06/07/2023
وادی نیلم کا سفر
۳۰ جون ۲۰۲۳ بڑی عید کا دوسرا دن آج کا ہمارا ارادہ نیلم کا تھا ہمارے قریبی دوست محترم سردار محسن عباس اور حسنین حیات بھی ہمارے ساتھ تیار تھے
ہمارے اس سفر کا آغاز دن کے ۳ بجے کٹکیر سے ہوتا ہے
شام کے ۶ بجے میں مظفرآباد داخل ہو رہا تھا جہاں ہمارے استقبال کے لیے ہمارے کزن شیان راجہ اور حسان طاہر راجہ موجود تھے
اس رات کا قیام دارحکومت مظفرآباد میں ہی تھا
۱ دن
صبح کا آغاز ۸ بجے پانی کے ساتھ ہوتا ہے جب ہمارے کزن نہ ہمارے اوپر پانی ڈال کر ہمیں جاگیا
ناشتہ کے بعد سفر کا آغاز ہوا کسی جگہ بارش اور کسی جگہ دوپ فر کسی جگہ پانی خیر اس سفر کے بعد ہم دن کے ۱ بجے کنڈل شائ بازار میں داخل ہوۓ
جہاں ہمارے دوست محمد رضوان اور محمد اویس ہمارا انتظار کر رہے تھے
کھانا ساتھ کھانے کے بعد ہم لوگ ہندوستانی جموں کشمیر کے بلکل سامنے کیرن کے مقام میں کھڑے تھے
کچھ دیر وہاں ہی رہے اور فر دوستوں کو واپسی روانہ کرنے کے بعد ہم لوگ شاردہ کی طرف روانہ ہوۓ
رات کے ۸ بجے کے قریب ہم لوگ شاردہ تھے
جاتے ساتھ ہی اپنا ٹنٹ لگایا سامان رکھا اور کھانا کھانے کے لیے بازار کی طرف چل پڑے کھانے بعد بازار کو دیکھا اور واپسی آ کے سو گے
۳ دن
۳ دن کا آغاز کشن گنگہ (دریا نیلم) کے ساتھ لگے ہمارے ٹنٹ سے ہوتا ہے
چونکہ ہم شاردہ رات کو پوچھے تھے اس لیے وہاں کچھ اچھے سے نظر تو نہیں آرہا صبح جب دوپ میں شاردہ کو دیکھا تو کیا حسین جگہ تھی
خیر ہم نے سفر کا آغاز کیا بائیک سٹارٹ کیے اور کیل کے نکل آۓ دن کے ۱۱:۳۰ پہ ہم لوگ کیل بازار میں موجود تھے
ہوٹل میں روم لینے کے بعد دن کا کھانا کھایا اور ہم اڑن کیل کی طرف نکل آۓ
اڑن کیل کا سفر دن کے ۱ بجے شروع ہوتا ہے
۲ کھنٹے پیدل سفر کے بعد ہم لوگ اڑن کیل موجود تھے یہ ایک مشکل ترین راستہ تھا
۴،۵ کھنٹے وہاں ہی رہے کے بعد ہم لوگ واپسی آۓ یہ بہت خوبصورت جگہ تھی لیکن ریاست کے لوگ یہاں گھر اور ہوٹل بنا رہے ہیں میرا نہیں خیال کہ آج سے کچھ سال بعد یہاں کچھ ہوگا
خیر ہم واپسی آۓ اور رات کا کھانا کیل کے ایک ہوٹل میں کھانے کے بعد ہم لوگ روم آ گے ۔
۳ دن
دن کے ۱۱ بجے آنکھ کزن کی آواز سے کھلی جب اس نے کہا کہ دن کے ۱۱ بجے گے اب ہمیں چلے گے
مسلسل سفر کے بعد شام کے ۵ بجے کے قریب ہم لوگ تاؤ بٹ کے بازار میں داخل ہو رہیں تھے
آج موسم اچھا نہیں تھا اس لیے ہم لوگوں نے ہوٹل میں روم لینے کا فیصلہ کیا
خیر ہمیں ہوٹل میں تو روم نہیں ملے لیکن ایک انکل نے اپنے گھر میں ایک کمرے ہمیں دے دیا
رات کے کھانا ۱۲ بجے کھانے کے بعد ہم لوگ واپسی روم آ گے اور سو گے ۔
۴ دن
۸ بجے کمرے کی کھڑکی سے جب دوپ داخل ہوئ تو آنکھ خود بخود کھل گی ناشتہ کمرے میں کرنے کے ہم لوگ تاؤ بٹ فش ہاؤس اور تاؤ بٹ بالا کا خوبصورت سفر کیا
۱ بجے واپسی کمرے میں آیے اور سامان پیک کرنے کے بعد واپسی نکل آۓ
راستہ میں کبھی دوپ تو کبھی بارش خیر اس مشکل ترین سفر کے بعد ہم لوگ واپسی کیل آ پوچھے
بائیک میں پڑول ڈلوایا اور فر سفر کا آغاز دوبارہ سے شروع ہو گیا
راستہ میں اگر میں ہلمند کا ذکر نہ کرو تو شاہد یہ خوبصورت جگہ مجھے کبھی ماف نہیں کرے گی
اگر کوئ مجھے سے پوچھے نیلم کیسا تھا تو میں کہاؤ گا کہ نیلم جنت کا ایک حصہ ہے اور وادی حلمید کی تو کیا ہی بات ہے
خیر کیل کچھ دیر رکنے کے بعد فر سفر کا آغاز ہوا
یہ ایسا تھا کہ موسم کے حالات بہت خراب تھے اس لیے ہم نے وہاں رکنے کی جگہ دارلحکومت مظفرآباد آنا بہتر سمجھ اس سفر کا آغاز رات مغرب کی نماز کے بعد ہوا اور مسلسل سفر جاری رہا
اس سفر میں ہم لوگوں نے حد سے زیادہ چاۓ پیی کچھ دیر ایک ہوٹل میں نید پوری کی اور صبح ۸ بجے ہم لوگ دارلحکومت مظفرآباد میں تھے ناشتہ مظفرآباد میں کرنے کے میں کزن کے گھر آگیا اور کچھ دیر آرام کیا
اور فر شام کے وقت گاؤں کی طرف نکل آیا
یہ سفر ہمشہ یاد رہے گا شکریہ دوستوں اس خوبصورت سفر کے لیے آباد رہے سلامت رہے 🤍