03/09/2026
آج زیارت کی سرزمین نے FC کے 16 جوانوں کو وطن پر قربان ہوتے دیکھا۔
نہ کوئی احتجاج ہوا،
نہ سوشل میڈیا پر شور مچا،
نہ کسی نے موم بتیاں جلائیں،
نہ کسی نے یہ پوچھا کہ "یہ بھی تو کسی کے بچے تھے۔"
شاید وردی پہننے والوں کے بچے، بچے نہیں ہوتے…
شاید ان کے ماں باپ کا دکھ، دکھ نہیں ہوتا۔
شاید شہید ہونے والے جوان Children of a Lesser God ہوتے ہیں۔
لیکن ذرا اُن گھروں کا تصور کیجیے جہاں آج دروازے پر دستک کا انتظار ختم ہو گیا ہے۔
جہاں ایک ماں کا بیٹا واپس نہیں آئے گا،
ایک باپ کا سہارا چھن گیا،
ایک بہن کا بھائی ہمیشہ کے لیے خاموش ہوگیا،
اور کسی بچے کا "ابو کب آئیں گے؟" ہمیشہ کے لیے بے جواب رہ گیا۔
یہ جوان بھی خواب رکھتے تھے۔
یہ بھی زندگی سے محبت کرتے تھے۔
کسی کا دوست تھے، کسی کے بھائی، کسی کے شوہر، کسی کے بیٹے۔
مگر انہوں نے وردی پہنی تو اپنی جان وطن کے نام لکھ دی۔
اور عجیب بات ہے…
کل تک جو لوگ کہتے تھے:
"پولیس اور لیویز ہی کیوں مرتی ہیں؟ FC کیوں نہیں مرتی؟"
آج FC کے 16 جنازے اٹھے ہیں۔
اب شاید سوال بدل جانا چاہیے:
کیا شہید کی وردی دیکھ کر اس کی قربانی کی قیمت بدل جاتی ہے؟
دہشت گردی کا شکار ہونے والا چاہے پولیس کا جوان ہو، لیویز کا سپاہی ہو یا FC کا جوان—
خون سب کا سرخ ہے،
ماؤں کا درد سب کا ایک ہے،
اور شہادت سب کی ایک جیسی عظیم ہے۔
مگر ان چراغوں کے پیچھے 16 خاندانوں کی زندگیاں ہمیشہ کے لیے بدل چکی ہیں۔
اے وطن کے محافظو!
ہم شاید تمہاری قربانی کا حق ادا نہ کر سکیں،
مگر تمہیں بھولیں گے نہیں۔
اللہ تعالیٰ تمام شہداء کے درجات بلند فرمائے،
ان کے اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل عطا فرمائے،
اور ہمارے وطن کو امن عطا فرمائے۔ آمین۔ 🇵🇰🖤
#زیارت #شہداء #پاکستان