AbuBakar Khan Zada

AbuBakar Khan Zada السلام علیکم! میرے پیارے دوستوں ٠٠٠
آپ دوستوں سے گزارس ہیں کے میرے پیج کو لایک اور فالو کریں٠٠٠
شکریہ٠٠٠ ،

آج سال کا آخری دن ہے۔۔جو گزر گیا، وہ ہمیں سکھا گیا۔جو باقی رہ گیا، وہ ہماری طاقت بن گیا۔اور جو آ رہا ہے، اُس کے لیے ہم د...
31/12/2025

آج سال کا آخری دن ہے۔۔
جو گزر گیا، وہ ہمیں سکھا گیا۔
جو باقی رہ گیا، وہ ہماری طاقت بن گیا۔
اور جو آ رہا ہے، اُس کے لیے ہم دعا کر سکتے ہیں۔

2026 کے لیے میری دعا بس اتنا ہے:
دلوں میں سکون ہو،
سوچ میں برداشت ہو،
اور انسان، انسان کے لیے نرم ہو۔۔

آمین 🤲🏻

مشکل وقت انسان کو نہیں توڑتا بلکہ اس کی اصل طاقت کو ظاہر کرتا ہے۔
31/12/2025

مشکل وقت انسان کو نہیں توڑتا بلکہ اس کی اصل طاقت کو ظاہر کرتا ہے۔

ایک ارب روپے کتنے ہوتے ہیں۔۔۔؟؟؟پہلی مثال:اگر کسی کو ایک ارب روپے، ایک ایک روپیہ  کی شکل میں دیئے جائیں اور کہا جائے کہ ...
28/12/2025

ایک ارب روپے کتنے ہوتے ہیں۔۔۔؟؟؟
پہلی مثال:
اگر کسی کو ایک ارب روپے، ایک ایک روپیہ کی شکل میں دیئے جائیں اور کہا جائے کہ انہیں گنو۔۔۔
اور وہ شخص بغیر کسی وقفے کے دن رات بغیر کھائے، پیے، سوئے۔۔۔ گننا شروع کرے۔۔۔ اور فی سیکنڈ ایک روپیہ گنے۔۔۔تو یہ رقم گنتے گنتے تقریباً 32 سال لگ جائیں گے۔۔۔😮😮

دوسری مثال:
فرض کیجیے۔۔۔ایک شخص یکم جنوری سن ایک عیسوی کو پیدا ہوا اور اس نے روزانہ ایک ہزار (1000) روپے خرچ کرنا شروع کیے تو وہ تقریباً 2740 سال تک روزانہ یہ رقم خرچ کر سکتا ہے۔۔۔۔۔
یعنی سن ایک عیسوی سے لیکر 31 دسمبر 2019 تک اس نے 726,840,000 روپے خرچ کیے۔۔۔
اور بقیہ رقم سے مزید 721 سال تک روزانہ ایک ہزار کے اخراجات کر سکتا ہے۔۔۔۔😲😲😲

اب تیسری مثال لیجیے۔۔۔۔
فرض کیجیے ایک 10 سال کی عمر کے بچے کے اکاونٹ میں ایک ارب روپے جمع کروا دیے جائیں۔۔۔
اور وہ بچہ روزانہ تیس ہزار روپے (30,000) روپے اکاونٹ سے نکلوا کر کھائے پیے، کھلونے خریدے، رشتہ داروں میں بانٹے یا ان نوٹوں سے چڑیاں طوطے بنا کر اڑا دے۔۔۔
پھر دوسرے دن تیس ہزار نکلوائے اور دل کھول کر خرچ کرے۔۔۔ اور پھر تیسرے۔۔۔ چوتھے۔۔۔ اسی طرح روزانہ تیس ہزار روپے خرچ کرنے کا عمل مسلسل جاری رکھے۔

حتی کہ جوان ہو، ادھیڑ عمری اور پھر بڑھاپے تک پہنچ جائے۔۔۔ اور پھر 100 سال کی عمر تک پہنچ کر دنیا سے رخصت ہوجائے۔
تب بھی اس کے اکاونٹ میں تقریباً، ڈیڑھ کروڑ روپے باقی بچ رہیں گے۔۔۔😲😲😲😲

اور اب ایک موٹی سی مثال حاضر ہے۔۔۔
ایک بندہ پیدا ہونے کے دن سے لے 55 سال تک روزانہ 50,000 روپے خرچ کرے تب بھی ایک ارب روپے میں سے ایک کروڑ روپے باقی بچ ہی جائیں گے۔
50,000x30x12x55= 99,00,00,000 ننانوے کروڑ
باقی۔۔۔ 1,00,00,000 ایک کروڑ روپے۔

سمجھ میں آئی کوئی بات ؟؟؟
ذرا نہیں پورا سوچیے۔۔۔
یہ تو صرف ایک ارب روپے کی بات تھی۔۔۔

اب پاکستان میں کئی سو اربوں روپے کی کرپشن کرنے والوں کے بارے میں آپ خود سوچ لیں۔۔۔

ہے نا حیرانی اور پریشانی والی بات۔۔۔ کیا یہ اتنے روپے کفن میں ڈال کر قبروں میں ساتھ لے جائیں گے؟؟؟
غیر سیاسی پوسٹ.

رابعہ بصری اپنے والدین کی چوتھی بیٹی تھیں، اسی لیے آپ کا نام رابعہ یعنی ”چوتھی“ رکھا گیا۔ وہ ایک انتہائی غریب لیکن معزز ...
27/12/2025

رابعہ بصری اپنے والدین کی چوتھی بیٹی تھیں، اسی لیے آپ کا نام رابعہ یعنی ”چوتھی“ رکھا گیا۔ وہ ایک انتہائی غریب لیکن معزز گھرانے میں پیدا ہوئیں۔

رابعہ بصری کے والدین کی غربت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جس شب رابعہ بصری پیدا ہوئیں، آپ کے والدین کے پاس دیا جلانے کے لیے تیل تھا اور نہ آپ کو لپیٹنے کے لیے کوئی کپڑا۔

آپ کی والدہ نے آپ کے والد سے درخواست کی کہ پڑوسیوں سے تھوڑا تیل ہی لے آئیں تاکہ دیا جلایا جا سکے۔ آپ کے والد نے پوری زندگی اپنے خالقِ حقیقی کے علاوہ کسی کے آگے ہاتھ نہ پھیلایا تھا، چنانچہ وہ پڑوسی کے دروازے تک تو گئے لیکن خالی ہاتھ واپس لوٹ آئے۔

رات کو رابعہ بصری کے والد کو خواب میں حضور پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زیارت ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رابعہ کے والد کو بشارت دی کہ:

" تمہاری نومولود بیٹی خدا کی برگزیدہ بندی بنے گی اور مسلمانوں کو صحیح راہ پر لے کر آئے گی۔ تم امیرِ بصرہ کے پاس جاؤ اور اسے ہمارا پیغام دو کہ تم (امیرِ بصرہ) ہر روز رات کو سو (100) مرتبہ اور جمعرات کو چار سو (400) مرتبہ درود کا نذرانہ بھیجتے ہو، لیکن پچھلی جمعرات کو تم نے درودشریف نہ پڑھا،
لہٰذا اس کے کفارہ کے طور پر چار سو (400) دینار بطور کفارہ یہ پیغام پہنچانے والے کو دے دو "۔

رابعہ بصری کے والد اٹھے اور امیرِ بصرہ کے پاس پہنچے۔ اس دوران آپ کی آنکھوں سے خوشی کے آنسو جاری تھے۔

جب امیرِ بصرہ کو رابعہ بصری کے والد کے ذریعے حضور پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا یہ پیغام ملا تو وہ یہ جان کر انتہائی خوش ہوا
کہ وہ نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نظروں میں ہے۔

اس نے شکرانے کے طورپر فوراً ایک ہزار (1000) دینار غرباء میں تقسیم کرائے اور چار سو (400) دینار رابعہ بصری کے والد کو ادا کیے اور ان سے درخواست کی کہ جب بھی کسی چیز کی ضرورت ہو بلاجھجھک تشریف لائیں۔

کچھ عرصے بعد رابعہ بصری کے والد انتقال کر گئے۔

اس اثناء میں بصرہ کو سخت قحط نے اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

قحط کے دوران آپ (رابعہ بصری) اپنی بہنوں سے بچھڑ گئیں۔ رابعہ بصری ایک قافلے میں جا رہی تھیں کہ قافلے کو ڈاکوؤں نے لوٹ لیا اور ڈاکوؤں کے سرغنہ نے رابعہ بصری کو اپنی تحویل میں لے لیا اور آپ کو لوٹ کے مال کی طرح بازار میں لونڈی بنا کر بیچ دیا۔

آپ کا آقا آپ سے انتہائی سخت محنت و مشقت کا کام لیتا تھا۔ اس کے باوجود آپ دن بھر کام کرتیں اور رات بھر عبادت کرتی رہتیں اور دن میں بھی زیادہ تر روزے رکھتیں۔

اتفاقاً ایک دفعہ رابعہ بصری کا آقا آدھی رات کو جاگ گیا اور کسی کی گریہ و زاری کی آواز سن کر دیکھنے چلا کہ رات کے اس پہر کون اس طرح گریہ و زاری کر رہا ہے

وہ یہ دیکھ کرحیران رہ گیا کہ رابعہ بصری اللہ کے حضور سر بسجود ہیں اور نہایت عاجزی کے ساتھ کہہ رہی ہیں:

" اے اللہ ! تو میری مجبوریوں سے خوب واقف ہے۔ گھر کا کام کاج مجھے تیری طرف آنے سے روکتا ہے۔ تو مجھے اپنی عبادت کے لیے پکارتا ہے مگر میں جب تک تیری بارگاہ میں حاضر ہوتی ہوں، نمازوں کا وقت گزر جاتا ہے۔ اس لیے میری معذرت قبول فرما لے اورمیرے گناہوں کو معاف کر دے۔ "

اپنی کنیز کا یہ کلام اور عبادت کا یہ منظر دیکھ کر رابعہ بصری کا مالک خوفِ خدا سے لرز گیا۔

اس نے یہ فیصلہ کیا کہ ایسی اللہ والی کنیز سے اپنی خدمت کرانے کی بجائے بہتر یہ ہوگا کہ خود اس کی خدمت کی جائے۔

صبح ہوتے ہی وہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اپنے فیصلے سے آپ کو آگاہ کیا۔ اس نے کہا کہ آج سے آپ میری طرف سے آزاد ہیں۔ اگر آپ اسی گھر میں قیام کریں تو میری خوش نصیبی ہو گی وگرنہ آپ اپنی مرضی کی مالک ہیں، تاہم اگر آپ یہاں سے کوچ کر جانے کا فیصلہ کرتی ہیں تو میری بس ایک درخواست ہے کہ میری طرف سے کی جانے والی تمام زیادتیوں کو اس ذات کے صدقے معاف کر دیں، جس کی آپ راتوں کو جاگ جاگ کر عبادت کرتی ہیں۔
سبحان الله🌹🌹🌹
سير أعلام النبلاء: ترجمة رابعة العدوية (7/ 273، 274)، رقم الترجمة (1223)، ط. دار الحديث- القاهرةالطبعة: 1427هـ-2006قراةالعینای

اسکول خالی تھا…گھنٹی بجنا بند ہو چکی تھی…ایک چھوٹی بچی اکیلی بیٹھی تھی۔نہ کوئی استاد، نہ کوئی گھر والا۔بس وہ… اور ایک اف...
02/09/2025

اسکول خالی تھا…
گھنٹی بجنا بند ہو چکی تھی…
ایک چھوٹی بچی اکیلی بیٹھی تھی۔
نہ کوئی استاد، نہ کوئی گھر والا۔
بس وہ… اور ایک افسر جو وہاں سے گزر رہا تھا۔
وہ چاہتا تو آگے بڑھ جاتا، مگر رکا۔
ایک خاموش ڈھال بن کر اس کے ساتھ کھڑا رہا،
جب تک کہ اسے یقین نہ ہو گیا کہ بچی محفوظ ہے۔
"ہیرو وہ نہیں جو طاقت دکھائے… بلکہ وہ ہے جو خاموشی سے کسی کے لیے ڈھال بن جائے۔
دنیا بری خبروں سے بھری ہوئی ہے
لیکن ایسے عمل ہی اصل سرخیوں کے لائق ہیں۔
ہیرو یونیفارم نہیں… دل بناتا ہے۔ 💫⭐️🌟

اصل میں انسان کی نیت اور کردار تو اپنی جگہ روشن ہوتے ہیں، لیکن اگر انہیں پیش کرنے والا جھوٹ، حسد یا بددیانتی کا آئینہ ہو...
31/08/2025

اصل میں انسان کی نیت اور کردار تو اپنی جگہ روشن ہوتے ہیں، لیکن اگر انہیں پیش کرنے والا جھوٹ، حسد یا بددیانتی کا آئینہ ہو تو وہی روشنی دھندلی اور بگڑی ہوئی نظر آتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سنی سنائی باتیں اکثر حقیقت کا عکس نہیں ہوتیں بلکہ اس شخص کے دل کی کیفیت اور نیت کا پرتو ہوتی ہیں جو وہ بات آگے بڑھا رہا ہوتا ہے۔

اسی لیے سمجھدار لوگ ہمیشہ بات کے دونوں پہلو دیکھتے ہیں، اور سچ کو پرکھنے کے لیے صاف آئینے یعنی دیانت دار گواہی کی تلاش کرتے ہیں۔ ورنہ حقیقت بگڑ کر فریب لگنے لگتی ہے۔ ✨

" Abu Bakar Khan Zada ,,

29/08/2025
اپنی ٹوٹی ہوئی ٹانگ پر چلیں اور کسی کے کندھے پر اپنے ہاتھ کا نشان مت چھوڑیں ۔
25/08/2025

اپنی ٹوٹی ہوئی ٹانگ پر چلیں اور کسی کے کندھے پر اپنے ہاتھ کا نشان مت چھوڑیں ۔

Address

Rawalpindi

Opening Hours

Monday 08:00 - 16:00
Tuesday 08:00 - 16:00
Wednesday 08:00 - 16:00
Thursday 08:00 - 16:00
Saturday 08:00 - 16:00
Sunday 08:00 - 16:00

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when AbuBakar Khan Zada posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category