26/10/2024
پروفیسر تقدیس گیلانی کی زندگی حوصلے، وقار اور مضبوطی کی ایک شاندار داستان ہے۔ پاکستان کی سول سروسز (CSS) سے اپنے سفر کا آغاز کرتے ہوئے، وہ آزاد جموں و کشمیر کی اہم ترین تعلیم یافتہ شخصیات میں شمار ہونے لگیں۔ بیوروکریسی کو چھوڑ کر، انہوں نے تعلیم کے شعبے میں قدم رکھا اور آزاد جموں و کشمیر یونیورسٹی کے شعبہ انگریزی کی پروفیسر بن گئیں۔ وہاں انہوں نے نہ صرف علم دیا بلکہ اپنے طلباء کو متاثر کیا، اور ان کی رہنمائی کی، جو اب مختلف شعبوں میں نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں، ہر ایک میں ان کی تربیت کا عکس موجود ہے۔
2005 کے تباہ کن زلزلے کے بعد، تقدیس گیلانی نے اپنی ہمدردی کا دائرہ کلاس روم سے باہر بڑھایا۔ اپنے اردگرد کے لوگوں کی مشکلات دیکھ کر، انہوں نے *ہوپ* (HOPE) کی بنیاد رکھی، جو ضرورت مند لڑکیوں کے لیے ایک پناہ گاہ بن گئی۔ اس تنظیم کے ذریعے انہوں نے نہ صرف انہیں چھت فراہم کی بلکہ ان کی تربیت بھی کی اور انہیں خود مختار مستقبل کی طرف لے گئیں۔ ان کا یہ جذبہ خدمت ان کی پہچان بن گیا اور مشکلات کو تبدیلی اور امید کے مواقع میں بدلنے کا ذریعہ بن گیا۔
ان کی خدمات کا سفر یہیں نہیں رکا۔ ثقافت کے تحفظ اور عوامی خدمت کے جذبے کے ساتھ، تقدیس گلانی نے سیاست کے میدان میں قدم رکھا جہاں بہت سی خواتین جانے سے ہچکچاتی ہیں۔ کشمیر کلچرل اکیڈمی کی چیئرپرسن کی حیثیت سے، انہوں نے کشمیر کی ثقافتی ورثے کو زندہ رکھا تاکہ آنے والی نسلیں اس سے مستفید ہو سکیں۔ ممبر قانون ساز اسمبلی (MLA) اور بعد ازاں وزیر برائے چھوٹی صنعتوں، تجارت اور سفر کے طور پر، انہوں نے خواتین کو معاشی مواقع فراہم کرنے کو اپنی ترجیح بنایا اور دیہی علاقوں میں چھوٹی صنعتوں کو خود انحصاری کا ذریعہ بنایا۔
عالمی سطح پر بھی تقدیس گیلانی کی پہچان بڑھی۔ وہ کشمیر کی پہلی خاتون پارلیمنٹیرین بنیں جنہوں نے گیمبیا میں OIC کانفرنس میں شرکت کی، اور پاکستان کے نائب وزیر اعظم کے ساتھ کھڑی ہوئیں۔ ان کی آواز دنیا کے بڑے فورمز پر گونجی، چاہے وہ برطانیہ کا ہاؤس آف کامنز ہو یا جنیوا میں انسانی حقوق کمیشن۔ انہوں نے نیویارک، انڈیا، فرانس اور بنگلہ دیش تک کشمیر کے مسئلے کو اجاگر کیا اور اپنے لوگوں کے حقوق کے لیے انتھک محنت کی۔
پروفیسر تقدیس گیلانی کی داستان صرف ان کی ذاتی کامیابی کی کہانی نہیں بلکہ اس بات کا ثبوت ہے کہ خواتین کس طرح ہمدردی، دانشمندی اور عزم کے ساتھ قیادت کر سکتی ہیں۔ ان کی زندگی اس بات کا ثبوت ہے کہ جب خواتین کو آگے بڑھنے کے مواقع دیے جائیں تو وہ معاشرے کو تبدیل کرنے میں کتنا اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔