21/01/2026
عجب خان افریدی اور انگریز لڑکی کی اغوا کی کہانی )
عجب خان آفریدی کا تعلق قبائلی علاقہ درہ آدم خیل سے تھا جو اس دور میں کوہاٹ کے ساتھ جڑا ہوا علاقہ سمجھا جاتا تھا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب پورا برصغیر برطانوی راج کے زیرِ تسلط تھا اور پاکستان ابھی وجود میں نہیں آیا تھا۔ قبائلی علاقوں میں انگریز حکومت کے خلاف شدید غصہ اور نفرت پائی جاتی تھی۔ انگریز افسران کی سختیوں، چھاپوں اور بے گناہ قبائلیوں کی گرفتاریوں نے حالات کو مزید خراب کر رکھا تھا۔
عجب خان آفریدی کے خاندان کو بھی انگریز حکومت کی کارروائیوں سے نقصان پہنچا۔ روایات کے مطابق اس کے بھائی کو انگریز سرکار کی سخت کارروائی میں قتل کیا گیا، جس کے بعد عجب خان نے فیصلہ کیا کہ وہ اس ظلم کا بدلہ لے گا اور انگریز حکومت کو یہ پیغام دے گا کہ قبائلی لوگ کمزور نہیں ہیں۔
1923 کے قریب عجب خان اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ کوہاٹ کینٹ، جسے مقامی لوگ کوہاٹ چونی کہتے تھے، میں داخل ہوا۔ اس وقت کینٹ ایریا میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات نہیں تھے۔ وہاں ایک انگریز مشنری خاندان رہائش پذیر تھا۔ اسی خاندان کی ایک نوجوان لڑکی، جسے مولی ایلس کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، کو عجب خان اغوا کر کے درہ آدم خیل کے پہاڑی علاقے میں لے گیا۔
اغوا کے بعد اس لڑکی کے ساتھ قبائلی روایات کے مطابق سلوک کیا گیا۔ اسے کوئی جسمانی نقصان نہیں پہنچایا گیا اور نہ ہی اس کی بے حرمتی کی گئی۔ قبائلی معاشرے میں عورت کو امانت سمجھا جاتا ہے اور اسی روایت کا مکمل خیال رکھا گیا۔ بعد میں انگریز تحریروں اور ریکارڈز میں بھی یہ بات سامنے آئی کہ لڑکی محفوظ رہی۔
اس واقعے کے بعد برطانوی حکومت میں شدید کھلبلی مچ گئی۔ کوہاٹ، پشاور اور اردگرد کے علاقوں میں فوجی کارروائیوں کی دھمکیاں دی گئیں، لیکن ساتھ ہی قبائلی مشران اور جرگوں کے ذریعے مذاکرات بھی شروع کیے گئے، کیونکہ انگریز جانتے تھے کہ طاقت کے استعمال سے حالات مزید بگڑ سکتے ہیں۔
کچھ عرصے بعد قبائلی عمائدین کی ضمانت پر معاملات طے پا گئے اور عجب خان کے بعض مطالبات مان لیے گئے۔ اس کے بعد انگریز لڑکی کو بحفاظت واپس برطانوی حکام کے حوالے کر دیا گیا۔ اگرچہ واقعہ بغیر کسی جانی نقصان کے ختم ہوا، لیکن اس نے انگریز حکومت کی رٹ کو شدید نقصان پہنچایا۔
اس واقعے کے بعد عجب خان آفریدی انگریز حکومت کی نظر میں ایک خطرناک شخص بن چکا تھا۔ 1924 میں اسے گرفتار کر کے کوہاٹ میں قائم برطانوی قید خانے میں قید کیا گیا۔ چونکہ اس وقت نہ پاکستان وجود میں آیا تھا اور نہ موجودہ انتظامی نظام، اس لیے اس جیل کو صرف برطانوی قید خانہ کہا جاتا تھا۔ آج یہی قید خانہ موجودہ کوہاٹ جیل کے نام سے جانا جاتا ہے۔
1924 ہی میں عجب خان آفریدی نے اسی برطانوی قید خانے سے ایک جرات مندانہ اور تاریخی فرار کیا، جس نے انگریز حکومت کو شدید شرمندگی سے دوچار کر دیا۔ یہ فرار برصغیر کی تاریخ کے حیران کن واقعات میں شمار ہوتا ہے۔
بعد ازاں عجب خان آفریدی افغانستان چلا گیا، جہاں اس نے اپنی زندگی کا باقی حصہ گزارا۔ قبائلی علاقوں میں آج بھی اسے ایک نڈر، بہادر اور انگریز سامراج کے خلاف ڈٹ جانے والے شخص کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ اس کی کہانی صرف ایک اغوا کا واقعہ نہیں بلکہ اس دور کی سیاسی کشمکش، قبائلی غیرت اور برطانوی راج کے خلاف مزاحمت کی ایک نمایاں علامت ہے، جس کا گہرا تعلق کوہاٹ اور درہ آدم خیل کی تاریخ سے جڑا ہوا ہے۔