Samaa Imdad

Call Directions Contact the business

Samaa Imdad Love deeply and passionately. You might get hurt but it's the only way to live life completely .

This page is specially designed for natural pictures, but people who are confused and anxious about life can join this page. He enslaved himself to the desires of the self and wasted countless moments of life. We hope that this page will be helpful to such people, and that they will be able to use every moment to the best of their ability and make life meaningful.

آج بہت دنوں بعد تصویر لی۔ تصویر انسان تب لیتا ہے جب وہ خوش ہوتا جب اُسے جینے میں آنند آ رہا ہو۔ یہ بات سمجھ نہیں آئی کہ ...
22/09/2026

آج بہت دنوں بعد تصویر لی۔ تصویر انسان تب لیتا ہے جب وہ خوش ہوتا جب اُسے جینے میں آنند آ رہا ہو۔ یہ بات سمجھ نہیں آئی کہ چہرے پہ سجائی گئی مسکراہٹ نقلی ہے یا اصلی۔ کہتے ہیں کچھ لوگ چہرے بھی پڑھتےہیں۔۔ چہرے پڑھنے والے حضرات سے گزارش ہے کہ ہماری تصویر کو دیکھ کر ایک منٹ ہمیں دیا جائے۔ اور اپنے خیالات کا اظہار کریں، تا کہ ہمیں معلوم ہو سکے کہ جینے میں واقع آنند آ رہا ہے یا صرف نقلی سجاوٹ ہے۔۔

07/09/2026

قانُونِ فطرت تو یہی ہے کہ
گدھی
گدھے کو ہی جنم دیتی ہے

ہمارے ہی اجداد،
جو انگریز کا ایک من وزن صرف ایک روپے میں راولپنڈی سے مری تک لے کر جاتے،
ان کے پاؤں میں جوتی تک نہیں ہوتی،
پنڈی سے مری ستر کلومیٹر کا سفر ایک من وزن اٹھا کر دو دن میں مکمل ہوتا.
یہ لوگ انگریز کی خدمت کرتے،
اپنی پیٹھ پر سوار کر کے سیر کراتے اور
انگریز خوش ہو کر اپنا بچا ہوا کھانا انہیں دے دیتا..

ہمارے اجداد نے ہی انگریزوں کی نوکریاں کیں.
تنخواہ لے کر اپنے ہی لوگوں سے لڑتے رہے.
انگریز نے ہندوستان پر سو سال حکومت کی،
اس دوران کبھی بھی انگریزوں کی مجموعی تعداد پچیس ہزار سے زیادہ نہیں رہی.

انگلینڈ میں ایک مائیگریشن رجسٹر ہے۔
جس میں برطانیہ سے ہندوستان جانے والے 15،447 فوجیوں کے نام لکھے ہوئے ہیں.
تین لاکھ ہندوستانی تھے جو انگریزی فوج میں بھرتی ہوئے.
بنگال رجمنٹ،
پنجاب رجمنٹ،
بلوچ رجمنٹ انگریزوں نے بنائی۔
برصغیر کے بُھوکے ننگے،
دو چار روپے ماہانہ وظیفے پر لڑنے مرنے کو تیار تھے.
پلاسی کی جنگ میں سراج الدولہ کے خلاف انگریزی فوج میں نوے فیصد ہندوستانی ہی تھے،
غداری کرنے والا بھی میر جعفر ہی تھا.
سلطان حیدر علی اور اس کے بیٹے ٹیپو سلطان کے خلاف چار جنگیں لڑنے والے کون تھے؟
کوئی اور نہیں۔
میرے اور آپ کے اجداد تھے۔۔۔
انگریزوں کے خلاف سندھ حر پگاڑو کے لڑے اور
انگریزوں کا ساتھ مری بلوچ، بگٹی بلوچ نے دیا
بدلے میں سانگھڑ میں ان کو جاگیریں ملیں
سرنگاپٹم سے میسور تک میر جعفر نے کس طرح سلطان سے غداری کی،
انگریز کو کس طرح وفاداری بیچی..
سب کچھ لکھا ہؤا ہے۔
بس آنکھیں کھول کر پڑھنے والا چاہیے ۔
علامہ اقبال نے کہا تھا:-
*جعفر از بنگال و صادق از دکن*
*ننگِ دیں، ننگِ قوم، ننگِ وطن*

پنجاب میں رنجیت سنگھ جو انگریزوں کو مشکل وقت دکھا رہا تھا،

مُسلمانوں کو اس کے خلاف جہاد پر لگا دیا. ا.
انگریز دار العلوم دیوبند کے سالانہ دورے کرتا تھا،
اکابرین دیوبند کو وظائف دیتا تھا.
اکابرین بریلوی اور اہلِ حدیث بھی حکومتی وظیفے لیتے رہے ہیں۔۔۔۔

اسلام کی آمد سے اب تک 1500 سالوں میں پوری دنیا میں اتنے
پِیر ، دَستگیر ،
وَلی ،
محدث ، مجدد ،
قطب ،
مُفسر ، مناظر ،
مقرر پیدا نہیں ہوۓ،
جتنے انگریز کے 100 سالہ دور میں برصغیر میں پیدا ہوئے تھے۔۔۔
کوئی لمحےکرواتا رہا،
کسی نے نبیﷺ کے نور یا بشر پر مسلمانوں میں پھوٹ ڈالی ،
کسی نے حیات و ممات پر مسلمانوں کو دست و گریباں کروایا
یہ سب انگریز وظائف دے کر اپنی سلطنت کو دوام بخشنے اور مسلمانوں کے اتحاد کو پارہ پارہ کرنے کیلئے کرواتے رہے ہیں۔۔۔۔

آپ کا کیا خیال ہے، پاکستان آزاد ہو گیا ہے؟
آج بھی راشن کی قطاروں میں مر رہے ہیں۔
اور اشرافیہ آج بھی انگریزی وفاداری نبھا رہی ہے.
جب کئی سال بعد دنیا کی تاریخ لکھی جائے گی تو ایک قوم
"*المجرمین پاکستان*"
کے بارے میں بھی تاریخ لکھی جائے گی ۔۔۔

مؤرخ لکھے گا۔۔۔
قومِ عاد۔۔۔
قوم ثمود۔۔۔
اور قومِ لُوط کے سارے مجموعی گناہ اس قوم میں پائے جاتے تھے۔۔۔

یہ ایک ایسی قوم تھی جو نام تو اللہ کا لیتی تھی،
مگر مانتی اپنے اپنے اپنے آلہ کاروں کو تھی۔۔۔

ایک ایسی قوم تھی جس کو تعلیم صرف جاہل بنانے کے لئے دی جاتی تھی۔۔

ایک ایسی قوم تھی جس کے مذہبی پیشوأ،
خود تو دنیا کی ہر آسائش سے لطف اندوز ہوتے تھے،
مگر ان کو غربت افلاس کے فائدے بتا کر جنت کے ٹکٹ دیتے تھے۔

ان کے حکمران بادشاہوں کی طرح زندگی گزارتے تھے۔
مگر اس قوم کے نچلے طبقے کے پاس کھانے کو روٹی نہیں تھی۔۔۔

مؤرخ لکھے گا:-
اس قوم کا انصاف بکتا تھا۔
طاقتور کے لئے علیحدہ قانون،
اور غربأ کے لئے الگ قانون تھا۔

اس قوم کے قاضی اُنہی کی طرح کرپٹ اور انصاف سے عاری تھے۔۔۔

لکھا جائے گا:-
اس قوم کے سیاستدان خود غرض،
نا اہل اور بےحس تھے۔
مگر یہ قوم ایسے سیاستدانوں کو اپنا مسیحا سمجھتی تھی اور
اُن کے لئے ایک دوسرے کی گردن کاٹنے کو بھی تیار رہتی تھی۔

ایک ایسی قوم تھی جو لمبی لمبی دعائیں اور بددعائیں کرتی تھی۔
مگر اس کا عملی کردار انتہائی ناگفتہ بہہ اور بیہودہ تھا۔۔۔

ایک ایسی قوم تھی جس میں حرام خور عزت دار کہلاتے تھے
اور
محنت کر کے کھانے والے کمی کمین۔۔۔

30/08/2026

Khwaja Ghulam Fareed

18/08/2026
18/08/2026

17/08/2026

اگر ہم پڑھی ہوئی زیادہ تر باتیں بھول جاتے ہیں، تو پھر اتنی ساری کتابیں پڑھنے کا کیا فائدہ؟ایک فلسفی نے کہا:"میں نے اپنی ...
07/08/2026

اگر ہم پڑھی ہوئی زیادہ تر باتیں بھول جاتے ہیں، تو پھر اتنی ساری کتابیں پڑھنے کا کیا فائدہ؟
ایک فلسفی نے کہا:
"میں نے اپنی زندگی میں بے شمار کتابیں پڑھی ہیں، لیکن اب ان میں سے حاصل کی گئی زیادہ تر معلومات مجھے یاد نہیں رہیں۔ پھر اتنی ساری کتابیں پڑھنے کا فائدہ ہی کیا ہے؟"
بالکل یہی سوال ایک شاگرد نے ایک دن اپنے استاد سے پوچھا۔
استاد نے اس وقت خاموشی اختیار کی اور پہلے دن کوئی جواب نہ دیا۔
چند دن بعد، استاد اور شاگرد ایک دریا کے کنارے ملے۔ استاد نے ایک ایسا مٹکا دکھایا جس میں سوراخ تھے، اور کہا:
"یہ مٹکا لو، دریا پر جاؤ اور میرے لیے اس میں پانی بھر کر لے آؤ۔"
شاگرد حیران رہ گیا۔ یہ ایک عجیب سی درخواست تھی۔ سوراخوں والے مٹکے میں پانی لانا تو ناممکن تھا، لیکن استاد کا حکم ٹالا بھی نہیں جا سکتا تھا۔ چنانچہ وہ مٹکا لے کر دریا کی طرف چلا گیا۔
اس نے مٹکا پانی سے بھر لیا، مگر چند قدم ہی چل سکا تھا کہ سوراخوں سے سارا پانی بہہ گیا۔
اس نے بار بار کوشش کی، لیکن ہر مرتبہ ناکام رہا اور آخرکار مایوس ہو گیا۔
تھک ہار کر وہ استاد کے پاس واپس آیا اور بولا:
"استادِ محترم! میں ناکام ہو گیا ہوں۔ اس سوراخوں والے مٹکے میں پانی لا ہی نہیں سکتا۔ مجھے معاف کر دیجیے۔"
استاد مسکرایا اور بولا:
"نہیں، تم ناکام نہیں ہوئے۔ ذرا اس مٹکے کو غور سے دیکھو۔ اب یہ کتنا صاف ستھرا ہو گیا ہے، جیسے بالکل نیا ہو۔ ہر بار جب پانی ان سوراخوں سے گزرا، تو اس نے مٹکے کی ساری مٹی اور میل دھو ڈالی۔"
"بالکل یہی حال تمہارا بھی ہے جب تم کوئی کتاب پڑھتے ہو۔ تمہارا ذہن بھی اس سوراخوں والے مٹکے کی طرح ہے، اور کتاب کا علم اس پانی کی مانند۔ ممکن ہے کہ تم کتاب کی ہر بات ہمیشہ یاد نہ رکھ سکو، لیکن یہ اتنا اہم نہیں۔"
"کتابوں میں موجود خیالات، علم، جذبات، احساسات، شعور اور سچائیاں تمہارے ذہن کو روشن کرتی ہیں۔ ہر بار جب تم کوئی اچھی کتاب پڑھتے ہو، تمہارے اندر ایک مثبت تبدیلی آتی ہے۔ تم پہلے سے بہتر، زیادہ باشعور اور زیادہ پاکیزہ انسان بن جاتے ہو۔"
اور یہی کتابیں پڑھنے کا سب سے بڑا فائدہ ہے۔
مطالعہ کرتے رہیے، کیونکہ ہر اچھی کتاب آپ کو خاموشی سے بہتر انسان بناتی ہے۔

03/08/2026

نوجوان خواتین، یہ پیغام خاص آپ کے لیے ہے! 🤗

ایک نوجوان خاتون ایک دکان میں ایسے لباس میں داخل ہوئی جو اس کے جسم کو بہت زیادہ نمایاں کر رہا تھا۔ دکان کا مالک، جو ایک دانا اور عمر رسیدہ شخص تھا، اس نے غور سے اسے دیکھا، پھر اسے بیٹھنے کو کہا، اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے ایسی بات کہی جو وہ اپنی پوری زندگی کبھی نہ بھول سکی۔

اس نے کہا:

"بیٹی! اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں جتنی بھی قیمتی چیزیں پیدا کی ہیں، وہ سب ڈھکی ہوئی اور آسانی سے نہ ملنے والی ہوتی ہیں۔"

مثال کے طور پر:

1۔ ہیرے کہاں ملتے ہیں؟

- زمین کی گہرائی میں، مٹی اور پتھروں کے نیچے محفوظ۔

2۔ موتی کہاں ملتے ہیں؟

- سمندر کی گہرائی میں، ایک خوبصورت سیپی کے اندر محفوظ۔

3۔ سونا کہاں ملتا ہے؟

- زمین کے اندر، پتھروں کی تہوں میں چھپا ہوا، جہاں پہنچنے کے لیے سخت محنت اور کھدائی کرنی پڑتی ہے۔

پھر اس نے دوبارہ اس خاتون کی طرف دیکھا اور کہا:

"تمہارا جسم اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ایک مقدس اور منفرد امانت ہے۔"

تم سونے، ہیروں اور موتیوں سے بھی زیادہ قیمتی ہو، اس لیے تمہیں بھی اپنی عزت اور وقار کی حفاظت کرنی چاہیے۔

پھر اس نے مزید کہا:

"اگر تم اپنے ان قیمتی خزانوں کو محفوظ رکھو، تو ایک باوقار اور ذمہ دار شخص انہیں حاصل کرنے کے لیے صحیح طریقہ اختیار کرے گا۔

- پہلے وہ تمہارے سرپرست (خاندان) سے رابطہ کرے گا۔
- پھر باقاعدہ معاہدہ (نکاح) کرے گا۔
- اس کے بعد محبت، احترام اور ذمہ داری کے ساتھ ازدواجی زندگی گزارے گا۔

لیکن اگر تم اپنے ان قیمتی خزانوں کو ہر ایک کے سامنے بے پردہ کر دو، تو بہت سے غیر ذمہ دار لوگ صرف اپنے فائدے کے لیے آئیں گے، تمہارا استحصال کریں گے اور پھر تمہیں چھوڑ کر چلے جائیں گے۔

خواتین! آپ بے حد قیمتی ہیں۔ ❤️

ہمیشہ یاد رکھیں کہ وقار، عزت اور اچھا کردار انسان کو زیادہ قابلِ احترام بناتے ہیں۔

03/08/2026

عبادات اپنی جگہ لیکن جس انسان کو صبر اور شُکر کی دولت مل گئی اُسے دنیا جہاں کی تمام تر نعمتیں مل گئیں۔۔ صبر اور شُکر والا انسان کبھی اُداس نہیں ہوتا۔۔ اور نہ ہی اُسے کبھی ڈپریشن جیسی بیماریاں ہوتی ہیں۔۔ کیونکہ کہ صبر اور شُکر والا انسان اللّٰہ کی رضا پر راضی رہتا ہے۔۔
اور حقیقی بندگی عبادات و ریاضت نہیں ہے حقیقی بندگی یہی ہے کہ انسان اللّٰہ کی رضا میں راضی ہو جائے۔۔
اور اللّٰہ کی رضا یہ ہے کہ اس کائنات میں جو کچھ بھی ہو رہا ہے سب اللّٰہ کی مرضی سے ہو رہا ہے۔۔ اور اللّٰہ ہمیشہ بہتر کرتا ہے۔۔ ہمارے غم اور ہماری تکالیف کا وہ احاطہ کئیے ہوئے ہے۔۔ اور وہ انسان کو اتنی محبت کرتا کہ انسان کی ادنیٰ سی عقل میں اُس کی محبت کا اندازہ آ ہی نہیں سکتا۔۔ یہ غم اور تکالیف ہی انسان کو اپنے خالق حقیقی سے ملاتی ہیں۔۔ یہ غم اور تکالیف انسان کے لئیے نعمتیں ہیں۔۔ کیونکہ ان غموں کی وجہ سے ہمیں رب یاد آتا ۔۔ اور جو احساس رب کے قریب ہونے کا ذریعہ بنے وہ تو ایک نعمت ہے۔۔ اس لئیے ان غموں کو خوشدلی سے قبول کیا کریں۔۔
بقول شاعر
بے کار الم نہیں بے کار غم نہیں
تکلیف دے خدا تو یہ نعمت بھی کم نہیں

اللّٰہ ہم سب کو صبر اور شُکر جیسی عظیم دولت سے نوا

میں احساسات اور جذبات پر لکھنا چاہتا ہوں۔۔ احساسات، اپنائیت جو کسی اپنے کے لئیے ہوتی ہے۔ اول تو یہ احساسات ایک قدرتی نعم...
01/08/2026

میں احساسات اور جذبات پر لکھنا چاہتا ہوں۔۔ احساسات، اپنائیت جو کسی اپنے کے لئیے ہوتی ہے۔ اول تو یہ احساسات ایک قدرتی نعمت ہے۔۔ کسی اپنے کے لئیے احساسات خود نہیں پیدا کئیے جا سکتے، یہ قدرتی انسانوں میں موجود ہوتے ہیں۔ اور یہ احساسات اعلیٰ ظرف ہونے کی علامت بھی ہیں۔۔
اب یہ احساسات اور جذبات جس شخص میں زیادہ ہوں گے وہ اُتنا ہی درد بھی رکھتا ہو گا۔۔ درد کی کئی اقسام ہیں۔ کچھ درد ایسے بھی ہوتے ہیں جو روح تک کھینچ لیتے ہیں۔۔
انسان کے اپنے بس میں نہیں کہ وہ کسی اپنے کے لئیے اپنے احساسات کم یا زیادہ کرے یہ بہت تکلیف دہ بات ہے۔۔
وہ شخص جو آپ کی روح کے ساتھ منسلک ہے جسے آپ اپنی رگِ جاں سے بھی زیادہ قریب سمجھتے ہیں، جس کا درد آپ کو رولا دیتا ہے۔۔ درد کا کیسا عالم ہو گا جب وہ شخص آپ کے لئیے وہ جذبات نہ رکھے جو آپ کے دل میں قدرتی اُس کے لئیے ہیں۔۔ یہ ایک بہت ہی قرب ناک صورتحال ہے۔ وہ جس کے لئیے آپ کی ہر سانس ہے۔۔ وہ نہ ہوتا تو آپ شاید نہ جیتے۔۔ وہ آپ کے جینے کی وجہ ہے۔۔ لیکن وہ آپ کے جذبات سمجھنے سے بلکل قاصر ہے۔۔ یہ انتہائی قرب ناک الم ہے۔۔ اور اس طرح کی صورتحال میں یا تو انسان جینا چھوڑ دیتا ہے۔۔ یا پھر اچانک مرتا ہے۔۔
آپ نے خود کُشیوں کی کہانیاں تو سُنی ہوں گی۔ اور آپ کو یہ جاننے کا تجسس بھی ہو گا کہ یار آخر ایسی بھی کیا بات تھی، ایسا بھی کیا درد تھا کہ اُس نے خود کُشی کا سوچ لیا۔۔ تو آپ کو آگاہ کرتا چلوں کہ یہی وہ درد ہے جس میں انسان خود کُشی کا سوچتا بھی ہے اور کرتا بھی ہے۔۔
اور یہ احساسات اور جذبات ہزاروں میں کسی ایک میں ہوتے ہیں۔۔ اور جس میں یہ جذبات ہوتے ہیں وہ انمول ہوتا ہے۔۔ وہ جو آپ کی کئیر کرتا ہے وہ آپ کا باپ ہو سکتا ہے، وہ آپ کا بھائی ہو سکتا ہے، وہ آپ کی بہن ہو سکتی ہے، وہ آپ کی بیوی ہو سکتی ہے یا وہ آپ کی ماں ہو سکتی ہے۔۔
خُدا راہ اِن عظیم رشتوں کا پاس رکھیں۔۔ ان کے احساسات اور جذبات کو سمجھیں۔ باپ کا ادب بھی کیا جائے لیکن بیٹے کے جذبات کو بھی سمجھا جائے۔ ماں پہ دنیا بھی لُٹائی جائے لیکن بہن کے الفاط کو بھی اہمیت دی جائے۔۔ بیوی سے محبت بھی جتائی جائے اور شوہر کو مجازی خُدا بھی سمجھا جائے۔ بھائی پہ جان بھی لُٹائی جائے لیکن بھائی کا پاس بھی رکھا جائے۔۔
اگر آپ بھائی کی بات کا پاس نہ رکھ سکے، اگر آپ محبت نہ جتا سکے، اگر آپ بے ادب ہوئے تو یاد رکھیں آپ کسی اپنے کو کھو دیں گے۔ اُس اپنے کو جو اپنی ہر سانس صرف آپ کے لئیے لیتا ہے۔۔

Address

90
Sialkot

Telephone

+923338687790

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Samaa Imdad posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Samaa Imdad:

Shortcuts

Share