15/12/2022
محبت کی ایک سچی کہانی ..........!
یہ ایک ایسی لڑکی کی کہانی ہے جس کو اللہ کی بنائی ہوئی سب مخلوق سے پیار ہوتا ہے، چاہے وہ انسان ہوں، پرندے یا جانور،
اس لڑکی کا نام بیا ھے اس کی زندگی کا مقصد لوگوں کی خدمت کرنا ہے دوسروں کی مدد کرنے سے اس کو خوشی ملتی ہے۔
بیا نے اپنے گھر میں ایک طوطا پال رکھا ہوتا ہے جس کا نام اس نے ڈوڈو رکھا، ڈوڈو سے بیا کو بہت محبت تھی ہر طرح سے اُس کا خیال رکھنا وقت پر ڈوڈو کو کھانا کھلانا اُس کے آرام کا خیال رکھنا ۔
ڈوڈو ہر لحاظ سے بیا کے گھر خوش تھا مزے میں رہتا تھا باتیں بھی کرتا تھا سب گھر والوں کا دل بہلاتا تھا, آزادی کے ساتھ گھومتا پھرتا تھا ویسے تو کسی قسم کی کوئی پابندی اُس پر لاگو نہیں تھی البتہ اُس کی حفاظت کےلیے رات کو اُس کو اپنے پنجرے میں جانا پڑتا تھا تا کہ کوئی بلی اُس پر حملا نہ کر سکیں یا پھر جب بیا گھر نہ ہو تو بھی اس کو پنجرے میں رہنا پڑتا۔
پھر ایک دن یوں ہوا کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ـــــ بیا کے دل میں ایک خیال پیدا ہوا
بیا نے سوچا کہ آزادی کتنی بڑی نعمت ھے اللہ کی اللہ پاک نے سب کو آزاد پیدا کیا اور آزادی ہر جاندار کا حق ہے پھر یہ پرندہ کیو قید ہے ؟
حالہ کہ اگر دیکھا جاۓ تو ڈوڈو آزادی سے گھومتا پھرتا تھا لیکن پھر بھی ایک انسان کی قید میں تھا کیونکہ اُس کی آزادی ایک گھر تک ہی محدود تھی اُس لمٹ سے وہ باہر نہیں جا سکتا تھا اور یہی بات بیا کے دل میں آئی کے یہ قید ہی تو ہے ڈوڈو کے لیے تو کیونہ اس کو آزاد کر دیا جاۓ، ہم لوگ بھی تو اپنی آزادی کا دن مناتے ہیں اور خوش ہوتے ہیں تو ڈوڈو کو بھی آزاد کر کے اس کو آزادی کا تحفہ دیا جاۓ تا کہ اپنی مر ضی سے یہ بھی اپنی زندگی جی سکے۔
تو ایک دن بیا نے اپنے ڈوڈو کو جس سے بیا کو بے حد محبت تھی اُس کی خوشی کے لیے اُس پرندے کو آزاد کر دیا
بیا کو ڈوڈو کی آزادی پر بے حد خوشی ہوئی لیکن جب بیا کے دوست احباب کو پتہ چلا کے بیا نے اپنے سب سے پیارے پرندے کو اڑا دیا تو سب کو بہت حیرت ہوئی سب نے بیا سے پوچھا کہ تم نے ایسا کیوں کیا ؟ کسی نے بہت دکھ کا اظہار کیا اور کسی نے خوشی کا، ہر انسان کا مختلف رد عمل تھا لیکن بیا کو اس بات کا کوئی دکھ نہیں بلکہ اس کو دل سے خوشی تھی، ایک سکون تھا،
یہ الگ بات ہے کہ بیا آج بھی چھپ چھپ کر ڈوڈو کی یاد میں روتی ھے آنسوں بہاتی ہے مگر اُس کے یہ آنسوں ڈوڈو کو آزاد کرنے کے لیے نہیں بلکہ یہ آنسوں ڈوڈو کی محبت میں بہتے ہیں، جب بھی کسی سے سچے دل سے محبت کی جاتی ہے تو اُس کی جدائی برداشت کرنا آسان نہیں ہوتا، محبت کھبی بھی بھلائی نہیں جا سکتی چاھے وہ کسی انسان سے کی جاۓ یا کسی پرندے سے محبت تو محبت ہوتی ھے یہ ایک جذبہ ہے جس کا کنکشن دل کے ساتھ ہوتا ہے۔
ڈوڈو کو آزاد ہوۓ آج بہت ٹائم گزر چکا ہے لیکن جو محبت بیا کو ڈوڈو سے تھی وہ آج بھی زندہ ھے، بیا کو آج بھی یہ خیال آتا ہے کہ ڈوڈو نے کھانا بھی کھایا ہوگا کہ نہیں، پانی پیا ہوگا کہ نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یقینن ڈوڈو کو بھی بیا کی یاد اسی طرح آتی ہوگی اور وہ بیا کے لیے بہت دعا کرتا ہوگا، کیونکہ آزادی سے بڑا کوئی تحفہ نہیں اور آزادی دینے والا بہت بڑا محسن ہوتا ہے اُس کو کھبی بھلایا نہیں جا سکتا
اس کہانی کا مورل یہ نکلتا ھے کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ محبت کے کئی انداز ہوتے ہیں کئی شکلیں ہوتی ہیں جن میں سے یہ بھی محبت کا ایک انداز ھے اس کی ایک شکل ہے .....
محبت یوں بھی ہوتی ھے،
کسی کو آزاد کرنے سے،
کسی پیاسے کو پانی پلانے سے،
کسی بھوکھے کو کھانا کھلانے سے،
کسی بے سہارے کو سہارا دینے سے،
محبت یوں بھی ہوتی ھے ............!