گیا ہمارے دلوں میں دنیا کی محبت پیدا ہو گئی موت کے بعد کی زندگی سے ہمارا یقین کم ہو گیا پر میرے مالک تیرے محبوب کی اُمت پر جب مشکل پڑے تو وہ کہاں جائے جب وہ جانے انجانے میں راستہ بھٹک جائیں اپنی جانوں پر ظلم کر بیٹھیں تو وہ کہاں جائیں میرے مالک یہ تو نیکی اور بدی کی جنگ ہے اچھائی اور بُرائی کی جنگ ہے مانا کہ مسلمان بُرائی کی جانب چل پڑے راستہ بھٹک گئے میرے مالک بُرائی سے بچنے کی طاقت اور نیکی کرنے کی توفیق دونوں تیری ہی طرف سے ہیں میرے مالک توں چاہے تو ابابیلوں سے ہاتھی مروانے پر قدرت رکھتا ہے تو چاہے تو فرعون کی بیوی کو بھی مقام عطا کر دے تو چاہے تو گناہگاروں اور عیاشوں کو بھی پل بھر میں ہدایت نصیب کر دے میرے مالک توں چاہے تو کسی گناہگار سے ایسا کام لے لے کے نیکوکار اُس پر رشک کریں تو چاہے تو یزید کے لشکر سے حُر کو نکال لائے میرے مالک ہمارے دشمن خود کو ہم سے ہی نہیں تجھ سے بھی زیادہ طاقتور سمجھ بیٹھے ہیں آج بھی تیرے خزانوں میں کمی نہیں ہوئی بہت سے شیر ہیں کسی ایک کو غیرتِ ایمانی عطا فرما ایک دشمن نے ایک ہزار مظلوموں کو شہید کر دیا ایک دشمن سمندر میں دھاک لگائے بیٹھا ہے کچھ پتا نہیں دوست کون ہے اور دشمن کون صبح دشمنانِ اسلام سر جوڑنے لگے ہیں اور ایک طرف تیرا کلمہ پڑھنے والے بھی سر جوڑنے لگے ہیں یااللّہ تو منافقین کی چالوں سے خوب واقف ہے یا اللّہ منافقین کی چالوں کو ناکام کر دے تیرا کلمہ پڑھنے والے گناہگار ہیں عیاش ہیں رستے سے بھٹکے ہوئے ہیں پر تو نے ہی اُنکو آج یہ موقع بخشا ہے کے آج وہ اسلام کی نمائندگی کے لیے بیٹھیں گے میرے مالک اُنہیں غیرت ایمانی عطا فرمائیو میرے مالک ہمیں بخش دے ہم اپنی جانوں پر ظلم کر بیٹھے ہیں تو بخشنے والا ہے ہم تیری اتنی نعمتوں کے باوجود بے بس ہو گئے مالک ہم کمزور ہو گئے ہمیں جھاد کی توفیق عطا فرما شھادت کی موت عطا فرما دُنیا کی محبت سے اس دل کو پاک کر دے آج کے دن ہماری مدد فرما مسلمانوں کو اتحاد عطا فرما دشمن کو کمزور کر دے ہماری ویسے ہی مدد کر جیسے اُن خاص تین سو تیرہ کی کی تھی اُنکے گھوڑوں کے قدموں سے لگنے والی خاک کا واسطہ یااللّہ آج کے دن ان مسلمان حکمرانوں کو غیرت مندانہ فیصلہ کرنے کی توفیق عطا فرما ہمیں معاف کر دے ہم اپنے بہن بھائیوں کی مدد نا کر سکے ہم اُن بچوں کے سامنے محشر کے میدان میں کھڑے ہونے کی طاقت نہیں رکھتے اُن بچوں کے جسموں سے ٹپکنے والے خون کے ایک ایک قطرے کا واسطہ ہمیں طاقت اور غیرت عطا کر دے تو ہر چیز پر قادر ہے ۔ آمین 😢😢😢😢😢😢😢😢🇵🇰🇯🇴❤️❤️🇸🇦🇸🇦🇹🇷🇹🇷🇹🇯🇸🇩

مجھے اپنے بہتر مستقبل کے لیے اور پیسہ کمانے کے ليے باہر جانا تھا. میں نے لندن جانے کا پروگرام بنایا۔ بابا نے مجھے ہر ممک...
05/04/2023

مجھے اپنے بہتر مستقبل کے لیے اور پیسہ کمانے کے ليے باہر جانا تھا. میں نے لندن جانے کا پروگرام بنایا۔
بابا نے مجھے ہر ممکن طریقے سے سمجھانے کی کوشش کی کہ "بیٹا ہجرت صرف بڑے مقصد کے لیے کرتے ہیں۔ تم دنیا کمانے کے لیے ہجرت کرنا چاہتے ہو … جس کی قیمت مچھر کے ٹوٹے ہوئے پر کے برابر بھی نہیں.
پتر اپنی پہچان چھوڑ کر مت جاؤ۔ پاکستان ہماری پہچان ہے؛ درخت بھی ہمیشہ اپنے پتے تبدیل کرتا ہے جڑیں نہیں”۔
مگر میں نہ مانا۔
ایئرپورٹ پر مجھے رخصت کرتے ہوئے بابا بولے:
بیٹا اب میں بوڑھا ہوگیا ہوں۔ بڑهاپا جسم کی جلاوطنی کا نام ہے۔ پتر بڑھاپے کی زندگی اور دیوار پر لکھی لکیروں میں کوئی فرق نہیں ہوتا ان کو مٹانے کے لیے ایک بارش ہی کافی ہوتی ہے۔
پھر ضبط کا مضبوط حصار توڑ کر کر کچھ آنسو میرے باپ کی آنکھوں سے بہہ نکلے۔ مجھے بولے: بیٹا پچھتاوا بقیہ عمر ضائع کردیتا ہے، اور پھر آدمی کو خشک سمندر کی لہروں کا شور عمر بھر سونے نہیں دیتا۔
میرا ہاتھ پکڑ کر بولے:
سنو تم خواب ہو میرے
سنو تم خواب ہو میرے!
پھر مجھے گلے لگا کر کر میری طرف دیکھے بغیر ایئرپورٹ سے باہر نکل گئے. اور پھر میں یہاں لندن میں دنیا کی دلدل میں گم ہوگیا۔ ایک گوری سے شادی کے بعد مجھے یہاں کی نیشنلٹی بھی مل گئی تھی۔
کئی سال تک بابا سے رابطہ نہ ہوسکا۔
سال پہلے ان کا خط آیا تھا۔ لکھا تھا: بیٹا اب تم پاکستان آئے بھی تو مجھے دیکھ کر تمہیں مایوسی ہوگی۔ اب تم میرے چہرے کو دیکھ کر ڈر جاؤ گے؛ کیونکہ اب اس پر سرسوں کی پیلی رت اتر چکی ہے۔ تھوک کے خون سے یقینا تمہیں نفرت ہوگی مگر اب یہ طبیب کے بس میں بھی نہیں رہا۔ اب تم مجھ سے ٹوٹ کر پیار نہیں کرسکو گے اور یقینا اپنی بیوی بچوں کے پاس پلٹ جاؤگے. بیٹا مجھے تیری جدائی نے مار دیا ہے ورنہ میں اپنے مرنے تک جینا چاہتا تھا۔ بیٹا میری آنکھوں کا دریا سوکھ گیا ہے!
افسوس میرے پاس اتنا وقت بھی نہیں تھا کہ دو جملوں کا ہی سہی خط کا جواب دے دیتا۔
میں ایک دن اپنے گھر میں بیٹھا اپنی بے حساب دولت کا حساب کر رہا تھا کہ میرا ایک پرانا دوست مجھ سے ملنے آ گیا پوچھنے لگا کب سے پاکستان نہیں گئے …؟
میں نے کہا ۱۱ برس بیت گئے ہیں وقت ہی نہیں ملا پاکستان جانے کا۔ سوچ رہا ہوں اگلے برس جاؤں گا بابا سے بھی ملنا ہے۔
اس نے حیرانی سے میری طرف دیکھا کہنے لگا۔۔ تم پاگل ہو کیا، تمہیں کچھ بھی معلوم نہیں…؟
کیا تم اپنے باپ کے مرنے پر بھی پاکستان نہیں گئے…؟
تم کیا کہہ رہے ہو…؟ بابا مر گئے…؟ میری چیخ نکل گئی۔۔ مگر مجھے کسی نے بتایا کیوں نہیں…؟
ان کی وصیت تھی میرے بیٹے کو اطلاع مت دینا اسے آنے میں تکلیف ہوگی، اور پھر مجھے یوں لگا جیسے بازی پلٹ گئی ہے اور میں اپنا وجود بھی ہار گیا ہوں۔
بابا کے الفاظ پگهلے ہوئے سیسے کی طرح میرے کانوں میں گونجنے لگے۔۔ بیٹا مجھے تیری جدائی نے مار دیا ہے ورنہ میں اپنے مرنے تک جینا چاہتا تھا۔ بیٹا پچھتاوا بقیہ عمر ضائع کردیا کرتا ہے اور پھر آدمی کو خشک سمندر کی لہروں کا شور عمر بھر سونے نہیں دیتا۔۔
سنو تم خواب ہو میرے
سنو تم خواب ہو میرے!

میں نے اپنی نشنیلٹی اور پاسپورٹ اور کچھ ضروری سامان اٹھایا اور بیوی بچوں کو بتائے بغیر ایئرپورٹ آیا اور پہلی فلائٹ سے لاہور پہنچ کر وہاں سے سیدھا اعوان ٹاؤن قبرستان پہنچا۔۔
میں نے بابا کی قبر کو بہت تلاش کیا مگر مجھے نہ ملی۔ میں دوڑ کر گورکن علم دین کے پاس پہنچا اور میں نے اس سے پوچھا بابا کی قبر کہاں ہے …؟
علم دین میرے ساتھ چلا آیا، اس نے بھی بہت تلاش کیا مگر قبر نہ ملی. علم دین نے مجھ سے پوچھا: اچھا قبر کی پہچان کیا ہے…؟
مجھے بابا کی بات یاد آگئی؛ بیٹا پہچان کی ضرورت تو قبروں کو بھی ہوتی ہے تم ملک کی بات کرتے ہو۔۔
میں نے علم دین سے کہا: علم دین میں آج پہلی بار آیا ہوں مجھے نہیں معلوم میرے باپ کی قبر کیسی ہے۔ علم دین پر تلاش میں نکل گیا۔ میں نے وہیں قبرستان میں ایک گڑھا کھودا اور اور اپنی غیر ملکی شہریت اور اپنا پاسپورٹ اس میں دفن کردیا اور اس پر مٹی ڈال دی۔
پھر میں نے غور سے دیکھا، اس گھڑے کے ساتھ ہی میرے باپ کی قبر ابھر آئی تھی۔
میں نے کتبہ دیکھا لکھا تھا:
عطا محمد بحش خان نظامی
تاریخ پیدائش: ٢٠ فروری انیس سو اٹھائیس. تاریخ وفات: ……
علم دین چکر لگا کر واپس آ گیا تھا، میں نے کہا یہ قبر میرے باپ کی ہے، مگر علم دین اس پر تاریخ وفات کیوں نہیں لکھی …؟ علم دین نے قبر کی طرف دیکھا اور پھر افسوس اور نفرت سے میری طرف دیکھا اور خاموش رہا۔
پھر کچھ ہی دیر بعد بولا: مجھے تاریخ تو یاد نہیں غالبًا چار مہینے پہلے کی بات ہے جب میں نے یہ قبر بنائی تھی مگر اس پر کتبہ نہیں تھا، پھر ایک رات جب رات کو چکر لگانے آیا تو انتہائی خوب صورت انسان جس کا چہرہ نور سے چمک رہا تھا اس قبر پر کتبہ نصب کر رہا تھا، وہ کوئی انسان نہ تھا شاید کوئی فرشتہ تھا۔
یہی سوال میں نے بھی اس سے کیا تھا: اے اجنبی اس کتبے پر تاریخ وفات کیوں نہیں لکھی؟ وہ بولا: ایسے لوگ مرتے نہیں صرف انتقال کرتے ہیں۔ یہ لوگ اپنے پیاروں کے انتظار میں زندہ رہتے ہیں؛ ابھی صاحبِ مزار کے بیٹے نے باہر سے آنا ہے ہے، جس دن وہ آئے گا اسی دن صاحب مزار کا انتقال ہوگا۔ تاریخ وفات اسی دن لکھی جائے گی، اور پھر میں نے تاریخ وفات کے آگے لکھا: ۲۰ اکتوبر ۱۹۹۴
پھر میں ساری رات قبر کر بیٹھا روتا معافی مانگتا رہا، مگر قبر سے صرف ایک ہی آواز آتی رہی: بیٹا مجھے تیری جدائی نے مار دیا ہے ورنہ میں اپنے مرنے تک جینا چاہتا تھا۔
جدائی اور موت ایک ہی چیز کے دو نام ہیں، ہجر کا دکھ دیکھنا ہو تو حضرت یعقوب کی آنکھوں کی طرف دیکھو جن کی روشنی اپنے فرزند حضرت یوسف کی یاد میں روتے روتے چھین گئی … اور ہجر ایک ایسی اذیت ناک موت ہے جس میں جان سے جاتے جاتے بھی عمر لگ جاتی ہے، اور
سنو تم خواب ہو میرے
سنو تم خواب مت ہونا!

لاہور کی گلیوں میں جہاں کبھی میلی چادر اوڑھے ساغر پھرتا تھا، اب وہاں ایک ملنگ بے تحاشا بڑھے ہوئے بالوں اور میلی چادر لیے پھرتا نظر آتا ہے.
رات ہوتی ہے تو ساگر کی طرح کسی بھی فٹ پاتھ پر لیٹ جاتا ہے، مگر آج تک اسے کسی نے سوئے ہوئے نہیں دیکھا۔ صبح ہوتے ہی بازار میں چلنا شروع کردیتا ہے. جہاں کہیں بوڑھا نظر آتا ہے اس کو روک روک کر سلام کرتا ہے، اس کا ہاتھ پکڑ کر چومتا ہے اور کہتا ہے: اپنے مرنے تک ضرور زندہ رہنا اور اپنے بیٹے کو باہر مت جانے دینا، اس کا پاسپورٹ پھاڑ دینا!
اور صرف تکتا ہوا آگے بڑھ جاتا ہے، اور پھر کرب ناک لہجے میں گانے لگتا ہے:
سنو تم خواب ہو میرے
سنو تم خواب مت ہونا!
———
(کتاب گونگے کا خواب طارق بلوچ صحرائی
افسانہ "سنو تم خواب مت ہونا" سے اقتباس)

"جدید دور کی جدید ریاستِ مدینہ"اسلام و علیکم !یہ جن پر اُنگلی اٹھائی جا رہی ہے انہوں نے تو حکومت میں آئے بغیر ہی اسلام ک...
04/04/2023

"جدید دور کی جدید ریاستِ مدینہ"

اسلام و علیکم !

یہ جن پر اُنگلی اٹھائی جا رہی ہے انہوں نے تو حکومت میں آئے بغیر ہی اسلام کے لیے اتنا کام کیا ہے اور اتنا سٹینڈ لیا ہے کے اب کہیں بھی کوئی بھی کُتا اسلام مخالف بھونکتا ہے تو سارے پاکستان کی عوام سب کو چھوڑ کر نظر ہی بس ان پر رکھتی ہے کیوں کے سب کو پتا ہے کے اسلام کے لیے جب بھی پاکستان سے کوئی آواز اٹھے گی تو وہ بس اسی جماعت کی ہو گی کیوں کے باقی سب پہلے تو ہیں ہی برائے نام مسلمان اور دوسرا وہ صرف باہر نکلتے ہی تب ہیں جب بات کُرسی کی یا اُنکی اپنی ذات کی ہو باقی دین سے اُنہیں کیا غرض وہ تو چاہتے ہی اسلام پروف ریاستِ مدینہ ہیں کیونکہ انہیں تو ابھی اقتدار ملا ہی نہیں اور ملنا بھی نہیں کیونکہ اس وقت دُنيا ميں موجود 95% مسلمان اسلام میں بھی اپنی مرضی کے حساب سے ملاوٹ چاہتے ہیں جیسا کے اس عوام نے 3 4 سال ٹھمکے لگا لگا کر تین سال کے لیے ریاستِ مدینہ قائم کی تھی اور اُن تین سالوں میں جو حکومت نے اسلام کی خدمت کی وہ ہمیشہ سُنھری حروف میں لکھی جائے گی اور یاد رکھی جائے گی۔ انہوں نے اتنی وسیع اور عالی شان عبادت گاہیں تعمیر کروائیں اپنے دور میں کے وہ مسلمان جو صرف عید کی نماز پڑھنے مسجد جاتے تھے ان سے بھی رہا نا گیا اور وہ بھی وہاں عبادت کرنے اور زیارت کرنے پہنچ گئے ہاں پر وہ بات الگ ہے کے وہ بنوائی سیکھوں کے لیے گئی تھی اور چلے وہاں سیکھوں سے زیادہ مسلمان گئے اپنی ریاست کے کارنامے دیکھنے پھر اس کے بعد جب دین کی خدمت کے لیے ریاست نے ایک اور بہت بڑا کارنامہ سر انجام دیا ایک عیسائی خاتون جس پر کافی عرصے سے توہین مذہب کا کیس چل رہا تھا اس ریاستِ مدینہ نے جہاں لاکھوں بے گناہ لوگوں کے کیس عدالتوں میں تاخیر کا شکار تھے سب کیسیز کو چھوڑ کر اُس عیسائی خاتون کے کیس کو اوپن کروایا اور اُسے باعزت بری کروایا اور عوام کو بتایا کے ہمیں ہمیشہ ہر حال میں عدالت کا احترام کرنا چاہیے اور کبھی بھی عدلیہ کو چیلنج نہیں کرنا چاہیے اور اس کارنامے پر ریاستِ مدینہ نے انٹرنیشنل غیر مسلم میڈیا سے ڈھیر ساری داد بھی وصول کی ہاں وہ بات الگ ہے کے حکومت میں آنے سے پہلے ووٹ انہوں نے قوم کی بیٹی عافیہ صدیقی کو رہا کروانے کے نام پر لیے تھے اور تین سال مختلف مصروفیات کی وجہ سے اُس طرف توجہ ہی نہیں دی گئی پھر اِن سارے معاملات کے بعد ریاستِ مدینہ کو جب دین کی خدمت کا کوئی اور موقع نظر نا آیا تو انہوں نے سوچا کے مساجد خالی ہوتی جا رہی ہیں مساجد میں رونق بحال کرنے کے لیے پھر ریاست نے اپنے ایک وفاقی وزیر کو تین چار فلمی فنکاروں کے ساتھ مسجد وزیر خان میں بھیج کر ناچ گانے کا پروگرام کروایا اور اسلام کی اتنی ساری خدمت کرنے کے بعد بھی اس ریاست نے ہمت نہیں ہاری اور مزید خدمت کرتے ہوئے انہوں نے اپنے ورکرز کی پُرزور فرمائش پر ٹرانسجینڈر بل بھی پیش کیا اور ہاں ریاست کا ایک اور بہت عظیم کارنامہ جو پاکستان کی پچہتر سال کی تاریخ میں کوئی نہیں کر سکا ریاست مدینہ نے پاکستان کا پہلا ایسا پاسپورٹ جاری کیا جس پر اسرائیل جایا جا سکتا تھا اور اس کے بعد جب ساری دُنیا میں اس ریاستِ مدینہ کی شہرت دور دور تک پھیل رہی تھی اس دوران ایک غیر مسلم ملک نے سرکارِدو عالم کی شان میں باقاعدہ سرکاری سطح پر گستاخی کی جس کے خلاف حکومت کے پاس کچھ علماء کرام اور مفتیان سرکاری سطح پر اپنا مقدمہ درج کروانے گئے یہاں جب ریاست نے دیکھا کے مدعی سے زیادہ تو مجرم طاقتور ہے اور ہم تو تجارت مجرم سے کرتے ہیں ہمیں تو ضرورت مجرم کی زیادہ ہے تو حکومت نے مار پیٹ کر مدعیوں کو ہی جیل میں ڈال دیا اور مارا بھی تھوڑا نہیں ایسا ظلم کبھی کشمیریوں پر ہندو حکومت نے بھی نہیں کیا جیسا اس ریاست نے علماء حفاظ کرام قاری قرآن مفتیان اور سادات کے ساتھ کیا یہاں تک کے تیزاب ملا پانی تک پھینکا گیا رمضان کے مہینے میں اصل میں ریاست مدینہ اسلام کا جدید ورشن نافز کرنا چاہ رہی تھی اور یہ تمام لوگ راستے میں روکاوٹ بن رہے تھے اور بار بار مطالبہ کر رہی تھے کے فرانس سے سفارتی تعلقات ختم کرنے کے حوالے سے قرارداد پیش کی جائے جب کے اگر سفارتی تعلقات ختم کر دئیے جاتے تو عوام کے بھوکے مرنے کا خطرہ تھا ہاں اُنہوں نے جو گُستاخی کی تھی حضور کی شان میں وہ بات آرام سے بھی ہو سکتی تھی ریاستِ مدینہ اُس کے لیے اتنا بڑا رسک نہیں لے سکتی تھی پر جب عدالت نے اُن تمام علماء کرام کو باعزت بری کرنے کا حکم نامہ جاری کیا تو ریاست کو نا گوار گُزرا اور ریاستِ مدینہ نے عدلیہ کے فیصلے کو ماننے سے صاف انکار کر دیا اور اس سے پہلے ریاست چار دفع تو علماء سے معاہدہ کر کے مُکر چکی تھی اب جب ریاست نے پہلے سیشن کورٹ کو جوتے کی نوک پر رکھا پھر ہائی کورٹ کو پھر انسداد دہشت گردی کی عدالت کا بھی فیصلہ ماننے سے انکار کر دیا تو پھر سپریم کورٹ نے اُن تمام علماء کو باعزت رہا کروایا پھر ریاست کو جب یاد آیا کے ہم تو ملک کا لوٹا ہوا پیسہ واپس لینے آئے تھے اور چور پکڑنے آئے تھے تو جب حکومت نے ان کی طرف رجوع کیا تو ایک چور سے حکومت کے معاملات طے پاگئے اُس نے فوراًہی اپنی چوریوں کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کے مجھے جانے دو میں آئندہ کبھی تمھارے معاملات میں نہیں آوں گا تو ریاست نے اُسے مال ضبط کیے بغیر ہی با عزت جلا وطن کر دیا اب آئی دوسرے چور کی باری یہ زرا اُستاد چور تھا ریاست نے جب اس کی طرف اُنگلی کی تو اُس نے ریاست کی اُنگلی پر ہی کاٹ لیا😂😂اور اس سے ریاست کی کانپیں ٹانگنے لگ گئی ایک دن ریاست رات کو اپنے کام سے چٌھٹی کر کے گھر گئی تو صبح جب واپس آئی تو پتا لگا کے ریاست تو راتوں رات ہی ختم ہو گئے ہے 😢😭😭😭 ریاست بہت روئی اور شور مچایا کے اس چور نے بے ایمانی کی ہے میرے ساتھ سارا قصور اس کا ہے پھر کسی نے مشورا دیا کے ریاست تو چلی ہی گئی ہے کسی بڑے دشمن کا نام لو عزت رہ جائے گی پھر فرمایا کے نہیں جی عدلیہ نے میری عزت لوٹی ہے پھر کسی نے کہا کے نہیں کسی اس سے بھی بڑے دشمن پر الزام لگاو ویلیو بڑھ جائے گی پھر تمہاری تو پھر ریاست نے کہا کے جب میری عزت لوٹی جا رہی تھی کمرے میں اندھیرا تھا مجھے آواز سے امریکا لگ رہا تھا پھر امریکا پر الزام لگا دیا پھر جب دو تین دن بعد ریاست کو دوبارہ حوش آیا تو سوچا کے یہ تو غلطی ہو گئی امریکا سے تو دوبارہ کام پڑ سکتا ہے تو ریاست نے جیسے تیسے کر کے امریکا سے معذرت کر لی پھر سوچا کے اب کسی نا کسی پر تو الزام لگانا ہی ہے کیوں کے عزت تو جاتی رہی ہے تو پھر اینڈ میں آ کر وہ سارا الزام فوج پر لگا دیا یعنی جب اپنی ذات کی بات آئی تو بھاڑ میں جائے عوام بھاڑ میں جائے تجارت سب کو ہی للکار دیا سب سے ہی پنگا لے لیا امریکا کے خلاف بھی اسٹینڈ لے لیا عدلیہ کی بھی ماں بہن ایک کردی کیوں کے یہاں بات سرکارِ دو عالم کی تھوڑی تھی یہاں تو بات اقتدار کی تھی اور اب اس وقت جب ریاست لوٹی ہوئی ایک سائیڈ پر بیٹھ کر رو رہی ہے تو جب پاس سے گزرتا ہوا کوئی کہتا ہے کے آپ کے دور میں فلاں کام بہت اچھا ہوا تھا تو ریاست کے چہرے پر مسکراہٹ آتی ہے اور ریاست خوشی سے داد وصول کرتی ہے اور جب کوئی کہتا ہو کے فلاں کام آپ نے بڑا غلط کیا تھا تو جناب کہتے ہیں کے ہم نے کہاں کیا تھا ہم تو بس برائے نام تھے سب کچھ کر تو کوئی اور رہا تھا باقی زیادہ لمبی تحریر ہو گئی اتنا تو کسی کے پاس ٹائم بھی نہیں ہوتا باقی یہ صرف ہیڈ لائنز تھیں باہر حال رہاست نے ان تین چار سالوں میں اپنے بچوں کو اچھی طرح یہ سبق یاد کروا دیا ہے کے جس نے تمہیں کلمہ پڑھنا سکھایا تھا وہ بھی غلط ہے جس نے نماز پڑھنا سکھائی تھی وہ بھی غلط ہے تمھارے ماں باپ بھی غلط ہیں عدلیہ بھی غلط ہے فوج بھی غلط ہے علماءبھی غلط ہیں اور اب تو یہاں تک کہہ رہے ہیں کے ہمارے اپنے ساتھی بھی غلط تھے اگر کوئی درست ہے تو بس وہ ہماری اپگریڈ کی ہوئی ریاستِ مدینہ 🫡🫡🫡🫡🫡🫡

منگ پناہ محمد بخشا بے پرواہ جنابوں

متاں کوئی گل اولی نکلے تے رد ہو جائیں ایس بابوں😢😢😢

یہ غازی یہ تیرے پراسرار بندے جنہیں تو نے بخشا ہے ذوقِ خدائی

دو نیم ان کی ٹھوکر سے صحرا و دریا سیمٹ کر پھاڑ ان کی ہیبت سے رائی

عرس مبارک حضرت قبلہ حضرت پیر سید علی بابا سرکار گوپالپور والے قوالی پروگرام
13/11/2021

عرس مبارک حضرت قبلہ حضرت پیر سید علی بابا سرکار گوپالپور والے قوالی پروگرام

اِنّا لِلّٰهِ وَاِنّا اِلَيْهِ رَاجِعُوْن نہایت ہی صدمے سے اعلان کیا جاتا ہے  اسلم نمردار(چاچا اسلم مسجد کمیٹی کے ممبر )...
25/10/2021

اِنّا لِلّٰهِ وَاِنّا اِلَيْهِ رَاجِعُوْن
نہایت ہی صدمے سے اعلان کیا جاتا ہے اسلم نمردار(چاچا اسلم مسجد کمیٹی کے ممبر )قضاۓ الہی سے انتقال فرما گۓ ہیں
ان کا نماز جنازہ صُبح
11:00 Am
گوپالپور والی قبرستان میں ادا کی جاۓ گی
نماز جنازہ میں شرکت فرما کر صوابِ دارین حاصل کریں

Address

Gopal Pur
Sialkot

Telephone

+3227376952

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Sada Apna Gopal Pur posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category