04/09/2020
گھر میں رکھے ہوئے پودے کے پتے شاخ سے جدا ہر کر گرتے رہتے ہیں۔۔۔ گرنے کے بعد ان کی قسمت کا فیصلہ اس شخص کے ہاتھ میں ہوتا ہے، جسسے پودے کا مالک بنایا گیا ہو۔ کچھ خوش قسمت ہوتے ہیں، پاؤں سے کچلے جاتے ہیں اور ابدی بقا پا لیتے ہیں۔۔ اور وہ جنہیں سمیٹ کر کوڑہ دان میں ڈال دیا جائے، نہ صرف مرنے کو ترس جاتے ہیں، بلکہ گٹھن زدہ ماحول میں رہنا ان کا تا آمدِ اجل مقدر بن جاتا ہے۔۔
ایسا ہی حال۔انسان کا ہے۔ انسان ٹوٹ کر گریں تو بیشک کچلے جائیں۔۔۔ یا سمیٹ لیئے جائیں۔۔ دونوں صورتوں میں گھٹن زدہ ماحول ان کا مقدر بنتا ہے۔ موت تو اپنے وقت کا انتظار کرتی ہے۔۔۔جیسے رہنا پڑے، رہنا پڑتا ہے۔۔۔کیونکہ جہاں خود کو دوسرے کے سپرد کر دیا جائے، وہاں مرضی پھر دوسرے کی مرضی پر چلنا پڑتا ہے۔ پر ایک صورت ہم انسانوں کی زندگے بنا سکتی ہے۔۔۔
اگر ہم گرتے ہوا اپنا رہبر کسی انسان کی بجائے اللہ جله شانه کو بنا لیں۔۔ نہ وہ کچلے گا اور نہ ہی سمیٹ کر احسان جتائے گا۔ بلکہ وہ ایسے انداز میں پکڑ لے گا، کہ نا صرف ہمیں دوبارہ جوڑ دے گا۔۔ بلکہ پھر کبھی گرنے نہیں دیگا۔
لیکن ہاں ہمیشہ اسی کو رہبر بنانا ضروری ہے۔
کرنا بس یہ ہوتا ہے کہ:
اس کے فیصلے پر راضی رہنا
صبر ٹوٹنے پر اسی سے رو کر صبر مانگنا
اور چنے جانے پر اس کا شکر ادا کرنا۔
اللہ آپ سب کا حامی و ناصر ہو آمین۔
💕
Collaborating with: