Khuzdar City

Khuzdar City Khuzdar City is Heart of Balochistan, khuzdar is big District of Balochistan, Khuzdar Has 15 lac papulation, Khuzdar has Bueatful places.

مولانا محمد اسلم گزگی کی قیادت میں جماعت اسلامی کی وفد کی آغا شکیل احمد خضداری سے ملاقات، مختلف علاقائی و سیاسی امور پر ...
11/04/2026

مولانا محمد اسلم گزگی کی قیادت میں جماعت اسلامی کی وفد کی آغا شکیل احمد خضداری سے ملاقات، مختلف علاقائی و سیاسی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا

خضدار// جماعت اسلامی کے صوبائی ڈپٹی جنرل سیکرٹری مولانا محمد اسلم گزگی ضلعی امیر مولانا عبید اللہ ساسولی نے وفد کے ہمراہ قائد عوام فرزند خضدار آغا شکیل احمد خضداری سے درانی ہاؤس خضدار میں ملاقات کیا۔
ملاقات میں مختلف علاقائی و سیاسی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
اس موقع پر سردار عزیز محمد عمرانی ، محمد اکرم لہڑی بھی موجود تھے۔

جمیعت کے سابقہ یونٹ جنرل سیکٹری رئیس عبد الواحد گنگو آغا شکیل احمد خضداری کی کاروان میں شامل ہوگئے۔درانی ہاؤس خضدار جمیع...
11/04/2026

جمیعت کے سابقہ یونٹ جنرل سیکٹری رئیس عبد الواحد گنگو آغا شکیل احمد خضداری کی کاروان میں شامل ہوگئے۔

درانی ہاؤس خضدار
جمیعت کے سابقہ یونٹ جنرل سیکرٹری رئیس عبد الواحد گنگو اپنے دیگر سینکڑوں ساتھیوں سمیت کاروان خضداری میں شمولیت کا اعلان کردیا
شمولیت تقریب سے آغا شکیل احمد خضداری نے اپنے خطاب میں رئیس عبد الواحد گنگو اور نئے شامل ہونے والے تمام ساتھیوں کا بھرپور خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ بڑی تعداد میں لوگوں کی شمولیت اس بات کا ثبوت ہے کہ خضدار کے عوام اب جاگ چکے ہیں اور وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنا چاہتے ہیں۔

آغا شکیل احمد نے کہا کہ آج بھی ہمارے تعلیمی ادارے مسائل کا شکار ہیں، ہمارے ہسپتالوں میں سہولیات کا فقدان ہے، ہمارے نوجوان ڈگریاں لے کر بے روزگار بیٹھے ہیں اور امن و امان کی صورتحال بھی ہم سب کے لیے ایک مستقل تشویش بنی ہوئی ہے۔ یہ سب مسائل کسی ایک دن میں پیدا نہیں ہوئے بلکہ یہ سالوں کی نااہلی، بے حسی اور غلط ترجیحات کا نتیجہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ممکنہ ضمنی انتخابات ہمارے لیے ایک فیصلہ کن موقع ہے۔ یہ وقت ہے کہ ہم اپنی غلطیوں کو درست کریں، اپنی طاقت کو پہچانیں اور ایسے لوگوں کا انتخاب کریں جو واقعی عوام کے مسائل کو سمجھتے ہوں اور ان کے حل کے لیے سنجیدہ ہو ۔ اب وقت آ چکا ہے کہ ہم ان تمام تفرقات کو ختم کریں جو ہمیں کمزور کرتے ہیں۔ ہمیں قبائلی، علاقائی اور سیاسی اختلافات سے بالاتر ہوکر صرف خضدار کے مفاد کو دیکھنا ہوگا۔ جب تک ہم ایک پلیٹ فارم پر متحد نہیں ہوں گے، نہ ہمارے مسائل حل ہوں گے اور نہ ہی ہمارے بچوں کا مستقبل محفوظ ہو سکے گا۔

انہوں نے کہا کہ میں خضدار کے ہر فرد سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اس جدوجہد کا حصہ بنے، اتحاد کا ساتھ دے اور اپنے علاقے کی ترقی، اپنے بچوں کے مستقبل اور ایک پرامن معاشرے کے قیام کے لیے آگے آئے۔ اگر ہم آج متحد ہو گئے تو آنے والا کل ہمارا ہوگا، ورنہ محرومیاں ہمارا مقدر بنی رہیں گی۔
شمولیتی پروگرام سے ماما رحیم خدرانی ، ٹکری بشیر احمد جتک، رئیس عبد الواحد گنگو، محمد اکرم لہڑی ، رئیس ناصر مردوئی نے خطاب کیا۔ جبکہ رئیس ثناء اللّٰہ مینگل، شکیل احمد صابر، میر احمد خان گنگو، و دیگر تقریب میں موجود تھے

دیگر شامل ہونے والوں میں رحیم بخش، خدا بخش محمد یعقوب شعیب احمد ، غلام رسول ، محمد یاسین، محبوب علی جاوید احمد نادر خان عبد الصمد، سمیع اللہ محمد عالم حافظ سعد اللہ، منیر احمد صدیر احمد، سراج احمد، وڈیرہ محرم علی، ظہور احمد مشتاق احمد، عبدالواحد، نثار احمد، رشید احمد زبیر احمد، خدا بخش، محمد دین، محمد نور، محمد اسحاق، خلیل احمد ، رئیس جلیل احمد، عبدالمالک ، فدا حسین، اسد اللہ، عبد الفتاح محمد ، محمد اسماعیل ، حاجی محمد، سلیمان، عبد العزیز، راہد، مہراللہ، سعد اللہ، عید محمد عزیز اللہ، محمد صدیق ، منظور احمد، عبد الغنی ، بلال احمد عبد الرزاق اپنے دیگر دوستوں سمیت شامل ہوگئے۔

, *(کراچی) پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما سابق صوبائی وزیر نواب زادہ میر نعمت اللہ خان زہری سے مختلف علاقوں سے آئے ہ...
21/01/2026

, *(کراچی) پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما سابق صوبائی وزیر نواب زادہ میر نعمت اللہ خان زہری سے مختلف علاقوں سے آئے ہوئے وفود نے زہری ہاؤس کراچی میں ملاقات کی۔ اور نواب زادہ میر نعمت اللہ خان زہری کو قبائلی سمیت مخلتف مسائل سے آگاہ کیا۔ملاقات کرنے والوں میں پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما میر علی اکبر گرگناڑی ،حاجی عبد الحکیم گرگناڑی نور بخش گرگناڑی ،میر نادر لہڑی، میر نور احمد ملازئی،رئیس رحمت اللہ زہری ،رئیس عبد الجبار زہری،رئیس منظور گزگی،میر علی احمد گرگناڑی،میر سراج گرگناڑی، مولوی عبد المجید سناڑی زہری،ٹکری آصف مڑڈاشہی ،سعداللہ سمالانی ، عبداللہ سناڑی زہری، نائب غلام نبی سناڑی زہری،عبدالغنی سناڑی زیادہ ،عطااللہ سناڑی زہری ، گل حسن سناڑی زہری،نائب غلام مصطفیٰ چنال زہری ،نائب عبد المجید چنال زہری،نائب اسد شاہوزئی زہری،طفیل شاہوزئی زہری، جبار شاہوزئی زہری،وڈیرہ ثناءاللہ شاہوزئی زہری ،حنیف شاہوانی ،سعید شاہوانی،مہراللہ شاہوانی ،سمیر شاہوزئی زہری،رئیس عبد الرحمن زہر ی، شامل تھے اس موقع چیرمین محی الدین بلوچ ، ابراہیم زہری، باسط زہری ، اسد زہری و دیگر بھی موجود تھے*

17/01/2026

**وڈیرہ محمد فاروق جاموٹ کی یاد تازہ ہوگئی، کرخ میں عوامی خدمت کا لامتناہی تسلسل جاری و ساری۔*

*کرخ میں اعلیٰ معیار کا ایک روزہ فری آئی میڈیکل کیمپ کا انعقاد: دو ہزار سے زائد مریضوں کا علاج، 200 سے زیادہ سرجری آپریشنز مکمل،*

*ڈپٹی کمشنر خضدار ایس ایس پی خضدار چیف آفیسر خضدار کی خصوصی شرکت ، وڈیرہ مولا بخش جاموٹ اینڈ برادرز نے میزبانی کے فرائض سرانجام دیئے*

*خضدار، 17 جنوری 2026/ خضدارکے علاقہ کرخ سب ڈویژن میں ایک ملکی سطح کے اعلیٰ معیار کا فری آئی میڈیکل کیمپ منعقد کیا گیا۔ اس کیمپ میں دو ہزار سے زائد مریضوں کا مفت علاج کیا گیا، جبکہ 200 سے زیادہ افراد کے آنکھوں کے آپریشن سرجریاں کامیابی سے مکمل کی گئیں۔ یہ کیمپ 'دی سوسائٹی فار دی پریوینشن اینڈ کیور آف بلائنڈنیس (SPCB) اور اپوا شیریں بانو آئی ہسپتال کراچی کے تعاون سے قائم کیا گیا تھا، جو مقامی آبادی کو جدید طبی سہولیات فراہم کرنے کا ایک اہم ذریعہ بنا۔

کیمپ کی نگرانی آئی اسپیشلسٹ سرجن ڈاکٹر ابرار حسین تنیو اور ڈاکٹر زاہد حسین سمیت 14 طبی عملے نے کی، جنہوں نے اوپی ڈی یعنی آؤٹ پیشنٹ ڈیپارٹمنٹ اور آپریشن تھیٹر میں پورا دن خدمات سرانجام دیں۔ مریضوں کو آنکھوں کی مختلف بیماریوں جیسے موتیا بند، گلوکوما اور دیگر پیچیدگیوں کا علاج فراہم کیا گیا۔ SPCB کی ٹیم نے جدید آلات اور ادویات کے ساتھ کام کیا، جس سے علاقے کے غریب اور دور دراز دیہاتوں سے آنے والے مریضوں کو بڑی راحت ملی۔ کیمپ کے منتظمین کا کہنا ہے کہ یہ پروگرام نہ صرف طبی امداد فراہم کرتا ہے بلکہ آنکھوں کی صحت کے بارے میں آگاہی بھی پھیلاتا ہے، جو خضدار جیسے پسماندہ علاقوں میں انتہائی ضروری ہے۔

تقریب میں ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق ساسولی، ایس ایس پی خضدار شہزادہ عمر عباس بابر وڈیرہ صالح جاموٹ اسسٹنٹ کمشنر وڈھ اکبر علی مزار زئی کی خصوصی شرکت ہوئی، اور انہوں نے فیتہ کاٹ کر فری آئی کیمپ کا افتتاح بھی کردیا۔جبکہ میزبانی کے فرائض وڈیرہ مولا بخش جاموٹ نے سرانجام دی ۔ اس کے علاوہ ڈی ایچ او خضدار ڈاکٹر نسیم لانگو بھی ان کے ہمراہ تھے۔ مہمان آفیسرز نے کیمپ کا دورہ کیا، مریضوں سے بات چیت کی اور طبی عملے کی کاوشوں کو سراہا۔ یہ کیمپ گزشتہ چار سالوں سے تواتر کے ساتھ جاری ہے، جو خدمت انسانیت کی اعلیٰ مثال ہے۔ یہ خدمت کا ورثہ مرحوم وڈیرہ محمد فاروق جاموٹ کا ہے، جنہوں نے اس کا آغاز کیا اور اب یہ خدمت آگے بڑھ رہی ہے۔ یہاں کے مریضوں کو بڑے شہروں جیسے کراچی یا کوئٹہ جانے کی ضرورت نہیں پڑتی، کیونکہ ان کا علاج خضدار کرخ میں ہی دستیاب ہے، جو مقامی سطح پر طبی سہولیات کی دستیابی کو یقینی بناتا ہے۔

ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق ساسولی نے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ یہ فری آئی میڈیکل کیمپ دور دراز علاقوں میں صحت کی سہولیات کی کمی کو پورا کرنے کا ایک شاندار اقدام ہے۔ وڈیرہ محمد فاروق جاموٹ کی خدمت کے تسلسل کو برقرار رکھنا احسن اقدام اور علاقے کے عوام کے ساتھ اہم تعاون ہے کرخ میں منعقد ہونے والا آئی کیمپ نہ صرف مریضوں کو مفت علاج فراہم کرتا ہے بلکہ علاقے کی مجموعی صحت کی سطح کو بہتر بنانے میں معاون ہے۔ حکومت ایسے اقدامات کی مکمل حمایت کرتی ہے، کیونکہ یہ عوامی فلاح و بہبود کا براہ راست ذریعہ ہیں۔ میں نے کیمپ کا دورہ کرتے ہوئے دیکھا کہ طبی عملہ انتہائی پیشہ ورانہ انداز میں کام کر رہا ہے، اور مریضوں کی تعداد اس کی کامیابی کی عکاس ہے۔ یہ کیمپ گزشتہ چار سالوں سے جاری ہے، جو تسلسل کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔ ایسے پروگراموں سے نہ صرف آنکھوں کی بیماریوں کا خاتمہ ممکن ہے بلکہ علاقے کے لوگوں میں صحت کی آگاہی بھی بڑھتی ہے۔ ہم مزید ایسے کیمپوں کی حوصلہ افزائی کریں گے تاکہ ضلع کے ہر کونے تک طبی سہولیات پہنچیں۔

ایس ایس پی خضدار شہزادہ عمر عباس بابر کا کہنا تھاکہ سب سے زیادہ خوش آئندہ بات یہ ہے کہ کرخ ایک پرامن ریجن ہے میں مہمان آئی اسپیشلسٹس اور میزبان وڈیرہ مولا بخش جاموٹ اور وڈیرہ صالح جاموٹ کی خدمات ہو سرہتاہوں کہ وہ بغیر کسی مفاد کے غریب عوام کی خدمت کررہے ہیں۔ وڈیرہ فاروق جاموٹ کی بے مثل خدمت کے تسلسل کو برقرار رکھنا عوام کو قریب لانے کا ایک بہترین ذریعہ ہے، اور پولیس ایسے فلاحی کاموں کی حفاظت اور تعاون کو یقینی بناتی ہے۔ میری نظر میں یہ کیمپ آنکھوں کی صحت کے علاوہ سماجی ہم آہنگی کو بھی فروغ دیتا ہے۔ 200 سے زیادہ آپریشنز مکمل ہونا ایک بڑی کامیابی ہے، جو طبی ٹیم کی محنت کا نتیجہ ہے۔ پولیس کا کردار صرف قانون نافذ کرنا نہیں بلکہ عوامی خدمت میں شراکت داری کرنا بھی ہے، اور ہم ایسے پروگراموں کو مزید وسعت دینے کے لیئے تیار ہیں۔ یہ تسلسل کے ساتھ چلنے والا پروگرام ضلعی کی ترقی کی علامت ہے۔

فری آئی کیمپ کی میزبانی کرنے والے قبائلی و سیاسی رہنماء وڈیرہ مولا بخش جاموٹ ، مرحوم وڈیرہ محمد فاروق جاموٹ کے فرزبد ہیں ان کا کہنا تھاکہ کرخ میں فری آئی کیمپ منعقد کرنا ہمارے خاندان کی روایت ہے، جو خدمت انسانیت کو فوقیت دیتی ہے۔ کرخ جیسے دور دراز علاقے میں عوام کو آنکھوں کا مفت علاج فراہم کرنا ایک مقدس فریضہ ہے، اور یہ کیمپ اسی کا تسلسل ہے۔ ہم SPCB اور اپوا شیریں بانو ہسپتال کے شکر گزار ہیں جنہوں نے اپنی خدمات پیش کیں۔ گزشتہ چار سالوں سے یہ پروگرام جاری ہے، جو ہمارے بزرگوں کا ورثہ ہے۔ دو ہزار مریضوں کا علاج اور 200 آپریشنز مکمل ہونا اس کی افادیت کو ثابت کرتا ہے۔ یہ کیمپ نہ صرف طبی امداد دیتا ہے بلکہ لوگوں کو بڑے شہروں کے سفر سے بچاتا ہے۔ ہم اسے مزید بڑھانے کا ارادہ رکھتے ہیں تاکہ مزید لوگ مستفید ہوں۔ میں ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق ساسولی ایس ایس پی خضدار شہزادہ عمر عباس بابر و دیگر تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ وہ ہماری دعوت پر کرخ آئے

چیف آفیسر خضدار وڈیرہ محمد صالح جاموٹ کا کہنا تھاکہ یہ فری آئی میڈیکل کیمپ ہمارے لیئے فخر کی بات ہے، کیونکہ یہ مقامی سطح پر ضرورت مند افراد کو بے حد فائدہ پہنچاتا ہے ۔ ہم بے خوشی محسوس کررہے ہیں کہ ہمارے بڑے بھائی وڈیرہ فاروق جاموٹ نے ہمیں جو سوچ اور فکر دی تھی اس کی ہم پیروی کررہے اور اس کا نیک اجر انہیں ضرور ملیگا۔ یہ آئی کیمپ عوام کی خدمت کا ایک روشن مثال ہے، اور ہماری ٹیم نے اس کی میزبانی میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ ڈاکٹرز کی ٹیم نے شاندار کام کیا، جو علاقے کی ضرورت کو پورا کر رہا ہے۔
چار سالوں سے جاری یہ سلسلہ اب ایک روایت بن چکا ہے، جو خدمت کا ورثہ ہے۔ مریضوں کو کراچی یا دیگر شہروں میں جانے کی بجائے یہیں علاج ملنا ایک بڑی سہولت ہے۔ ہماری یہی تمنا ہے کہ جب تک اللہ تعالیٰ نے توفیق دی عوام کی خدمت کرتے رہیں گے۔
اس موقع پر ڈی ایس پی کرخ محمد زمان رئیس ارباب عبداللہ رند چیئرمین سٹی حاجی غلام یاسین جتک چیئرمین بھلونک غلام سرور موسیانی وائس چیئرمین آباد عبد الرسول چانڈیو سابقہ چیئرمین آباد نزیر احمد چھٹہ ، سیاسی و سماجی رہنماء سیف اللہ شاہوانی عبدالکریم اودی شاہوانی وڈیرہ محمد رفیق جاموٹ پروفیسر محمد حسن جاموٹ جمعیت علمائے اسلام کے مولانا محمد انور جاموٹ وڈیرہ ارشاد احمد جتک پیرامیڈیکل اسٹاف کے محمد خان چھٹہ عطاء اللہ شیخ محمد اشرف موسیانی محمد عارف رند و دیگر موجود تھے ۔
میزبانوں کی جانب سے مہمان آفیسرز ڈاکٹرز اور دیگر کے اعزاز میں پر تکلف ظہرانہ دیا گیا۔

17/01/2026

ایک دھماکہ خیز انکشاف ۔
اور ایک صدمہ انگیز فیصلہ۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے تازہ بیان نے مسلم دنیا کے دل چیر دیے۔ اُنہوں نے کہا:

عراقی سیاستدانوں نے جن بھاری رقوم کو امریکی بینکوں میں جمع کر رکھا تھا، اب وہ رقوم امریکی عوام کی ملکیت ہوں گی۔ یہ قیمت ہے اُن جانوں کی، جو امریکی فوجیوں نے عراق میں قربان کیں۔"

یہ جملے صرف ایک اعلان نہیں تھے۔ یہ ایک تاریخی فیصلے کا کربناک آغاز تھے۔

امریکی محکمہ خزانہ کی جانب سے جاری کردہ مبینہ فہرست کے مطابق:

نوری المالکی: 66 ارب ڈالر
عدنان الاسدی: 25 ارب ڈالر
صالح المطلق: 28 ارب ڈالر
باقر الزبیدی: 30 ارب ڈالر
بہاء الاعرجی: 37 ارب ڈالر
محمد الدراجي: 19 ارب ڈالر
ہوشیار زیباری: 21 ارب ڈالر
مسعود بارزانی: 59 ارب ڈالر
سلیم الجبوری: 15 ارب ڈالر
سعدون الدلیمی: 18 ارب ڈالر
فاروق الاعرجی: 16 ارب ڈالر
عادل عبدالمہدی: 31 ارب ڈالر
اسامہ النجیفی: 28 ارب ڈالر
حیدر العبادی: 17 ارب ڈالر
محمد الکربولی: 20 ارب ڈالر
احمد نوری المالکی: 14 ارب ڈالر
طارق نجم: 7 ارب ڈالر
علی العلاق: 19 ارب ڈالر
علی الیاسری: 12 ارب ڈالر
حسن العنبری: 7 ارب ڈالر
ایاد علاوی: 44 ارب ڈالر
جلال طالبانی: 35 ارب ڈالر
رافع العیساوی: 29 ارب ڈالر

کل رقم: 597 ارب ڈالر

یہ وہ رقم ہے جسے غریب عراقی بچوں کا دودھ، بیواؤں کے آنسو، اور لاشوں کے انبار ترس رہے تھے۔ اور آج انہی رقوم کو ایک اجنبی "حق" کے نام پر چھین لیا گیا۔

یہ خبر صرف عراق تک محدود نہ رہی۔ سعودی عرب، امارات، کویت، بحرین کے حکمرانوں کے ایوان لرز گئے۔ اُن کی نیندیں اڑ گئیں۔ بینکنگ سسٹم سے رقوم نکالنے کی دوڑ شروع ہو چکی ہے — نقصان ہو یا نہ ہو، دولت کو بچانے کی آخری کوشش جاری ہے۔

یہ زلزلہ سوئٹزرلینڈ کی گہرائیوں تک پہنچا، جہاں رازداری کا قلعہ اب پگھلتے ہوئے برف کی مانند ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی نظام کی چادر تار تار ہو چکی ہے۔

مسلم شریف کی وہ پیشگوئی ایک پھر زندہ ہو گئی ۔۔

عربی متن:
*قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:
«يُوشِكُ أَنْ يُحْصَرَ فَيْءُ الشَّأْمِ، وَفَيْءُ الْعِرَاقِ، وَفَيْءُ مِصْرَ، فَتَرُدُّونَ إِلَى مَوَاضِعِكُمُ الْأُولَى، تَرُدُّونَ إِلَى مَوَاضِعِكُمُ الْأُولَى، تَرُدُّونَ إِلَى مَوَاضِعِكُمُ الْأُولَى»*

ترجمہ:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"عنقریب شام، عراق اور مصر کی فَے (یعنی مال و غلہ) بند ہو جائے گی، اور تم وہیں لوٹ جاؤ گے جہاں سے تم پہلے آئے تھے، وہیں لوٹ جاؤ گے، وہیں لوٹ جاؤ گے۔"

حوالہ:
صحیح مسلم، کتاب الفتن، حدیث نمبر: 2887

اور وہ پابندیاں پھر سے زندہ ہو چکی ہیں۔ یہ تاریخ کا تسلسل ہے — 1990 کی معاشی تباہی آج 2025 میں ایک اور رنگ میں پلٹ آئی ہے۔

اب یہ صرف بینکنگ کا مسئلہ نہیں… یہ پوری امت کی غیرت کا سوال ہے۔
یہ فیصلہ صرف دولت کا نہیں… یہ فیصلہ شہداء کے لہو، یتیموں کے آنسو، اور مسلمانوں کی بے بسی پر مہر لگانے والا فیصلہ ہے۔

ہم خاموش نہ رہیں!
ہماری آواز غزہ سے لے کر بغداد، دمشق سے لے کر مکہ تک گونجنی چاہیے۔

ہمیں اپنی نسلوں کے لیے سچ بولنا ہوگا، چاہے وہ کتنا ہی کڑوا کیوں نہ ہو۔۔!!!!!

17/01/2026

*ریڑھی بانوں کے خلاف کارروائیاں — خوبصورتی کے نام پر غربت کا قتل*

“مزدور کو فاقے کی عادت نے مار ڈالا
جینے کی چاہ کی تو غربت نے مار ڈالا
نکلا جو رزق کمانے سڑکوں پہ در بدر
تو شاہوں کے مشیروں کی مشیری نے مار ڈالا”

ہم واضح کرنا چاہتے ہیں کہ ضلعی انتظامیہ کی تجاوزات کے خلاف مہم اصولی طور پر قابلِ تعریف ہے اور شہر کی خوبصورتی کے لیے کیے جانے والے تمام اقدامات قابلِ ستائش ہیں، مگر خوبصورت شہر کی بنیاد بھوکے انسانوں کی لاشوں پر نہیں رکھی جا سکتی۔
اعلیٰ عہدوں پر فائز افسران اور ان کے مشیران ایئر کنڈیشنڈ کمروں اور پروٹوکول میں زندگی بسر کرتے ہیں۔ انہیں بیروزگاری اور غربت کے زمینی حقائق کا ادراک نہیں۔ یہ طبقہ غریب مزدور کو زمین پر رینگنے والے حشرات الارض سمجھنے لگتا ہے، جو کہ ایک نہایت افسوسناک اور دل سوز رویہ ہے۔
ضلع خضدار میں ریڑھی بانوں کے ساتھ زمینی حقائق سے مکمل لاعلمی کے ساتھ ظالمانہ فیصلے مسلط کرنا حیران کن اور قابلِ مذمت عمل ہے۔ ریڑھی بانوں کی ریڑھیوں کے پہیے نکالنا اور ریڑھیاں ضبط کر کے انہیں روزگار سے محروم رکھنا سراسر ظلم ہے۔ کسی بھی باشعور اور مہذب معاشرے میں اس عمل کی تعریف ممکن نہیں۔
ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ انتظامیہ ریڑھی بانوں کے لیے متبادل زون فراہم کرتی، شعور و آگاہی مہم چلاتی، کم از کم ایک ہفتہ یا دس دن تک نئے مقامات پر روزگار کا عملی جائزہ لیتی۔ اگر تجویز کردہ زون عوام الناس اور ریڑھی بانوں دونوں کے لیے موزوں ثابت ہوتا تو انہیں مستقل اسپاٹ فراہم کر کے باقاعدہ رجسٹر کیا جاتا۔
مگر اس کے برعکس یکدم، بغیر منصوبہ بندی اور بغیر متبادل انتظام کے کارروائی کر کے ہزاروں افراد کو معاشی طور پر مفلوج کر دیا گیا۔ اس بدترین مہنگائی کے دور میں لوگوں کی روزی روٹی چھین لینا سنگین ظلم کے مترادف ہے۔
ہم ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ریڑھی بانوں کی تکلیف اور مجبوری کو مدنظر رکھتے ہوئے نرم، انسانی اور حقیقت پسندانہ فیصلے کرے۔ ممکنہ حد تک تعاون کیا جائے تاکہ شہر کی خوبصورتی بھی برقرار رہے اور مزدور طبقہ بھی فاقہ کشی کا شکار نہ ہو۔

`خضدار کے عوام کے لیے سنہری موقع…`دی سوسائیٹی فوردی پریوینیشن اینڈ کیور اف بلاینڈنس ( ایس پی سی بی ) أئی سوسائیٹی .جناب ...
17/01/2026

`خضدار کے عوام کے لیے سنہری موقع…`
دی سوسائیٹی فوردی پریوینیشن اینڈ کیور اف بلاینڈنس ( ایس پی سی بی ) أئی سوسائیٹی .جناب ایف سی کمانڈنٹ خضدار کے تعاون سے ایف سی ڈپٹی ڈایرکٹر ڈاکٹر افیاز احمد راجپر صوبیدار اللہیار کوکھرکے نگرانی انتظام منعقد ہونے والا یہ دو روزہ فری آئی کیمپ مستحق افراد کے لیے بڑی سہولت ثابت ہوگا۔
کیمپ کی تفصیلات درج ذیل ہیں:
`تاریخ: 18 /19 جنوری 2026ء`
`دن: ہفتہ، اتوار،
مقام: جھلاوان ٹیچنگ ہسپتال، خضدار
سہولیات: آنکھوں کا مفت معائنہ، مفت آپریشن، لینز کی فراہمی اور مفت ادویات۔
ضروری مشورہ:
اگر آپ یا آپ کے گردونواح میں کوئی شخص آنکھوں کے امراض (جیسے موتیابند وغیرہ) میں مبتلا ھے، تو انہیں اس موقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے بروقت ہسپتال پہنچنے کی ترغیب دیں…

17/01/2026

*KhüضdäR*

بجلی کے ساتھ ساتھ موبائل سروس کی لوڈشیڈنگ کو جھیلنے والے خضداریوں کے لئے `PTCL` کی طرف سے نیا تحفہ…

جیسے ہی بجلی بند ہو جاتی ھے،
ویسے ہی PTCL کی `انٹرنیٹ سروس` بھی بند ہوجاتی ھے…

سمجھ نہیں آتی کہ باقی دنیا والے تعلیم،صحت،گیس،بجلی، موبائل سروس،ڈیٹا سروس اور DSLسروس، فری WI-FI سروس جیسی *سہولیات* کو کیسے برداشت کرلیتے ہیں؟؟؟

ھم سے تو یہاں ایک کی خوشی برداشت نہیں ہوپاتی…
`ایک آتی ھے تو دوسری چلی جاتی ھے…`

17/01/2026

واپڈا کے خلاف خضدار جعفرآباد سے احتجاجی ریلی

*40 حج کرنے والے معمر ترین سعودی شہری انتقال کر گئے*```ناصر بن ردان کی عمر 142 سال تھی،سوگواران میں کُل 134 بچے چھوڑے ہی...
17/01/2026

*40 حج کرنے والے معمر ترین سعودی شہری انتقال کر گئے*
```ناصر بن ردان کی عمر 142 سال تھی،سوگواران میں کُل 134 بچے چھوڑے ہیں،میڈیارپورٹ```
`1932 میں سعودی عرب کے باقاعدہ قیام کے تاریخی گواہ تھے`

Address

Khuzdar
89100

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Khuzdar City posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category