Jamiat lawyers forum Balochistan

Jamiat lawyers forum Balochistan love is life

قائد جمعیت حضرت مولانا فضل الرحمٰن صاحب  چارسدہ امد حضرت مولانا محمد ادریس شہید کے تعزیتی اجتماع سے خطاب ان کی حالیہ تقر...
07/05/2026

قائد جمعیت حضرت مولانا فضل الرحمٰن صاحب چارسدہ امد حضرت مولانا محمد ادریس شہید کے تعزیتی اجتماع سے خطاب
ان کی حالیہ تقریر محض تعزیتی خطاب نہیں بلکہ تکفیر، شدت پسندی اور فکری انتشار کے خلاف ایک واضح فکری مؤقف تھی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اکابر علما کو اختلافِ رائے کی بنیاد پر مرتد قرار دینا نہ علمی دیانت ہے اور نہ دینی احتیاط۔ ان کے مطابق تکفیر کا دروازہ کھولنا امت کے اتحاد اور اجتماعی شعور کو تباہ کرنے کے مترادف ہے۔
مولانا صاحب نے واضح کیا کہ پاکستان کے مختلف مکاتبِ فکر کے علما اس بات پر متفق ہیں کہ ریاست کے اندر مسلح جدوجہد شرعاً ناجائز ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام کا اصل مزاج اعتدال، حکمت اور مکالمہ ہے، نہ کہ تشدد اور خونریزی۔ ان کا یہ اعلان کہ ہم اپنے ہاتھ کسی مسلمان کے خون سے نہیں رنگیں گے۔ دراصل امن، صبر اور فکری استقامت کا پیغام ہے۔
قائد جمعیت نے ریاست سے مطالبہ کیا کہ علما کے قاتلوں کو انجام تک پہنچایا جائے، کیونکہ یہ صرف قانونی نہیں بلکہ قومی و اخلاقی ذمہ داری بھی ہے۔ مجموعی طور پر تقریر کا مرکزی پیغام یہی تھا کہ انتہا پسندی کا مقابلہ بندوق سے نہیں بلکہ علم، دلیل، برداشت اور اجتماعی حکمت سے کیا جا سکتا ہے۔
#امیدکےدامن سے
#عطاءخروٹی

08/04/2026

ہمارے ملک کے 75 سالہ تاریخ میں ہر آنے والا حکمران پچھلے والے کو بخش دیتا ہے
مطلب آنے والا جانے والے سے زیادہ کرپٹ
واہ قائد واہ

30/01/2026

مولانا فضل الرحمٰن صاحب ان سیاستدانوں میں شمار ہوتے ہیں جنہیں بین الاقوامی سطح پر اسلامی اُمت کی نمائندگی کا اعزاز حاصل ہے۔ ان کی عالمی مصروفیات اور دوروں کے شیڈول کئی کئی ماہ پہلے ترتیب پاتے ہیں، جو ان کے سیاسی وقار اور فکری وزن کا واضح ثبوت ہیں۔
بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں کچھ سطحی سوچ کے حامل افراد ایسے بھی ہیں جو خود ان کے قد و قامت تک پہنچنے کی صلاحیت نہیں رکھتے، مگر سستی شہرت کے حصول کے لیے ان کی ذات کو نشانہ بناتے ہیں۔ ایسے طرزِ عمل کے لوگ اختلافِ رائے کے نام پر کردار کشی کو رواج دیتے ہیں، اور یوں معاشرے کے چہرے پر ایک بدنما داغ بن جاتے ہیں۔
#امیدکےدامن سے
#عطاءخروٹی

23/12/2025

آج کی تحریر
سیاسی مریضوں کا علاج اب پاکستان میں ممکن ہے
ماہر امراض سیاست و آئین
ڈاکٹر مولانا فضل الرحمن صاحب
پاکستان کی سیاست آج جس کیفیت سے گزر رہی ہے، اسے اگر ایک لفظ میں بیان کیا جائے تو وہ “عدم توازن” ہے۔ کہیں جذبات کی فراوانی ہے، کہیں برداشت کی قلت، کہیں آئین محض حوالہ بن چکا ہے اور کہیں اقتدار ہی سیاست کا واحد مقصد دکھائی دیتا ہے۔ ایسے ماحول میں یہ جملہ کہ “سیاسی مریض اب اپنا علاج ڈاکٹر مولانا فضل الرحمن صاحب سے کرسکتے ہیں” محض طنز نہیں، بلکہ ایک گہری سیاسی تشخیص ہے۔
سیاست جب اصولوں سے کٹ جائے تو وہ مریض بن جاتی ہے۔ اس مریض کا مسئلہ یہ نہیں کہ اسے بولنا نہیں آتا، مسئلہ یہ ہے کہ اسے سننا نہیں آتا۔ وہ مکالمے سے بھاگتا ہے، آئینی حدود کو بوجھ سمجھتا ہے اور وقتی مقبولیت کو دائمی کامیابی کا مترادف سمجھ بیٹھتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں تجربہ، تدبر اور سیاسی بصیرت کی ضرورت پڑتی ہے۔
مولانا فضل الرحمن صاحب کی سیاست کو اگر بغور دیکھا جائے تو وہ محض احتجاج یا مفاہمت میں محدود نہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ کب آواز بلند کرنی ہے اور کب الفاظ کو وزن کے ساتھ استعمال کرنا ہے۔ ان کی سیاست جذباتی ردِعمل کے بجائے تاریخی شعور، پارلیمانی روایت اور آئینی فہم پر قائم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ سیاست کے ہنگامی وارڈ میں نہیں بلکہ طویل المدت علاج کے قائل نظر آتے ہیں۔
ڈاکٹر کا استعارہ یہاں غیرمعمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ڈاکٹر وہی ہوتا ہے جو مرض کو پہچانے، اس کی شدت سمجھے اور مریض کے مزاج کے مطابق دوا تجویز کرے۔ مولانا فضل الرحمن صاحب کی سیاست میں یہی وصف نمایاں ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ ریاستی اداروں کے ساتھ تصادم کب نقصان دہ ہوتا ہے، اور کب خاموشی بھی ایک مؤثر حکمتِ عملی بن جاتی ہے۔
آج کی سیاست فوری نتائج کی اسیر ہے، جبکہ قومی سیاست کا مزاج صبر مانگتا ہے۔ مولانا فضل الرحمن صاحب کی سیاست اسی صبر، تحمل اور تدبر کی نمائندہ ہے۔ وہ سیاست کو نعروں کے بجائے عمل، اور الزام کے بجائے دلیل سے آگے بڑھاتے ہیں۔
یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ اگر سیاست واقعی صحت مند بنانی ہے تو اس کے لیے شور کم اور شعور زیادہ درکار ہے۔ یہی وہ “نسخہ” ہے جو مولانا فضل الرحمن صاحب کی سیاسی فکر میں بارہا نظر آتا ہے۔
چنانچہ اگر سیاست مریض ہے، تو اس کے علاج کے لیے محض جوش نہیں—فہمِ سیاست درکار ہے، اور یہی فہم آج بھی بعض ڈاکٹروں کے پاس محفوظ ہے۔
قائدِ جمعیت حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب کو گورنر سندھ اور سرسید یونیورسٹی کی جانب سے اعزازی ڈاکٹریٹ کا عطا کیا جانا محض ایک اعزازی اقدام نہیں، بلکہ یہ پاکستان کی معاصر سیاسی تاریخ میں اُن کے فکری، عملی اور تدبیری کردار کا باضابطہ علمی اعتراف ہے۔ جامعات جب کسی شخصیت کو اعزازی ڈاکٹریٹ سے نوازتی ہیں تو درحقیقت وہ اُس کے علمی اثرات، عملی بصیرت اور معاشرے پر مرتب ہونے والے دیرپا اثرات کو تسلیم کرتی ہیں۔
مولانا فضل الرحمن کی سیاسی زندگی ایک منفرد تحقیقی مطالعہ کی متقاضی ہے، کیونکہ وہ اُن چند سیاست دانوں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے مذہبی فکر کو جدید جمہوری سیاست کے سانچے میں ڈھالنے کی کامیاب کوشش کی۔ پارلیمانی سیاست میں اُن کا طرزِ عمل، مفاہمت اور مزاحمت کے مابین توازن، اور ریاستی اداروں کے ساتھ تعامل، سیاسیات (Political Science) اور تقابلی سیاست (Comparative Politics) کے طالب علموں کے لیے ایک بھرپور تحقیقی میدان فراہم کرتا ہے۔
بین الاقوامی سطح پر بھی مولانا فضل الرحمن کی سیاسی بصیرت کو سنجیدگی سے دیکھا جاتا ہے۔ خطے کی سیاست، عالمی طاقتوں کے مفادات، اور مسلم دنیا کو درپیش چیلنجز کے حوالے سے اُن کے مؤقف میں ایک فکری تسلسل اور عملی حقیقت پسندی نمایاں ہے، جو انہیں محض ایک جماعتی رہنما کے بجائے ایک مدبر سیاسی کردار کے طور پر متعارف کراتا ہے۔
یوں یہ اعزازی ڈاکٹریٹ دراصل اس امر کی توثیق ہے کہ مولانا فضل الرحمن کی سیاسی جدوجہد، فکری زاویۂ نظر اور عملی حکمتِ عملی نہ صرف عصری سیاست کا اہم باب ہے بلکہ مستقبل میں سیاسیات کے محققین کے لیے ایک مستقل علمی حوالہ بھی بن سکتی ہے، جس پر تحقیقی مقالے، تھیسز اور پی ایچ ڈی سطح کے مطالعات انجام دیے جا سکتے ہیں۔
#امیدکےدامن سے
#عطاءخروٹی

22/12/2025
08/12/2025

بلوچستان میں فکرِ شیخ الہند اور فکرِ مفتی محمود کے جس کاروان کے مسافر کبھی اخلاص، اصول اور اجتماعی جدوجہد کی پہچان تھے، آج اسی کاروان میں شخصی عقیدتوں، ذاتی تعلقات اور گروہی وابستگیوں نے ایسی جڑیں مضبوط کر لی ہیں کہ کئی افراد محض روابط کی بنیاد پر عہدوں اور مناصب تک پہنچ چکے ہیں۔ افسوس یہ ہے کہ جماعت کے اصل کاز، نظریاتی اساس اور فکری ورثے سے اکثر کو نہ آگاہی ہے، نہ دلچسپی۔ مناصب کی چمک نے مقصد کا چراغ دھندلا کر دیا ہے، اور اصولی سیاست کا سفر رفتہ رفتہ شخصی حلقوں کی سمت مڑتا دکھائی دیتا ہے۔
#امیدکےدامن سے
#عطاءخروٹی

Address

Quetta

Telephone

+923013756741

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Jamiat lawyers forum Balochistan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category