07/04/2026
"جو نظر آ رہا ہے، حقیقت اس سے کہیں زیادہ خطرناک ہے — آج کی لاپرواہی، کل کا پچھتاوا بن سکتی ہے۔"
آج میں اشاروں میں بات کر رہا ہوں تاکہ سمجھنے والے سمجھ جائیں—کیونکہ سمجھدار کے لیے اشارہ ہی کافی ہوتا ہے۔
فی الحال میں تفصیل میں نہیں جا رہا، لیکن اگر ضرورت پڑی تو آئندہ اس معاملے پر کھل کر بات کروں گا۔ چاہے اس سے کسی کی بدنامی ہی کیوں نہ ہو، میرا مقصد صرف اپنے علاقے کو مزید نقصان اور بدنامی سے بچانا ہے۔
میں یہ بات شیئر نہیں کرنا چاہتا تھا، کیونکہ خدشہ تھا کہ کہیں بدنامی نہ ہو۔ لیکن ضمیر بار بار یہ احساس دلاتا رہا کہ اگر آج خاموش رہا تو کل نقصان مزید بڑھ سکتا ہے۔
اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ہم اپنے بچوں پر مکمل یقین کر لیتے ہیں۔ انہیں بائیک دے دیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ وہ سکول جا رہے ہیں، خاص طور پر جب سکول گھر سے کچھ فاصلے پر ہو۔ لیکن حقیقت ہمیشہ وہ نہیں ہوتی جو ہم سوچتے ہیں۔ میں نے خود دیکھا ہے کہ کچھ بچے سکول کے اوقات میں کہیں اور چلے جاتے ہیں، یاروں سے ملنے، اور پھر وقت پر واپس آ جاتے ہیں جیسے وہ واقعی سکول میں ہی تھے۔
بات کو مختصر رکھتے ہوئے عرض ہے کہ اگر کوئی بچہ روزانہ بائیک پر سکول جاتا ہے تو اس پر تھوڑی توجہ دینا ضروری ہے۔ بعض اوقات وہ سکول کے بجائے کہیں اور جا رہا ہوتا ہے، یا دورانِ سکول وہ کہی اور گھوم رہا ہوتا ہے۔ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ کچھ بچے ایک دوسرے کے ساتھ بائیک پر آتے جاتے ہیں اور سکول کے اوقات میں غیر ضروری مصروفیات میں مصروف ہو جاتے ہیں۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ اس صورتحال سے اکثر لوگ آگاہ ہوتے ہیں، مگر والدین لاعلم رہتے ہیں۔ کم عمر بچوں کو بائیک دینا خود ایک اہم سوال ہے—کیا واقعی وہ اس ذمہ داری کے قابل ہیں؟ اور کیا اس کا استعمال صحیح مقصد کے لیے ہو رہا ہے؟
یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ کچھ بچے ریسس کے دوران سکول سے باہر نکل جاتے ہیں۔ خاص طور پر ریسس کے وقت بائیک پر باہر چلے جاتے ہیں اور سکول شروع کے وقت حاضر رہتے ہیں۔ اگر کوئی بچہ سکول نہ جائے تو بعض اوقات اساتذہ بھی خاطر خواہ توجہ نہیں دیتے۔ حالانکہ میں نے ایسے سکول بھی دیکھے ہیں جہاں ایک دن کی غیر حاضری پر والدین کو فوراً اطلاع دی جاتی ہے۔ لیکن دوسری طرف کچھ بچے خود ہی کہہ دیتے ہیں کہ "آج موڈ نہیں تھا"، جو کہ واضح لاپرواہی کی نشاندہی کرتا ہے۔
نہ اساتذہ کی جانب سے کوئی مؤثر نگرانی ہوتی ہے اور نہ ہی گھر والوں کی طرف سے کوئی دباؤ یا رہنمائی۔ جب بچوں کو اس طرح آزاد چھوڑ دیا جائے تو پھر ان کے مستقبل کے نتائج بھی برداشت کرنے پڑتے ہیں۔
یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ذمہ داری صرف استاد کی ہے یا والدین کی؟ حقیقت یہ ہے کہ دونوں کی ذمہ داری ہے۔ اگر بچہ سکول سے غیر حاضر ہو یا غیر سنجیدہ رویہ اختیار کرے تو سکول کو بھی نوٹس لینا چاہیے اور والدین کو بھی اس پر توجہ دینی چاہیے۔
ہم جتنا بھی کہیں یا لکھیں، اکثر جواب یہی ملتا ہے کہ "میرا بچہ ایسا نہیں ہے"۔ لیکن حقیقت کا سامنا کرنا ضروری ہے۔ بچوں کی بہتر تربیت اور محفوظ مستقبل کے لیے نگرانی اور رہنمائی نہایت اہم ہے۔
میرا مقصد صرف آگاہی دینا ہے، تنقید کرنا نہیں۔ باقی فیصلہ آپ پر ہے کہ آپ اپنے بچوں کو صحیح سمت دینا چاہتے ہیں یا انہیں لاپرواہی کے حوالے کرنا چاہتے ہیں۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔۔
۔۔۔
۔
۔
۔۔
۔
۔
۔۔۔
۔
۔۔
۔
۔
۔
۔۔
۔
۔
۔
۔