21/08/2021
سرگوشیاں اور جھرنوں کی تلاش
سفر میں مجھے ہمیشہ محترم مرشد کی ایک بات بڑی شدت سے یاد آتی ہے
"میں ایک سیاح ہوں میں نہیں چاہتا کہ ایک جگہ رہنے سے میرے پاؤں زمین میں دھنس جائیں اور میں ہمیشہ کے لیے ساکت ہو کر رہ جاؤں"
مستنصر حسین تارڑ
لاہور سے گلگت بلتستان کے ضلع غذر وہاں سے وادی یاسین پھر آگے چلتے درکوت اب یہاں بھی بس نہیں ہوئی ۔۔ پیدل سفر کی شروعات درکوت سے صبح چار بجے شروع کر دی ۔۔ یہ سفر آنا اور جانا کل ملا کے تقریبا 54 کلو میٹر ہے ۔ جو صبح چار بجے سے شروع کیا رات گیارہ بجے درکوت واپس آ کر ختم ہوا ۔ راستے میں شدید مشکلات کا سامنا بھی ہؤا۔۔ پیدل سفر غاموبر کی طرف ہے غاموبر کیا ہے ؟؟ یہ مرشد (تارڑ صاحب) کے الفاظوں کی عکاسی ہے ۔
اگر بلند گھاٹیوں میں پوشیدہ کسی جھرنے کی سرگوشیاں سنوتو اسے تلاش کر کے اس کی باتیں سنو.
جی جناب یہاں ایک جھرنا نہیں بلکہ چھوٹے بڑے چار جھرنے ایک ساتھ بہہ رہے ہیں ۔ یہ سب خواری یہ پاگل پن ان جھرنوں کی سرگوشیاں سنیے کے لئے ہے ۔۔ مرشد نے تو اک کا کہاں ہے یہاں چار ایک ساتھ ہے ۔۔
مطلب فتور اپنے عروج پر ہے❤️