16/07/2026
حضرت براء بن عازب (رضی اللہ عنہ) حضرت ابوبکر صدیق (رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: "ہم مدینہ کی طرف چلے تو سراقہ بن مالک نے ہمارا پیچھا کیا۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ تعاقب کرنے والا ہمارے قریب پہنچ گیا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: غم نہ کرو، اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ پھر آپ ﷺ نے دعا فرمائی تو سراقہ کا گھوڑا پیٹ تک زمین میں دھنس گیا..."
جب حضرت سراقہ نے معافی مانگی اور واپس جانے لگے، تو آپ ﷺ نے انہیں غیب کی خبر دیتے ہوئے کسریٰ کے کنگنوں کی خوشخبری دی۔۔
آپ ﷺ نے سراقہ سے فرمایا:"كَيْفَ بِكَ إِذَا لَبِسْتَ سِوَارَيْ كِسْرَى؟""سراقہ! اس وقت تیرا کیا حال ہوگا؟ جب تجھے کسریٰ (شہنشاہِ فارس) کے کنگن پہنائے جائیں گے"
حضرت عمر فاروق (رضی اللہ عنہ) کے دورِ خلافت میں جب ایران فتح ہوا اور کسریٰ کے کنگن، تاج اور پیٹی مدینہ لائے گئے، تو یہ پیش گوئی حرف بہ حرف پوری ہوئی۔۔
امام حسن بصریؒ سے روایت ہے کہ جب حضرت عمر (رضی اللہ عنہ) کے پاس کسریٰ کے کنگن، اس کا مہر والا پٹکا (پیٹی) اور تاج لایا گیا، تو انہوں نے حضرت سراقہ کو بلوایا۔ حضرت سراقہ چونکہ دراز قد اور کثرتِ بال والے مرد تھے، حضرت عمرؒ نے وہ کنگن ان کے ہاتھوں میں پہنائے اور فرمایا:
"الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي سَلَبَهُمَا كِسْرَى بْنَ هُرْمُزَ... وَأَلْبَسَهُمَا سُرَاقَةَ بْنَ مَالِكٍ""تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے یہ کنگن کسریٰ بن ہرمز سے چھین لیے (جو خود کو خدا کہلواتا تھا) اور انہیں بنو مدلج کے ایک اعرابی سراقہ بن مالک کے ہاتھوں میں پہنا دیا!"
یہ پیشین گوئی ہجرتِ مدینہ کے تقریباً 15سال کے بعد پوری ہوئی۔
یہ واقعہ اسلامی تاریخ کا ایک روشن باب ہے جو رسول اللّٰہ ﷺ کی نبوت کی صداقت اور آپ ﷺ کی پیش گوئیوں کے برحق ہونے کی سب سے بڑی تاریخی دلیل مانا جاتا ہے۔