Pakistani Zavia

Pakistani Zavia Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Pakistani Zavia, Okara.

08/03/2025
محمد فاتح: عظیم سلطان اور قسطنطنیہ کا فاتحتاریخ کے عظیم فاتحین میں سے ایک نام سلطان محمد دوم کا ہے، جنہیں "محمد فاتح" کے...
08/03/2025

محمد فاتح: عظیم سلطان اور قسطنطنیہ کا فاتح
تاریخ کے عظیم فاتحین میں سے ایک نام سلطان محمد دوم کا ہے، جنہیں "محمد فاتح" کے لقب سے جانا جاتا ہے۔ انہوں نے نہ صرف عثمانی سلطنت کو ایک نئی بلندی عطا کی بلکہ عالمی تاریخ کا دھارا بھی بدل دیا۔ ان کی سب سے بڑی کامیابی 1453ء میں قسطنطنیہ (موجودہ استنبول) کی فتح تھی، جو مشرقی رومن سلطنت (بازنطینی سلطنت) کا دارالحکومت تھا۔ آئیے ان کی زندگی، شخصیت، اور فتوحات پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔
ابتدائی زندگی اور تربیت
محمد فاتح 30 مارچ 1432ء کو ادرنہ میں پیدا ہوئے۔ وہ سلطان مراد دوم کے بیٹے تھے۔ بچپن سے ہی ان کی تعلیم و تربیت پر خصوصی توجہ دی گئی۔ انہیں اسلامی علوم کے ساتھ ساتھ سائنس، ریاضی، فلکیات، اور جنگی حکمت عملی کی تعلیم دی گئی۔ وہ کئی زبانیں جانتے تھے، جن میں عربی، فارسی، اور یونانی شامل تھیں۔ ان کی ذہانت اور دور اندیشی نے انہیں ایک غیر معمولی رہنما بنایا۔
11 سال کی عمر میں انہیں صوبے کی گورنری سونپی گئی، جہاں انہوں نے عملی طور پر حکمرانی کے گُر سیکھے۔ 1444ء میں باپ کی وفات کے بعد وہ پہلی بار سلطان بنے، لیکن حالات کے باعث دو سال بعد انہیں عارضی طور پر دستبردار ہونا پڑا۔ 1451ء میں وہ دوبارہ تخت پر بیٹھے اور پھر تاریخ رقم کرنے کی طرف بڑھے۔
قسطنطنیہ کی فتح: ایک عظیم کارنامہ
قسطنطنیہ کی فتح محمد فاتح کی زندگی کا سب سے اہم اور یادگار کارنامہ ہے۔ یہ شہر صدیوں سے بازنطینی سلطنت کا مضبوط قلعہ تھا اور اس کی فتح کو ناممکن سمجھا جاتا تھا۔ اس کی دیواریں ناقابلِ تسخیر تھیں، اور اس کی جغرافیائی پوزیشن نے اسے فطری تحفظ فراہم کیا تھا۔ لیکن محمد فاتح نے اپنی بے مثال حکمت عملی، عسکری صلاحیت، اور جدید ٹیکنالوجی سے اسے فتح کر دکھایا۔
29 مئی 1453ء کو، 21 سال کی عمر میں، انہوں نے 53 دن کے محاصرے کے بعد قسطنطنیہ کو فتح کیا۔ اس فتح میں انہوں نے بڑے توپوں کا استعمال کیا، جنہیں ہنگری کے ایک ماہر انجینئر اربان نے تیار کیا تھا۔ انہوں نے بحری جہازوں کو خشکی کے راستے ہالکے (گولڈن ہارن) میں منتقل کرنے کا حیران کن منصوبہ بنایا، جو فوجی تاریخ میں ایک شاندار مثال ہے۔ اس فتح نے عثمانی سلطنت کو بحیرہ روم اور یورپ میں ایک عظیم طاقت بنا دیا اور بازنطینی سلطنت کا خاتمہ کر دیا۔
رسول اللہ ﷺ کی ایک حدیث میں قسطنطنیہ کی فتح کی پیش گوئی کی گئی تھی: "قسطنطنیہ ضرور فتح ہوگا، اور کیا ہی اچھا لشکر ہوگا وہ لشکر اور کیا ہی اچھا امیر ہوگا وہ امیر۔" محمد فاتح نے اس پیش گوئی کو سچ ثابت کیا اور اسے اپنی زندگی کا مشن بنایا۔
دیگر فتوحات اور کارنامے
قسطنطنیہ کی فتح کے بعد محمد فاتح نے اپنی توسیع پسندی جاری رکھی۔ انہوں نے سربیا، بوسنیا، والاچیا، اور البانیہ کے کئی علاقوں کو عثمانی سلطنت میں شامل کیا۔ بحیرہ اسود کے ساحلی علاقوں، جیسے ترابزون، اور بحیرہ ایجیئن کے جزائر پر بھی قبضہ کیا۔ انہوں نے اطالوی شہر اوٹرانٹو پر حملہ کرکے یورپ کے دل میں خوف پیدا کیا، جو ان کی آخری بڑی مہم تھی۔
شخصیت اور خوبیاں
محمد فاتح صرف ایک فاتح ہی نہیں بلکہ ایک عظیم منتظم، شاعر، اور دانشور بھی تھے۔ انہوں نے قسطنطنیہ کو استنبول کے نام سے عثمانی سلطنت کا دارالحکومت بنایا اور اسے ایک عالمی ثقافتی و تجارتی مرکز میں تبدیل کیا۔ وہ مذہبی رواداری کے قائل تھے اور عیسائیوں، یہودیوں، اور دیگر اقلیتوں کو اپنے عقائد پر عمل کی آزادی دی۔ انہوں نے شہر کی تباہ شدہ عمارات کی تعمیر نو کی اور عظیم الشان مساجد، مدرسے، اور پل تعمیر کروائے، جن میں فاتح مسجد نمایاں ہے۔
وراثت
محمد فاتح 3 مئی 1481ء کو 49 سال کی عمر میں وفات پا گئے، لیکن ان کی وراثت آج بھی زندہ ہے۔ انہوں نے عثمانی سلطنت کو ایک عالمی طاقت بنایا اور مشرق و مغرب کے درمیان پل کا کردار ادا کیا۔ استنبول آج بھی ان کی عظمت کا گواہ ہے، جہاں ان کی قبر فاتح مسجد کے احاطے میں واقع ہے۔
نتیجہ: محمد فاتح ایک ایسی شخصیت تھے جنہوں نے نہ صرف میدان جنگ میں بہادری دکھائی بلکہ علم، ثقافت، اور حکمرانی میں بھی اپنا لوہا منوایا۔ ان کی قسطنطنیہ کی فتح نہ صرف عثمانی تاریخ بلکہ عالمی تاریخ کا ایک سنہری باب ہے۔
امید ہے کہ یہ پوسٹ آپ کے معیار پر پوری اترے گی۔ اگر آپ اس میں کوئی تبدیلی یا اضافہ چاہتے ہیں تو بتائیں!
محمد فاتح کی حکمت عملی

عثمانی سلطنت کی تاریخ

سورۃ الکہف کی فضیلت اور برکت: جمعہ کے دن کی اہمیتجمعہ کا دن اور سورۃ الکہف کی تلاوت کی فضیلتاسلام میں جمعہ کا دن خصوصی ا...
07/03/2025

سورۃ الکہف کی فضیلت اور برکت: جمعہ کے دن کی اہمیت

جمعہ کا دن اور سورۃ الکہف کی تلاوت کی فضیلت

اسلام میں جمعہ کا دن خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔ اس دن کی عبادات میں سورۃ الکہف کی تلاوت کو خاص فضیلت حاصل ہے۔ متعدد احادیث میں اس کی تلاوت کے فضائل بیان کیے گئے ہیں:

1. نور کی بشارت: حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

> "جو شخص جمعہ کے دن سورۃ الکہف پڑھے، اس کے لیے دو جمعوں کے درمیان نور روشن ہوجاتا ہے۔"
(مستدرک حاکم، حدیث نمبر: 3392)

2. دجال کے فتنے سے حفاظت: حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:

> "جو شخص سورۃ الکہف کی ابتدائی دس آیات یاد کرے، وہ دجال کے فتنے سے محفوظ رہے گا۔"
(صحیح مسلم، حدیث نمبر: 809)

3. قیامت کے دن نور: حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

> "جو شخص جمعہ کے دن سورۃ الکہف پڑھے، اس کے قدموں کے نیچے سے لے کر آسمان تک نور پیدا ہوتا ہے جو قیامت کے دن اس کے لیے روشن ہوگا، اور ان دونوں جمعوں کے درمیان ہونے والے اس کے گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں۔"
(الترغیب والترہیب، حدیث نمبر: 1098)

سورۃ الکہف کے اہم مضامین اور اسباق

سورۃ الکہف میں چار اہم قصے بیان کیے گئے ہیں جو ہمارے لیے گہرے اسباق رکھتے ہیں:

1. اصحاب کہف (غار والے): یہ نوجوان اپنے ایمان کی حفاظت کے لیے غار میں پناہ گزین ہوئے۔ ان کا قصہ ثابت قدمی اور اللہ پر توکل کی مثال ہے۔

2. دو باغ والوں کا قصہ: یہ واقعہ دنیاوی مال و دولت کی آزمائش اور شکر گزاری کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ ایک شخص نے اپنی دولت پر فخر کیا جبکہ دوسرے نے اللہ کا شکر ادا کیا۔

3. حضرت موسیٰ اور حضرت خضر علیہما السلام کا واقعہ: یہ قصہ علم، صبر اور اللہ کی حکمت کو سمجھنے کی تعلیم دیتا ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے حضرت خضر علیہ السلام سے ملاقات کی تاکہ وہ علم حاصل کریں جو ان کے پاس نہیں تھا۔

4. ذوالقرنین کا قصہ: یہ واقعہ طاقت، انصاف اور اللہ کی راہ میں جدوجہد کی اہمیت کو بیان کرتا ہے۔ ذوالقرنین نے اپنی طاقت کو انصاف کے ساتھ استعمال کیا اور لوگوں کی مدد کی۔

– ایک تاریخی اور مقدس دن ✨تحریر:جمعہ کا دن دنیا کی تخلیق سے جڑا ہوا ہے۔✔️ اسی دن حضرت آدمؑ کو پیدا کیا گیا۔✔️ اسی دن انہ...
07/03/2025

– ایک تاریخی اور مقدس دن ✨

تحریر:
جمعہ کا دن دنیا کی تخلیق سے جڑا ہوا ہے۔
✔️ اسی دن حضرت آدمؑ کو پیدا کیا گیا۔
✔️ اسی دن انہیں جنت میں داخل کیا گیا اور زمین پر بھیجا گیا۔
✔️ اسی دن قیامت قائم ہوگی۔

اسلامی تاریخ میں جمعہ کو ہمیشہ ایک خاص مقام حاصل رہا ہے۔ سورۃ الجمعہ میں بھی اس کی تاکید کی گئی:
"اے ایمان والو! جب جمعہ کے دن نماز کے لیے اذان دی جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف دوڑو اور خرید و فروخت چھوڑ دو، یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم سمجھو۔" (سورۃ الجمعہ 62:9)

آئیے! اس بابرکت دن کی فضیلت کو پہچانیں اور نیک اعمال کریں۔
جمعہ مبارک!

تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ محمد بن قاسم ایک اہم اموی فوجی کمانڈر تھے جنہوں نے 711 میں سندھ فتح کیا اور اس طرح جنوبی ایشیا ...
06/03/2025

تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ محمد بن قاسم ایک اہم اموی فوجی کمانڈر تھے جنہوں نے 711 میں سندھ فتح کیا اور اس طرح جنوبی ایشیا میں اسلامی حکومت کی بنیاد رکھی۔

وہ 695 کے قریب طائف، سعودی عرب میں پیدا ہوئے، بنو ثقفی قبیلے سے تعلق رکھتے تھے، اور ان کے چچا الحجاج بن یوسف نے ان کی فوجی تربیت میں اہم کردار ادا کیا۔

ان کی فتح نے علاقے میں اسلام کے پھیلاؤ کو تیز کیا، لیکن ان کی مذہبی پالیسیوں کے بارے میں بحث ہے، کچھ ذرائع انہیں برداشت کرنے والا کہتے ہیں جبکہ دوسرے زبردستی تبدیلی مذہب کی بات کرتے ہیں۔

ان کی موت 715 میں 19 سال کی عمر میں ہوئی، اور اس کے بارے میں دو کہانیاں ہیں: ایک خاندانی جھگڑے کی وجہ سے قتل، دوسری راجہ دہر کی بیٹیوں کے الزامات کی وجہ سے۔

غیر متوقع طور پر، انہیں پاکستان میں قومی ہیرو کے طور پر یاد کیا جاتا ہے، جہاں ان کے نام پر بندرگاہ قاسم اور باغ ابن قاسم جیسے مقامات نامزد ہیں، اور انہیں یوم باب الاسلام کے طور پر منایا جاتا ہے۔
ابتدائی زندگی اور پس منظر
محمد بن قاسم 695 کے قریب طائف، سعودی عرب میں بنو ثقفی قبیلے میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد قاسم بن یوسف تھے، جو ان کی ابتدائی عمر میں فوت ہو گئے، اور ان کی پرورش ان کی والدہ نے کی۔ ان کے چچا الحجاج بن یوسف، جو یمن کے گورنر تھے، نے ان کی فوجی اور انتظامی تربیت میں اہم کردار ادا کیا۔ وہ اپنی کزن زبیدہ، الحجاج کی بیٹی، سے شادی کر چکے تھے جب انہوں نے سندھ کی طرف مہم شروع کی۔
فوجی فتوحات
711 میں، الحجاج نے محمد بن قاسم کو سندھ فتح کرنے کے لئے بھیجا، کیونکہ عرب تاجروں کو ڈاکوؤں نے قید کر لیا تھا اور راجہ دہر نے ان کی رہائی سے انکار کر دیا تھا۔ انہوں نے دبل، نرون، برہمن آباد، اور ارور جیسے شہروں پر قبضہ کیا، اور آخر میں راجہ دہر کو ارور میں ہرا کر مار دیا۔ 712 میں، انہوں نے ملتان بھی فتح کیا، جس سے سندھ اور پنجاب کے بڑے حصے اموی خلافت کا حصہ بن گئے۔

سلطان اورنگزیب عالمگیر، جن کا پورا نام محی الدین محمد اورنگزیب تھا، مغلیہ سلطنت کے چھٹے شہنشاہ تھے جنہوں نے 1658ء سے 170...
05/03/2025

سلطان اورنگزیب عالمگیر، جن کا پورا نام محی الدین محمد اورنگزیب تھا، مغلیہ سلطنت کے چھٹے شہنشاہ تھے جنہوں نے 1658ء سے 1707ء تک ہندوستان پر حکمرانی کی۔ ان کی ولادت 3 نومبر 1618ء کو مالوہ کی سرحد پر ہوئی اور وہ شاہجہان اور ممتاز محل کے تیسرے بیٹے تھے۔

اورنگزیب عالمگیر نے اپنی زندگی میں علم و فضل کے میدان میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ وہ مغل بادشاہوں میں پہلے تھے جنہوں نے قرآن مجید حفظ کیا اور فارسی نثر میں مہارت حاصل کی۔ اس کے علاوہ، انہوں نے گھڑ سواری، تیر اندازی اور فنون سپہ گری میں بھی کمال حاصل کیا۔

ان کی حکمرانی کے دوران، انہوں نے اسلامی اصولوں کی پاسداری کرتے ہوئے کئی اصلاحات نافذ کیں۔ انہوں نے ہندوؤں اور مسلمانوں کی فضول رسومات کو ختم کیا، فحاشی کا انسداد کیا، اور خوبصورت مقبروں کی تعمیر و آرائش ممنوع قرار دی۔ مزید برآں، شراب، افیون اور بھنگ پر پابندی عائد کی، درشن جھروکا کی رسم ختم کی، اور بادشاہ کو سلام کرنے کا اسلامی طریقہ رائج کیا۔

اورنگزیب عالمگیر کی دینداری اور تقویٰ مثالی تھی۔ وہ ہر وقت باوضو رہتے، کلمہ طیبہ اور ادعیہ ماثورہ کا ورد کرتے، اور نماز باجماعت ادا کرتے تھے۔ انہوں نے قرآن مجید کی کتابت اور ٹوپیاں سی کر اپنی ذاتی ضروریات پوری کیں اور کبھی بھی قومی خزانے سے ذاتی خرچ کے لیے رقم نہیں لی۔

ان کی حکمرانی کے دوران، انہوں نے نظامِ سلطنت کو شریعت کے مطابق چلانے کے لیے "فتاویٰ عالمگیری" مرتب کروایا، جو فقہ اسلامی میں ایک ممتاز مقام رکھتا ہے۔

اورنگزیب عالمگیر کی وفات 3 مارچ 1707ء کو 90 برس کی عمر میں ہوئی اور انہیں خلد آباد، ضلع اورنگ آباد، مہاراشٹر (انڈیا) میں دفن کیا گیا۔

ان کی زندگی اور حکمرانی اسلامی اصولوں کی پاسداری، عدل و انصاف، اور تقویٰ و پرہیزگاری کی مثال ہے، جو آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔

مغل بادشاہ عالمگیر، جنہیں اورنگزیب کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، ایک ایسی شخصیت ہیں جنہوں نے 1658 سے 1707 تک اپنی حکومت کے...
04/03/2025

مغل بادشاہ عالمگیر، جنہیں اورنگزیب کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، ایک ایسی شخصیت ہیں جنہوں نے 1658 سے 1707 تک اپنی حکومت کے دوران مغل سلطنت کو اس کے عروج پر پہنچایا۔ ان کی سلطنت میں آج کا پاکستان بھی شامل تھا۔ عالمگیر اپنی سخت مذہبی پالیسیوں کے لیے مشہور ہیں، جن میں اسلامی قانون کی پابندی، ہندو مندروں کی تباہی، اور غیر مسلموں پر جزیہ ٹیکس کی واپسی شامل تھی۔ ان کے فیصلوں نے سماجی و سیاسی ڈھانچے پر گہرا اثر چھوڑا۔
فلسفیانہ زاویے سے دیکھیں تو عالمگیر کا دور ہمیں یہ سوال اٹھانے پر مجبور کرتا ہے کہ کیا مذہب اور طاقت کا امتزاج کامیاب حکومت کی بنیاد بن سکتا ہے؟ ان کی میراث آج بھی بحث کا موضوع ہے۔ آپ کے خیال میں عالمگیر کے نظریات اور اقدامات کا آج کے پاکستان پر کیا اثر ہے؟ کیا ان کی سوچ ہمارے دور سے مطابقت رکھتی ہے؟ اپنے خیالات کمنٹس میں شیئر کریں!"
ہیش ٹیگز: #تاریخ #فلسفہ #عالمگیر

کیا آپ جانتے ہیں کہ سقراط نے کبھی کوئی کتاب نہیں لکھی، مگر اس کے خیالات آج بھی فلسفہ کی بنیاد ہیں؟ تاریخ ہمیں بتاتی ہے ک...
03/03/2025

کیا آپ جانتے ہیں کہ سقراط نے کبھی کوئی کتاب نہیں لکھی، مگر اس کے خیالات آج بھی فلسفہ کی بنیاد ہیں؟ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ عظیم اذہان اپنے الفاظ سے نہیں، بلکہ اپنے سوالات سے زندہ رہتے ہیں۔ آئیے، آج اس سوال پر غور کریں: "زندگی کا مقصد کیا ہے؟"

(Due to technical issues, the search service is temporarily unavailable.)**رمضان المبارک کی عظمت اور فضیلت پر ایک مختصر ...
01/03/2025

(Due to technical issues, the search service is temporarily unavailable.)

**رمضان المبارک کی عظمت اور فضیلت پر ایک مختصر تحریر** 🌙
رمضان وہ مبارک مہینہ ہے جس میں قرآنِ پاک نازل ہوا، نیکیوں کا اجر بڑھا دیا جاتا ہے، اور شیاطین کو قید کر دیا جاتا ہے۔ اس ماہ کی چند نمایاں خوبیاں:

1. **قرآن کا مہینہ**: اللہ تعالیٰ نے فرمایا: *"رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا"* (البقرہ 185)۔ اس مہینے میں تلاوت، تدبر، اور عمل کی کوشش کریں۔
2. **روضوں کی فضیلت**: نبی ﷺ نے فرمایا: *"جو شخص رمضان میں ایمان اور احتساب کے ساتھ روزے رکھے، اس کے پچھلے تمام گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں"* (بخاری)۔
3. **لیلۃ القدر**: ایک رات (لیلۃ القدر) ہزار مہینوں سے بہتر ہے! اس رات عبادت کرنے والوں کو بے حساب اجر ملتا ہے۔
4. **رحمتوں کی بارش**: رمضان رحمت، مغفرت، اور جہنم سے آزادی کا مہینہ ہے۔ دعاؤں کی قبولیت کا خاص وقت ہے۔
5. **اجتماعیت کا جذبہ**: تراویح، افطار کی محفلیں، اور غریبوں کی مدد کر کے امت میں اتحاد بڑھائیں۔

**دعا**: اے اللہ! ہمیں رمضان کے ہر لمحے کو برکت والا بنانے کی توفیق دے، ہمارے روزوں، قیام، اور صدقات کو قبول فرما۔ آمین!

**ہیش ٹیگز**:


اللہ ہم سب کو رمضان کی برکتوں سے نوازے! 🌙✨

رمضان المبارک اور تراویح کی فضیلترمضان المبارک اللہ تعالیٰ کی رحمتوں اور برکتوں کا مہینہ ہے، جس میں قرآن مجید نازل ہوا ا...
01/03/2025

رمضان المبارک اور تراویح کی فضیلت

رمضان المبارک اللہ تعالیٰ کی رحمتوں اور برکتوں کا مہینہ ہے، جس میں قرآن مجید نازل ہوا اور اس ماہ کی عبادات کا اجر کئی گنا بڑھا دیا جاتا ہے۔ اس مبارک مہینے میں روزے کے ساتھ ساتھ ایک خاص عبادت "نمازِ تراویح" بھی رکھی گئی ہے، جو رمضان کی راتوں کو منور کرتی ہے۔

تراویح کی فضیلت:

1. سنت مؤکدہ: تراویح نبی کریمﷺ کی سنت ہے اور اس کا اہتمام کرنا باعثِ ثواب ہے۔

2. گناہوں کی معافی: حدیث میں آتا ہے کہ جو شخص ایمان اور ثواب کی نیت سے تراویح پڑھتا ہے، اس کے سابقہ گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں (بخاری، مسلم)۔

3. قربتِ الٰہی: رمضان کی راتوں میں قیام (تراویح) اللہ کے قرب اور رحمت کے دروازے کھولتا ہے۔

4. قرآن سننے اور سمجھنے کا موقع: تراویح میں مکمل قرآن مجید سننے کا موقع ملتا ہے، جو دلوں کو منور اور ایمان کو تازہ کر دیتا ہے۔

تراویح کا اہتمام کیسے کریں؟

باجماعت پڑھنے کی کوشش کریں، کیونکہ جماعت کا اجر زیادہ ہے۔

اگر مسجد میں ممکن نہ ہو تو گھر پر بھی ادا کی جا سکتی ہے۔

دل کی حاضری اور خشوع و خضوع کے ساتھ نماز پڑھیں تاکہ روحانی فائدہ حاصل ہو۔

رمضان المبارک کی پہلی تراویح کی سعادت حاصل کریں اور اس بابرکت مہینے کو خوب عبادت و استغفار میں گزاریں۔ اللہ ہمیں رمضان کی برکتوں سے مکمل فیضیاب ہونے کی توفیق عطا فرمائے، آمین!

Address

Okara
56000

Opening Hours

Monday 10:00 - 20:00
Tuesday 10:00 - 20:00
Wednesday 10:00 - 20:00
Thursday 10:00 - 20:00
Friday 10:00 - 20:00
Saturday 10:00 - 20:00
Sunday 10:00 - 20:00

Telephone

+923444332032

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Pakistani Zavia posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share