23/10/2026
گوادر شہر میں ہونے والے حملوں کے پیچھے ایرانی پاسداران انقلاب ہے جو پاکستان کو پریشر میں لانے کی کوشش کر رہی ہے کہ وہ یمنی حوثی ملیشیا کیخلاف کارروائی نہ کریں۔ پاکستان کے بارڈر بند ہوتے ہی پاسداران انقلاب کی پناہ میں رہنے والے ڈاکٹر اللّٰہ نذر بلوچ کی کالعدم تنظیم بلوچستان لبریشن فرنٹ ایکٹیو ہوگئی ہے۔ اور انھوں نے آپریشن الماس کا اعلان کیا۔ بی ایل ایف نے آپریشن کے اعلان کیساتھ گوادر شہر میں تین جگہوں پر حملے کیے اور کئی مقامات پر سیکیورٹی فورسز کیساتھ جھڑپیں کیں۔ ان جھڑپوں میں ایک انٹیلی جنس کیمپ اور کیمپ صوب جند نادر (Camp Soub Jand Nadar) شامل تھے۔ پاک ایران بارڈر پر بی ایل ایف اور پاکستان کی سیکیورٹی فورسز کے درمیان بھی جھڑپیں ہوئیں۔ گوادر میں تینوں مقامات پر بی ایل ایف (BLF) کے حملے ناکام ہوئے اور سیکیورٹی فورسز نے ان حملوں کو پسپا کیا بارڈر کراسنگ گیٹ 250 کے ساتھ ساتھ آپریشن الماس کے دوران نشانہ بننے والے دو فوجی کمپاؤنڈز پر دوبارہ کنٹرول حاصل واپس لیا۔
بلوچ راجی آجوئی سانگرBaluch Raji Ajohi Sangar (BRAS) (بلوچ نیشنل فریڈم موومنٹ) اتحاد ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ نے بنایا تھا۔اس میں نے بلوچستان ریپبلکن آرمی، بلوچستان لبریشن آرمی اور بلوچستان لبریشن فرنٹ شامل ہوئے تھے۔ نومبر 2018 میں مجید بریگیڈ کے اسلم بلوچ (عرف اچو) نے بی ایل اے اور بی ایل ایف کو اتحادی بنایا تھا۔ جون 2019 میں براس اتحاد قائم ہوگیا۔ یہ اتحاد اب بھی موجود ہے۔ اُس وقت BLA کے بشیر زیب، (BRA) کے گلزار امام اور بی ایل ایف (BLF) کے اختر ندیم اس اتحاد کی قیادت کر رہے تھے۔2022 میں بلوچ ری پبلکن آرمی اور یونائیٹڈ بلوچ آرمی کے اتحاد سے بلوچ نیشنلسٹ آرمی (بی این اے) قائم ہوئی تو اس کی سربراہی گلزار امام کو ملی اپریل 2023 میں پاکستانی ایجنسی نے ایران سے ترکیہ پہنچنے پر گرفتار کیا تھا۔ اختر ندیم عرف گہرام بلوچ کو جون 2026 میں جیمز ٹاؤن فاؤنڈیشن نے بی ایل ایف کا ترجمان قرار دیا لیکن کچھ رپورٹس میں 2016 میں مارا گیا۔ زندہ اور مارے جانے والے کی شکل مختلف ہے اس وجہ سے یہ تضاد شخصیت ہے۔
یہ بلوچ اتحاد ہیں۔لیکن یہ ایرانی سیستان و بلوچستان کی بلوچ تنظیم جیش العدل کیخلاف بھی لڑتے ہیں۔اور کئی بار جھڑپیں ہوچکی ہیں۔ ایرانی بلوچوں کیخلاف لڑنے کی وجہ صرف یہی ہے کہ وہ پاسداران انقلاب کیخلاف ایکٹیو ہوتے ہیں۔ یہ پاکستان سے الگ ملک چاہتے ہیں لیکن ان بلوچوں کیخلاف ایران سے الگ ہونے پر پاسداران انقلاب کو سپورٹ کرتے ہیں۔ جیش العدم سنی تنظیم ہے اس کا جھکاؤ پاکستان کی طرف رہتا ہے۔ مگر ابھی وہ سیستان و بلوچستان کے علاقوں میں فعال نہیں ہوئی پاسداران انقلاب کیخلاف پیپلز فرنٹ لڑ رہی ہے۔ بی ایل اے (BLA) اور بی ایل ایف (BLF) کو ایرانی حمایت کئی عرصے سے حاصل ہے۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز کی 2019 کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ڈاکٹر اللہ نذر نے سکیورٹی آپریشن میں زخمی ہونے کے بعد ایران میں پناہ لی تھی۔25 مئی 2026 کی سینٹر فار اسٹریٹجک اینڈ کنٹیمپریری ریسرچ کی رپورٹ کے مطابق ایران میں کالعدم تنظیموں کو محفوظ ٹھکانے ملے ہوئے ہیں اور ایرانی سکیورٹی اداروں کا مکمل تعاون حاصل ہے۔ 2025 اور 2024 میں بی ایل ایف کے سربراہ ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ کے ایران سے بیانات آچکے ہیں۔
ایران اپنا انٹرسٹ گین کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اُس میں اپنی جیو پولیٹیکل لوکیشن کو ویپن کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔ پاکستان کے پاس یہ انٹیلیجنس پہلے سے موجود تھیں۔ بی ایل ایف کو ملٹری سپورٹ مل رہی ہے۔ بی ایل اے اور اسکا ذیلی گروپ مجید بریگیڈ پہلے کارروائیاں کر رہے تھے۔ جیسے پاکستان اور ایران کے تعلقات سرد مہری کا شکار ہوئے اور پاکستان کھل کر سعودی عرب کی جانب بھڑنے لگا۔ ایران کی پناہ میں رہنے والی کالعدم تنظیم ایکٹیو ہوگئی۔ یہ اتحاد کے ہوتے ہوئے بھی پہلے فعال نہیں تھی۔ بارڈر بند ہوا سپلائی لائن کٹ گئی۔ ایران نے خبردار بھی کہ بارڈر کھول دیا جائے اگر ایک دن میں نہیں کھولا جاتا تو ایران بھی بارڈر بند کر دے گا۔ لیکن اس بارڈر پر اچانک بی ایل ایف کے اٹیک شروع ہوگئے۔
تحریر:فرحان ملک