28/04/2025
گرمیوں کا موسم اپنے ساتھ خطرناک بیماریاں بھی لے کر آتا ہے، جن میں سب سے جان لیوا مرض ہیٹ اسٹروک ہے۔ ہر سال درجنوں لوگ اس کی لپیٹ میں آ کر اپنی جان گنوا بیٹھتے ہیں۔
ٹائپ 2 شوگر کے مریضوں میں ہیٹ اسٹروک کا خطرہ عام افراد کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہوتا ہے۔ اس کی بنیادی وجوہات میں پانی کی شدید کمی (ڈی ہائیڈریشن)، انسولین کے خلاف جسم کی مزاحمت (انسولین ریزسٹنس)، اعصابی نظام کی خرابی (نیوروپیتھی)، اور میٹابولک توازن میں بگاڑ شامل ہیں۔
زیادہ شوگر کی موجودگی (Hyperglycemia) کے باعث مریضوں کو پیشاب زیادہ آتا ہے، جس سے جسم میں پانی کی سطح خطرناک حد تک کم ہو جاتی ہے۔
جب جسم میں پانی کی کمی ہو تو خون گاڑھا ہو جاتا ہے، جس سے جسم کے لیے اپنے درجہ حرارت کو قابو میں رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔
تحقیقات کے مطابق، ڈی ہائیڈریشن گرمی سے متعلق بیماریوں، بالخصوص ہیٹ اسٹروک کا خطرہ 50 فیصد تک بڑھا دیتی ہے۔
شوگر کے مریضوں میں آٹونومک نیوروپیتھی کی وجہ سے پسینے کے غدود صحیح طرح کام نہیں کرتے۔ پسینہ نہ نکلنے کی وجہ سے جسم اپنی اضافی گرمی خارج کرنے سے قاصر رہتا ہے، جس سے ہیٹ اسٹروک کا خطرہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔
مزید یہ کہ انسولین ریزسٹنس جسم میں سوزش اور آکسیڈیٹیو تناؤ پیدا کرتی ہے، جو گرمی کے اثرات کو مزید سنگین بناتی ہے۔
شوگر کے مریض میٹابولک دباؤ کا مقابلہ کرنے میں بھی کمزور ہو جاتے ہیں، جو انہیں شدید گرمی کے دوران مزید کمزور اور غیر محفوظ بنا دیتا ہے۔
بلڈ پریشر اور دل کی بیماریوں کا بڑھتا ہوا خطرہ، جو شوگر کے ساتھ جڑا ہوتا ہے، جسم کے درجہ حرارت کو مستحکم رکھنے کی صلاحیت کو مزید متاثر کرتا ہے۔
گرمی میں خون کی نالیاں پھیلنے سے بلڈ پریشر کم ہو جاتا ہے، جو ہیٹ اسٹروک کے امکانات کو اور بڑھا دیتا ہے۔