15/02/2026
خیبرپختونخوا کے ہسپتالوں کی حالت زار
میری بیٹی نفیسہ Von Willebrand Disease میں مبتلا تھی۔ اگر اسے معمولی سی بھی چوٹ لگتی تو خون جمتا نہیں تھا۔ اس بار فجر کی نماز سے پہلے اچانک اس کی ناک سے خود بخود خون بہنا شروع ہو گیا۔ میں نے گھر پر ٹرانزامین کیپسول پانی میں ملا کر پلایا اس کے بعد Vit K انجکشن دیا۔ کچھ دیر خون کم ہوا، مگر پھر دوبارہ شروع ہو گیا۔
میں اسے فوراً DHQ ہسپتال باجوڑ لے گیا۔ وہاں علاج سے خون کنٹرول نہیں ہوا تو بلڈ ٹرانسفیوژن کیا گیا، مگر خون رکنے کا نام نہیں لے رہا تھا۔
پھر ڈاکٹروں نے کہا کہ اسے FFP (Fresh Frozen Plasma) لگانا ہوگا، مگر وہ وہاں دستیاب نہیں تھا۔ ہمیں پشاور بھیج دیا گیا۔ یہ ہماری بدقسمتی اور نظام کی نااہلی تھی کہ ایک ڈسٹرکٹ ہسپتال میں یہ سہولت موجود نہ تھی۔
ہم لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور پہنچے۔ وہاں FFP لگایا گیا، مگر کچھ دیر بعد خون پھر سے بہنا شروع ہو گیا۔ میں نے ڈاکٹر سے پوچھا کہ اب کیا ہوگا؟ تو انہوں نے آخری امید Cryoprecipitate کا کہا۔
بلڈ بینک گیا تو بتایا گیا کہ ابھی نہیں، صبح راؤنڈ کے دوران مل جائے گا۔ دوبارہ خون لگایا گیا۔ رات 4 بجے تک خون لگتا رہا، مگر میری نازک بچی کی نازک ناک سے خون نہیں رکا۔
صبح جب دوبارہ CBC کیا گیا تو HB 3.4 تک گر چکا تھا۔ میں فوراً دوبارہ بلڈ بینک گیا خون کا انتظام کرنے، دوبارہ خون لگایا۔ صبح جب Cryoprecipitate کے بارے میں پوچھا تو بتایا گیا کہ مشین تو کافی عرصے سے خراب پڑی ہے۔
وہ آواز میرے لیے قیامت کی آواز تھی۔ دل ٹوٹ گیا کہ اس امید پر تو ہم نے یہ رات گزارا کہ صبح ہماری علاج ہو کے میرا گڑیا ٹھیک ہو جائے گا۔ ایک ٹرشری کیئر ہسپتال میں، جو مریض کے لیے آخری امید ہوتا ہے، وہاں مشین خراب ہو اور کوئی پرسانِ حال نہ ہو۔ لعنت ہو آپ کے اختیارات، آپ کی سیاست، آپ کی Governance اور آپ کی پالیسیوں پر۔
پھر میں نے RMI ہسپتال میں ایک دوست سے معلوم کیا تو پتہ چلا کہ وہاں Cryoprecipitate موجود ہے، تو فوراً ایمبولینس کا بندوبست کر کے وہاں چلا گیا، مگر میرے قسمت کو دیکھ، وہاں بیڈ دستیاب نہیں تھا۔ پھر وہاں سے North West ہسپتال گیا، اپنی بیٹی کی زندگی کی بھیک مانگی، مگر وہاں بھی نہ مل سکا۔
مجبور، بے بس، ناامید اور ٹوٹا ہوا باپ اپنی گڑیا کو واپس KTH (خیبر ٹیچنگ ہسپتال) لے آیا۔ وہی ہسپتال جہاں ہم روز آتے جاتے تھے، مگر میں اتنی تکلیف