Laiba_Siddique_official_writer

Laiba_Siddique_official_writer "You must stay drunk on writing so reality cannot destroy you."

02/09/2022

بسم اللہ الرحمن الرحیم۔‌‍

کتابوں والی (افسانہ)

از

لائبہ صدیق

Don't copy or repost without permission otherwise strict action will be taken.

"بابا!!"

وہ ہانپتے ہوئے گھر میں داخل ہوا۔۔۔۔گویا میراتھن میں حصہ لے کر آیا ہو۔ گھر کے پچھلے حصے میں بنے چھوٹے سے باغینچے کے دلفریب پھولوں کو پانی دیتی درفشاں نے بغیر چونکے اپنا کام جاری رکھا تھا .

"بابا !!"

وہ چلاتے ہوئے اسٹڈی کی طرف بڑھا۔ دروازہ کھول کر اندر جھانکا تو حسب معمول وہ اسے مطالعے میں غرق دکھائی دیے تھے ۔

سفید شلوار قمیض پہنے کرسی پر ٹانگ پر ٹانگ چڑھا کر وقار سے بیٹھے ایان ظہیر نے "معرفت الہی" بند کر کے گود میں رکھی اور ابرو اچکا کر سوالیہ نگاہوں سے اسے دیکھا‌۔

"پھر سے؟؟"

سمیر نے ایان کو پھر سے وہی کتاب پڑھتے دیکھ کر پوچھا۔

وہ جوابا ہلکا سا مسکرایا تھا گویا راز ہو....

" بابا۔۔۔۔ آپ کو آپ کی کتابوں والی کیسے ملی تھی؟؟"

اس نے بے تابی سے سوال کیا تو وہ کھل کر مسکرائے تھے۔

°°°°°°°°°°°°

" السلام علیکم مالی بابا!!"

اس نے پائپ کے ذریعے لان کی گھاس کو سیراب کرتے مالی بابا کو مخاطب کیا۔

" وعلیکم السلام پتر جیتے رہو۔۔۔۔"

انہوں نے مسکرا کر اسے دعا دی اور پائپ زمین پر رکھ دیا۔

دوسری کلاس میں پڑھنے والا یہ بچہ اپنے سانولے رنگ کے باوجود اپنے اندر بے انتہا کشش لئے ہوئے تھا۔۔۔۔ اوپر سے اس کی تابعداری اس کی شخصیت کو چار چاند لگا دیتی تھی۔۔۔۔

" بابا وہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔کل میں اپنی بکس اس بینچ پر بھول گیا تھا۔۔۔۔۔"

اس نے ہچکچاتے ہوئے بات مکمل کی اور ایک بینچ کی طرف اشارہ کیا ۔

وہ اس کی فیورٹ بکس تھیں اور وہ انہیں کسی قیمت پر کھونا نہیں چاہتا تھا۔۔۔۔

"وہ کتابیں تو وہ بچی لے گئی۔۔۔۔ کیا بھلا سا نام تھا اس کا۔۔۔۔"

انہوں نے ذہن پر زور دینے کی ناکام سی کوشش کی ۔

" بابا کیا وہ ہمارے اسکول میں ہی پڑھتی ہے؟؟"

اس کا نام جاننے میں اسے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔۔۔۔ بس ایک بار اس کی کتابیں مل جائیں‌۔۔۔۔

" نہ پتر۔۔۔ وہ تو گھر کے کپڑے پہنے ہوئے تھی۔۔۔۔"

انہوں نے اسے آگاہ کیا اور پھر سے‌ پائپ اٹھا کر کام میں مشغول ہو گئے۔ وہ اداس چہرہ لیے مڑا تھا۔۔۔۔۔

تقریبا ایک ہفتے بعد اسے مالی بابا کے ہی ذریعے اپنی کتابیں واپس مل گئی تھیں‌۔۔۔۔ تاہم ان میں ایک نئی کتاب کا اضافہ بھی ہوا تھا۔۔۔۔۔

" یہ آپ کو کیسے ملیں بابا؟؟"

اس نے پرجوش انداز میں کتابوں کو سینے سے لگائے پوچھا۔

"یہ تو وہی بچی دے کر گئی تھی اور کہہ رہی تھی کہ آپ جب بھی ایسی نئی کتابیں لیں تو اسے بھی دیا کریں وہ پڑھ کر آپ کو واپس کر دے گی اور آپ کو بھی یہ کتاب پڑھنے کے لئے کہا ہے ۔۔۔۔۔"

انہوں نے اسے پوری بات بتائی تو وہ حد درجہ خوش ہوا تھا۔ اسے ہر ماہ ایک محدود جیب خرچ ملتا تھا جس سے وہ چند ہی کتابیں خرید پاتا تھا، لیکن اب وہ اس لڑکی کی وجہ سے مزید کتابیں پڑھ سکتا تھا۔۔۔

اس کی طرف سے ایان کو دی گئی پہلی کتاب کا نام تھا:

" پہاڑ کی چوٹی پر"۔۔۔۔



°°°°°°°°°°

اپنے والد کے ساتھ وہ بک شاپ میں داخل ہوا تو اس کی نظر Treasure Island پر پڑی۔ کتاب کا سرورق تو خوبصورت تھا ہی لیکن کتاب کے نام نے اس کے اشتیاق کو مزید بڑھا دیا تھا۔۔۔۔۔

اور اگلے دن مالی بابا کو اپنی نئی خریدی گئی کتابیں دیتے وقت اس میں Treasure Island بھی شامل تھی۔۔۔۔

وہ ساری کتابیں ایک ہی دن میں پڑھ چکا تھا، اب جب وہ کتابیں واپس آتیں تو وہ پورا مہینہ بار بار انہیں پڑتا مگر سب سے حیران کن بات جو ان چند مہینوں کے "کتابی تعلق" میں رونما ہوئی تھی وہ Treasure Island کی واپسی تھی۔۔۔۔۔

" وہ کہہ رہی تھی کہ وہ انگریزی پڑھنا نہیں جانتی۔۔۔۔"

بابا کے انکشاف پر وہ بھونچکا رہ گیا۔

"انگریزی پڑھنا نہیں جانتی۔۔۔۔ مطلب ۔۔۔۔۔وہ سکول نہیں پڑھتی بابا؟؟

اس نے حیران ہوتے ہوئے پوچھا۔

" ارے کہاں پتر ....وہ تو پرنسپل کی گھریلو ملازمہ کی بیٹی ہے۔۔۔۔۔ اب وہ بچی اور اس کی ماں دوسری شفٹ میں سکول کی صفائی بھی کر کے جاتی ہیں۔۔۔۔"

" تو بابا وہ اردو پڑھنا کیسے جانتی ہے؟؟"

" اردو آج کل کون نہیں پڑھ سکتا پتر۔۔۔۔ کیا پتہ ماں نے سکھائی ہو۔۔۔۔۔"

بابا کی بات بھی درست تھی، خیر اس وقت تو بات آئی گئی ہوگئی لیکن حقیقی معنوں میں اسے شاک تب لگا جب ایک ماہ بعد ٹھیک اسی دن بابا نے اس سے "خزانے والا جزیرہ کی انگریزی کتاب" مانگی.

" پر بابا۔۔۔۔ وہ۔۔۔۔وہ تو انگلش نہیں پڑھ سکتی نہ‌۔۔۔۔۔تو پھر یہ؟؟"

"سیکھ لی ہو گی پتر۔۔۔۔ لگن سچی ہو تو انسان کیا نہیں کر سکتا۔۔۔۔"

ان کی بات دل پر لگی تھی۔۔۔۔مگر وہ جسے چھ سال سے انگلش پڑھنے کے باوجود Treasure Island دو بار پڑھنی پڑی، اب ایک ایسی لڑکی کو وہی کتاب دینے جا رہا تھا جس نے محض ایک ماہ کی قلیل مدت میں انگلش سیکھ لی تھی۔۔۔۔۔

°°°°°°°°°°°

کتابوں کے تبادلے کا یہ سلسلہ چلتا رہا حتی کہ اس نے اپنی سیکنڈ ایئر مکمل کر لی۔ اب‌ وہ پبلک لائبریری سے ایشو کروائی گئی کتابیں پڑھنے کے بعد ہر ہفتے سکول جا کر مالی بابا کو دے دیتا جو آگے اس لڑکی کو پہنچا دیتے۔۔۔۔۔

اس کتابی تعلق کی ڈور کے دوسرے سرے پر موجود لڑکی کا نام وہ نہیں جانتا تھا اور نہ ہی جاننا چاہتا تھا۔۔۔۔۔۔ اس کے لیے کتابوں کا تبادلہ ہی کافی تھا اور یہی حال اس لڑکی کا بھی تھا۔۔۔۔۔ جسے ایان کا نام جاننے میں کوئی دلچسپی نہ تھی۔۔۔۔

" بابا میں چند دنوں کے لئے اسلام آباد جا رہا ہوں۔۔۔"

اس نے وحید الدین خان کی "معرفت الہی" بابا کے حوالے کرتے ہوئے کہا تھا۔

یہ پہلی کتاب تھی جو اس نے پڑھے بغیر اسے دی تھی اور جانے کیوں اسے یہ عجیب لگ رہا تھا ،مگر اس نے سوچا تھا کہ وہ اسلام آباد سے واپس آ کر ہی یہ کتاب پڑھے گا ۔۔۔۔۔۔

اور جب تین دن بعد وہ واپس آ کر مالی بابا سے ملنے اسکول گیا تو اسے ان کے انتقال کی خبر ملی تھی۔۔۔

اس دن وہ اپنے مرد ہونے کی پرواہ کیے بغیر جی بھر کے رویا تھا ۔۔۔۔اس کے سر سے اس کے دوسرے باپ کا سایہ بھی اٹھ گیا تھا ۔۔۔۔وہ روتا نہ تو اور کیا کرتا۔۔۔۔اس لڑکی سے بھی اس کا رابطہ ٹوٹ گیا تھا جس سے اب اسے مالی بابا کے حوالے سے ایک انسیت سی محسوس ہو رہی تھی۔۔۔۔ نہ ہی اس کے پاس اس لڑکی کا پتا تھا اور نہ ہی "'معرفت الہی'"۔۔۔۔

" میں یہ کتاب‌ اب تب ہی پڑھوں گا جب مجھے وہ اپنے ہاتھوں سے دے گی۔۔۔"

جانے کس طاقت کے زیر اثر اس نے یہ فیصلہ لیا تھا۔۔۔۔۔۔
کبھی کبھار محبت ایسے ہوتی ہے کہ پتا بھی نہیں چلتا۔۔۔۔۔ خاموشی سے چپکے چپکے بغیر اطلاع دیئے کوئی آپ کے دل میں اتر جاتا ہے ، اور۔۔۔۔ آپ کچھ بھی نہیں کر پاتے۔۔۔۔۔

کچھ بھی نہیں۔۔۔۔۔۔

محبت بے بسی کا ہی تو نام ہے۔۔۔۔۔

وہ بھی بے بس تھا۔۔۔۔۔۔نہ ہی اسے معلوم ہوا تھا کہ وہ محبت کر بیٹھا ہے۔۔۔۔۔۔۔

اور مالی بابا کی قبر پر فاتحہ خوانی کرنے کے بعد اگلے ہی دن اسلام آباد چلا گیا‌ تھا۔۔۔۔۔



°°°°°°°°°°°°°

"پتہ ہے کیا امی۔۔۔۔ اس نامعلوم انسان نے گویا مجھے اپنا پابند کر دیا ہے۔۔۔۔۔

میں اس کے علاوہ کسی کو سوچ ہی نہیں پاتی۔۔۔۔۔"

درفشاں نے اپنی والدہ کی گود میں سر رکھ دیتے ہوئے ان کی بات کا بے بسی سے جواب دیا تھا۔ وہ اس سے اس کے نئے آنے والے رشتے کی بابت سوال کرنے آئی تھیں۔

"اور اگر وہ تمہیں کبھی نہ ملا تو؟؟؟"

انہوں نے کسی اندیشے کے تحت پوچھا۔

"تو کیا امی۔۔۔۔۔ میں اور میری کتابیں۔۔۔۔۔۔ بس۔۔۔"

اس نے گود میں سر رکھے ہی جواب دیا تھا‌۔

وہ خاموش ہوئی تھیں۔

ہاں البتہ انہوں نے ایان کو دیکھ رکھا تھا۔ایک بار جب وہ پرنسپل کے کہنے پر صبح کے وقت سکول گئی تھیں تو مالی بابا اپنے برابر میں کھڑے خود سے دراز قد لڑکے کو وہ کتابیں پکڑا رہے تھے جو انہوں نے کل شام کو ہی مالی بابا کو واپس کی تھیں۔

ان کی بیٹی حسن پرست نہیں تھی مگر حسن رکھنے والے حسن کو ضرور چاہتے ہیں۔۔۔۔۔۔

"اور اگر وہ تمہارے معیار کے مطابق نہ ہوا تو؟؟؟"

"کیا مطلب؟؟"

اس نے گود سے سر اٹھایا تھا.

" مطلب اگر وہ سانولا ہوا تو؟؟"

" امی آپ نے اس کو دیکھ رکھا ہے نہ؟؟"

اس نے عجیب سے لہجے میں سوال کیا تو انہوں میں اثبات میں سر ہلایا تھا۔

وہ کچھ دیر خاموش رہی تھی۔

"بے فکر ہو جائیں امی۔۔۔۔ آپ کی بیٹی حسن کو پوجنے والوں میں سے نہیں ہے۔۔۔۔"

وہ مضبوط لہجے میں جواب دے کر باہر چلی گئی تھی۔

اس کی والدہ نے پیچھے سے اس کے لئے دعا کی تھی۔

اور کچھ ہی دنوں بعد وہ خالق حقیقی سے جا ملی تھیں۔۔۔۔۔

ایان ظہیر کی دی گئی کتاب معرفت الہی نے درفشاں پر ایک مثبت اثر چھوڑا تھا۔۔۔۔۔اس نے اپنی منزل کا تعین کر لیا تھا اور اس راستے پر چل پڑی تھی جو سچا اور حقیقی راستہ ہے۔۔۔۔۔

°°°°°°°°°°°°°

وہ یونیورسٹی سے واپس آیا تو فورا لاؤنج میں لگے ٹی وی کو آن کیا کیونکہ ایک خاص پروگرام آنے والا تھا۔۔۔۔۔

اس عالمہ کی آواز میں ایک سحر تھا جو وہ اپنے سننے والوں پر پھونکا کرتی تھی اور ایان نے کبھی اس کا کوئی پروگرام مس نہیں کیا تھا۔۔۔۔۔

" اور میم آپ نے کہا تھا کہ آپ آج ایک اہم انسان کے لیے کوئی پیغام دینے والی ہیں۔۔۔۔"

ہوسٹ کے لہجے میں موجود اشتیاق وہ واضح طور پر محسوس کر سکتا تھا ۔وہ کچن میں لگے واش‌ بیسن میں سبزی دھونے کے لیے جھکا۔۔۔

"جی بالکل وہ میرے لئے بہت اہم ہیں اور آج میں جو کچھ بھی ہوں اللہ ، میری ماں اور بابا کے بعد انہی کی وجہ سے ہوں۔۔۔۔"

ایان کان ٹی وی پر لگائے، مہارت سے سبزی کاٹ رہا تھا۔۔۔۔۔ ذہن میں اسٹوڈنٹس کے پوچھے گئے سوالات اور اگلے دن کے دیے جانے والے لیکچر کے اہم نکات گھوم رہے تھے ۔۔۔۔

"میں بس یہ کہنا چاہوں گی کہ 'معرفت الہی' آج بھی میرے پاس ہے اور میں اسے واپس اپنے مالک تک پہنچ جانا چاہتی ہوں۔۔۔۔۔"

ایان کے ہاتھ تھمے تھے۔

وہ چلتا ہوا ہال میں آیا اور نظریں ٹی وی سکرین پر مرکوز کردیں۔۔۔۔

نفاست سے کیے گئے نقاب سے بس اس کی بے چین آنکھیں واضح تھیں۔۔۔۔

"میں کل مالی بابا سے ملنے جا رہی ہوں۔۔۔ امید ہے آپ بھی آ کر اپنی امانت لے جائیں گے۔۔۔۔"

پروگرام ختم ہو چکا تھا لیکن وہ وہیں کھڑا تھا۔۔۔۔۔ بت بنا، پچھلے چھ سال سے وہ جس چہرے کو دیکھنے کا متمنی تھا۔۔۔۔۔ جس کو دیکھنے کے لیے اس نے ہر پل دعائیں مانگی تھیں۔۔۔۔۔ وہ اس کے سامنے ہی تھا۔۔۔۔
وہ اسے روز سنتا تھا لیکن کبھی سوچا نہ تھا کہ وہ اسکی کتابوں والی بھی ہو سکتی تھی اس نے اپنے گالوں پر نمی محسوس کی تھی۔۔۔۔

○ ○○○ ○

وہ فاتحہ پڑھ کر باہر آیا تو وہ وہیں کھڑی تھی۔۔۔۔ سیاہ عبایا پر سیاہ سکارف سے نقاب کیے، کل کی بہ نسبت آج اسکی آنکھیں پر سکون تھیں۔

وہ اس سے ذرا فاصلے پر کھڑا ہو گیا۔ 'معرفت الہی' لینے کے لئے اسکا ہاتھ بڑھا تھا اور کتاب اسکے ہاتھ میں دے دی گئی تھی۔ خاموشی کا ایک طویل وقفہ دونوں کے درمیان آیا تھا۔۔۔۔

بعض اوقات خاموشی بھی اپنے اندر خوب راز چھپائے ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔

"آپ زندگی بھر کے لئے میری کتابوں والی بنیں گی مس درفشاں۔۔۔۔۔"

اسے سمجھ نہیں آئی تھی کہ اس نے یہ جملہ کیسے بولا تھا، بس بے اختیاری میں یہ بات اسکے منہ سے نکلی تھی, جسے سن کر درفشاں نے بے حد حیرت سے اسے دیکھا تھا۔۔۔۔

اس کی آنکھوں میں ایک الوہی چمک ابھری تھی اور اس کا سر اثبات میں ہلا تھا۔۔۔۔

°°°°°°°°°°°

"تو ایسے ملی تھی مجھے 'میری' کتابوں والی۔۔۔۔۔"

ایان نے میری پر زور دیا۔ اس کی کتابوں والی دروازے میں کھڑی مسکرا رہی تھی۔

سمیر نے 'اوووو' کے انداز میں لب سکیڑے تھے۔ آنکھوں میں ناچتی شرارت دیکھی جا سکتی تھی۔ درفشاں چائے بنانے چل دی۔

"پر بابا آپ کو کیسے یقین تھا کہ آپ کو آپ کی کتابوں والی ضرور ملے گی۔۔۔۔مطلب آپ اسلام آباد تھے اور وہ لاہور تھیں تو یہ یقین۔۔۔۔۔ آپ ان کے دل کا حال تو نہیں جانتے تھے نا؟؟؟"

وہ پر سوچ انداز میں گویا ہوا۔

"میں بھلے اس کے دل کا حال نہیں جانتا تھا ۔۔۔۔لیکن میرا رب تو میرے دل کا حال جانتا تھا نہ‌۔۔۔۔ اور لگن سچی ہو تو کچھ ناممکن نہیں۔۔۔"

اس نے اس لمحے مالی بابا کو یاد کرکے ان کی بات دہرائی تھی۔۔۔۔۔

"تو برخوردار.... آخرکار تم بھی اپنی کتابوں والی سے مل لیے۔۔۔۔"

اس نے کچھ عرصہ پہلے کا منظر یاد کرتے ہوئے کہا جب سمیر نے ایان سے اسکی کتابوں والی کے متعلق پوچھا تھا اور وہ ٹال گیا تھا۔

"جس دن تمہیں لگا کہ تمہیں تمہاری کتابوں والی مل گئی ہے اس دن مجھ سے یہ سوال دوبارہ پوچھنا ،میں بلا جھجک تمہیں جواب دوں گا۔۔۔۔"

اس وقت ایان نے مسکرا کر کہا تھا تو سمیر نے بات بدل دی تھی، گویا اسے یہ شرط منظور تھی۔۔۔۔

"جی بابا۔۔۔۔"

سمیر کی آواز نے اسے حال میں لا پٹکا۔

"پر بابا۔۔۔۔آپ کی کتابوں والی تو بہت اچھی ہیں، نرم دل، خوبصورت، اتنا پیارا لہجہ۔۔۔۔ مگر میری کتابوں والی تو کاٹ کھانے کو دوڑتی ہے ۔۔۔۔۔"

اس کے منہ بنا کر کہنے پر ایان ہنسا تھا۔

"میری والی کی تعریف کے لئے ازحد شکریہ..."

ایان نے اپنی بیوی کی داد وصول کی تھی۔

" مگر اتنی جلدی تم نے اپنی کتابوں والی کے متعلق رائے کیسے قائم کرلی؟؟"

" وہ بابا ۔۔۔۔آج لائبریرین نے مجھے ایک بک پکڑائی اور لائبریری سے باہر جاتی۔۔۔۔ بلکہ بھاگتی۔۔۔۔ایک نقاب پوش لڑکی کو دینے کو کہا ۔۔۔۔وہ اپنی ایشو کردہ بک بھول کر جا رہی تھی۔۔۔۔۔۔اس نے تو الٹا آگے سے میری بھی انسلٹ کر دی۔۔۔۔"

وہ خجل ہوا تھا۔۔۔۔ایان نے اپنی بے ساختہ مسکراہٹ کو روکا۔

" پر بابا۔۔۔۔اس کا نام عالیہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ لائبریرین نے بتایا تھا۔۔۔۔۔"

ایان کی شکی نگاہوں کے جواب میں اس نے آخری جملے کا اضافہ کیا تھا۔

درفشاں چائے لے کر آ چکی تھی۔

" اور۔۔۔۔۔اگر وہ بدصورت ہوئی تو؟؟"

ایان نے اسے تصویر کا دوسرا رخ بھی دکھانا چاہا۔

"بابا جانی۔۔۔۔۔ سیرت سے جو عشق ہو تو صورت کون دیکھتا ہے۔۔۔۔۔"

اس نے گنگنا کر کہا تو ایان طمانیت سے مسکرا دیا تھا۔

یوں ایک اور کتابوں والے کو اس کی کتابوں والی ملنے والی تھی------

The end.....

31/08/2022

I can shake off everything as I write; my sorrows disappear, my courage is reborn.
Welcome 🤗❤️

Address

Lahore

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Laiba_Siddique_official_writer posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Laiba_Siddique_official_writer:

Share