Ziddii photography

Ziddii photography Exploring The beauties of Nature

25/04/2026

🌿✨🥀

16/04/2026

Gajray 🥰

26/03/2026

Real peace 🕊️ the real happiness 😊 ✌️

13/10/2024

*خیبر جرگہ ہال حشر کا سماں*

*مشران اور جوانوں کے آنسوؤں، ڈاکومینٹری کے دردناک مناظر 😢*

*جمع کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق 76,584 پشتون بم دھماکوں میں شہید کئے گئے ہیں۔*
*پشتونوں کو اس کا علم ہے کہ نہیں*
*6,700 پشتون لاپتہ ہیں جن کا ریکارڈ موجود ہیں*
*آج کی تاریخ تک کے مطابق پشتون سرزمین پر 9,237 بڑے دھماکے ہوئے ہیں 💔*
آج ڈیٹا کے مطابق 200 دھماکے ہمارے مسجدوں پر ہوئے ہیں
😭💔
*آج ڈیٹا کے مطابق پختون سرزمین پر 1738 ہمارے پختون مشران ذبح کرکے شہید کئے گئے ہیں*
*ڈیٹا کے مطابق کوئٹہ سے لیکر سوات تک 10 لاکھ ایکڑ زمین پر قبضہ ہوچکا ہیں.💔*
*ڈیٹا کے مطابق 57 لاکھ لوگ IDPs ہوئے ہیں جس میں 23 لاکھ آج بھی دربدر پھر رہے ہیں*
*جرگہ ڈیٹا پورے فاٹا میں ایک ہزار تک مساجد و مدارس شہید ہوئے ہیں۔ !*
*دو لاکھ سترہ ہزار (217,000) سے زیادہ پشتونو کے شناختی کارڈز بلاک ہیں۔*
*د نن ډيټه مطابق په دغه جنګ کښي د لینډ ماینز له وجي 7538 پښتانه معذوره شوي دي
💔😭*

Genuine and Original Altrasound for Sale Company: Novadex Model: N6,  2020Rs.. 2,00,000Contact No : 03005462053
21/07/2024

Genuine and Original Altrasound for Sale
Company: Novadex
Model: N6, 2020
Rs.. 2,00,000
Contact No : 03005462053

چارلی چپلن کہتے ہیں :  جب میں چھوٹا تھا اپنے بابا کے ساتھ سرکس دیکھنے گیا، ٹکٹس کے لیے ایک لمبی قطار میں کھڑا ہونا پڑا، ...
26/06/2024

چارلی چپلن کہتے ہیں :

جب میں چھوٹا تھا اپنے بابا کے ساتھ سرکس دیکھنے گیا، ٹکٹس کے لیے ایک لمبی قطار میں کھڑا ہونا پڑا، ہمارے سامنے ایک فیملی تھی چھ بچے اور ماں باپ، غریب گھرانے سے تعلق تھا، ان کے کپڑے پرانے تھے لیکن صاف تھے۔

بچے سرکس کے بارے میں بات کر رہے تھے، بہت خوش دکھائی دے رہے تھے، جب ان کی باری آئی، ان کا باپ ٹکٹس کے لیے کھڑکی کی طرف بڑھا اور ٹکٹ کی قیمت پوچھی، پھر اپنی بیوی کے کان میں کچھ کہنے لگا، اس کے چہرے پر شرمندگی اور دکھ تھا۔۔

پھر میں نے دیکھا، بابا نے اپنی جیب سے بیس ڈالر نکالے اور زمین پر پھینک دیے، اپنا ہاتھ اس آدمی کے کندھے پر رکھا اور کہا: 'تمھارے پیسے گر گئے۔۔!!"

اس نے بابا کی طرف دیکھا (اس کی آنکھوں میں آنسو تھے) اور کہا: "بہت شکریہ۔۔!!"

جب وہ سرکس کے لیے اندر چلے گئے، بابا نے مجھے میرے ہاتھ سے پکڑا اور ہم پیچھے ہٹ آئے؛ کیوں کہ بابا کے پاس بس وہی بیس ڈالر تھے جو اس شخص کو دے دیے۔۔!!

اور اس دن سے مجھے میرے باپ پہ فخر ہے، وہ میری زندگی کا سب سے پیارا سین تھا، اس سرکس سے بھی پیارا جو میں نہیں دیکھ پایا۔

اس پرندے نے اٹلی سے بوٹسوانا (افریقی ملک) تک کا سفر جو کہ 19 ہزار کلومیٹر ہے، مکمل کیا۔ پرندے کے ساتھ GPS ٹریکر لگا تھا ...
26/06/2024

اس پرندے نے اٹلی سے بوٹسوانا (افریقی ملک) تک کا سفر جو کہ 19 ہزار کلومیٹر ہے، مکمل کیا۔ پرندے کے ساتھ GPS ٹریکر لگا تھا جس سے ماہرین اس کی لوکیشن کو مانیٹر کرتے رہے۔ یہ پرندہ سپتمبر میں وسطی اٹلی سے بوٹسوانا کے لئے اڑا۔ بوٹسوانا میں یہ یورپ کی سخت سردی سے محفوظ رہنے کے لئے جانا چاہتا تھا۔ قریب ایک ہزار کلومیٹر کا سفر سمندر کے اوپر ایک دن میں طے کیا اور لیبیا پہنچ گیا۔

واپسی پر قریب دو مہینے مختلف افریقی ممالک میں پرواز کے بعد یہ الجیریا چلا گیا۔ وہاں چند دن تک انتظار کیا تا کہ سمندر پہ پرواز کے لئے موسم سازگار ہو۔آخر کار تقریبا چالیس ہزار کلومیٹر کا مجموعی سفر طے کرنے کے بعد واپس اسی گھونسلے میں آ گیا جہاں سے اڑا تھا۔

کسی بھی گوگل نقشے یا ٹیکنالوجی کے بغیر پرندے کو اپنی سمت کا پتہ تھا.
سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم

22/06/2024

انسان زمینی مخلوق نہیں ہے

امریکی ایکولوجسٹ ڈاکٹر ایلس سِلور کی تہلکہ خیز ریسرچ ارتقاء (Evolution) کے نظریات کا جنازہ اٹھ گیا:

ارتقائی سائنسدان لا جواب:
انسان زمین کا ایلین ہے۔

ڈاکٹر ایلیس سِلور (Ellis Silver) نے اپنی کتاب (Humans are not from Earth)
میں تہلکہ خیز دعوی کیا ہے کہ انسان اس سیارے زمین کا اصل رہائشی نہیں ہے بلکہ اسے کسی دوسرے سیارے پر تخلیق کیا گیا اور کسی وجہ سے اس کے اصل سیارے سے اس کے موجودہ رہائشی سیارے زمین پر پھینک دیا گیا۔

ڈاکٹر ایلیس جو کہ ایک سائنسدان محقق مصنف اور امریکہ کا نامور ایکالوجسٹ (Ecologist) ہے اس کی کتاب میں اس کے الفاظ پر غور کیجیے۔
ذہن میں رھے کہ یہ الفاظ ایک سائنسدان کے ہیں جو کسی مذھب پر یقین نہیں رکھتا۔

اس کا کہنا ہے کہ انسان جس ماحول میں پہلی بار تخلیق کیا گیا اور جہاں یہ رھتا رہا ہے وہ سیارہ، وہ جگہ اس قدر آرام دہ پرسکون اور مناسب ماحول والی تھی جسے وی وی آئی پی کہا جا سکتا ہے وہاں پر انسان بہت ہی نرم و نازک ماحول میں رہتا تھا اس کی نازک مزاجی اور آرام پرست طبیعت سے معلوم ھوتا ھے کہ اسے اپنی روٹی روزی کے لیے کچھ بھی تردد نہیں کرنا پڑتا تھا، یہ کوئی بہت ہی لاڈلی مخلوق تھی جسے اتنی لگژری لائف میسر تھی۔
وہ ماحول ایسا تھا جہاں سردی اور گرمی کی بجائے بہار جیسا موسم رھتا تھا اور وہاں پر سورج جیسے خطرناک ستارے کی تیز دھوپ اور الٹراوائلیٹ شعاعیں بالکل نہیں تھیں جو اس کی برداشت سے باھر اور تکلیف دہ ھوتی ہیں۔

تب اس مخلوق انسان سے کوئی غلطی ہوئی۔
اس کو کسی غلطی کی وجہ سے اس آرام دہ اور عیاشی کے ماحول سے نکال کر پھینک دیا گیا تھا ۔جس نے انسان کو اس سیارے سے نکالا لگتا ہے وہ کوئی انتہائی طاقتور ہستی تھی جس کے کنٹرول میں سیاروں ستاروں کا نظام بھی تھا۔
وہ جسے چاہتا، جس سیارے پر چاہتا، سزا یا جزا کے طور پر کسی کو بھجوا سکتا تھا۔ وہ مخلوقات کو پیدا کرنے پر بھی قادر تھا۔

ڈاکٹر سلور کا کہنا ہے کہ ممکن ہے زمین کسی ایسی جگہ کی مانند تھی جسے جیل قرار دیا جاسکتا ھے۔ یہاں پر صرف مجرموں کو سزا کے طور پر بھیجا جاتا ہو۔ کیونکہ زمین کی شکل، کالا پانی جیل کی طرح ہے۔ خشکی کے ایک ایسے ٹکڑے کی شکل جس کے چاروں طرف سمندر ہی سمندر ھے، وہاں انسان کو بھیج دیا گیا۔

ڈاکٹر سلور ایک سائنٹسٹ ہے جو صرف مشاہدات کے نتائج حاصل کرنے بعد رائے قائم کرتا ہے۔ اس کی کتاب میں سائنسی دلائل کا ایک انبار ہے جن سے انکار ممکن نہیں۔
اس کے دلائل کی بڑی بنیاد جن پوائنٹس پر ھے ان میں سے چند ایک ثابت شدہ یہ ہیں۔

*نمبر 1:
زمین کی کش ثقل اور جہاں سے انسان آیا ہے اس جگہ کی کشش ثقل میں بہت زیادہ فرق ہے۔ جس سیارے سے انسان آیا ہے وہاں کی کشش ثقل زمین سے بہت کم تھی، جس کی وجہ سے انسان کے لئے چلنا پھرنا بوجھ اٹھا وغیرہ بہت آسان تھا۔ انسانوں کے اندر کمر درد کی شکایت زیادہ گریوٹی کی وجہ سے ہے۔

*نمبر 2:
انسان میں جتنے دائمی امراض پائے جاتے ہیں وہ باقی کسی ایک بھی مخلوق میں نہیں جو زمین پر بس رہی ہے۔
ڈاکٹر ایلیس لکھتا ہے کہ آپ اس روئے زمین پر ایک بھی ایسا انسان دکھا دیجئیے جسے کوئی ایک بھی بیماری نہ ہو تو میں اپنے دعوے سے دستبردار ہوسکتا ہوں جبکہ میں آپ کو ہر جانور کے بارے میں بتا سکتا ہوں کہ وہ وقتی اور عارضی بیماریوں کو چھوڑ کر کسی ایک بھی مرض میں ایک بھی جانور گرفتار نہیں ہے۔

*نمبر 3:
ایک بھی انسان زیادہ دیر تک دھوپ میں بیٹھنا برداشت نہیں کر سکتا بلکہ کچھ ہی دیر بعد اس کو چکر آنے لگتے ہیں اور سن سٹروک کا شکار ہوسکتا ہے۔
جبکہ جانوروں میں ایسا کوئی ایشو نہیں ھے مہینوں دھوپ میں رھنے کے باوجود جانور نہ تو کسی جلدی بیماری کا شکار ہوتے ہیں اور نہ ہی کسی اور طرح کے مر ض میں مبتلا ہوتے ہیں جس کا تعلق سورج کی تیز شعاعوں یا دھوپ سے ہو۔

*نمبر 4:
ہر انسان یہی محسوس کرتا ہے اور ہر وقت اسے احساس رہتا ہے کہ اس کا گھر اس سیارے پر نہیں۔
کبھی کبھی اس پر بلاوجہ ایسی اداسی طاری ہوجاتی ہے جیسی کسی پردیس میں رہنے والے پر ہوتی ہے چاہے وہ بیشک اپنے گھر میں اپنے قریبی خونی رشتے داروں کے پاس ہی کیوں نا بیٹھا ہوں۔

*نمبر 5:
زمین پر رہنے والی تمام مخلوقات کا ٹمپریچر آٹومیٹک طریقے سے ہر سیکنڈ بعد ریگولیٹ ہوتا رہتا ہے یعنی اگر سخت اور تیز دھوپ ھے تو ان کے جسم کا درجہ حرارت خود کار طریقے سے ریگولیٹ ہو جائے گا،
جبکہ اسی وقت اگر بادل آ جاتے ہیں تو ان کے جسم کا ٹمپریچر سائے کے مطابق ہو جائے گا جبکہ انسان کا ایسا کوئی سسٹم نہیں بلکہ انسان بدلتے موسم اور ماحول کے ساتھ بیمار ھونے لگ جائے گا۔ موسمی بخار کا لفظ صرف انسانوں میں ھے۔

*نمبر 6:
انسان اس سیارے پر پائے جانے والے دوسرے جانداروں سے بہت مختلف ہے۔ اسکا ڈی این اے اور جینز کی تعداد اس سیارہ زمین پہ جانے والے دوسرے جانداروں سے بہت مختلف اور بہت زیادہ ہے۔

*نمبر 7:
زمین کے اصل رہائشی (جانوروں) کو اپنی غذا حاصل کرنا اور اسے کھانا مشکل نہیں، وہ ہر غذا ڈائریکٹ کھاتے ہیں، جبکہ انسان کو اپنی غذا کے چند لقمے حاصل کرنے کے لیے ہزاروں جتن کرنا پڑتے ہیں، پہلے چیزوں کو پکا کر نرم کرنا پڑتا ھے پھر اس کے معدہ اور جسم کے مطابق وہ غذا استعمال کے قابل ھوتی ھے، اس سے بھی ظاہر ھوتا ھے کہ انسان زمین کا رہنے والا نہیں ھے۔
جب یہ اپنے اصل سیارے پر تھا تو وہاں اسے کھانا پکانے کا جھنجٹ نہیں اٹھانا پڑتا تھا بلکہ ہر چیز کو ڈائریکٹ غذا کیلیئے استعمال کرتا تھا۔
مزید یہ اکیلا دو پاؤں پر چلنے والا ھے جو اس کے یہاں پر ایلین ھونے کی نشانی ھے۔

*نمبر 8:
انسان کو زمین پر رہنے کیلیے بہت نرم و گداز بستر کی ضرورت ھوتی ھے جبکہ زمین کے اصل باسیوں یعنی جانوروں کو اس طرح نرم بستر کی ضرورت نہیں ھوتی۔ یہ اس چیز کی علامت ھے کہ انسان کے اصل سیارے پر سونے اور آرام کرنے کی جگہ انتہائی نرم و نازک تھی جو اس کے جسم کی نازکی کے مطابق تھی۔

*نمبر 9:
انسان زمین کے سب باسیوں سے بالکل الگ ھے لہذا یہ یہاں پر کسی بھی جانور (بندر یا چمپینزی وغیرہ) کی ارتقائی شکل نہیں ھے بلکہ اسے کسی اور سیارے سے زمین پر کوئی اور مخلوق لا کر پھینک گئی ھے۔

نمبر 10:
انسان کو جس اصل سیارے پر تخلیق کیا گیا تھا وہاں زمین جیسا گندا ماحول نہیں تھا، اس کی نرم و نازک جلد جو زمین کے سورج کی دھوپ میں جھلس کر سیاہ ہوجاتی ہے اس کے پیدائشی سیارے کے مطابق بالکل مناسب بنائی گئی تھی ۔ یہ اتنا نازک مزاج تھا کہ زمین پر آنے کے بعد بھی اپنی نازک مزاجی کے مطابق ماحول پیدا کرنے کی کوششوں میں رھتا ھے۔ جس طرح اسے اپنے سیارے پر آرام دہ اور پرتعیش بستر پر سونے کی عادت تھی وہ زمین پر آنے کے بعد بھی اسی کے لئے اب بھی کوشش کرتا ھے کہ زیادہ سے زیادہ آرام دہ زندگی گزار سکوں۔
جیسے خوبصورت قیمتی اور مضبوط محلات مکانات اسے وہاں اس کے ماں باپ کو میسر تھے وہ اب بھی انہی جیسے بنانے کی کوشش کرتا ہے۔ جبکہ باقی سب جانور اور مخلوقات اس سے بے نیاز ہیں۔

نمبر 11:
یہاں زمین کی مخلوقات عقل سے عاری اور تھرڈ کلاس زندگی کی عادی ہیں جن کو نہ اچھا سوچنے کی توفیق ہے نہ اچھا رہنے کی اور نہ ہی امن سکون سے رھنے کی۔ انسان ان مخلوقات کو دیکھ دیکھ کر خونخوار ہوگیا۔ جبکہ اس کی اصلیت محبت فنون لطیفہ اور امن و سکون کی زندگی تھی۔

ڈاکٹر ایلیس کا کہنا ہے کہ انسان کی عقل و شعور اور ترقی سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس ایلین کے والدین کو اپنے سیارے سے زمین پر آئے ہوئے کچھ زیادہ وقت نہیں گزرا، ابھی کچھ ہزار سال ہی گزرے ہیں یہ ابھی اپنی زندگی کو اپنے پرانے سیارے کی طرح لگژری بنانے کے لئے بھرپور کوشش کر رہا ہے، کبھی گاڑیاں ایجاد کرتا ہے، کبھی موبائل فون اگر اسے آئے ہوئے چند لاکھ سال بھی گزرے ہوتے تو یہ جو آج ایجادات نظر آ رہی ہیں یہ ہزاروں سال پہلے وجود میں آ چکی ہوتیں، کیونکہ میں اور تم اتنے گئے گزرے نہیں کہ لاکھوں سال تک جانوروں کی طرح بیچارگی اور ترس کی زندگی گزارتے رہتے۔

ڈاکٹر ایلیس سِلور کی کتاب میں اس حوالے سے بہت کچھ ہے اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ اس کے دلائل کو ابھی تک کوئی جھوٹا نہیں ثابت کر سکا۔

میں اس کے سائنسی دلائل اور مفروضوں پر غور کر رہا تھا کہ یہ کہانی ایک سائنسدان بیان کر رہا ھے یہ کوئی کہانی نہیں بلکہ حقیقی داستان ہے جسے انسانوں کی ہر الہامی کتاب میں بالکل اسی طرح بیان کیا گیا ہے۔ میں اس پر اس لیے تفصیل نہیں لکھوں گا کیونکہ آپ سبھی اپنے باپ آدم ؑ اور اماں حوا ؑ کے قصے کو اچھی طرح جانتے ہیں۔
سائنس اللہ کی طرف چل پڑی ہے، سائنسدان وہ سب کہنے پر مجبور ھوگئے ہیں، جو انبیاء کرام اپنی نسلوں کو بتاتے رہے تھے۔

ارتقاء کے نظریات کا جنازہ اٹھ چکا ہے۔
اب انسانوں کی سوچ کی سمت درست ہو رہی ھے۔

یہ سیارہ ہمارا نہیں ہے۔

اللہ پاک نے اپنی عظیم کتاب قران حکیم میں بھی بار بار لاتعداد مرتبہ یہی بتا دیا کہ:
اے انسانوں یہ دنیا کی زندگی تمہاری آزمائش کی جگہ ہے۔ جہاں سے تم کو تمہارے اعمال کے مطابق سزا و جزا ملے گی....
منقول

 جب آپ پھل کھاتے ہیں تو بیجوں کو ردی کی ٹوکری میں نہ پھینکیں، انہیں خشک کریں، ایک تھیلے یا ڈبے میں ڈالیں اور اپنی گاڑی م...
22/06/2024


جب آپ پھل کھاتے ہیں تو بیجوں کو ردی کی ٹوکری میں نہ پھینکیں، انہیں خشک کریں، ایک تھیلے یا ڈبے میں ڈالیں اور اپنی گاڑی میں رکھ دیں۔
جب آپ سڑک پر ہوں تو انہیں کھڑکی سے باہر ان جگہوں پر پھینک دیں جہاں درخت نہیں ہیں۔ قدرت ان کا خیال رکھے گی۔ 🌱
تھائی لینڈ اور ملائیشیا جیسے ایشیائی اور بہت سے یورپی ممالک میں وہ برسوں سے اس پر عمل کر رہے ہیں اور اب ان کے پاس ہر جگہ پھل ہیں۔ یہ پھل انسانوں کے علاوہ جانور اور پرندے بھی کھائے گے۔🍐🍒🍑 🍐🍒🍑
تو آئیے ہم اپنے سرزمین پاکستان پر بیج پھینکیں، کوڑے دان میں نہیں۔ 🌳🇵🇰.

20/06/2024

مدین میں افسوسناک واقعہ ایک پنجابی سیاح نے مدین میں قران شریف کو جلا دیا، پولیس نے اپنے حراست میں لیا ہیں لیکن مدین کا مقامی لوگوں میں شدید غم و غصہ اور مدین پولیس سٹیشن کے باہر ہزاروں کے تعداد میں لوگ جمع ہوۓ ہیں اور پولیس سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ہمارے حوالے کریں لیکن پولیس کے انکار پر مقامی لوگوں اور پولیس کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا جس میں ایک رہائشی شدید زخمی ہوا اور مدین ہسپتال منتقل کردیا۔۔ مقامی لوگوں نے مدین پولیس سٹیشن کو اگ لگا دیا اور تھانہ کو جلا دیا۔۔۔
لوگوں نے تھانہ کو جلا کر اندر داخل ہوۓ اور منحوس کو گولی مار کر ھلاک کردیا اور زمین پر گھسیٹ کر مدین اڈہ کو لی جایا، اور وہاں لٹکایا۔۔

Address

Shangla

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Ziddii photography posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Ziddii photography:

Share