24/04/2025
سایہ دار ماں
تصویر: خضدار بلوچسان
بازار کی گرد آلود سڑک پر، جیسے وقت تھم سا گیا ہو۔ ہر طرف شور، ہارن، چیخ و پکار، مگر وہ عورت خاموشی سے چلتی جا رہی تھی۔ اس کے برقعے کے نیچے چھپی قربانیوں کی کتنی کہانیاں تھیں، کوئی نہیں جانتا تھا۔ وہ اپنے کاندھے پر ایک بچہ اٹھائے ہوئے تھی — نہ صرف جسمانی طور پر، بلکہ زندگی کی ہر مشکل اس کے لیے اٹھائے جا رہی تھی۔
بچہ نرم لباس میں لپٹا ہوا تھا، جیسے سردی سے بچانے کے لیے ماں نے اپنی ہر راحت قربان کر دی ہو۔ وہ کبھی دائیں جھولتا، کبھی بائیں، لیکن ماں کی پیٹھ پر اس کا توازن قائم تھا، جیسے زندگی کے طوفانوں میں ماں ہی اس کی واحد پناہ گاہ ہو۔
بازار کی دکانوں پر مال سجا تھا، مگر ماں کی جھولی خالی تھی۔ وہ نہ رکتی، نہ دیکھتی، بس آگے بڑھتی جا رہی تھی۔ شاید دوا لینی تھی، یا کوئی کام، یا شاید صرف زندگی کی دوڑ میں شامل رہنے کے لیے وہ بھاگ رہی تھی۔
کسی نے اسے غور سے نہیں دیکھا، سوائے اس فوٹوگرافر کے — جو سمجھ گیا تھا کہ یہ عورت کوئی عام عورت نہیں۔ یہ تصویر ماں کے جذبے کی، اس کی خاموش قربانیوں کی ایک دستاویزی شہادت تھی۔
کیمرے نے جو قید کیا، وہ صرف ایک منظر نہیں تھا — وہ ایک جذباتی سچائی تھی:
کہ ماں صرف جنم نہیں دیتی، وہ سائے کی طرح ساتھ رہتی ہے، تھامتی ہے، سنبھالتی ہے...
جب تک بچہ اپنے پیروں پر کھڑا نہ ہو جائے۔
اور وہ بچہ؟
وہ ابھی بے خبر تھا۔ لیکن کل جب وہ بڑا ہوگا، اور یہ تصویر دیکھے گا، تو شاید اس کی آنکھوں میں نمی آ جائے گی۔
کیونکہ اسے اندازہ ہو جائے گا کہ اس کا پہلا گھوڑا، اس کی پہلی سواری... ماں کی پیٹھ تھی۔