12/07/2025
گنگا چوٹی فطرت نے اپنے آپ کو خود ہی بحال کردیا
تحریر :امیرالدین مغل
آزادکشمیر کے ضلع باغ کے سیاحتی علاقہ گنگا شوٹی میں صدیوں سے ایک پانی کا تالاب وآقع تھا جہان سے موسم گرما میں لوگون لے پالتو مویشی اور جنگلی جانور پانی پیتے تھے اور اس تالاب کا پانی زیر ًزمین پانی کی سطح کو بلند رکھتا تھا جس کی وجہ سے پہاڑی کے دامن میں واقع چشمے بھی رواں دواں ریتے تھے
گنگا چوٹی جب سے سیاحوں کی توجہ کا مرکز بنی تب سے ہر چیز سے پیسے کمانے والی مخلوق جو کہ قدرتی ماحول کی اہمیت سے نا بلد ہے بلکہ قدرتی ماحول کی دشمن ہے نےاس تالاب پر ڈوزر چلا دیئے اور اس کو میدان بنا دیا جہاں گاڑیاں پارک ہونے لگی جھولے لگ گئے تالاب کا نام و نشان مٹ گیا
حالیہ بارشوں نے اس جگہ کو ایک مرتبہ پھر پانی سے بھرکر جھیل مین بدل دیا دیکھ کر لگتا ہے کہ فطرت نے خود ہی اپنے آپ کو اصل روپ میں بحال کر دیا ہے پانی سے بھرے تالاب کو دیکھ کر ہر وہ انسان خوش ہے جو قدرتی ماحول سے محبت رکھتا ہے،
اب سول سوسائٹی کو چاہتے کہ وہ حکومتی اداروں کو مجبور کرے کہ اس تالاب کو بند کو مزید مضبوط کرے تاکہ مزید پانی جمع ہو سکے
گنگا چوٹی میں کنٹرولڈ ٹورازم کیا جائے ماہرین کی مشاورت سے یہ طے کرے کہ یہاں روز کتنی گاڑیاں آسکتی ہیں اور گاڑیوں کیلئے گرین بلٹ سے الگ پتھریلی بنجر زمین ہر پارکنگ کا اہتمام کرے سبزے پر گاڑیاں چلانے پر مکمل پابندی عائد کیجا ئے گنگا چوٹے کو کھود کر نئی سڑکیں راستے بنانے پر اور جابجا خیمےلگانے کچرا پھیلانے پر پابندی عائد کرے خلاف،ورزی کرنے والوں پر سنگین جرمانہ اور سزا دی جائے
سدھن گلی سے گنگا چوٹے تک ٹریکنگ کیلئے ٹریک بحال کرے جو پہلے سے موجود ہے تاکہ لوگ ٹریکنگ کرکے گنگا چوٹی تک جائیں جس سے آلودگی کم کرنے میں مدد ملے گی
میری باتیں شائد کچھ لوگوں کو دیوانےکا خواب لگتی ہوں لیکن پڑھے لکھے معاشروں اپنے قدرتی ماحول اور سیاحتی علْاقوں کے تحفظ کیلئے،ایسا ہی کیا جاتا ہے
اگر ایسا نا کیا گیا تو جلد گنگا چوٹی ننگا چوٹی میں بدل جائے گی جہاں پہاڑ تو ہوگا لیکن ننگا ہوگا کیوں کہ اسکا قدرتی لباس کو گدھ نوچ کر چوٹی کو برہنہ کر دیِں گے۔