04/05/2026
جمگر: ہجرت کے زخموں پر اتحاد کا نارنجی مرہم 🧡🏔️
کبھی کبھی سفر میں صرف راستے تبدیل نہیں ہوتے، بلکہ کچھ منظر آپ کے سوچنے کا زاویہ بدل دیتے ہیں۔ پچھلے سال جب میں وادیِ نیلم کے بل کھاتے راستوں پر تاؤ بٹ کی طرف بڑھ رہی تھی، تو گہرے سبز پہاڑوں کے بیچوں بیچ ایک بستی نے میری نظریں ٹھہرا لیں۔ وہاں ہر گھر کی چھت ایک شوخ نارنجی (Orange) رنگ میں رنگی تھی، جیسے کسی مصور نے ہریالی کے کینوس پر ہمت کے رنگ بکھیر دیے ہوں۔
اس وقت یہ منظر میرے لیے ایک معمہ تھا، لیکن اس بار جب میں دوبارہ نیلم کی آغوش میں پہنچی، تو میں نے ان اورینج چھتوں کا سراغ لگانے کا فیصلہ کیا۔ مقامی لوگوں سے گفتگو ہوئی تو معلوم ہوا کہ ان رنگوں کے پیچھے ہجرت کا ایک گہرا دکھ اور اس سے لڑنے کا ایک انوکھا عزم چھپا ہے۔
یہ وہ لوگ تھے جنہیں پچھلی پہاڑی پر اپنا سب کچھ چھوڑ کر یہاں نئی زندگی شروع کرنی پڑی۔ جب انسان اپنا گھر کھوتا ہے تو وہ اپنی پہچان بھی کھو دیتا ہے۔ ایسے میں ایک فلاحی ادارے نے انہیں ایک سادہ سا مگر پُر اثر مشورہ دیا: "اپنی چھتوں کا رنگ ایک کر لو۔"
مقصد صرف خوبصورتی نہیں تھا، بلکہ یہ دکھانا تھا کہ ہم الگ الگ گھروں میں رہتے ہوئے بھی ایک اکائی، ایک خاندان ہیں۔ یہ نارنجی رنگ ان کی یونیٹی (Unity) کی علامت بن گیا۔ آج جب بادل ان پہاڑوں کو چھوتے ہیں، تو یہ چھتیں دور سے پکار کر کہتی ہیں کہ ہجرت نے ہمیں بے گھر تو کیا، مگر ہمیں تقسیم نہیں کر سکی۔
جمگر کا یہ علاقہ، جو کیل اور تاؤ بٹ کے درمیان ایک خاموش محافظ کی طرح کھڑا ہے، اب صرف ایک گزرگاہ نہیں رہا۔ یہ ان لوگوں کی کہانی ہے جنہوں نے رنگوں کے ذریعے اپنی بکھری ہوئی زندگیوں کو دوبارہ ترتیب دیا ہے۔ ان کی چھتوں کی چمک دراصل ان کے اتحاد کی وہ روشنی ہے جو نیلم کی سرد ہواؤں میں بھی تپش کا احساس دلاتی ہے۔
اقراء انصاری