Ahmad Hassan legal

Ahmad Hassan legal Advocate Ahmad Hassan peshawar
contact # 03367640009

‏زمین کے کھاتوں میں کھیوٹ، کھتونی، خسرہ نمبر اور دیگر اصطلاحات کیا ہیں؟ جانیے اس تحریر میں۔نوٹ۔۔۔۔۔ لاہور اسلام آباد کرا...
23/05/2026

‏زمین کے کھاتوں میں کھیوٹ، کھتونی، خسرہ نمبر اور دیگر
اصطلاحات کیا ہیں؟ جانیے اس تحریر میں۔

نوٹ۔۔۔۔۔
لاہور اسلام آباد کراچی جیسے بڑے شہروں میں 225 سکیر فٹ جگہ ایک مرلہ بنتی ہے

1- موضع :
یہ ایک بڑا یونٹ ہوتا ہے جو عموماَ ایک بڑے گاؤں یا ایک سے زیادہ چھوٹے گاؤں کو ملا کر بنایا جاتا ہے۔ موضع کا نام اس گاؤں یا ایریا کے نام پر ہی درج ہوتا ہے ۔
2- کھیوٹ نمبر:
جب موضع بن جاتا ہے تو اس میں بہت سارے لوگوں اور خاندانوں کی زمین شامل ہوتی ہے اس کی تقسیم مزید آسان بنانے کے لیے کھیوٹ نمبر دے دیے جاتے ہیں، مثلا یہ ایک سو ایکڑ ایک خاندان کے پاس ہے اسے ایک نمبر دے دیا کہ فلاں موضع کا یہ کھیوٹ نمبر ہے جو فلاں خاندان کے ان ان حصہ داروں کے پاس ہے۔ یا مختلف خاندانوں یا لوگوں کی زمین کو ملا کر بھی ایک کھیوٹ بنایا جاتا ہے۔ اس کا نمبر تبدیل ہو سکتا ہے جب کوئی زمین فروخت کرتا ہے یا ایسی کوئی تبدیلی ہوتی ہے تو آپ کے کھیوٹ کا نمبر بدل جاتا ہے۔
3- کھتونی نمبر:
موضع بھی بن گیا، اس میں کھیوٹ نمبر بھی لگ گئے اب کھیوٹ میں بہت سارے مالکان ہیں کسی کے پاس پانچ ایکڑ ہے کسی کے پاس دس اور کسی کے پاس دو ایکڑ تو ان کو کیسے پہچانے گے کہ اس کھیوٹ میں کونسے بندے کی کتنی زمین ہے تو اس کے لیے ہر حصہ دار کو ایک کھتونی نمبر لگا دیا جاتا ہے۔ مثلا کھیوٹ نمبر 1 میں دس ایکڑ زمین ہے اور دو مالک ہیں پانچ پانچ ایکڑ کے تو ان دونوں کو الگ الگ نمبر دے دیا جائے گا پانچ پانچ ایکڑ کا جسے کھتونی نمبر کہتے ہیں۔ یہ نمبر بھی تبدیل ہوتا رہتا ہے جب کوئی اپنے حصے سے فروخت کر دے کسی کو یا ایسی کوئی دوسری تبدیلی ہو۔
4- خسرہ نمبر:
اب ایک کھتونی میں جو پانچ ایکڑ تھے (جو ہم نے مثال میں لیے پانچ ایکڑ، حقیقت میں ان کی تعداد جو بھی ہو گی) ہر ایکڑ کو ایک خاص نمبر دیا جاتا ہے جو خسرہ نمبر کہلا تا ہے۔ یہ نمبر کبھی تبدیل نہیں ہوتا چاہے کوئی فروخت کرے مگر کھیت کا خسرہ نمبر ایک ہی رہے گا۔ اور اس میں کھیت کی چاروں طرف سے پیمائش بھی لکھی ہوتی ہے کہ اس خسرہ نمبر کا جو کھیت ہے اس کی لمبائی چوڑائی وغیرہ کیا ہے۔
5- مساوی: (شجرہ)
یہ موضع کا نقشہ ہوتا ہے، کہاں کس کا کھیت ہے کہاں راستہ ہے کہاں کیا ہے سب اس میں ہوتا ہے۔ پٹواری کے پاس یہ نقشہ ایک کپڑے پر بنا ہوتا ہے جسے لٹھا بھی کہا جاتا ہے۔
6- جمعبندی:
اس میں ایک موضع کے کسی کھیوٹ کی کسی کھتونی کے کس خسرہ میں کتنے مالک ہیں سب کی تفصیل درج ہوتی ہے۔ اس میں یہ بھی درج ہوتا ہے کہ مالک کون ہے اور زمین کاشت کون کر رہا ہے ٹھیکہ پر یا کیسے۔ زمین کی فرد بھی اسی رجسٹر کی تفصیل کی بنیاد پر جاری ہوتی ہے۔
7- گردوری:
آپ جس رقبہ کے مالک ہیں یا مزارع ہیں اس رقبہ میں کیا کاشت ہوتا ہے یا کیا کاشت کیا ہوا ہے اس کی تفصیل بھی پٹواری درج کرتا ہے اسے گردوری کہتے ہیں۔
اہم نوٹ: زمین خریدتے وقت ہمیشہ خسرہ نمبر کی فرد کی بنیاد پر زمین خریدیں۔ مثلا فرض کریں ایک بندہ دو ایکڑ کا مالک ہے اس کا کھیوٹ نمبر 1 اور اس کے دو ایکڑ کھیوٹ نمبر 1 کی الگ الگ کھتونی نمبر 5 خسرہ نمبر 50 اوردوسرا ایکڑ کھتونی نمبر 10 میں خسرہ نمبر 100 ہیں۔ آپ اس سے ایک ایکڑ خریدنا چاہتے ہیں اور وہ آپ جو پسند کرتے ہیں اس کا خسرہ نمبر 50 ہے مگر اسے فرد اس 50 نمبر خسرہ کی نہیں بلکہ پوری رقبے کی کھیوٹ سے ملتی ہے جس میں وہ آپ کے نام ایک ایکڑ کروا دیتا ہے تو اب قانوناَ آپ اس کے دونوں ایک میں خسرہ نمبر 50 اور خسرہ نمبر 100 میں آدھے آدھے ایکڑ کے مالک بن جائیں گے اور اگر خسرہ نمبر 50فرد ہی آپ کو دے گا تو اس کی بنیاد پر وہی ایکڑ پورا آپ کے نام لگے گا۔ بیشک وہ آپ کو آپ کا پسند کیا ہوا خسرہ نمبر 50 ہی کاشت کے لیے دے رہا ہو مگر مستقبل میں آپ کے بچوں میں جھگڑا ہو سکتا ہے کہ آپ کے یا اس کے بچے کہیں آپ کا آدھا ایکڑ یہاں بول رہا ہے یہاں جاؤ ہمارا وہاں ہے ہم وہاں جائیں گے وغیرہ۔ یہ تو دو ایکڑ کی مثال تھی اکثر ایسا ہوتا ہے کہ کسی زیادہ ایکڑ کے مالک سے زمین خرید لیں تو بعد میں وہ کہتا ہے کہ میں نے یہ ایکڑ نہیں بلکہ کوئی دوسرا دیا تھا لہذا اسے کاشت کرو جا کر وہ چاہے بنجر ہو۔ اس لیے زمین لینے سے پہلے تسلی کر لیا کریں۔

عدالت میں سپرداری (Supardari) کا عمل اس وقت شروع ہوتا ہے جب پولیس کسی جرم کے سلسلے میں کوئی مال (گاڑی، موٹر سائیکل، موبا...
21/04/2026

عدالت میں سپرداری (Supardari) کا عمل اس وقت شروع ہوتا ہے جب پولیس کسی جرم کے سلسلے میں کوئی مال (گاڑی، موٹر سائیکل، موبائل، یا نقدی وغیرہ) اپنے قبضے میں لے لیتی ہے۔ پاکستان میں اس کا طریقہ کار اور متعلقہ قوانین درج ذیل ہیں:
1. متعلقہ قانونی دفعات (Legal Sections)
سپرداری کا معاملہ بنیادی طور پر مجموعہ ضابطہ فوجداری (CrPC) کے باب 43 (Chapter 43) میں بیان کیا گیا ہے:
دفعہ 516-A CrPC: یہ دفعہ اس مال کی سپرداری سے متعلق ہے جو مقدمے کی سماعت (Trial) کے دوران عدالت کی تحویل میں ہوتا ہے۔ اگر مال خراب ہونے والا ہو یا اس کی حفاظت مشکل ہو، تو عدالت اسے کسی شخص کے حوالے کر سکتی ہے۔
دفعہ 523 CrPC: جب پولیس کوئی مال دفعہ 51 یا کسی جرم کے شبہ میں قبضے میں لیتی ہے لیکن وہ مال ابھی عدالت میں پیش نہیں کیا گیا ہوتا، تو مجسٹریٹ اس کی واپسی کا حکم دے سکتا ہے۔
2. سپرداری کرانے کا طریقہ کار (Procedure)
سپرداری حاصل کرنے کے لیے درج ذیل مراحل سے گزرنا پڑتا ہے:
درخواست کی پیشی: مال کا اصل مالک (یا جس کے قبضے سے مال لیا گیا ہو) متعلقہ علاقہ مجسٹریٹ کی عدالت میں دفعہ 516-A یا 523 CrPC کے تحت درخواست دائر کرتا ہے۔
پولیس رپورٹ (Comments): عدالت پولیس سے اس مال کی حیثیت اور قبضے کی رپورٹ طلب کرتی ہے۔ پولیس بتاتی ہے کہ آیا مال مقدمے میں بطور "مقدمہ مال" (Case Property) ضروری ہے یا نہیں۔
ملکیت کے ثبوت: درخواست گزار کو اپنی ملکیت ثابت کرنی ہوتی ہے (مثلاً گاڑی کی رجسٹریشن بک، انوائس، یا دیگر دستاویزات)۔
عدالتی حکم اور مچلکہ (Surety Bond): اگر عدالت مطمئن ہو جائے، تو وہ سپرداری منظور کرتی ہے۔ اس کے بدلے میں درخواست گزار کو ایک "روبکار" جاری کی جاتی ہے، لیکن اس سے پہلے اسے مال کی مالیت کے برابر ضمانتی مچلکہ (Bond) جمع کرانا پڑتا ہے تاکہ ضرورت پڑنے پر مال عدالت میں پیش کیا جا سکے۔
3. سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے رہنما اصول (Case Laws)
اعلیٰ عدالتوں نے سپرداری کے حوالے سے کچھ اہم اصول طے کیے ہیں:
مال کا ضائع ہونا: سپریم کورٹ نے کئی بار یہ واضح کیا ہے کہ گاڑیوں یا مشینوں کو تھانے میں کھڑا کر کے زنگ لگنے کے لیے نہیں چھوڑنا چاہیے۔ اس سے قومی اثاثہ ضائع ہوتا ہے۔ لہٰذا، سپرداری جلد از جلد ہونی چاہیے (2011 SCMR 1500).
مالک کا حق: ہائی کورٹ کے فیصلوں کے مطابق، اگر ملکیت کے بارے میں کوئی تنازع نہ ہو، تو اصل مالک کو ترجیحی بنیادوں پر سپرداری ملنی چاہیے (PLD 2005 Lahore 27).
کرمنل کیس اور سپرداری: اگر کسی گاڑی کا انجن یا چیسس نمبر ٹیمپرڈ (Tampered) ہو، تو ایسی صورت میں سپرداری دینے میں عدالتیں زیادہ احتیاط برتتی ہیں اور عام طور پر ایسی گاڑیاں مالک کے حوالے نہیں کی جاتیں جب تک فرانزک رپورٹ نہ آ جائے۔
اہم نکات برائے وکیل
بنا برآمدگی: اگر پولیس نے مال غلط طریقے سے قبضے میں لیا ہے، تو آپ دفعہ 523 CrPC کا سہارا لیں۔
مال کی حفاظت: سپرداری لیتے وقت یہ شرط ہوتی ہے کہ آپ مال کو بیچیں گے نہیں اور نہ ہی اس کی شکل تبدیل کریں گے، کیونکہ وہ ٹرائل کے دوران بطور ثبوت پیش کرنا پڑ سکتا ہے۔

کیس دائرگی پہ خرچہ اب کسی طور 8000 سے کم نہی رہا۔Advocates Of Pakistan Lawyer.Pkپہلے وکالت نامہ پر کے رویے کی بجائے 100 ...
20/04/2026

کیس دائرگی پہ خرچہ اب کسی طور 8000 سے کم نہی رہا۔
Advocates Of Pakistan
Lawyer.Pk
پہلے وکالت نامہ پر کے رویے کی بجائے 100 روپے کا ٹکٹ، ۔ پھر بیان حلفی 300 روپے،
http://www.facebook.com/Lawyer.pk
۔ پھر ہر طرح کی درخواست یا سول کیس، اپیل استغاثہ 500 روپے کا ٹکٹ،
۔ پھر ہرڈگری نقل 500 ٹکٹ اور اگر دو صفحات ہوں تو 1000 روپے،
۔ مصدقہ نقول پر کئی گنار قم ، طلبانہ ٹکٹ ، اور اب بائیو میٹرک فیس۔۔۔
۔ وقت کے ساتھ ساتھ سائلین کے لیے اخراجات بڑھتے ہی جا رہے ہیں۔۔
کسی بھی قسم کی درخواست یا کوئی بھی دعوی تیار کروانے کے بعد کسی طور بھی
8 ہزار روپے کیسی 8 ہزار روپے سے کم میں تیار نہیں ہوتا۔۔
۔ لوگوں کے لیے انصاف کے حصول کو نہ صرف مشکل بنایا جا رہا ہے بلکہ کمائی کا ذریعہ بنالیا ہے۔ اس سے وکالت کے شعبے کو بھی شدید نقصان پہنچ رہا ہے


http://www.facebook.com/Lawyer.pk

&

📚⚖️ جونیئر وکلاء کے لیے اہم رہنمائیاگر آپ نئے وکیل ہیں یا پریکٹس کا آغاز کر رہے ہیں تو یہ چارٹ آپ کے لیے انتہائی مفید ہے...
19/04/2026

📚⚖️ جونیئر وکلاء کے لیے اہم رہنمائی

اگر آپ نئے وکیل ہیں یا پریکٹس کا آغاز کر رہے ہیں تو یہ چارٹ آپ کے لیے انتہائی مفید ہے۔ اس میں کرمنل پروسیجر کے اہم مراحل، متعلقہ سیکشنز اور ان کی ریمیڈیز کو سادہ انداز میں پیش کیا گیا ہے۔

FIR
سے لے کر اپیل تک مکمل رہنمائی
🔹 بیل، ریمانڈ، چارج، اپیل سب ایک ہی جگہ
🔹 عدالت میں روزمرہ استعمال کے لیے بہترین شارٹ گائیڈ

💡 ایک کامیاب وکیل وہی ہوتا ہے جو قانون کو سمجھ کر استعمال کرے۔

19/04/2026

Ahmad Hassan Advocate High court ⚖️

19/04/2026
01/04/2026

نظامِ عدل یا تماشہِ عدل؟
​آج میرا سامنا ایک ایسے نوجوان سے ہوا جس کا قصور صرف اس کی "غربت" تھی۔ اس لڑکے پہ الزام تھا کہ اس نے ایک شادی میں ہوائی فائرنگ کی تھی، جس پر اس نے عدالت میں وکلاء کے فیسوں اور ضمانت اور ٹرائل سے بچنے کیلئے AA-15 کے تحت اپنے جرم کا اعتراف (اقبالِ جرم) کیا۔ مجسٹریٹ نے اسے محض 500 روپے جرمانہ کیا، لیکن اس مجبوری کی قیمت اسے اب یوں چکانی پڑ رہی ہے کہ اس کے کریکٹر سرٹیفکیٹ پر "سزا یافتہ" کی مہر لگ چکی ہے، جس کی وجہ سے اسے کہیں نوکری نہیں مل رہی۔ ایک غریب کا مستقبل ایک چھوٹی سی غلطی اور مجبوری کی وجہ سے داؤ پر لگ گیا۔
​دوسری طرف کا منظر دیکھیں:
سندھ میں تہرے قتل کے ملزمان (وڈیرے اور وزراء) جب بری ہوتے ہیں، تو عدالت کے فیصلے کی خوشی میں قانون کی دھجیاں اڑاتے ہوئے اندھا دھند فائرنگ کی جاتی ہے۔ قانون حرکت میں آنا تو دور کی بات، الٹا ان پر تنقید کرنے والوں کے خلاف ایف آئی آر درج کر لی جاتی ہے۔
​یہ کیسا نظامِ عدل ہے؟
​ایک طرف غریب کے لیے مجبوری کی وجہ سے اقبال جرم پر بھی روزگار کے دروازے بند؟
​دوسری طرف طاقتور کے لیے قتل جیسے سنگین مقدمات سے بریت اور سرِ عام اسلحے کی نمائش پر بھی خاموشی؟
​جس ملک میں انصاف صرف کمزور کو دبانے کے لیے استعمال ہو اور طاقتور کے سامنے سجدہ ریز رہے، وہ قومیں زیادہ دیر تک ترقی کا خواب نہیں دیکھ سکتیں۔ اگر عدلیہ کا یہ دوہرا معیار برقرار رہا تو اس بوسیدہ نظام کی تباہی کو کوئی نہیں روک سکتا۔
​صد افسوس اس نظام پر اور اس کی ترجیحات پر!

سکرین شاٹس لینے کے شوقین حضرات ہو جائیں ہوشیار!The Supreme Court of Pakistan has ruled that secretly recording private c...
29/03/2026

سکرین شاٹس لینے کے شوقین حضرات ہو جائیں ہوشیار!

The Supreme Court of Pakistan has ruled that secretly recording private conversations without the person’s consent, including taking screenshots of chats, video calls, saving snaps, etc., especially for illegal purposes like extortion, is a criminal offense under Pakistani law.

The judgment, written by Justice Muhammad Hashim Khan Kakar, highlighted that unauthorized recordings violate the Prevention of Electronic Crimes Act (PECA) 2016 and fundamental constitutional rights, including privacy and human dignity.

The court emphasized that secret recordings cannot be used in legal proceedings and distinguished between official duty recordings and those made to trap someone. Referring to Islamic principles, the verdict cited the Quranic command, “Do not spy,” reinforcing the sanctity of private life.

The court warned that allowing unauthorized surveillance could undermine constitutional protections and create a society dependent on illegally obtained evidence.

کورونا کے زمانے میں جب عالمی منڈی میں تیل تقریباً 120 ڈالر فی بیرل تھا تو پاکستان میں پٹرول تقریباً 150 روپے فی لیٹر مل ...
07/03/2026

کورونا کے زمانے میں جب عالمی منڈی میں تیل تقریباً 120 ڈالر فی بیرل تھا تو پاکستان میں پٹرول تقریباً 150 روپے فی لیٹر مل رہا تھا۔
آج جب عالمی منڈی میں تیل تقریباً 80 ڈالر فی بیرل کے قریب ہے تو پاکستان میں پٹرول کی قیمت 322 روپے ہے۔

پاکستانیوں سے کچھ نہیں کہوں گا… بس اتنا یاد رکھیں:
“آپ نے گھبرانا نہیں۔”

Address

Peshawar

Telephone

+923367640009

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Ahmad Hassan legal posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share