Israr Sami

Israr Sami
اَللّٰھُمَّ صَــّلِ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰٓی اٰلِ مُحَمَّدٍ
❤️

💔 جھنگ سانحہ — ایک باپ کی امید، ایک ماں کا خواب اور ایک گھر کی خوشیاں ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گئیں 💔کچھ حادثے صرف ایک جان ...
09/06/2026

💔 جھنگ سانحہ — ایک باپ کی امید، ایک ماں کا خواب اور ایک گھر کی خوشیاں ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گئیں 💔

کچھ حادثے صرف ایک جان نہیں لیتے، بلکہ پورے خاندان کی زندگی اجاڑ دیتے ہیں۔ کچھ سانحات ایسے ہوتے ہیں جن کے بعد گھر کی دیواریں بھی خاموشی سے روتی محسوس ہوتی ہیں، اور ہر کمرہ کسی اپنے کی یاد میں سسکتا رہتا ہے۔

جھنگ کی بیٹی، فرسٹ ائیر کی طالبہ ایشال فاطمہ بھی شاید اپنے والدین کے بہت سے خوابوں کا مرکز تھی۔ ماں نے اسے محبت سے پالا ہوگا، باپ نے اس کی تعلیم اور مستقبل کے لیے نہ جانے کتنی قربانیاں دی ہوں گی۔ گھر والوں نے بھی کبھی نہیں سوچا ہوگا کہ ایک دن ان کی بیٹی اس طرح اچانک ان سے جدا ہو جائے گی۔

لاپتہ ہونے کے بعد اس کے اہلِ خانہ کی بے چینی، ہر دروازے پر دستک، ہر فون کال پر جاگتی امید، اور ہر گزرتے لمحے کے ساتھ بڑھتی ہوئی پریشانی کا اندازہ صرف وہی لوگ کر سکتے ہیں جن کے دل پر یہ قیامت گزری ہو۔ ایک طرف گھر والے اسے ڈھونڈ رہے تھے، دوسری طرف قسمت ایک ایسا المناک باب لکھ رہی تھی جس نے پورے شہر کو سوگوار کر دیا۔

جب ایک نوجوان بیٹی کی میت گھر پہنچتی ہے تو صرف ایک فرد نہیں مرتا، بلکہ والدین کے بے شمار خواب، امیدیں اور خوشیاں بھی دفن ہو جاتی ہیں۔ وہ کتابیں جنہیں اس نے پڑھنا تھا، وہ منزلیں جنہیں اس نے حاصل کرنا تھا، وہ دعائیں جو اس کے لیے مانگی جاتی تھیں، سب کچھ ایک لمحے میں ادھورا رہ جاتا ہے۔

اس واقعے نے نہ صرف ایک خاندان بلکہ پورے معاشرے کو کئی سوالات کے سامنے لا کھڑا کیا ہے۔ ہماری نوجوان نسل کس طرف جا رہی ہے؟ غلط صحبت، نشہ آور اشیاء اور چند لمحوں کی بے احتیاطی کتنی قیمتی زندگیاں نگل رہی ہیں؟ یہ سوالات ہم سب کی توجہ اور سنجیدہ غور و فکر کے متقاضی ہیں۔

ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ زندگی اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت ہے۔ نوجوانوں کو چاہیے کہ ایسے ماحول، ایسی صحبت اور ایسے فیصلوں سے دور رہیں جو ان کی زندگی، عزت اور مستقبل کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ والدین کو بھی اپنے بچوں کے ساتھ مضبوط تعلق، نگرانی اور اعتماد کا رشتہ قائم رکھنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ ہر مشکل اور الجھن میں سب سے پہلے اپنے گھر والوں سے رجوع کریں۔

آج ایشال فاطمہ ہمارے درمیان نہیں رہی، لیکن اس کی المناک موت ہم سب کے لیے ایک پیغام چھوڑ گئی ہے۔ ایک ایسا پیغام جو ہمیں اپنی نسلوں کی بہتر تربیت، ان کی حفاظت اور ان کے روشن مستقبل کے لیے مزید ذمہ داری کا احساس دلاتا ہے۔

اللہ تعالیٰ مرحومہ ایشال فاطمہ کی مغفرت فرمائے، ان کی قبر کو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ بنائے، درجات بلند فرمائے اور تمام لواحقین کو یہ ناقابلِ برداشت صدمہ برداشت کرنے کی ہمت اور صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔ 🤲💔

نوٹ: واقعے کی تحقیقات جاری ہیں، اس لیے حتمی نتائج اور ذمہ داریوں کا تعین متعلقہ اداروں کی مکمل تفتیش کے بعد ہی ممکن ہوگا۔ ہمیں افواہوں سے گریز کرتے ہوئے حقائق کے سامنے آنے کا انتظار کرنا چاہیے۔











"پانی مانگا تو ذلت ملی، محبت مانگی تو زخم ملے" 😢💔ردا نے آج سے دس سال پہلے محبت کی خاطر اپنے ماں باپ، بہن بھائیوں اور پور...
09/06/2026

"پانی مانگا تو ذلت ملی، محبت مانگی تو زخم ملے" 😢💔

ردا نے آج سے دس سال پہلے محبت کی خاطر اپنے ماں باپ، بہن بھائیوں اور پورے خاندان کو چھوڑ دیا تھا۔ اسے یقین تھا کہ جس شخص کے لیے وہ سب کچھ قربان کر رہی ہے، وہی اس کی زندگی کا سب سے بڑا سہارا بنے گا۔ اسے لگتا تھا کہ محبت ہر مشکل کا حل ہے، اور دنیا کی ہر خوشی اس کے قدم چومے گی۔

لیکن قسمت نے اس کے لیے کچھ اور ہی لکھ رکھا تھا۔

شادی کے بعد چند سال گزرے، چار بچے پیدا ہوئے، مگر وہ محبت جس کے خواب اس نے آنکھوں میں سجائے تھے، آہستہ آہستہ ایک بھیانک خواب میں بدل گئی۔ شوہر نے اسے عزت دینے کے بجائے ذلت دی، تحفظ دینے کے بجائے خوف دیا، اور محبت دینے کے بجائے ایسے زخم دیے جو شاید زندگی بھر نہ بھر سکیں۔

نشے کی حالت میں مار پیٹ، گالیاں، تضحیک اور ظلم اس کی روزمرہ زندگی بن گئے۔ کئی بار اسے گھر سے نکال کر بے عزت کیا گیا، اس کے بال مونڈ دیے گئے، اور اس کے جسم پر تشدد کے ایسے نشانات چھوڑے گئے جنہیں دیکھ کر انسانیت بھی شرما جائے۔

ردا ہر ظلم برداشت کرتی رہی، صرف اس امید پر کہ شاید ایک دن حالات بدل جائیں گے، شاید ایک دن وہ شخص بدل جائے گا جس کے لیے اس نے اپنا سب کچھ چھوڑ دیا تھا۔ مگر ظلم کم ہونے کے بجائے بڑھتا گیا۔

آج ردا کی آنکھوں میں آنسو ہیں، دل میں حسرت ہے اور لبوں پر صرف ایک سوال ہے:

"کیا چند دنوں کی محبت کے لیے اپنے ماں باپ کی دعاؤں اور سائے کو چھوڑ دینا درست فیصلہ تھا؟"

یہ کہانی صرف ردا کی نہیں، بلکہ ہر اس لڑکی کے لیے ایک سبق ہے جو وقتی جذبات، خوبصورت وعدوں اور میٹھی باتوں میں آ کر زندگی کا سب سے بڑا فیصلہ کر بیٹھتی ہے۔

بیٹیو!
محبت کرنا جرم نہیں، لیکن محبت کے نام پر اپنی عقل، شعور اور والدین کی نصیحتوں کو نظر انداز کرنا بہت بڑا نقصان بن سکتا ہے۔ کسی بھی شخص کے الفاظ نہیں، اس کے کردار، اخلاق، ذمہ داری اور رویے کو دیکھو۔ جو شخص تمہیں تمہارے والدین سے دور کرے، ضروری نہیں کہ وہ زندگی بھر تمہارا ساتھ بھی نبھائے۔

ماں باپ ہمیشہ دشمن نہیں ہوتے۔ ان کی ڈانٹ، ان کی نصیحتیں اور ان کی فکر اکثر ہمارے بہتر مستقبل کے لیے ہوتی ہیں۔ وقت گزرنے کے بعد بہت سی باتیں سمجھ آتی ہیں، مگر بعض اوقات تب تک واپسی کے سارے راستے بند ہو چکے ہوتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ ہر بیٹی کو محفوظ رکھے، ہر عورت کو عزت دے، اور ہر مظلوم کو انصاف عطا فرمائے۔ آمین۔ 🤲😢💔










آسمان سے گرا، کھجور میں اٹکا۔۔۔!یہ کہانی ہے ایک پاکستانی نوجوان جمال کی، جو ہزاروں نوجوانوں کی طرح خواب آنکھوں میں سجائے...
09/06/2026

آسمان سے گرا، کھجور میں اٹکا۔۔۔!

یہ کہانی ہے ایک پاکستانی نوجوان جمال کی، جو ہزاروں نوجوانوں کی طرح خواب آنکھوں میں سجائے اپنے گھر سے نکلا تھا۔ اس نے ایف ایس سی فرسٹ ڈویژن میں پاس کی، امید تھی کہ تعلیم اسے ایک اچھی نوکری، عزت کی زندگی اور اپنے والدین کے لیے سکون کا ذریعہ بنائے گی۔ مگر قسمت شاید اس کے لیے کچھ اور ہی لکھ چکی تھی۔

جمال نے پاکستان میں بہت کوشش کی، جگہ جگہ نوکری کی تلاش میں دروازے کھٹکھٹائے، مگر ہر طرف سفارش، تعلقات اور قسمت کی دیواریں اس کے سامنے کھڑی تھیں۔ آخر کار اس نے بیرونِ ملک جانے کا فیصلہ کیا۔ گھر کی قیمتی چیزیں فروخت ہوئیں، ماں نے اپنا تھوڑا سا زیور اتار کر بیٹے کے ہاتھ میں رکھ دیا، رشتہ داروں سے قرض لیا گیا اور لاکھوں روپے جمع کرکے ایک ایجنٹ کو دے دیے گئے۔

جمال کو بتایا گیا کہ سعودی عرب میں ہوٹل مینجمنٹ کی اچھی نوکری اس کا انتظار کر رہی ہے۔ وہ خوشی خوشی اپنے خوابوں کے تعاقب میں روانہ ہوگیا، مگر ائیرپورٹ پر قدم رکھتے ہی اس کے خواب بکھر گئے۔ ایجنٹ نے فون بند کر دیا، رابطہ ختم کر دیا اور جمال کو اس اجنبی سرزمین پر تنہا چھوڑ دیا۔

اس لمحے جمال کے لیے زمین اور آسمان ایک ہوگئے۔ نہ نوکری، نہ سہارا، نہ پیسے، نہ کوئی اپنا۔ واپس پاکستان جانا اس کے لیے شکست اور ذلت کے مترادف تھا، کیونکہ گھر والے پہلے ہی قرض کے بوجھ تلے دب چکے تھے۔

ایک سال تک وہ سعودی عرب کی گلیوں، میدانوں اور صحراؤں میں بے مقصد پھرتا رہا۔ کبھی کسی کی خیرات سے پیٹ بھرتا، کبھی بھوکا سو جاتا۔ کئی راتیں ایسی آئیں جب اس کے پاس سر چھپانے کی جگہ بھی نہ تھی۔ ماں باپ پاکستان میں بے بس تھے، وہ نہ ایجنٹ تک پہنچ سکتے تھے اور نہ ہی اپنے بیٹے کی مدد کر سکتے تھے۔

جمال نے پاکستانی سفارتخانے کے چکر لگائے، مختلف اداروں کو درخواستیں دیں، انصاف مانگا، مگر کہیں سے کوئی مؤثر مدد نہ ملی۔ وقت گزرتا رہا اور مشکلات بڑھتی رہیں۔

مگر کہتے ہیں کہ اللہ جب بندے کو آزماتا ہے تو اس کے لیے راستے بھی پیدا کرتا ہے۔ مسلسل جدوجہد اور ہمت کے بعد جمال نے اپنے دستیاب کاغذات کی مدد سے خود کو قانونی حیثیت دلوا لی۔ اقامہ حاصل کیا اور آخرکار ایک شیخ کے ہاں اونٹ چرانے کی ملازمت مل گئی۔

آج جمال سعودی عرب کے وسیع صحراؤں میں اونٹوں کے ساتھ دن گزارتا ہے۔ تیز دھوپ، جھلسا دینے والی گرمی، تنہائی اور سخت محنت اس کی روزمرہ زندگی کا حصہ ہیں۔ تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود وہ صحرا میں اونٹ چراتا ہے، مگر اس کے دل میں امید آج بھی زندہ ہے۔

وہ کہتا ہے کہ غربت انسان سے بہت کچھ چھین لیتی ہے، لیکن امید چھین نہیں سکتی۔

اپنی تعلیم کا فائدہ اٹھاتے ہوئے جمال نے سوشل میڈیا پر اپنے اکاؤنٹس بنائے ہیں۔ وہ صحراؤں کی زندگی، اپنی جدوجہد اور روزمرہ تجربات کی ویڈیوز بنا کر یوٹیوب اور ٹک ٹاک پر اپلوڈ کرتا ہے۔ اس کی خواہش ہے کہ ایک دن اس کے چینلز کامیاب ہوں، آمدنی شروع ہو اور وہ اپنے والدین کے قرض اتار سکے۔

جمال کی ایک بات دل کو چیر کر رکھ دیتی ہے:

"میں پاکستان واپس ضرور آؤں گا، لیکن اُس دن جب کامیاب ہو جاؤں گا۔ خالی ہاتھ واپس جانے کی ہمت نہیں۔"

یہ صرف جمال کی کہانی نہیں، بلکہ اُن ہزاروں نوجوانوں کی داستان ہے جو بہتر مستقبل کی تلاش میں گھر بار چھوڑتے ہیں، قرض لیتے ہیں، ماں باپ کی امیدیں ساتھ لے کر نکلتے ہیں اور پھر قسمت کے بے رحم تھپیڑوں کا سامنا کرتے ہیں۔

ہم اکثر کامیاب لوگوں کی منزل دیکھتے ہیں، مگر اُن کے راستے کے کانٹے نہیں دیکھتے۔ جمال آج بھی صحرا کی تپتی ریت پر چل رہا ہے، مگر اس کے دل میں یقین ہے کہ ایک دن اس کی محنت رنگ لائے گی۔

اللہ تعالیٰ جمال اور ایسے تمام محنتی نوجوانوں کی مشکلات آسان فرمائے، ان کے رزق میں برکت عطا کرے، انہیں کامیابی، عزت اور سکون نصیب فرمائے، ان کے والدین کی امیدوں کو شرمندۂ تعبیر کرے اور انہیں کبھی مایوس نہ ہونے دے۔

آمین یا رب العالمین۔ 🤲💔

اسکی یوٹیوب چینل کا پیکچر کمنٹ میں ہوگا

Jamala In Saudia 600 plus subscribers hai aap bhi kary...

چکوال میں دل دہلا دینے والا واقعہ — ایک گھر، ایک سانحہ، اور کئی سوالچکوال کے نواحی گاؤں چتال میں ایک ایسا افسوسناک اور د...
08/06/2026

چکوال میں دل دہلا دینے والا واقعہ — ایک گھر، ایک سانحہ، اور کئی سوال

چکوال کے نواحی گاؤں چتال میں ایک ایسا افسوسناک اور دل ہلا دینے والا واقعہ پیش آیا جس نے پورے علاقے کو سوگوار کر دیا۔

14 سالہ ارحم نے اپنے ہی 12 سالہ سگے چھوٹے بھائی فواد حیدر کو فائرنگ کر کے قتل کر دیا۔ فواد کی لاش بعد میں گاؤں کے ایک ویران علاقے سے ملی، جس کے سر میں گولی لگی ہوئی تھی۔ ایک معصوم بچہ جو ابھی زندگی کے ابتدائی خواب دیکھ رہا تھا، اچانک ایک بھیانک انجام تک پہنچ گیا۔

ابتدائی معلومات کے مطابق واقعے کے وقت دونوں بھائی گھر میں اکیلے تھے۔ والد طبیعت کی ناسازی کے باعث چکوال علاج کے لیے گئے ہوئے تھے جبکہ والدہ کسی گھریلو کام کے سلسلے میں گھر سے باہر تھیں۔

اسی موقع کو استعمال کرتے ہوئے ارحم نے گھر سے اپنے والد کا اسلحہ لیا اور فواد کو یہ کہہ کر ساتھ لے گیا کہ "چلو فاختہ کا شکار کرتے ہیں۔" مگر یہ شکار ایک ایسی جگہ پر جا کر ختم ہوا جہاں واپسی ممکن نہ رہی۔

بعد ازاں ارحم خود گھر واپس آیا اور اپنی والدہ کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا کہ کسی نے اسے موبائل میں فواد کی تصویر دکھائی ہے جو اب دنیا میں نہیں رہا۔ اس کے بعد وہ اپنی والدہ کو ساتھ لے کر اس مقام تک گیا جہاں فواد کی لاش پڑی تھی۔ یہ منظر کسی بھی ماں کے لیے قیامت سے کم نہ تھا۔

واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور تفتیشی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور چند گھنٹوں میں ملزم کو حراست میں لے لیا گیا۔ بعد میں اس کی نشاندہی پر اسلحہ بھی برآمد کر لیا گیا۔

بتایا جاتا ہے کہ دونوں بھائیوں میں معمولی جھگڑے بھی ہوتے رہتے تھے، اور ارحم کے مطابق جب بھی فواد سے کوئی لڑائی ہوتی تو والدین اکثر اسی کو ڈانٹ دیتے تھے۔ یہی احساسِ نظراندازی وقت کے ساتھ اس کے دل میں بڑھتا گیا۔

یہ واقعہ صرف ایک مجرمانہ عمل نہیں بلکہ ایک گہرا سماجی سوال ہے۔ کیا ہم واقعی اپنے بچوں کے دلوں میں چھپے احساسات کو سمجھ پاتے ہیں؟ کیا ہم انصاف کے ساتھ ان کی تربیت کر رہے ہیں یا انجانے میں کسی ایک کو زیادہ اور کسی کو کم توجہ دے کر نفرت کے بیج بو رہے ہیں؟

ایک گھر میں اگر محبت برابر تقسیم نہ ہو تو وہی گھر کبھی کبھی اندوہناک کہانیوں کا مرکز بن جاتا ہے۔

یہ واقعہ ہمیں جھنجھوڑ کر یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ بچوں کی تربیت صرف ڈانٹ یا محبت تک محدود نہیں، بلکہ انصاف، توجہ اور جذباتی سمجھ بوجھ بھی اتنی ہی ضروری ہے۔

اللہ تعالیٰ فواد حیدر کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ہمیں اپنے گھروں میں محبت، عدل اور سمجھداری قائم رکھنے کی توفیق دے۔ آمین۔

میں ایک سرکاری محکمے میں ملازمت کرتا تھا۔ ایک دن دفتر سے واپس آیا تو کھانا بننے میں کچھ دیر ہو گئی تھی۔ بھوک لگی ہوئی تھ...
08/06/2026

میں ایک سرکاری محکمے میں ملازمت کرتا تھا۔
ایک دن دفتر سے واپس آیا تو کھانا بننے میں کچھ دیر ہو گئی تھی۔ بھوک لگی ہوئی تھی، میں نے غصے میں بیوی سے کہہ دیا: "تم سارا دن کرتی ہی کیا ہو؟"

وہ خاموش رہی، کھانا بھی بنا دیا، مگر میرے ذہن میں ایک سوال چھوڑ گئی: واقعی، وہ سارا دن کرتی کیا ہے؟

میں جب صبح اٹھتا ہوں تو وہ مجھ سے پہلے جاگ چکی ہوتی ہے۔ نماز پڑھ کر ناشتے کی تیاری میں مصروف ہوتی ہے۔ میرے لیے ناشتہ تیار، بچوں کے لیے ناشتہ تیار، انہیں اسکول کے لیے تیار کرنا، میرا یونیفارم، جوتے اور ضروری سامان ترتیب سے رکھنا۔

شاید اس نے خود ابھی تک ناشتہ بھی نہ کیا ہو، یا جلدی میں دو نوالے ہی کھائے ہوں۔

میں دفتر چلا جاتا ہوں۔ تھوڑا کام کرتا ہوں اور دس بجے چائے کا وقفہ لے لیتا ہوں۔

مگر وہ؟

کیا اب وہ فارغ ہو گئی؟ نہیں۔

ناشتے کے برتن دھونا، گھر میں جھاڑو پونچھا کرنا، کپڑے دھونے کے لیے مشین لگانا، ساتھ ہی دوپہر کے کھانے کی تیاری کرنا۔

ادھر بچے اسکول سے واپس آ جاتے ہیں۔ ان کے کپڑے بدلوانا، کھانا کھلانا، ان کا خیال رکھنا۔

ادھر میں دفتر میں تین بجے تک کام کر کے گھر پہنچ جاتا ہوں اور کہتا ہوں: "آج بہت تھک گیا ہوں، صرف ایک چائے کا وقفہ ملا تھا، باقی کام ہی کام تھا۔"

وہ مجھے استری شدہ کپڑے دیتی ہے، کھانا لگاتی ہے، اور میں کھانا کھا کر آرام سے سو جاتا ہوں۔

مگر کیا وہ بھی سو جاتی ہے؟ نہیں۔

وہ برتن دھوتی ہے، بچوں کو پڑھاتی ہے، ان کا ہوم ورک کرواتی ہے، گھر کے باقی کام نمٹاتی ہے۔

میں شام کو اٹھتا ہوں تو وہ پھر باورچی خانے میں کھڑی ہوتی ہے۔ میرے لیے چائے بھی بنا دیتی ہے۔

میں دوستوں کے پاس یا پارک چلا جاتا ہوں۔

اور وہ؟

رات کے کھانے کی تیاری، بچوں کے اگلے دن کے کپڑے، اسکول بیگ، میرا یونیفارم، جوتوں کی پالش، سب کچھ ترتیب سے رکھتی ہے۔

پھر ہم کھانا کھاتے ہیں اور میں سونے کی تیاری کرتا ہوں کیونکہ مجھے صبح جلدی کام پر جانا ہوتا ہے۔

مگر کیا وہ بھی سو جاتی ہے؟ نہیں۔

ابھی رات کے برتن دھونے ہیں، دودھ ابالنا ہے، بچا ہوا سامان فریج میں رکھنا ہے، کچن سمیٹنا ہے۔

میں سو جاتا ہوں۔

اور جب صبح آنکھ کھلتی ہے تو کچن سے ناشتا بننے کی آواز آ رہی ہوتی ہے۔

پھر ویک اینڈ آ جاتا ہے۔ مگر اس کا کوئی ویک اینڈ نہیں ہوتا۔ نہ عید کی چھٹی، نہ تہوار کی چھٹی۔ بلکہ چھٹی والے دن تو اس کا کام اور بڑھ جاتا ہے؛ زیادہ کھانا، زیادہ چائے، زیادہ مہمان۔

آج سوچتا ہوں تو اپنے ان الفاظ پر شرمندگی ہوتی ہے: "تم سارا دن کرتی ہی کیا ہو؟"

حقیقت یہ ہے کہ گھر سنبھالنے والی عورت کی ڈیوٹی کا کوئی اوقاتِ کار نہیں ہوتا، کوئی تنخواہ نہیں ہوتی، کوئی چھٹی نہیں ہوتی۔ مگر اس کے بغیر کوئی گھر، گھر نہیں بنتا۔

اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ وہ یہ سب صرف فرض نہیں سمجھتی… بلکہ محبت کے ساتھ نبھاتی ہے۔ وہ تھک جاتی ہے، مگر پھر بھی مسکرا کر سب سنبھال لیتی ہے۔ اس کی خاموشی میں ایک پوری زندگی چھپی ہوتی ہے۔

ہم مرد اکثر اپنی تھکن گن لیتے ہیں، مگر اُس عورت کی محنت بھول جاتے ہیں جو ہماری ہر آسانی کے پیچھے کھڑی ہوتی ہے۔ کاش ہم وقت پر یہ سمجھ لیں کہ “گھر چلانا” صرف کمانا نہیں، بلکہ گھر کو سنبھالنا بھی ایک مکمل زندگی کا بوجھ ہے۔

---
اگر پسند ایا تو اپنوں کیساتھ لازمی شئر کرے شکریہ۔۔۔

**⚠️ والدین کے نام ایک اہم پیغام** یہ تحریر صرف پڑھ کر آگے بڑھ جانے کے لیے نہیں، بلکہ سوچنے اور اپنے اردگرد نظر دوڑانے ک...
08/06/2026

**⚠️ والدین کے نام ایک اہم پیغام**

یہ تحریر صرف پڑھ کر آگے بڑھ جانے کے لیے نہیں، بلکہ سوچنے اور اپنے اردگرد نظر دوڑانے کے لیے ہے۔ ہمارے بچے ہماری زندگی کا سب سے قیمتی سرمایہ ہیں۔ ان کی باتوں، عادات، خاموشیوں، خوف اور رویوں میں آنے والی تبدیلیوں پر نظر رکھنا ہماری ذمہ داری ہے۔ بعض اوقات بچے زبان سے کچھ نہیں کہتے، مگر ان کی خاموشی بہت کچھ بیان کر رہی ہوتی ہے۔

اپنے بچوں کو وقت دیں، ان کی بات غور سے سنیں، انہیں یہ احساس دلائیں کہ وہ ہر حال میں آپ پر بھروسہ کر سکتے ہیں۔ انہیں یہ سکھائیں کہ اگر کوئی شخص انہیں ڈرائے، دھمکائے یا کوئی ایسی حرکت کرے جس سے وہ پریشان ہوں تو فوراً آپ کو بتائیں۔ سب سے بڑھ کر، اپنے بچوں پر یقین کریں، کیونکہ اکثر بچے جھوٹ نہیں بولتے، وہ صرف ڈرے ہوئے ہوتے ہیں۔

یاد رکھیں، بچوں کی حفاظت صرف اچھا کھانا، لباس اور تعلیم فراہم کرنے کا نام نہیں، بلکہ ان کے جذبات، خوف اور مسائل کو سمجھنا بھی والدین کی ذمہ داری ہے۔ ایک لمحے کی توجہ کسی معصوم کی پوری زندگی بچا سکتی ہے، جبکہ ایک لمحے کی غفلت ایسے زخم دے سکتی ہے جو برسوں تک نہیں بھرتے۔

اللہ تعالیٰ تمام معصوم بچوں کو اپنی حفظ و امان میں رکھے، ہر بری نظر، برے ارادے اور ہر درندہ صفت انسان سے محفوظ رکھے، اور والدین کو اپنی اولاد کی بہترین حفاظت اور تربیت کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔ 🤲🥀

**"بچوں کی خاموشی کو کبھی معمولی نہ سمجھیں، بعض اوقات وہ الفاظ سے نہیں بلکہ اپنے رویّوں سے مدد مانگ رہے ہوتے ہیں۔"**

💥 میری دس سالہ بیٹی روز اسکول
سے آتے ہی سیدھا غسل خانے میں بند ہو جاتی تھی۔
میں سمجھتی رہی شاید صفائی کا شوق ہو گیا ہے 🥹🥀

میری بیٹی حنا پہلے بہت باتیں کیا کرتی تھی۔

اسکول سے آتے ہی پورا گھر اُس کی آواز سے بھر جاتا۔

“امّی آج میری drawing کی تعریف ہوئی…”
“امّی آج میں نے assembly میں dua پڑھی…”
“امّی آج عائشہ مجھ سے ناراض ہو گئی…”

مگر پچھلے چند ہفتوں سے وہ بدل گئی تھی۔

اب وہ گھر آتے ہی نہ پانی مانگتی…
نہ کھانا…
نہ بات۔

بس خاموشی سے اپنا بیگ رکھتی
اور سیدھا غسل خانے میں چلی جاتی۔

پہلے میں نے سوچا شاید گرمی کی وجہ سے ایسا کرتی ہو۔

مگر پھر میں نے محسوس کیا…
وہ صرف نہاتی نہیں تھی۔

وہ خود کو جیسے مٹانے کی کوشش کرتی تھی۔

صابن اتنی زور سے رگڑتی کہ اُس کی کلائیاں سرخ ہو جاتیں۔
گردن کے قریب جلد چھل جاتی۔
اور نہانے کے بعد بھی اُس کے چہرے پر سکون نہیں آتا تھا۔

ایک دن میں نے اُس سے پوچھ ہی لیا:

“حنا… تم روز آتے ہی نہانے کیوں چلی جاتی ہو؟”

وہ چند لمحے مجھے دیکھتی رہی۔
پھر فوراً نظریں جھکا لیں۔

“بس امّی… اچھا لگتا ہے صاف رہنا…”

یہ جملہ عجیب تھا۔

بہت عجیب۔

کیونکہ وہ ایسے بول رہی تھی جیسے یہ جواب اُسے کسی نے یاد کروایا ہو۔

اُس رات پہلی بار میرا دل بے وجہ ڈرا تھا۔

پھر چند دن بعد غسل خانے کا پانی رکنے لگا۔

میں نے سوچا نالا بند ہو گیا ہوگا۔

حنا اُس وقت ٹیوشن گئی ہوئی تھی۔

میں نے drain کھولا اور اندر پھنسی گندگی نکالنے لگی۔

اچانک کسی کپڑے جیسی چیز ہاتھ میں آئی۔

میں نے کھینچ کر باہر نکالا۔

بالوں، صابن اور کیچڑ کے درمیان نیلے رنگ کا کپڑا پھنسا ہوا تھا۔

میں نے نلکے کے نیچے دھویا…
اور میرا سانس رک گیا۔

وہ حنا کی اسکول یونیفارم کا ٹکڑا تھا۔

نیلا چیک۔
بالکل اُس کی قمیض جیسا۔

مگر بری طرح پھٹا ہوا۔

اور اُس پر مدھم بھورے دھبے تھے…
ایسے دھبے جو دھل تو گئے ہوں، مگر مکمل مٹے نہ ہوں۔

میرے ہاتھ ٹھنڈے پڑ گئے۔

اچانک پچھلے کئی ہفتوں کی باتیں ایک ساتھ ذہن میں ابھر آئیں۔

حنا کا رات کو ڈر کر اٹھ جانا۔
اسکول جانے سے پہلے پیٹ درد کی شکایت کرنا۔
اکثر خاموش رہنا۔
اور خاص طور پر…
کسی مرد کے قریب آتے ہی اُس کا سمٹ جانا۔

میری سانس رکنے لگی۔

میں نے فوراً اُس کی الماری کھولی۔

اندر تین یونیفارمز تھیں۔

حالانکہ چار ہونی چاہئیں تھیں۔

اسی لمحے دروازہ کھلا۔

حنا واپس آ گئی تھی۔

اُس نے میرے ہاتھ میں وہ کپڑا دیکھا…
اور اُس کے چہرے کا رنگ اُڑ گیا۔

قسم سے…
ایک دس سالہ بچی کے چہرے پر اتنا خوف نہیں ہونا چاہیے۔

میں اُس کے قریب گئی۔

“حنا…”

میری آواز کانپ رہی تھی۔

“یہ کیسے پھٹا؟”

وہ خاموش رہی۔

میں اُس کے سامنے بیٹھ گئی۔

“بیٹا… میں ڈانٹوں گی نہیں۔
بس سچ بتاؤ…”

اُس کے ہونٹ کانپنے لگے۔

پھر اچانک وہ ٹوٹ گئی۔

ایسے نہیں جیسے بچے ضد میں روتے ہیں…
بلکہ ایسے جیسے کوئی بہت عرصے سے خود کو سنبھالے ہوئے ہو۔

وہ میرے گلے لگ گئی اور ہچکیوں میں بولی:

“امّی… میں گندی ہوگئ ہوں نا…؟”

اُس ایک جملے نے میری روح چیر دی تھی۔

میں نے فوراً اُس کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لیا۔

“یہ کس نے کہا تم سے؟!”

وہ کانپ رہی تھی۔

پھر بہت مشکل سے اُس نے ایک نام لیا۔

اسکول وین کے ڈرائیور کا۔

میرے کانوں میں شور گونجنے لگا۔

پتا چلا…
کئی ہفتوں سے وہ آدمی بچوں کے اتر جانے کے بعد حنا کو آخری stop تک روکے رکھتا تھا۔

اُسے ڈراتا۔
خاموش رہنے کا کہتا۔
اور بار بار یہی کہتا:

“اگر کسی کو بتایا تو سب کہیں گے تم گندی ہوچکی ہو…”

اس لیے حنا روز گھر آ کر خود کو دھوتی تھی۔

وہ اپنے جسم سے نہیں…
اپنے اوپر چپکا ہوا خوف، نفرت اور شرمندگی اتارنے کی کوشش کرتی تھی۔

اُس رات میں نے اپنی بیٹی کو سینے سے لگا کر صرف ایک بات کہی:

“سن لو حنا…
گندا وہ انسان ہے جس نے تمہیں ڈرایا۔
تم نہیں۔
تم بالکل پاک ہو… بالکل معصوم…”

اگلی صبح میں پولیس اسٹیشن گئی۔
اسکول گئی۔
اور اُس درندے کو گرفتار کروایا۔

مگر سچ یہ ہے…

بعض زخم عدالتوں سے نہیں بھرتے۔

اُنہیں بھرنے کیلئے برسوں محبت، تحفظ اور یہ یقین دینا پڑتا ہے ...

🚨 کوئٹہ سول ہسپتال میں لیڈی ڈاکٹر پر تیزاب گردی — انسانیت کو جھنجھوڑ دینے والا سانحہ 🚨کوئٹہ کے سول ہسپتال میں پیش آنے وا...
07/06/2026

🚨 کوئٹہ سول ہسپتال میں لیڈی ڈاکٹر پر تیزاب گردی — انسانیت کو جھنجھوڑ دینے والا سانحہ 🚨

کوئٹہ کے سول ہسپتال میں پیش آنے والا تیزاب گردی کا افسوسناک واقعہ نہ صرف بلوچستان بلکہ پورے پاکستان کے لیے باعثِ تشویش اور لمحۂ فکریہ ہے۔ ایک ایسی خاتون ڈاکٹر جو دن رات مریضوں کی جان بچانے اور انسانیت کی خدمت میں مصروف تھی، خود ایک وحشیانہ حملے کا نشانہ بن گئی۔

رپورٹس کے مطابق جون 2026 کے آغاز میں لیڈی ڈاکٹر ماہ نور ناصر سول ہسپتال کوئٹہ کے جنرل سرجری وارڈ میں اپنی معمول کی ڈیوٹی سرانجام دے رہی تھیں کہ اچانک ایک شخص نے ان پر تیزاب پھینک دیا۔ حملے کے بعد ہسپتال میں خوف و ہراس پھیل گیا جبکہ ساتھی ڈاکٹرز اور عملہ شدید صدمے میں آ گئے۔

پولیس کے مطابق حملہ آور کی شناخت ہمایوں شاہ کے نام سے ہوئی، جو اسی ہسپتال میں لفٹ آپریٹر کے طور پر ملازمت کرتا تھا اور اس کا تعلق ضلع نوشکی سے بتایا جاتا ہے۔ حملے کے بعد ملزم فرار ہو گیا، تاہم بعد ازاں نوشکی بس اسٹینڈ کے قریب قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک ہو گیا۔ پولیس نے ملزم کا موبائل فون فرانزک جانچ کے لیے بھجوا دیا ہے تاکہ اس ہولناک حملے کے محرکات اور پس منظر کو مکمل طور پر سمجھا جا سکے۔

ڈاکٹر ماہ نور ناصر کو فوری طبی امداد فراہم کرنے کے بعد بہتر علاج کے لیے کراچی منتقل کیا گیا۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ ہسپتال ذرائع کے مطابق ان کی حالت خطرے سے باہر ہے اور ان کی بینائی محفوظ ہے۔ تاہم ان کے جسم کا تقریباً 13 فیصد حصہ جھلس گیا ہے جبکہ کئی مقامات پر گہرے زخم آئے ہیں۔ ماہرینِ چشم اور پلاسٹک سرجری کے ڈاکٹرز ان کے علاج میں مصروف ہیں۔

اس واقعے میں ایک اور نام بھی قابلِ ستائش ہے۔ ہسپتال کے وارڈ بوائے عبدالرزاق ترکئی نے اپنی جان کی پروا کیے بغیر ڈاکٹر ماہ نور کو بچانے کی کوشش کی۔ اس بہادری کے دوران وہ خود بھی زخمی ہوئے۔ ان کی جرات اور انسان دوستی کو ہر سطح پر سراہا جا رہا ہے، اور انہیں سول ایوارڈ کے لیے بھی تجویز کیا گیا ہے۔

یہ واقعہ صرف ایک فرد پر حملہ نہیں بلکہ پورے طبی شعبے، خواتین کے تحفظ اور ہسپتالوں کی سیکورٹی پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ اگر ایک ڈاکٹر، جو مریضوں کی جان بچانے کے لیے ہسپتال میں موجود ہو، خود محفوظ نہ ہو تو پھر عام شہری کی حفاظت کے بارے میں کیا کہا جا سکتا ہے؟

ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن اور دیگر طبی تنظیموں نے اس واقعے پر شدید ردعمل دیتے ہوئے ہسپتالوں میں سیکورٹی کے ناقص انتظامات پر سوالات اٹھائے ہیں اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ طبی برادری کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں۔

ہم دعا گو ہیں کہ ڈاکٹر ماہ نور ناصر جلد مکمل صحت یاب ہوں، ان کے اہلِ خانہ کو ہمت ملے اور اس واقعے کے تمام پہلوؤں پر غیر جانبدارانہ تحقیقات کے ذریعے حقائق سامنے لائے جائیں۔ معاشرے کو اس بات پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا کہ خواتین، خصوصاً خدمتِ انسانیت میں مصروف پیشہ ور افراد، کس حد تک محفوظ ہیں۔

اللہ تعالیٰ ڈاکٹر ماہ نور ناصر کو جلد صحتِ کاملہ عطا فرمائے اور ہمارے معاشرے کو ایسے دل دہلا دینے والے واقعات سے محفوظ رکھے۔ آمین۔

💔 ایک ماں چلی گئی... اور دو ماہ کا معصوم بچہ عمر بھر کے لیے اپنی ماں کی محبت سے محروم ہو گیا۔ 💔پشاور کے علاقے تہکال سے س...
07/06/2026

💔 ایک ماں چلی گئی... اور دو ماہ کا معصوم بچہ عمر بھر کے لیے اپنی ماں کی محبت سے محروم ہو گیا۔ 💔

پشاور کے علاقے تہکال سے سامنے آنے والا یہ افسوسناک واقعہ دل کو چیر کر رکھ دیتا ہے۔ ابتدائی پولیس رپورٹ کے مطابق ایک شوہر نے محض شک کی بنیاد پر اپنی بیوی نورین شمریز کی زندگی چھین لی۔ ایک ایسی عورت جو نو ماہ تک اپنے بچے کو کوکھ میں پالتی رہی، ہر تکلیف برداشت کرتی رہی، اور پھر ماں بننے کی خوشی بھی پوری طرح نہ دیکھ سکی۔

کہتے ہیں کہ گھر عورت سے بنتا ہے، مگر جب اسی عورت کی عزت، اعتماد اور جان محفوظ نہ رہے تو پھر گھر صرف اینٹوں کا ڈھانچہ بن کر رہ جاتا ہے۔

رپورٹس کے مطابق شادی کے بعد میاں بیوی کے درمیان اختلافات پیدا ہوئے اور شوہر مسلسل یہ الزام لگاتا رہا کہ پیدا ہونے والا بچہ اس کا نہیں۔ نورین نے بار بار اپنی بے گناہی کا یقین دلایا، قسمیں کھائیں، منت سماجت کی، مگر شک کی آگ نے ایک انسان کو اس قدر اندھا کر دیا کہ اسے اپنی بیوی کی چیخیں بھی سنائی نہ دیں۔

ایک عورت جو اپنے شوہر کے ساتھ زندگی گزارنے کے خواب لے کر آئی تھی، آج مٹی تلے سو چکی ہے۔ اس کے والدین کی گود اجڑ گئی، بہن بھائی غم سے نڈھال ہیں، اور سب سے بڑھ کر ایک دو ماہ کا معصوم بچہ اپنی ماں کے لمس، اس کی لوریوں اور اس کی محبت سے ہمیشہ کے لیے محروم ہو گیا۔

یہ واقعہ صرف ایک خاندان کا سانحہ نہیں، بلکہ پورے معاشرے کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔ جب شک، غصہ اور تشدد انسانیت پر حاوی ہو جائیں تو نتیجہ صرف تباہی، پچھتاوا اور بربادی کی صورت میں نکلتا ہے۔

اگر ابتدائی رپورٹ میں بیان کیے گئے حقائق درست ثابت ہوتے ہیں تو قانون کے مطابق انصاف ہونا چاہیے تاکہ کسی اور ماں کی گود نہ اجڑے، کسی اور بچے سے اس کی ماں نہ چھینی جائے، اور کسی اور خاندان کو ایسا ناقابلِ برداشت دکھ نہ سہنا پڑے۔

اللہ تعالیٰ مرحومہ نورین شمریز کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند کرے، اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل عطا فرمائے اور اس ننھے معصوم بچے کی حفاظت فرمائے جس کی زندگی کا سب سے قیمتی سہارا اس سے چھین لیا گیا۔

😢 بعض زخم وقت نہیں بھرتا، صرف انسان جینا سیکھ لیتا ہے۔

چارسدہ میں پیش آنے والا یہ افسوسناک واقعہ دل دہلا دینے والا ہے۔ پولیس رپورٹ کے مطابق ایک نوجوان نے اپنی چچی کو مبینہ طور...
07/06/2026

چارسدہ میں پیش آنے والا یہ افسوسناک واقعہ دل دہلا دینے والا ہے۔ پولیس رپورٹ کے مطابق ایک نوجوان نے اپنی چچی کو مبینہ طور پر نکاح کی خواہش کے تحت اغوا کیا، اور جب خاتون نے انکار کیا تو اسے قتل کر دیا۔ بعد ازاں جرم کو چھپانے کے لیے لاش کو کھیتوں میں دفن کرنے کی کوشش بھی کی گئی۔

یہ صرف ایک قتل نہیں بلکہ انسانیت، رشتوں کے تقدس اور معاشرتی اقدار پر ایک سنگین حملہ ہے۔ ایک عورت کو اپنی مرضی سے زندگی گزارنے اور فیصلے کرنے کا پورا حق حاصل ہے۔ کسی بھی رشتے یا خواہش کو زبردستی مسلط کرنے کی کوشش نہ صرف غیر اخلاقی بلکہ سنگین جرم ہے۔

سب سے زیادہ افسوس اس بات کا ہے کہ ایسے واقعات میں ایک خاندان اجڑ جاتا ہے، بچے یتیم ہو جاتے ہیں، والدین عمر بھر کے غم میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور معاشرے میں خوف و بے چینی پھیلتی ہے۔ کسی بھی انسان کی جان لینے کا اختیار کسی فرد کو حاصل نہیں، چاہے وجہ کوئی بھی بیان کی جائے۔

اگر پولیس رپورٹ میں بیان کردہ حقائق درست ثابت ہوتے ہیں تو قانون کے مطابق ملزم کو ایسی سزا ملنی چاہیے جو انصاف کے تقاضے پورے کرے اور آئندہ کسی کو بھی اس قسم کے گھناؤنے جرم کی جرات نہ ہو۔ انصاف صرف مقتولہ کے خاندان کا حق نہیں بلکہ پورے معاشرے کی ضرورت ہے۔

اللہ تعالیٰ مرحومہ کی مغفرت فرمائے، اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل عطا کرے اور ہمارے معاشرے کو ایسے المناک واقعات سے محفوظ رکھے۔

⚖️ آپ کی رائے میں ایسے جرم میں عدالت کو کیا فیصلہ سنانا چاہیے؟

آج ایک ایسی تصویر دیکھی جس نے دل کو بے حد بوجھل کر دیا۔ ایک طرف ایک ماں اپنے نئے ساتھی کے ساتھ کھڑی ہے، اور دوسری طرف اس...
04/06/2026

آج ایک ایسی تصویر دیکھی جس نے دل کو بے حد بوجھل کر دیا۔ ایک طرف ایک ماں اپنے نئے ساتھی کے ساتھ کھڑی ہے، اور دوسری طرف اس کی آٹھ بیٹیاں آنسوؤں میں ڈوبی اپنی ماں کو جاتے ہوئے دیکھ رہی ہیں۔ یہ منظر صرف ایک خاندان کا نہیں بلکہ ہزاروں سوالوں کا بوجھ اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے۔

کوئی بھی انسان کسی کے دل کا حال نہیں جانتا، اصل حقیقت کیا ہے یہ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔ ممکن ہے اس عورت نے اپنی زندگی میں ایسے دکھ، تکلیفیں اور حالات دیکھے ہوں جن کا اندازہ ہم نہ کر سکیں۔ لیکن پھر بھی ایک سوال دل میں بار بار جنم لیتا ہے کہ آخر وہ کون سی مجبوری تھی جس نے ایک ماں کو اپنی آٹھ بیٹیوں سے دور ہونے پر مجبور کر دیا؟

وہ بیٹیاں جو شاید اپنی ماں کے سائے کو اپنی سب سے بڑی پناہ سمجھتی تھیں، آج اسی سائے کو اپنے سامنے دور جاتا دیکھ کر رو رہی ہیں۔ ان معصوم آنکھوں کے آنسو، ان کی سسکیاں اور ان کی چیخیں ہر حساس دل کو جھنجھوڑ دیتی ہیں۔ کہتے ہیں ماں کی محبت دنیا کی سب سے بے لوث محبت ہوتی ہے، پھر ایسا کیا ہوا کہ یہ رشتہ بھی آزمائش کی بھٹی میں جلتا دکھائی دیا؟

عدالت کے احاطے میں موجود لوگوں کی آنکھیں نم ہو گئیں، پولیس اہلکار بھی بچیوں کی فریاد سن کر جذباتی ہو گئے، مگر حالات کا فیصلہ وہی ہوا جو ہونا تھا۔ شاید اس کہانی کے کچھ ایسے پہلو بھی ہوں جو دنیا کی نظروں سے اوجھل ہیں، لیکن جو منظر سامنے آیا اس نے بے شمار دلوں کو اداس کر دیا۔

آج ان آٹھ بیٹیوں کے آنسو صرف ان کے اپنے نہیں، بلکہ ہر اس شخص کے آنسو ہیں جو ماں اور اولاد کے رشتے کی عظمت کو سمجھتا ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان بچیوں کے دلوں کو سکون عطا فرمائے، ان کے مستقبل کو روشن بنائے اور اس خاندان کے تمام افراد کے لیے آسانیاں پیدا کرے۔

بعض کہانیاں فیصلوں سے نہیں، زخموں سے پہچانی جاتی ہیں، اور یہ بھی شاید انہی کہانیوں میں سے ایک ہے۔

Address

Peshawar

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Israr Sami posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Israr Sami:

Share

Category