30/12/2023
دسمبر ٹھہر جاؤ نا
ابھی لمحے نہیں بکھرے
ابھی موسم نہیں بچھڑے
میرے کمرے کی ٹھنڈک میں
ابھی کچھ دھوپ باقی ہے
میرے آنگن کے سب پودے
ابھی بھی گنگناتے ہیں
میری ڈائری کے کچھ صفحے
ابھی کچھ کہہ نہیں پائے
میرے بے چین اونٹوں پر
ابھی مسکان ویسی ہے
کسی کے لوٹ آنے کا
ابھی امکان باقی ہے
دسمبر بات اک سن لو
سنو تم مان جاؤ نا
کہ جب تک وہ نہیں آتا
دسمبر تم نہ جاؤ نا