سوھنڑی میانوالی

سوھنڑی میانوالی please like my page

منوہر شا آہوجا (منورا کراڑ )منوہر شا آہوجا میانوالی میں اپنے دور کی ایک قد آور شخصیت تھی ۔۔۔ میانوالی میں الٹے نام پیار ...
29/04/2026

منوہر شا آہوجا (منورا کراڑ )

منوہر شا آہوجا میانوالی میں اپنے دور کی ایک قد آور شخصیت تھی ۔۔۔ میانوالی میں الٹے نام پیار سے رکھنے کا رواج شروع سے موجود ہے تو منوہر آہوجا کو لوگ پیار سے ۔۔ منورا کراڑ کے نام سے یاد کرتے ہیں
منوہر شا اہوجا پارٹیشن سے پہلے گئو شالہ محلہ میانوالی شہر میں رہائش پذیر تھے۔۔ منوہر شاہ آہوجہ میانوالی کی ایک بڑی شخصیت تھی اس کا گھر مندر والی گلی (ایم بی سکول ) میں تھا اس کے اوپر مورچہ بھی بنا ہوا تھا۔۔ اور کافی دلیر اور وضع دار تھے ۔۔۔ انہوں نے مسلمانوں سے ملکر بہت سے ہندوؤں کی جانیں بچائی تھی۔۔۔ انکی دوستیاں زیادہ تر میانوالی میں یارے خیل ، پہاڑ خیل اور شہباز خیل قبائل سے تھیں ۔۔ اس کے علاوہ گل حمید خان روکھڑی کے والد غلام حیدر خان روکھڑی بھی ان کے دوستوں میں شامل تھے ۔۔۔

منوہر شا تقسیم کے وقت دبدبے والا بعد ازاں دہلی میں بھی بڑی رعب دار شخصیت کا مالک تھا۔۔ 1947 میں جب دہلی کے لیئے روانہ ہوئے تو میانوالی اپنے گھر کے آنگن سے مٹی لے کر اپنے پاس محفوظ رکھ لی۔۔۔ جب دہلی میں اپنا گھر بنایا تو اس گھر کی بنیادوں میں میانوالی سے لائی مٹی ڈالی ۔۔۔ جب تک زندہ رہے ایک بارعب میانوالیے کے سٹائل میں زندگی بسر کی۔۔۔ دہلی میں وہ اپنا کاروبار کرتے اور ایک بڑے شوروم کے اونر تھے ۔۔۔

دہلی میں بھی اپنی روایتی میانوالی والی وضع داری اور رعب برقرار رکھا ۔۔ ان کی بیگم دہلی میں بھی میانوالی کا روایتی پردہ کرتی تھیں ۔۔۔ اور دہلی میں کھڑپینچ شخص تھے ۔۔ اسی کی دہائی میں ان کے بیٹے نے دہلی میں ایک سکھ کو قتل کر دیا تھا اس نے بیٹے کی رہائی کے لئے منّت مانی تھی کہ میانوالی جاکر حضرت سلطان ذکریا ؒ کے مزار پر دیگ چڑھائے گا اور بیٹے کی رہائی پر 1984 میں میانوالی آکر دیگ چڑھائی۔۔۔

1984 میں منوہر شا میانوالی آئے تھے ۔۔مسکین اللہ خان پنوں خیل کے گھر ٹھہرے تھے ۔۔۔ اس دوران وہ شہبازخیل اور اپنے دوستوں سے ملنے میانوالی کے کئی علاقوں میں گئے ۔۔ ان کے دو بیٹے بھی ساتھ تھے ۔۔ان کے بیٹے اس وقت گانگریس کے پلیٹ فارم سے رکن اسمبلی تھے ۔۔
3 نومبر 1996 میں ان کا انتقال ہو گیا۔۔۔ اب۔ان کے بیٹے سیاست کرتے ہیں ۔۔وہ کانگرس کے پلیٹ فارم سے سیاست کرتے ہیں ۔۔۔

منوہر شا کے بعد اب واحد شخص روشن لال چیکر ہیں جو بقید حیات ہیں ۔۔۔ اور ہندوستان دہلی میں میانوالی کے رسم و رواج اور کلچر کی نمائیندگی کرتے ہیں ۔۔ ۔۔ اور میانوالی کے جتنے لوگ ھندوستان جاتے ہیں ۔۔۔ ان کا گھر میانوالی نگر ان لوگوں کا ٹھکانہ ہوتا ہے۔۔میانوالی کی مٹی سے جنون کی حد تک پیار کرتے ہیں ۔۔۔۔

بھگوان منوہر شا آہوجا کی آتما کو شانتی دے اور چاچا روشن لال چیکر کو لمبی زندگی دے ۔۔

بلال مسجد 💝پیارا داؤد خیل میانوالی 😊
27/03/2026

بلال مسجد 💝
پیارا داؤد خیل میانوالی 😊

کاغذ پہ بکنے والے تم لوگ کیا جانوکردار  کے تقاضے.. وفا کی کرامات🥰
12/12/2025

کاغذ پہ بکنے والے تم لوگ کیا جانو
کردار کے تقاضے.. وفا کی کرامات🥰

"نہ جنوں رہا نہ پری رہی“جب جاپانی ٹیکنالوجی کا شاہکار آڈیو ٹیپ ریکارڈر کا عروج تھا تو عطاء اللہ خان عیسیٰ خیلوی کی آواز ...
11/04/2025

"نہ جنوں رہا نہ پری رہی“
جب جاپانی ٹیکنالوجی کا شاہکار آڈیو ٹیپ ریکارڈر کا عروج تھا تو عطاء اللہ خان عیسیٰ خیلوی کی آواز کیسٹ کے توسط سے پوری دنیا میں متعارف ہوئی, جہاں کہیں سرائیکی, پنجابی, اردو سے آشنا لوگ دنیا کے جس کونے میں بستے تھے عطاء کی آواز ان تک پہنچی اور ایک لمبا عرصہ تک انکی سماعتوں میں رس گھولتی رہی.عرصہ دراز تک کیسٹس کے ذریعہ سے عطاء نے اپنے شائقین کو اپنی آواز کے سحر میں جکڑے رکھا.
نوجوانوں سے لیکر کئی بزرگ حضرات پہ عطاء کی کیسٹ جمع کرنے کا جنون سوار رہا, ان میں کچھ کیسٹ نایاب ہوا کرتی تھیں جن کی صرف اکلوتی ماسٹر کاپی کسی کے ہاتھ لگتی اس کیلئے خوشی کی انتہا نہ رہتی.
ٹیکنالوجی میں مزید پیش رفت ہوئی, آڈیو کے ساتھ ویڈیو کیسٹ, سی ڈیز دستیاب ہوئیں, مگر عطاء کے شائقین حضرات نے آڈیو کیسٹ سننے کی روایت کو زندہ رکھا اور کیسٹ کا نشہ قائم رہا , مگر جب MP3 فارمیٹ کے طوفان نے ایک انقلاب برپا کیا تو ٹیپ ریکارڈر بمعہ کیسٹ چپکے سے پسِ پردہ چلے گئے, یہاں تک کہ اب نئی نسل اس سے واقف بھی نہیں .
تصاویر میں عطاء کی یہ کیسٹس اپنے عروج کے دور کی گواہ ہیں, آڈیو کیسٹ کے بعد جدید شکل MP3 نے اہمیت تو حاصل کی مگر وہ چاشنی حاصل نہ کر پائی جو کبھی کیسٹس کو حاصل تھی, کیسٹ کے جنوں کو وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں جنھوں نے کبھی ٹیپ ریکارڈر کا دور جیا ہو, نہ اب وہ کیسٹ (نایاب کیسٹس) حاصل کرنے کا جنون رہا اور نہ ہی اب وہ شائقین رہے.
ᶠᵇ-ᴹⁱᵃⁿʷᵃˡⁱ ᴼˡᵈ ᴹᵉᵐᵒʳⁱᵉˢღ

میں تےایویں بھکھ دا رونا رویا سیسارے سجن سجےکھبے ہو گئے نیں
15/03/2025

میں تےایویں بھکھ دا رونا رویا سی
سارے سجن سجےکھبے ہو گئے نیں

رمضان المبارک میں بچوں کو مسجد سے نہ بھگائیںان کی معصوم شرارتیں اللّٰہ کو بہت پسند ہیں۔مسجد کو پیار محبت اور امن کی جگہ ...
06/03/2025

رمضان المبارک میں بچوں کو مسجد سے نہ بھگائیں
ان کی معصوم شرارتیں اللّٰہ کو بہت پسند ہیں۔
مسجد کو پیار محبت اور امن کی جگہ ہی ہونا چاہیے
تاکہ ہر مسجد آنے والا یہی پیغام لے کر جائے۔
بچوں کو تو خصوصی شفقت اور محبت دی جانی چاہیے
تاکہ اُنہیں پتہ چلے کہ اللّٰہ کیسا رحیم و کریم ہے !!!
جس کے گھر میں اُنہیں اتنی محبت مل رہی ہے۔
یاد رہے
یہ معصوم بچے اپنے گھروں میں ٹی وی ، موبائل اور کھیلوں کو چھوڑ کر مسجد آتے ہیں۔

ہوا  تھا  گُزر  جہاں  سے  پَکڑ  کَر  تیرا  ہاتھمیرے گاؤں کے وہ رَستےتُجھے یاد کرتے ہیں 😔💔🥀
07/02/2025

ہوا تھا گُزر جہاں سے پَکڑ کَر تیرا ہاتھ
میرے گاؤں کے وہ رَستےتُجھے یاد کرتے ہیں 😔💔🥀

بھورآ بھورآ مردے پئے آںجیون پورا کردے پئے آں
30/01/2025

بھورآ بھورآ مردے پئے آں
جیون پورا کردے پئے آں

لبوں پہ اسکے کبھی بددعا نہیں ہوتی اک ماں ہے جو کبھی خفا نہیں ہوتی ❤💯
29/11/2024

لبوں پہ اسکے کبھی بددعا نہیں ہوتی
اک ماں ہے جو کبھی خفا نہیں ہوتی ❤💯

تینوں ویکھ کے ٹَھّر دل ویندےگلاں مٹھیاں ڈھول سنائی رکھ. ❤️
09/11/2024

تینوں ویکھ کے ٹَھّر دل ویندے
گلاں مٹھیاں ڈھول سنائی رکھ. ❤️

Address

Mianwali

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when سوھنڑی میانوالی posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share