15/05/2020
"اذیت"
تب ملتی ہے جب اللہ ہم سے ناراض ہوجاتا ہے..
اللہ کا ناراض ہونا پتہ ہے کیسا ہے؟
بلکل ایسے جیسے گلاب کے پھول سے اسکی خوشبو چھن جائے..
جیسے کسی خوبصورت منظر سے اسکی خوبصورتی..
جیسے خزاں کے موسم میں سبھی پتے جھڑ جائیں..
جب نمازیں "خشوع" سے خالی ہو جائیں..
جب دل "قرآن" میں نہ لگے..
جب سجدوں کی "توفیق" چھن جائے..
جب لبوں سے اللہ کا "ذکر" مٹ جائے..
جب ضمیر ملامت کرنا "چھوڑ" جائے..
جب اللہ سے محبت میں آنکھ سے آنسو بہنا ختم ہو جائیں..
جب مایوسی تمھارے پہلو میں بسیرا کرلے..
جب نمازیں"قضا" ہونے لگ جائیں..
جب تم دنیا کی "رنگینیوں" میں کھو جاؤ..
یہ اذیت اتنا درد دیتی ہے کہ خود کو نوچنے کا دل کرتا ہے..
اپنے ہر ایک گناہ کو یاد کر کے تڑپنے کا دل کرتا ہے..
اپنی کوتاہیوں پہ شرمندگی سی ہونے لگتی ہے..
ان گناہوں کے بوجھ سے نکلنے کا دل کرتا ہے..
وقت کے پہیے کو گھما کے سب مٹانے کا دل کرتا ہے..
لیکن نہیں..
اذیت بھی ایک آزمائش ہوتی ہے..
اور کتنا اچھا ہے کہ ہمیں معلوم ہوجائے کہ اللہ ہم سے ناراض ہے..
اور ہمیں وقت مل رہا ہو کہ اسے منا لیں ہم..
ہاں یہی وقت ہے.. ابھی موت تک وقت ہے..
منا لو اپنے اللہ کو.اللہ
نے پیارے بندوں کے ذریعے ہمیں بتاتا ہے..
کہ..
میں" رحیم" ہوں.." کریم" ہوں..
"تمھاری شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہوں.."
"تم میری طرف آنے کے لیے ایک قدم تو بڑھاؤ، میں تمھاری طرف دو قدم بڑھاؤں گا.. "
سب جانتے ہوئے بھی میں کیوں لاچار ہوں..
کیوں اس سے دور ہوں..
بہت مجبور ہوں..
"یا اللہ! یا ربیّ! یا رحیم! یا کریم! "
"یا مؤخر یا آخر! یا ذلجلالِ و الکرام!"
" یا حی یا قیوم!"
میرے دل کو" شفایابی" عطا کر..
میرے دل کو" سکون" عطا کر..
میرے گناہوں کو" بخش" دے..
میری زبان کو اپنے "ذکر" سے تر کر دے..
میری آنکھوں کو "نور" دے..
میرے ہونٹوں کو" سرور" دے..
" يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِى عَلَى دِينِكَ..! "
اے دلوں کو پھیرنے والے میرے دل کو اپنے دین پر جما دے.. "
میرے سجدوں کو "ھو" دے..
میری نمازوں کو "خشوع" دے..
مجھے" ہدایت" دے..
مجھے "الصراط المستقیم" پہ چلنے کی توفیق عطا کر..
آمین یا رب العالمین