Humans of Jammu & Kashmir

Humans of Jammu & Kashmir This page is created to introduce prominent personalities from Jammu & Kashmir.

پروفیسر تقدیس گیلانی کی زندگی حوصلے، وقار اور مضبوطی کی ایک شاندار داستان ہے۔ پاکستان کی سول سروسز (CSS) سے اپنے سفر کا ...
26/10/2024

پروفیسر تقدیس گیلانی کی زندگی حوصلے، وقار اور مضبوطی کی ایک شاندار داستان ہے۔ پاکستان کی سول سروسز (CSS) سے اپنے سفر کا آغاز کرتے ہوئے، وہ آزاد جموں و کشمیر کی اہم ترین تعلیم یافتہ شخصیات میں شمار ہونے لگیں۔ بیوروکریسی کو چھوڑ کر، انہوں نے تعلیم کے شعبے میں قدم رکھا اور آزاد جموں و کشمیر یونیورسٹی کے شعبہ انگریزی کی پروفیسر بن گئیں۔ وہاں انہوں نے نہ صرف علم دیا بلکہ اپنے طلباء کو متاثر کیا، اور ان کی رہنمائی کی، جو اب مختلف شعبوں میں نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں، ہر ایک میں ان کی تربیت کا عکس موجود ہے۔

2005 کے تباہ کن زلزلے کے بعد، تقدیس گیلانی نے اپنی ہمدردی کا دائرہ کلاس روم سے باہر بڑھایا۔ اپنے اردگرد کے لوگوں کی مشکلات دیکھ کر، انہوں نے *ہوپ* (HOPE) کی بنیاد رکھی، جو ضرورت مند لڑکیوں کے لیے ایک پناہ گاہ بن گئی۔ اس تنظیم کے ذریعے انہوں نے نہ صرف انہیں چھت فراہم کی بلکہ ان کی تربیت بھی کی اور انہیں خود مختار مستقبل کی طرف لے گئیں۔ ان کا یہ جذبہ خدمت ان کی پہچان بن گیا اور مشکلات کو تبدیلی اور امید کے مواقع میں بدلنے کا ذریعہ بن گیا۔

ان کی خدمات کا سفر یہیں نہیں رکا۔ ثقافت کے تحفظ اور عوامی خدمت کے جذبے کے ساتھ، تقدیس گلانی نے سیاست کے میدان میں قدم رکھا جہاں بہت سی خواتین جانے سے ہچکچاتی ہیں۔ کشمیر کلچرل اکیڈمی کی چیئرپرسن کی حیثیت سے، انہوں نے کشمیر کی ثقافتی ورثے کو زندہ رکھا تاکہ آنے والی نسلیں اس سے مستفید ہو سکیں۔ ممبر قانون ساز اسمبلی (MLA) اور بعد ازاں وزیر برائے چھوٹی صنعتوں، تجارت اور سفر کے طور پر، انہوں نے خواتین کو معاشی مواقع فراہم کرنے کو اپنی ترجیح بنایا اور دیہی علاقوں میں چھوٹی صنعتوں کو خود انحصاری کا ذریعہ بنایا۔

عالمی سطح پر بھی تقدیس گیلانی کی پہچان بڑھی۔ وہ کشمیر کی پہلی خاتون پارلیمنٹیرین بنیں جنہوں نے گیمبیا میں OIC کانفرنس میں شرکت کی، اور پاکستان کے نائب وزیر اعظم کے ساتھ کھڑی ہوئیں۔ ان کی آواز دنیا کے بڑے فورمز پر گونجی، چاہے وہ برطانیہ کا ہاؤس آف کامنز ہو یا جنیوا میں انسانی حقوق کمیشن۔ انہوں نے نیویارک، انڈیا، فرانس اور بنگلہ دیش تک کشمیر کے مسئلے کو اجاگر کیا اور اپنے لوگوں کے حقوق کے لیے انتھک محنت کی۔

پروفیسر تقدیس گیلانی کی داستان صرف ان کی ذاتی کامیابی کی کہانی نہیں بلکہ اس بات کا ثبوت ہے کہ خواتین کس طرح ہمدردی، دانشمندی اور عزم کے ساتھ قیادت کر سکتی ہیں۔ ان کی زندگی اس بات کا ثبوت ہے کہ جب خواتین کو آگے بڑھنے کے مواقع دیے جائیں تو وہ معاشرے کو تبدیل کرنے میں کتنا اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔

یہ کہانی ہے ایک باہمت اور پر عزم شخصیت مانون راجہ کی۔ مانون ایک ڈاکٹر، کاروباری شخصیت اور جہاں گرد ہیں۔ ان کی زندگی کے س...
21/09/2024

یہ کہانی ہے ایک باہمت اور پر عزم شخصیت مانون راجہ کی۔

مانون ایک ڈاکٹر، کاروباری شخصیت اور جہاں گرد ہیں۔ ان کی زندگی کے سفر کا آغاز سعودی عرب سے شروع ہوا، لیکن بعد میں ان کا خاندان فرانس منتقل ہو گیا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ مانون ایک "فرنچ کشمیری" لڑکی ہیں۔ وہ بہترین زندگی گزار رہی تھیں۔ اسکاٹ لینڈ میں کاروبار سنبھال رہی تھیں اور عمان میں اپنے بھائیوں کے ہمراہ خاندانی کاروبار بھی کامیابی سے چلا رہی تھیں۔ مگر ایک دن سب کچھ بدل گیا۔

مانون اچانک اسپتال پہنچ گئیں، جہاں ڈاکٹروں نے انہیں طبی طور پر مردہ قرار دے دیا۔ تاہم ان کا خاندان ہمت نہیں ہارا۔ وہ پندرہ دن وینٹی لیٹر پر رہیں۔ ڈاکٹروں نے ہر امید توڑ دی، لیکن اللہ کی مرضی کچھ اور تھی۔ مانون کو اچانک نئی زندگی مل گئی اور ان کی زندگی کا نیا سفر شروع ہوا۔

تین مہینے تک وہ بستر سے اٹھ نہ سکیں۔ کئی نرسیں ہمہ وقت ان کی تیمار داری کے لیے موجود رہتی تھیں۔ یہ وقت ان کے لیے بہت مشکل تھا لیکن خاندان کے حوصلے اور طبی ماہرین کی محنت نے ان کی زندگی بدل دی۔

وہ دوسری بار زندگی ملنے پر شکر گزار ہیں اور پہلے سے کہیں زیادہ عزم کے ساتھ دنیا میں اپنا مثبت کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

اگرچہ طبی حالت اور شدید الرجی باعث ان کی سرگرمیاں قدرے محدود ہو چکی ہیں، مگر مانون نے ہمت نہیں ہاری۔

وہ اب بھی شوقیہ باکسنگ میں حصہ لیتی ہیں، حالانکہ ان کی صحت انہیں اکثر مشکل میں ڈال دیتی ہے۔ وہ تعمیراتی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی ہیں اور مشاورتی خدمات بھی فراہم کرتی ہیں۔

مانون کی کہانی عزم اور ہمت کی داستان ہے۔ وہ تمام رکاوٹوں کے باوجود زندگی کو بھرپور انداز میں جینے کی کوشش کر رہی ہیں۔ انہوں نے یہ ثابت کیا ہے کہ اگر یقین پختہ ہو اور خاندان کا ساتھ ہو تو کسی بھی مشکل کا سامنا کیا جا سکتا ہے۔

Abdul Mutaal, a rising star from Muzaffarabad, Kashmir, Pakistan, is captivating audiences with his unique blend of love...
19/05/2024

Abdul Mutaal, a rising star from Muzaffarabad, Kashmir, Pakistan, is captivating audiences with his unique blend of love songs with a traditional soul and contemporary flair. Though a newcomer to the professional scene, Abdul Mutaal has honed his craft for years, captivating local and foreign audiences with his powerful vocals, affluent guitar skills and heartfelt songwriting.

Started his music career in 2022 with his debut single "Jee Raha" produced by renowned Music Producer of Pakistan Sarmad Ghafoor, Mutaal has gone on to release a number of singles on his own. His latest addition to the score is "Batao Na," a melodious Electropop song that is drawing more and more enthusiasts from Pakistan, India and western countries as well. The music video of his latest single made a homage to the valleys of Kashmir, where he grew up and spent his childhood. Apart from his solo music career, he writes, produce and mix songs for other artists too.

With his talent, dedication, and ability to bridge tradition with modernity, Mutaal is sure to leave a lasting impression on the Pakistani music scene and beyond. Keep an eye on this rising star from the heart of Muzaffarabad.

Tum Na Mily (Official Video) - Abdul MutaalFeaturing: Abdul Mutaal, Ume Hani & Hashim Khattak Listen on Spotify: https://open.spotify.com/track/7vA5JmvlTenM8...

سردار عطا الٰہی عباسی(ایڈوکیٹ)صاحب کی پیدائش ضلع باغ کے گاؤں چمیاٹی میں ہوئی۔ والد محترم اس وقت مردان، تخت بائی میں ایک ...
12/05/2024

سردار عطا الٰہی عباسی(ایڈوکیٹ)صاحب کی پیدائش ضلع باغ کے گاؤں چمیاٹی میں ہوئی۔ والد محترم اس وقت مردان، تخت بائی میں ایک ٹھیکیدار کے ساتھ کام کرتے تھے۔ عطا الٗہی کی پیدائش کے پانچ سال بعد نوکری ترک کر کے پلندری میں ٹھیکیداری شروع کی۔

عطا الٰہی صاحب کے بچپن میں تحریک آزادی شروع ہوئی اور مجاہد اوٌل نے جنرل اکبر کی سربراہی میں سیز فائر لائن توڑنے کا پروگرام بنایا۔ جس کے بعد سردار عبدالقیوم خان کے ساتھ عطا الٗہی صاحب کے والد بھی گرفتار ہوئے۔ اس یادداشت کی ایک وجہ والد صاحب کا لاہور لے جانے کا وعدہ تھا۔ گھر سوگوار تھا کیونکہ اس کیس میں پھانسی ہو سکتی تھی لیکن عطا الٰہی صاحب اس انتظار میں تھے کہ کب والد صاحب انہیں لاہور لے کر جائیں۔بالآخر ایک سمجھوتے کے تحت ان کے والد محترم اور سردار عبدالقیوم صاحب رہا ہوئے۔
تعلیم کی ابتدا چمیاٹی کے ٹاٹ اسکول سے ہوئی جو پرائمری تک جاری رہی۔ مڈل کے لیے چمن کوٹ میں داخل ہوئے اور پھر ہائی اسکول دھیرکوٹ میں داخلہ لیا۔ 1964ء میں لاہور بورڈ سے میٹرک پاس کرنے والے اپنے علاقے کے واحد طالب علم تھے۔ اس خوشی میں والد محترم نے پورے گاؤں کی دعوت کی تھی۔

میٹرک کے بعد گارڈن کالج راولپنڈی میں داخلہ لیا۔ 1969ء تک تعلیم جاری رہی۔ اسی دوران ایوب خان کے خلاف چلنے والی تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ دو ماہ بعد تحریک اختتام کو پہنچی تو واپس کالج کا رخ کیا۔ طلباء الیکشن کے دوران مخالف پارٹی سے جھگڑا ہوا اور ایک لڑکا ہاتھاپائی سے بے ہوش ہو گیا۔ اسی دن پاک آرمی میں کمیشن کے بعد میڈیکل تھا۔ وہ دل کی دھڑکن تیز ہونے کی وجہ سے فیل ہو گیا۔ اس لڑکے کو پھینٹی لگانے کے جرم میں دو ماہ کے لیے کالج سے نکال دیا گیا۔ بعد میں ستر روپے جرمانہ ادا کرنے کے بعد واپس بحال ہوا۔

گارڈن کالج سے بی اے پاس کرنے کے بعد قانون کی ڈگری لینے کے لیے لاہور لاء کالج میں داخلہ لیا اور 1973ء میں ڈگری حاصل کی۔ 1975ء تک راولپنڈی میں مولوی سراج الحق کے ساتھ پریکٹس کی۔
سیاست میں سردار عبدالقیوم صاحب کے صدارتی الیکشن میں پیش پیش رہے۔ 1975ء کے الیکشن میں مجاہد اول کے سیکریٹری کے طور پر ان کے ساتھ رہتے ہوئے آزادکشمیر اور پنجاب کے دورے کیے۔ اسی دوران 21 مئی 1975ء کو دولائی کے مقام پر بھٹو صاحب کی بنائی گئی (FSF) نے راستہ روکا۔ مظفرآباد میں مسلم کانفرنس کا اسٹیج جلایا گیا اور دفعہ 144 نافذ کر کے مجاہد اول سمیت تقریباً دس ہزار کے مجمع کا داخلہ ممنوع کر دیا گیا۔

اپریل 1976ء میں سردار سکندر حیات اور مجاہد اول کی سیکریٹری کی پیشکش سے معذرت کرتے ہوئے دھیرکوٹ میں دوبارہ وکالت شروع کی۔ وکالت کے پہلے ہی سال کامیابی ملی اور وکالت چل پڑی۔

1985ء میں جب مسلم کانفرنس کی حکومت بنی تو سردار سکندر حیات صاحب نے سیشن جج بننے کی پیشکش کی لیکن ملازمت کی وجہ سے معذرت کر لی۔

1987ء میں اس وقت کے چیف جسٹس نےایک دفعہ پھر سب جج لگنے کی پیشکش کی لیکن معذرت کر لی کیونکہ وکالت اچھی چل رہی تھی۔ وکالت میں آنے کی وجہ ایک جھگڑا بنا تھا، جس میں کچھ دوستوں کو پولیس نے پکڑ لیا۔ جس وکیل نے ان کی ضمانت کروائی تھی، اس نے بتایا کہ قانون کے مطابق پولیس گرفتار نہیں کر سکتی۔ یہی وہ لمحہ تھا قانون جاننے اور وکیل بن کر لوگوں کی مدد کرنےکا جذبہ پیدا ہوا۔

1989ء میں محکمہ صحت میں ایڈیشنل سیکرٹری کی ملازمت اختیار کی۔ 1996ء میں پی پی پی کی حکومت تمام لوگوں کو فارغ کر دیا۔ اس کے بعد انہوں نے دوبارہ وکالت شروع کر دی۔

2006ء میں بطور پی ایس سی ممبر سلیکٹ ہوئے اور تین سالہ ممبر شپ مکمل کرنے کے بعد دوبارہ وکالت شروع کر دی۔ پھر خرابی صحت کی وجہ سے 2021ء میں وکالت کو خیر باد کہنے کے بعد آج کل مظفر آباد میں مقیم ہیں۔

سردار احمر خان آزاد کشمیر بحرین پاچھیوٹ، راولاکوٹ سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہ اداکاری کے ساتھ ساتھ ہدایتکاری اور گلوکاری بھی ک...
26/02/2024

سردار احمر خان آزاد کشمیر بحرین پاچھیوٹ، راولاکوٹ سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہ اداکاری کے ساتھ ساتھ ہدایتکاری اور گلوکاری بھی کرتے ہیں۔ حال ہی میں انہوں نے پہاڑی شارٹ فلم ”جرگہ“ میں ہدایت کاری اور اداکاری کے جوہر دکھائے۔ انہوں نے خود بھی بہت سی شارٹ فلمیں بنائی ہیں۔ مستقبل میں وہ کشمیر سے متعلق پراجیکٹس پر کام کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

مقامی طور پر موسیقی کی دنیا میں ان کا کافی کام ہے۔ راولاکوٹ کی تاریخ کا سب سے پہلا کنسرٹ خان اشرف خان اسٹیڈیم میں منعقد کروانے کا سہرا بھی سردار احمر خان کے سر ہے۔

راجہ محمد آزاد خان (مرحوم) ضلع باغ کے علاقے پیل کے ایک نامور گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم گورنمنٹ اسکول ملوٹ سے ح...
20/02/2024

راجہ محمد آزاد خان (مرحوم) ضلع باغ کے علاقے پیل کے ایک نامور گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم گورنمنٹ اسکول ملوٹ سے حاصل کی۔ گورنمنٹ اسکول باغ سے میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ انٹر اور گریجویشن کے لیے میرپور چلے گئے۔ 1962ء میں گورنمنٹ ڈگری کالج میرپور میں بحیثیت طالب علم رہنما اپنی سیاسی زندگی کا آغاز کیا۔ آپ نے ممتاز حسین راٹھور کے ساتھ مل کر نیشنل اسٹوڈنٹ فیڈریشن (NSF) کی بنیاد رکھی۔ طلباء کے حقوق کے لیے بھوک ہڑتال سمیت مختلف مظاہروں کی سربراہی کی۔ کالج میں ہاکی اور فٹبال کے بہترین کھلاڑی شمار کیے جاتے تھے۔ وہ میرپور میں فٹبال ٹیم کے کپتان بھی تھے۔ بزم ادب سوسائٹی کے صدر رہے۔ طلباء کے حقوق کی خاطر ہر محاذ پر سربکف رہے اور سیاست میں اپنے نام کا سکہ جمایا۔
سن ‎ء1965-1966 کے دوران پنجاب یونیورسٹی میں قانون کے طالب علم کی حیثیت سے آپ نے اپنی سرگرمیاں جاری رکھیں۔ ‎1968 میں یونین کونسل ملوٹ کے چیئرمین منتخب ہوئے۔
آزادکشمیر میں پہلے عام انتخابات (1970) میں آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے ٹکٹ پر غربی باغ سے قانون ساز اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔
راجہ محمد آزاد خان ایک قابل وکیل زیرک سیاستدان اور درد دل رکھنے والے انسان تھے۔ آپ نے ہمیشہ غریب اور پسے ہوئے طبقے کی آواز بلند کرنے کا بیڑہ اٹھایا۔ مستحق افراد کے مقدمے بلا معاوضہ لڑ کر قانون و انصاف کی سربلندی کے لیے کوشاں رہے۔
دھیرکوٹ میں وکالت کے دوران انہیں سردار عبدالقیوم کی رفاقت میسر رہی۔ سردار عبدالقیوم، سردار سکندر حیات خان اور راجہ ممتاز حسین راٹھور کا شمار ان کے قریبی ساتھیوں میں ہوتا تھا۔
ممبر منتخب ہونے کے بعد آپ نے قانون ساز اسمبلی میں عوام کے موقف کو بڑی بہادری اور جاندار انداز میں پیش کیا۔ انہوں نے کبھی عوامی حقوق پر سودے بازی نہیں کی۔
وفاقی حکومت کی ایما پر ‎1973-74ء میں صدر آزادکشمیر کے خلاف عدم اعتماد میں شامل نہ ہونے کی پاداش میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔ اس دوران آپ کو بے پناہ جسمانی تشدد اور ذہنی اذیتیں دی گئیں۔ دولائی کیمپ میں تشدد کے دوران آپ کی ناک کی ہڈی ٹوٹ گئی تھی۔ آپ کے جسم پر تشدد کے نشانات مرتے دم تک رہے۔
انہیں سیاسی وفاداری تبدیل کرنے کے لیے ہر طرح کا لالچ دیا گیا، ہر قسم کا دباؤ ڈالا گیا لیکن آپ کے پائے استقلال میں لغزش تک نہ آئی۔
جب کہ آپ کے تمام ساتھی اور قائدین ایک ایک کر کے ہتھیار ڈالتے گئے تھے۔ مارشل لاء کے دوران یہ سلسلہ موقوف ہوا لیکن بحالیَ جمہوریت کے لیے آپ پھر میدان میں کود پڑے۔ قید و بند کا سلسلہ جہاں رکا ہوا تھا، وہیں سے شروع ہو گیا۔ پلندری، باغ اور مظفرآباد کی جیلوں میں ایوان اقتدار کا جبر آپ کے صبر و استقلال اور پا مردی کو زیر نہ کر سکا۔ ان کا سیاسی سفر اپنے اندر سینکڑوں داستانیں سمیٹے ہوئے تھا۔
بھٹو صاحب کی بی ایس ایف ہو یا جنرل ضیاء کا مارشل لاء کوئی بھی ظلم راجہ آزاد کو حق گوئی سے دور نہ کر سکا۔ عہدوں اور سیاسی ایڈجسٹمنٹ کا لالچ بھی ان کے راستے میں ریت کی دیوار ثابت ہوا۔
درویش صفت راجہ آزاد خان پبلک ٹرانسپورٹ پر سفر کیا کرتے تھے۔ عوام کے ساتھ گھل مل کر رہنا موصوف کی خدادا صلاحیت تھی۔ جس گلی محلے سے گزرتے عوام کا جم غفیر ان کے پاس جمع ہو جاتا۔ انہوں نے کبھی برادری اور کنبے کی سیاست نہیں کی۔
جب سردار عبدالقیوم 1985 کے انتخابات میں صدر ریاست بنے تو ان کی خالی ہونے والی نشست پر راجہ آزاد غربی باغ کے مضبوط ترین امیدوار تھے مگر نہ جانے کس مصلحت کے تحت انہوں نے ٹکٹ اپنے بھائی سردار عبدالغفار خان مرحوم کو دیا۔ اس بات پر راجہ آزاد خان بہت افسردہ بھی رہتے تھے۔ آپ کو سیاسی منظرنامے سے الگ کرنے کے لیے جماعت نے ایک سرکاری عہدے پر فائز کر دیا۔ 1987-1990 بحیثیت کسٹوڈین آپ نے عوام کی بے لوث خدمت کی۔ آج بھی ہزاروں لوگ ان کے کیے گئے فیصلوں کے معترف ہیں۔
راجہ محمد آزاد خان 22 جولائی 1990ء کو اس جہان فانی کو الوداع کہہ گئے لیکن ان کے کار ہائے نمایاں عصرِ حاضر کے سیاستدانوں کے لیے مشعل راہ ہیں۔ انسانی تاریخ میں ایسے لوگ بہت کمیاب ہوتے ہیں جنہوں نے ظلم و جبر اور مصائب کا پامردی سے مقابلہ کیا ہو۔ اپنے سیاسی کیرئیر میں اپنے لیے کچھ نہیں بنایا بلکہ ملک و قوم کا مفاد مقدم رکھ کر عوامی خدمت کو شعار بنائے رکھا۔
راجہ آزاد کا گھرانا اب بھی عوامی حقوق کی خاطر سیاسی و سماجی میدان میں سرگرم عمل ہے۔ ان کے فرزند راجہ فیصل آزاد گزشتہ انتخابات میں حصہ لے چکے ہیں۔ وہ مستقبل میں بھی اپنے والد کے نقشِ قدم پر چل کر عوام کی خدمت کا عزم رکھتے ہیں۔

Allama Dr M Ismail belongs to Muzaffarabad, AJK. He has completed his early education from his father (who wrote a copy ...
19/02/2024

Allama Dr M Ismail belongs to Muzaffarabad, AJK. He has completed his early education from his father (who wrote a copy of Quran Pak) at his home. After that he did his matriculation and intermediate from Punjab board. Then he did his BA from Lahore and after that he got his degree in homeopathics. He became a homoeopathic doctor.

He was a social worker so he opened a private clinic in his village to treat the patients who struggle to go to a hospital that was far away from their house. After that he started participating in politics and become chairman markazi council.
After completing his tenure he retired from that profession to spend his quality time with his family. God has bless him with 3 daughters and 8 son. His elder son is accounts officer in AG office, and younger son is a well known politician, Khalid Ismail.
One of his grandsons, Taimur Mumtaz is protocol officer in the Supreme Court. Another grandson is District councillor Nadeem Mumtaz.

12/02/2024

قوموں کی ساکھ، حیثیت اور اہمیت آبادی اور جغرافیائی طور پر متعین نہیں ہوتی، اس کا دار و مدار ان کی سوچ، فکر اور عمل پر ہے۔

کشمیری فطرتاً بہادر اور جی دار قوم ہیں۔ انہیں نامساعد اور غیر موافق حالات سے راستہ نکالنے کا ہنر آتا ہے۔ وہ تعلیم کی اہمیت سے بھی کماحقہ واقفیت رکھتے ہیں۔ شرحِ خواندگی کی بلند سطح یونہی نہیں حاصل ہو جاتی، اس میں اساتذہ سے زیادہ والدین اور بچوں کی دلچسپی معنی رکھتی ہے۔ ہمارا عمل ثابت کرتا ہے کہ ہم باشعور اور زندہ قوم ہیں۔

شاردہ میں برف باری کے باوجود بچوں کے اسکول جانے کا ایک منظر

چھو رہے تھے ظالموں کے سر مرے پاؤں کے ساتھکس قدر اونچا تھا میں سولی پہ چڑھ جانے کے بعدمحمد مقبول بھٹ ایک کشمیری علیحدگی پ...
11/02/2024

چھو رہے تھے ظالموں کے سر مرے پاؤں کے ساتھ
کس قدر اونچا تھا میں سولی پہ چڑھ جانے کے بعد

محمد مقبول بھٹ ایک کشمیری علیحدگی پسند اور عسکریت پسند تنظیم نیشنل لبریشن فرنٹ کے بانی تھے۔ وہ 18 فروری 1938ء کو تحصیل ہندواڑہ، ضلع کپواڑہ کے گاؤں تریگام میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد غلام قادر بھٹ ایک کسان تھے۔ مقبول بھٹ نے ابتدائی تعلیم تریگام کے ایک مقامی سرکاری اسکول سے حاصل کی۔ انہیں ثانوی تعلیم کے لیے سینٹ جوزف اسکول بھیج دیا گیا۔

انہوں نے تاریخ اور سیاسیات کی گریجویشن کی۔ دینی امور میں وہ مولانا شاہ عبدالولی سے رہنمائی لیا کرتے تھے۔

امتحان دینے کے بعد انہیں سیاست میں دلچسپی پیدا ہوئی لیکن محاذِ رائے شماری پر آئے دن کریک ڈاؤن کی وجہ سے وہ نتیجہ آنے تک زیرِ زمین رہے۔

مقبول بھٹ اپنے چچا عزیز بھٹ اور چند اکابرین پاکستان چلے آئے۔ انہوں نے جامعہ پشاور میں اردو ادب میں ایم اے کے لیے داخلہ لیا۔ ان کے ہم جماعتوں میں احمد فراز اور طہ خان شامل تھے۔ پاکستان آنے سے قبل مقبول بھٹ نے جنوبی کشمیر کے ایک ادارے میں عارضی طور پر پڑھایا تھا۔

ایم اے اردو کے دوران انہوں نے انجام نامی اخبار میں بطور ایڈیٹر کام کیا۔ مقبول بھٹ نے 1961ء میں راجہ بیگم سے شادی کی۔ ان کے دو بیٹے شوکت مقبول بھٹ (1962) اور جاوید مقبول بھٹ (1964) تولد ہوئے۔ راجہ بیگم کی شدید علالت کے باعث مقبول بھٹ نے 1966ء میں ذاکرہ بیگم سے دوسری شادی کی۔ وہ ایک استاد تھیں لیکن انہوں نے خاندان کی بہترین دیکھ بھال کی۔

مقبول بھٹ نے ہفتہ وار رسالہ خیبر نکالا جو ناگزیر وجوہات کی بناء پر بند کر دیا گیا۔ انہوں نے انتخاب بھی لڑا لیکن بعد میں کے-ایچ خورشید کی انتخابی مہم چلانے لگے۔

انہوں نے آزاد کشمیر محاذِ رائے شماری میں شمولیت اختیار کی اور 12 جولائی 1965ء کو میرپور میں ورکنگ پارٹی کے اجلاس میں مسلح جدوجہد کی تجویز پیش کی جسے شرکاء نے مسترد کر دیا۔ پھر انہوں نے 13 اگست 1965ء کو پشاور میں امان اللہ کی رہائش گاہ پر نیشنل لبریشن فرنٹ (NLF) کے قیام کا اعلان کیا۔ مقبول بھٹ، طاہر اورنگزیب، میر احمد اور کالا خان نے 10 جون 1966ء کو مقبوضہ کشمیر جانے کا فیصلہ کیا۔

بارڈر سیکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپ میں طاہر اورنگزیب اور سی آئی ڈی افسر امر چند مارے گئے۔ مقبول بھٹ، کالا خان اور میر احمد کو گرفتار کر لیا گیا۔ ان پر امر چند کو قتل کرنے اور سیز فائر لائن غیر قانونی طور پر عبور کرنے کے الزامات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔ جج نیل کنتھ گنجو نے اگست 1968ء کو مقبول بھٹ اور میر احمد کو سزائے موت، جب کہ کالا خان کو عمر قید کی سزا سنائی گئی۔ مقبول بھٹ نے ان الزامات کی تردید کی۔

مقبول بھٹ نے اپنے ساتھیوں کی مدد سے جیل میں اڑتیس فٹ لمبی سرنگ کھودی اور 8 دسمبر 1968ء کو رات 2:10 بجے وہ میر احمد اور غلام یاسین کے ہمراہ فرار ہو گئے۔

آزاد کشمیر پہنچنے پر انہیں گرفتار کر کے تین ماہ تک قلعہ اسود مظفرآباد میں بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ وہ اسلام آباد میں پلیبسائٹ فرنٹ، این ایل ایف اور نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن (این ایس ایف) کے مظاہروں کے بعد رہا ہوئے۔

مقبول بھٹ آزاد جموں و کشمیر کے نوجوانوں کے لیے مسلح جدوجہد کا استعارہ بن کر ابھرے اور انہیں Plebiscite Front کا چیئرمین منتخب کر لیا گیا۔ کئی اراکین مسلح جدوجہد کے مخالف تھے تاہم مقبول بھٹ آگے بڑھتے چلے گئے۔ اس تحریک نے کشمیر کے دونوں اطراف بے انتہاء مقبولیت حاصل کی۔

اسی دوران مقبول بھٹ پر بھارتی ایئر لائن کا مسافر طیارہ ہائی جیک کر کے لاہور لانے کے ماسٹر مائنڈ ہونے کا الزام لگا ہائی جیکرز نے JKLF سے وابستگی ظاہر کی تھی۔ انہوں نے مسافروں کے بدلے بھارتی جیلوں سے NLF کے پچیس کارکنوں کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا۔ عملے اور مسافروں کو بھارت واپس روانہ کرنے کے بعد طیارے کو دھماکے سے اڑا دیا گیا۔

مقبول بھٹ کو JKLF کے متعدد کارکنوں کے ہمراہ دوبارہ گرفتار کر کے شاہی قلعہ لاہور اور دولائی کیمپ، مظفرآباد میں تفتیش کی گئی۔ ہاشم قریشی کے علاوہ تمام کارکنوں کو رہا کر دیا گیا۔ ان کو دو سال بعد رہا کیا گیا تھا۔

پاکستان نے آزاد کشمیر میں مسلح سرگرمیوں پر پابندی لگا دی تھی لیکن مقبول بھٹ نے 1976ء میں بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں داخل ہونے کا فیصلہ کیا۔ انہیں دوبارہ گرفتاری کے بعد جیل میں منتقل کر دیا گیا۔ ان کی سزائے موت کالعدم نہیں ہوئی تھی۔ انہوں نے بھارت کے صدر گیانی زیل سنگھ سے غیر منصفانہ مقدمات کی بنیاد پر معافی طلب کی۔ اس دوران برطانیہ میں ہندوستانی سفارت کار رویندر مہاترے کو 3 فروری 1984ء کو برمنگھم سے اغوا کیا گیا۔ اغوا کاروں نے مقبول بھٹ کی رہائی کا مطالبہ کیا۔ کشمیر لبریشن آرمی نے 6 فروری 1984ء کو اس سفارت کار کو قتل کر دیا اور خود منظرِ عام سے غائب ہو گئے۔

اس واقعے کی بنیاد پر مقبول بھٹ کی درخواست مسترد ہو گئی۔ انہیں 11 فروری 1984 کو دہلی کی تہاڑ جیل پھانسی دے کر جیل کے احاطے میں ہی دفن کر دیا گیا۔

دورِ باطل میں حق پرستوں کی
بات رہتی ہے، سر نہیں رہتے۔۔۔۔۔!

سانحۂِ ارتحالسابق صدر آزاد کشمیر و بانیٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کے سیکریٹری کے ایچ خورشید کی اہلیہ محترمہ بیگم ...
30/01/2024

سانحۂِ ارتحال

سابق صدر آزاد کشمیر و بانیٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کے سیکریٹری کے ایچ خورشید کی اہلیہ محترمہ بیگم ثریا خورشید لاہور میں انتقال کر گئی ہیں۔ بیگم ثریا خورشید متحرک سیاسی کارکن تھیں۔ وہ نوے کی دہائی میں رکن اسمبلی بھی رہیں۔

ان کی نمازِ جنازہ کل مورخہ 31-1-2024 بروزِ بدھ بعد از نمازِ ظہر خالد مسجد، کیولری گراؤنڈ لاہور میں ادا کی جائے گی۔

ماریہ ریاض کوئٹہ میں پیدا ہوئیں۔ انہوں نے لاہور میں پرورش پائی لیکن 2019 سے مظفرآباد آزاد کشمیر کو اپنا مسکن بنائے ہوئے ...
28/01/2024

ماریہ ریاض کوئٹہ میں پیدا ہوئیں۔ انہوں نے لاہور میں پرورش پائی لیکن 2019 سے مظفرآباد آزاد کشمیر کو اپنا مسکن بنائے ہوئے ہیں۔

ماریہ NCA لاہور سے فارغ التحصیل ٹیکسٹائل ڈیزائنر اور ملٹی میڈیا آرٹسٹ ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے رہوڈ آئی لینڈ اسکول آف ڈیزائن امریکہ سے ڈیجیٹل ڈیزائن کورس کیا ہوا ہے۔ وہ سابقہ آرٹ اور ڈیزائن ایجوکیٹر، ڈیزائنر اور اینیمیٹر ہیں۔

ماریہ کے تین بچے ہیں۔ اپنے بچوں کے سوالات کے باعث انہوں نے بچوں کا ادب تخلیق کرنا شروع کیا۔ وہ بچوں کے ذہنوں میں حقیقی زندگی کے مقامی پاکستانی ہیروز کا تصور اجاگر کرنا چاہتی تھیں۔ انہوں نے اپنی صلاحیتیں بہترین مقصد کے لیے استعمال کر کے اپنی پہلی عکسی کتاب ”ہمارے سپر ہیرو ایدھی بابا“ شائع کروائی جسے بے حد پذیرائی حاصل ہوئی۔

ماریہ نے بطورِ WHY Books Pakistan کی بانی مختلف اشاعتی اداروں کے لیے بچوں کی تیس سے زائد کتب کی illustration کی، جن میں ان کی اپنی لکھی ہوئی چھ کتابیں بھی شامل ہیں۔ آغا خان یونیورسٹی، روم ٹو ریڈ، دی ایشیاء فاؤنڈیشن، الفلائلہ اور آئی بی بی وائی، ادارۂ تعلیم و آگہی، سائنس فیوز وغیرہ ان کے کلائنٹ میں شمار ہوتے ہیں۔

ماریہ کا سب سے نمایاں پروجیکٹ ”ہمارے سپر ہیرو ایدھی بابا“ اور ”ماحول سہیلیاں“ ہیں۔ علاوہ ازیں وہ ڈیجیٹل پورٹریٹ اور آگاہی پوسٹرز بھی بناتی ہیں۔

ان کے ادارے WHY Books Pakistan کی دو کتب کو UBL ادبی ایوارڈ کے لیے نامزد کیا گیا تھا۔ انہیں 2021ء میں پاکستان کی 101 ممتاز خواتین سی ای اوز کی جانب سے دی صادقین پرائیڈ آف پرفارمنس ایوارڈ سے نوازا گیا۔

ان کا نیا پراجیکٹ آزاد کشمیر یونیورسٹی میں ابتدائی مراحل میں ہے، جس میں وہ طلباء کو Book Development course کروانے کے لیے پر عزم ہیں۔ اس ضمن میں وہ اپنا وسیع تجربہ اور خداداد صلاحیت بھرپور طریقے سے استعمال کرنے کی خواہش مند ہیں۔

آپ درج ذیل ویب سائٹ پر ان کے کام کی تفصیل دیکھ سکتے ہیں۔

www.whybooks.com.pk

نام: جمشید نازتاریخ پیدائش: ۱۵ اپریل ۱۹۵۲، مظفرآبادابتدائی تعلیم: گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول، مظفرآبادمیٹرک: لاہور بورڈ (فر...
24/01/2024

نام: جمشید ناز
تاریخ پیدائش: ۱۵ اپریل ۱۹۵۲، مظفرآباد
ابتدائی تعلیم: گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول، مظفرآباد
میٹرک: لاہور بورڈ (فرسٹ ڈویژن)
ایف ایس سی: بوائز کالج، مظفرآباد
ان دنوں سائنس کی تعلیم حاصل کرنے والی لڑکیوں کے لیے گرلز کالج میں سائنس ٹیچر نہ تھی۔ گریجویشن بھی اسی کالج سے کی۔
لاہور سے پینٹنگ، نیٹنگ اور وڈ ورک کا ایک سالہ ڈپلومہ لیا۔

سوشل ویلفیئر میں ملازمت مل گئی تھی لیکن ان دنوں ٹیچر کے علاوہ کسی اور محکمہ میں لڑکیوں کا نوکری کرنا اچھا نہیں سمجھا جاتا تھا۔ اس لیے گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول میں بطورِ سائنس ٹیچر ملازمت اختیار کی۔ اس دوران شادی ہو گئی۔ میرے چار بچے ہیں الحمدللہ۔
شادی کے بعد میں نے ایم اے اردو اور بی ایڈ کیا۔

۱۹۸۰ء میں پی ایس سی کا امتحان پاس کر کے گرلز ایلیمنٹری کالج میں سبجیکٹ اسپیشلسٹ تعینات ہوئی۔

۱۹۹۲ میں Vice Principal Higher Secondary School, Saheli Sarkar تعینات ہوئی۔

اکتوبر ۱۹۹۴ء میں پرنسپل گرلز ایلیمنٹری کالج ترقی یاب ہوئی۔ اس وقت ایلیمنٹری کالج کی عمارت نہیں تھی۔ جب عمارت بنی تو زمین کے مالک نے راستہ دینے سے انکار کر دیا۔ اندر انے جانے کا کوئی راستہ نہیں تھا۔ یہ بہت بڑی پریشانی تھی۔ میں نے تعیناتی کے فوراً بعد راستے کے لیے کوششیں شروع کر دیں۔ آمد و رفت کا موجودہ راستہ کھلوانے میں بہت سے لوگوں کا ہاتھ ہے۔
۱۔ سردار عبدالقیوم، وزیراعظم وقت
۲۔ مجاہد نقوی، سکریٹری حکومت وقت
۳۔ کرنل ابدال بیلا، انچارج فور فیلڈ ۴۔ لیفٹیننٹ جنرل اشفاق کیانی
اس عمارت کے ساتھ آرمی فور فیلڈ والوں کا رقبہ تھا۔ تاریخ میں پہلی بار فوج نے کسی کو کچھ رقبہ دیا۔ یہ میرا بہت بڑا کارنامہ ہے جو شاید میری بخشش کا ذریعہ بنے۔
میں نے کالج میں بہت سی تبدلیاں لائیں۔
پورے کالج میں پھول پودے لگوائے۔
ٹرینرز کے لیے درس اور ماڈل لیسن کا شیڈول جاری کیا۔
پرنسپل کی طرف سے ماڈل لیسن کا ہفتہ وار پروگرام رکھا اور خود لیسن دینا شروع کیا۔
ہم نصابی سرگرمیوں کا آغاز کیا۔
عمارت کی چار دیواری کی منظوری لی اور مزید تعمیر و تبدیلی کے ساتھ ساتھ چار دیواری بنوائی۔

۱۹۹۶ء میں مجھے ڈی ای او مظفرآباد تعینات کیا گیا۔ اس وقت مظفرآباد، ہٹیاں اور نیلم ایک ہی ضلع تھا۔ یہ بہت سخت سیاسی پوسٹ تھی، جس پر بہت دباؤ تھا۔ الحمدللہ میں نے اپنی بساط کے مطابق کام کیا۔

۲۰۰۳ء میں Education system Reforms کے لیے آزاد کشمیر سے دو ڈی سی اوز منتخب کر کے انہیں پاکستانی گروپ کے ساتھ انگلینڈ اور امریکہ کے دورے ہر بھیجا گیا۔ یہ ایک اچھا وزٹ تھا جس میں ہمیں بہت سے اسکول سسٹم دکھائے گئے جن میں pre school, Special education, early childhood school system شامل تھے۔

۲۰۰۵ء کے زلزلہ کے بعد گھر، عمارات اور اسپتال ملیا میٹ ہو گئے تھے لیکن سب سے بڑی تباہی اسکولوں میں ہوئی تھی۔
کچی عمارات سب گر گئیں۔ سینکڑوں بچے اور استاد لقمۂ اجل بن گئے۔ ایک قیامت کا سماں تھا۔ ایسے میں ہم نے انتھک کام کیا۔ نہ صرف مالی امداد فراہم کی بلکہ دن رات آفس میں بیٹھ کر ڈیٹا تیار کیا۔

ملکی اور غیر ملکی امداد کے لیے تنظیمیں سب سے پہلے ڈیٹا مانگتی تھیں اور آزاد کشمیر میں محکمہ تعلیم کا کوئی ڈیٹا موجود نہ تھا۔

ہم نے SAVE THE CHILDREN, UNICEF, UNFPA, USAID کے ساتھ مل کر کام کیا۔

ادارۂ تعلیم و آگاہی تنظیم نے امریکن ایمبیسی کی طرف سے ۲۰۰۷ء میں ۲۰ افسران کا گروپ ٹریننگ کے لیے
NEW HAMPSHIRE UNIVERSITY AMERICA
بھجوایا۔ یہ اپنی نوعیت کا منفرد اور زبردست ٹریننگ پروگرام تھا۔ میں ابھی تک اس کی ممبر ہوں اور باقاعدگی سے PUAN کے پروگراموں میں حصہ لیتی ہوں۔

میں فرخ قریشی شہید کی بہن ہوں۔ وہ مقبوضہ کشمیر کے مظلوموں کے ساتھ یکجہتی کے لیے ۱۱ فروری ۱۹۹۰ء کو چکوٹھی کے مقام پر احتجاج کا حصہ تھا اور ہندوؤں کی گولی کا نشانہ بن کر امر ہو گیا۔

۲۰۱۵ء میں اپنی امی کے نام پر غیر منافع بخش غیر سیاسی تنظیم تشکیل دی۔ میری ایک کزن کی بیٹی بھی اپنی امی کے نام سے تنطیم بنا کر لوگوں کی مدد اور سپورٹ کرنا چاہتی تھی اس لیے دونوں ناموں کو ملا کر زینب خاتون فرحت ویلفیئر فاؤنڈیشن کے نام سے تنظیم بنائی۔ جس کے مقاصد یہ ہیں۔
۱۔ سرکاری اسکولوں میں بنیادی ضروریات مہیا کرنے میں کردار ادا کرنا۔
۲- ضرورت مند خواتین کی سپورٹ اور انہیں ہنر مند بنانے میں کردار ادا کرنا۔
۳- مریضوں اور یتیم بچوں کی مالی امداد
۴- اسکولوں میں یتیم اور نادار بچوں کو یونیفارم مہیا کرنا
۵- غریب اور ضرورت مندوں کو راشن مہیا کرنا
الحمدللہ درج ذیل اسکولوں میں کرسیاں فراہم کی گئیں
پرائمری اسکول بٹلیاں
پرائمری اسکول لوئر چہلہ

Address

Muzaffarabad

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Humans of Jammu & Kashmir posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Humans of Jammu & Kashmir:

Share