دارش کشمیر وال"Darish"

دارش کشمیر وال"Darish" Discover the magic of Kashmir Valley! � Immerse in scenic landscapes, rich culture, and warm hospitality.
(1)

Join us in celebrating the beauty of this paradise on Earth. Valley On earth # KashmirKiAwaz

01/06/2026

حق ملکیت و حق حکمرانی کانفرنس چکار ضلع جہلم ویلی کے لئے کور ممبر جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی جناب شوکت نواز میر صاحب کا وڈیو پیغام

24/09/2025










آزاد کشمیر کے سابق وزیراعظم راجہ فاروق حیدر کا بیان ہے کہ "آزاد کشمیر کے عوام کے مستقبل کا فیصلہ اسمبلی میں بیٹھے نمائند...
09/09/2025

آزاد کشمیر کے سابق وزیراعظم راجہ فاروق حیدر کا بیان ہے کہ "آزاد کشمیر کے عوام کے مستقبل کا فیصلہ اسمبلی میں بیٹھے نمائندے کریں گے، نہ کہ سڑکوں پر احتجاج کرنے والے۔"

سوال یہ ہے جناب! آپ کس مستقبل کی بات کر رہے ہیں؟ کیا وہی مستقبل جسے آپ اور آپ جیسے سیاستدانوں نے گزشتہ 75 سالوں میں تاریکیوں میں دھکیل دیا؟ اگر اسمبلی ہی فیصلے کرنے کی واحد جگہ تھی تو پھر 7 دہائیوں میں عوام کو کیا ملا؟ آج بھی آزاد کشمیر کی حالت یہ ہے کہ:

سڑکوں کی حالت بدترین ہے، کئی علاقے آج بھی بنیادی سفری سہولتوں سے محروم ہیں۔

تعلیمی اداروں کی حالت زار ہے، نہ اسکولوں میں سہولتیں ہیں، نہ کالجز میں معیار، نہ یونیورسٹیوں کی تعداد ضرورت کے مطابق ہے۔

صحت کے شعبے کا حال یہ ہے کہ ہسپتالوں میں ڈاکٹرز اور دوائیوں کی کمی عام بات ہے، مریضوں کو بڑے شہروں کا رخ کرنا پڑتا ہے۔

جدید دنیا میں انٹرنیٹ ایک بنیادی ضرورت ہے، مگر آزاد کشمیر اس سہولت سے بھی محروم ہیں۔

بجلی، پانی اور دیگر بنیادی سہولیات کے بحران نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔

ان حالات کے ذمہ دار کون ہیں؟ وہی "ایوانوں میں بیٹھے نمائندے" جن کی آج آپ وکالت کر رہے ہیں۔ عوام کو بنیادی سہولتیں دینے کے بجائے آپ لوگ اپنے محلات تعمیر کرتے رہے، اپنی عیاشیاں بڑھاتے رہے، اور اپنی جیبیں بھرتے رہے۔

اب جب عوام اپنے حق کے لیے سڑکوں پر نکل رہی ہے تو آپ جیسے لیڈروں کو مرچیں لگ رہی ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ عوام کے جاگنے سے آپ کے "53 ٹولے" کو خطرہ ہے، کیونکہ عوام کے سوالوں کے جواب آپ کے پاس نہیں ہیں۔

یاد رکھیں! اب یہ 75 سال پرانی غلام ذہنیت والی عوام نہیں رہی۔ یہ نوجوان نسل ہے جو اپنے حق کے لیے ڈٹ کر کھڑی ہے۔ وہ نسل جو نہ احساسِ محرومی میں جینا چاہتی ہے اور نہ اپنے مستقبل کو چند کرپٹ سیاستدانوں کے رحم و کرم پر چھوڑ سکتی ہے۔

اب"چوروں اور شرابیوں کے ٹولے" کا وقت ختم ہو چکا۔ اب فیصلہ عوام کرے گی، اور عوام اپنا حق خود چھین کر لے گی۔ اسمبلی میں بیٹھے نمائندے اب عوام کی طاقت کے سامنے کھڑے
نہیں ہو سکیں گے
کشمیر زندہ باد
ايکشن کمیٹی زندہ باد

چکار کی عوام اور فائر بریگیڈ کا بحران – صرف باتوں سے مسئلہ حل نہیں ہوگاچکار کی عوام آج پھر فائر بریگیڈ نہ ہونے پر پرافسو...
03/09/2025

چکار کی عوام اور فائر بریگیڈ کا بحران – صرف باتوں سے مسئلہ حل نہیں ہوگا

چکار کی عوام آج پھر فائر بریگیڈ نہ ہونے پر پرافسوس کر رہی ہے۔ مگر اصل سوال یہ ہے کہ یہ پرافسوس صرف حادثہ ہونے کے دن ہی کیوں یاد آتی ہے؟ اس سے پہلے کتنے ہی واقعات ہوئے، کتنی ہی بار آگ نے گھروں اور کاروبار کو راکھ کیا، لیکن عوام نے کبھی سنجیدگی سے عملی جدوجہد نہیں کی۔

حقیقت یہ ہے کہ چکار کے لوگ صرف باتیں کرنے تک محدود ہیں۔ اسسٹنٹ کمشنر کے دفترمیں گفتگو ہوتی ہے، سوشل میڈیا پر پوسٹیں لگتی ہیں، لیکن عملی عملی کام کہیں نظر نہیں آتا۔ نہ کوئی بازار بند کرتا ہے، نہ کوئی ہڑتال کرتا ہے، نہ ہی حکومت کے دفاتر کے سامنے جا کر مسلسل دھرنا دیا جاتا ہے۔ پھر سوال یہ ہے کہ بغیر جدوجہد کے عوام حکومت سے کس بنیاد پر توقع رکھتی ہے کہ وہ فائر بریگیڈ مہیا کرے گی؟

اگر عوام واقعی اپنے حق کے لیے سنجیدہ ہیں تو صرف باتوں سے کام نہیں چلے گا۔ انہیں چاہیے کہ وہ متحد ہوں، بازار بند کریں، مکمل ہڑتال کریں، اور تب تک احتجاج جاری رکھیں جب تک حکومت اس مسئلے کو مستقل بنیادوں پر حل نہ کر دے۔ ورنہ یہ شور شرابہ بھی وقتی ہوگا اور اگلی بار پھر کسی حادثے کے بعد یہی سوال اٹھایا جائے گا کہ فائر بریگیڈ کہاں ہے۔

سچ یہ ہے کہ اگر عوام اپنی ذمہ داری ادا نہیں کریں گے تو حکومت کبھی بھی خود سے آ کر یہ مسئلہ حل نہیں کرے گی۔ اب فیصلہ چکار کی عوام کے ہاتھ میں ہے: کیا وہ صرف باتیں کرتے رہیں گے یا عملی طور پر میدان میں اتریں گے؟

السلام علیکم !ن!آج ہم آپ کے ساتھ کراچی میں پیش آنے والے ایک افسوسناک واقعے کی تفصیلات شیئر کر رہے ہیں، جس نے سوشل میڈیا ...
11/07/2025

السلام علیکم !ن!

آج ہم آپ کے ساتھ کراچی میں پیش آنے والے ایک افسوسناک واقعے کی تفصیلات شیئر کر رہے ہیں، جس نے سوشل میڈیا پر شدید ردعمل کو جنم دیا ہے۔

ایک معروف وکیل، عبداللطیف، کو صرف شلوار قمیض پہننے کی وجہ سے شہر کے ایک مہنگے ریسٹورنٹ میں داخلے سے روک دیا گیا۔

عبداللطیف کے مطابق، یہ واقعہ 18 مئی کو پیش آیا۔ ویٹر نے انہیں بتایا کہ ریسٹورنٹ میں "ڈریس کوڈ" کی وجہ سے سروس دستیاب نہیں، اور جب انہوں نے سوال کیا تو مینیجر نے ان کے لباس کو "سستا لباس" قرار دے دیا۔

مزید افسوس کی بات یہ ہے کہ مینیجر نے مبینہ طور پر انہیں دھمکی دی کہ اگر وہ احتجاج کریں گے تو انہیں زبردستی باہر نکالا جائے گا۔

اس ذلت آمیز سلوک کے خلاف عبداللطیف نے قانونی نوٹس بھیجا، لیکن ریسٹورنٹ کی جانب سے کوئی جواب نہیں ملا۔

اب وہ یہ کیس کنزیومر کورٹ میں لے گئے ہیں اور انصاف کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

📢 یہ واقعہ نہ صرف ہمارے روایتی لباس کے خلاف تعصب کو ظاہر کرتا ہے، بلکہ صارف کے بنیادی حقوق پر بھی سوال اٹھاتا ہے۔

آپ کی رائے کیا ہے؟
کیا کسی کو صرف لباس کی بنیاد پر سروس سے انکار کرنا درست ہے؟

کمنٹ کریں اور اس ویڈیو کو شیئر کریں تاکہ آواز دور تک جائے۔




#انصاف

عوامی سہولت کے لیے کرایوں میں کمی، لیکن عملدرآمد کہاں؟کشمیر ٹریول کی جانب سے مختلف علاقوں جیسے جبڑ  جنڈا لی  ، چکار، مظف...
12/05/2025

عوامی سہولت کے لیے کرایوں میں کمی، لیکن عملدرآمد کہاں؟

کشمیر ٹریول کی جانب سے مختلف علاقوں جیسے جبڑ جنڈا لی ، چکار، مظفر آباد اور سربالہ سے راولپنڈی کے لیے کرایوں میں واضح کمی کا اعلان خوش آئند اقدام ہے، جس پر ادارے کی انتظامیہ مبارکباد کی مستحق ہے۔ یہ اقدام عوامی ریلیف کے لیے قابلِ تحسین ہے، خاص طور پر ان مسافروں کے لیے جو روزانہ سفر کرتے ہیں۔

تاہم افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ کچھ ایجنٹس اور بس اڈوں پر ٹکٹ دینے والے افراد اس اعلان پر عملدرآمد نہیں کر رہے۔ وہ اب بھی پرانے یا زیادہ کرایے وصول کر کے عوام کو اس سہولت سے محروم کر رہے ہیں، جو کہ سراسر ناانصافی اور کشمیر ٹریول کی انتظامیہ کی نیت پر پانی پھیرنے کے مترادف ہے۔

ہم کشمیر ٹریول کی انتظامیہ سے پُرزور گزارش کرتے ہیں کہ کرایوں میں کمی کے اس فیصلے کی مؤثر نگرانی کی جائے۔ تمام اڈوں پر واضح نوٹسز آویزاں کیے جائیں، اور جن افراد کی جانب سے زائد کرایہ وصول کیا جا رہا ہے، ان کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ اس رعایت کا اصل فائدہ مستحق عوام تک پہنچ سکے۔

یہ قدم نہ صرف عوامی اعتماد کو بحال کرے گا بلکہ کشمیر ٹریول کے وقار میں بھی اضافہ کرے گا۔شکریہ ۔۔

24/04/2025

کشمیر //// ایل او سی پر دراندازوں کی ہلاکت کا بھارتی دعوی جھوٹ نکلا۔۔
معصوم شہریوں کو ہلاک کر کے واویلا کیا جا رہا ہے۔ مال مویشیوں کو واپس لیکر آنے والے دو معمر افراد کو شہید کیا گیا۔ ہمیشہ مویشی لیکر آگے جاتے رہے ہیں ۔

Phalgram Attack.
23/04/2025

Phalgram Attack.

The traumatic ordeal of tourists who witnessed the Pahalgam terror attack in Kashmir has come to light, with many—especially children—seen crying and in shock as they fled the scene.

22/04/2025

جب تک قوم متحد ہو کر برائی کے خلاف کھڑی نہیں ہو گی، یہ ملک آگے نہیں بڑھ سکتا!

Address

Muzaffarabad

Telephone

+923425353316

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when دارش کشمیر وال"Darish" posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to دارش کشمیر وال"Darish":

Share

Category