07/05/2026
قائد جمعیت حضرت مولانا فضل الرحمٰن صاحب چارسدہ امد حضرت مولانا محمد ادریس شہید کے تعزیتی اجتماع سے خطاب
ان کی حالیہ تقریر محض تعزیتی خطاب نہیں بلکہ تکفیر، شدت پسندی اور فکری انتشار کے خلاف ایک واضح فکری مؤقف تھی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اکابر علما کو اختلافِ رائے کی بنیاد پر مرتد قرار دینا نہ علمی دیانت ہے اور نہ دینی احتیاط۔ ان کے مطابق تکفیر کا دروازہ کھولنا امت کے اتحاد اور اجتماعی شعور کو تباہ کرنے کے مترادف ہے۔
مولانا صاحب نے واضح کیا کہ پاکستان کے مختلف مکاتبِ فکر کے علما اس بات پر متفق ہیں کہ ریاست کے اندر مسلح جدوجہد شرعاً ناجائز ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام کا اصل مزاج اعتدال، حکمت اور مکالمہ ہے، نہ کہ تشدد اور خونریزی۔ ان کا یہ اعلان کہ ہم اپنے ہاتھ کسی مسلمان کے خون سے نہیں رنگیں گے۔ دراصل امن، صبر اور فکری استقامت کا پیغام ہے۔
قائد جمعیت نے ریاست سے مطالبہ کیا کہ علما کے قاتلوں کو انجام تک پہنچایا جائے، کیونکہ یہ صرف قانونی نہیں بلکہ قومی و اخلاقی ذمہ داری بھی ہے۔ مجموعی طور پر تقریر کا مرکزی پیغام یہی تھا کہ انتہا پسندی کا مقابلہ بندوق سے نہیں بلکہ علم، دلیل، برداشت اور اجتماعی حکمت سے کیا جا سکتا ہے۔
#امیدکےدامن سے
#عطاءخروٹی