مصطفوی معاشرہ

مصطفوی معاشرہ مصطفوی معاشرہ

06/08/2024

Sarkar ki Batain | Kalam-e-Shaad | Coming Soon

منزل حق کا رہنما طاہر                حق پرستی کا راستہ طاہر
18/07/2024

منزل حق کا رہنما طاہر
حق پرستی کا راستہ طاہر

05/07/2024

Mere Bhi Ghar Main - Kalam-e-Shad - Official Video

DONATE NOW
15/06/2024

DONATE NOW

30/05/2024

𝐒𝐩𝐞𝐜𝐢𝐚𝐥 𝐢𝐧𝐯𝐢𝐭𝐚𝐭𝐢𝐨𝐧 𝐭𝐨 𝐭𝐡𝐞 𝐎𝐚𝐭𝐡 𝐓𝐚𝐤𝐢𝐧𝐠 𝐂𝐞𝐫𝐞𝐦𝐨𝐧𝐲 𝐨𝐟 𝐍𝐚𝐭𝐢𝐨𝐧𝐚𝐥 𝐄𝐱𝐞𝐜𝐮𝐭𝐢𝐯𝐞 𝐂𝐨𝐮𝐧𝐜𝐢𝐥 𝐌𝐐𝐈 𝐃𝐞𝐧𝐦𝐚𝐫𝐤 𝐮𝐧𝐝𝐞𝐫 𝐭𝐡𝐞 𝐬𝐮𝐩𝐞𝐫𝐯𝐢𝐬𝐢𝐨𝐧 𝐨𝐟 𝐌𝐢𝐧𝐡𝐚𝐣 𝐄𝐮𝐫𝐨𝐩𝐞𝐚𝐧 𝐂𝐨𝐮𝐧𝐜𝐢𝐥(𝐌𝐄𝐂).
𝐒𝐮𝐧𝐝𝐚𝐲, 𝐉𝐮𝐧𝐞 𝟐𝐧𝐝, 𝟐𝟎𝟐𝟒 at “𝟏𝟖:𝟎𝟎”
𝓥𝓪𝓷𝓾𝓮: 𝐌𝐢𝐧𝐡𝐚𝐣 𝐮𝐥 𝐐𝐮𝐫𝐚𝐧 𝐈𝐧𝐭𝐞𝐫𝐧𝐚𝐭𝐢𝐨𝐧𝐚𝐥
𝐁𝐈𝐒𝐏𝐄𝐕𝐄𝐉 𝟐𝟓, 𝟐𝟒𝟎𝟎 𝐂𝐨𝐩𝐞𝐧𝐡𝐚𝐠𝐞𝐧 𝐍𝐕.

“𝑻𝒉𝒆𝒓𝒆 𝒘𝒊𝒍𝒍 𝒃𝒆 𝒂 𝒔𝒑𝒆𝒄𝒊𝒂𝒍 𝒐𝒏𝒍𝒊𝒏𝒆 𝒔𝒆𝒔𝒔𝒊𝒐𝒏 𝒘𝒊𝒕𝒉 𝑺𝒉𝒂𝒚𝒌𝒉 𝒖𝒍 𝑰𝒔𝒍𝒂𝒎 𝑫𝒓. 𝑴𝒖𝒉𝒂𝒎𝒎𝒂𝒅 𝑻𝒂𝒉𝒊𝒓 𝒖𝒍 𝑸𝒂𝒅𝒓𝒊”

𝓓𝓲𝓷𝓷𝓮𝓻 𝔀𝓲𝓵𝓵 𝓫𝓮 𝓼𝓮𝓻𝓿𝓮𝓭.

ℒℯ𝓉'𝓈 𝓂𝒶𝓀ℯ 𝓉𝒽𝒾𝓈 𝒸ℯ𝓇ℯ𝓂ℴ𝓃𝓎 𝒶 𝓂ℯ𝓂ℴ𝓇𝒶𝒷𝓁ℯ ℯ𝓋ℯ𝓃𝓉!

𝐅𝐨𝐫 𝐟𝐮𝐫𝐭𝐡𝐞𝐫 𝐢𝐧𝐟𝐨𝐫𝐦𝐚𝐭𝐢𝐨𝐧, 𝐩𝐥𝐞𝐚𝐬𝐞 𝐜𝐨𝐧𝐭𝐚𝐜𝐭 𝒒𝒂𝒏@𝒎𝒒𝒊.𝒅𝒌

𝓑𝓻𝓲𝓷𝓰 𝔂𝓸𝓾𝓻 𝓼𝓹𝓲𝓻𝓲𝓽, 𝓫𝓮 𝓲𝓷𝓼𝓹𝓲𝓻𝓮𝓭!

Minhaj-ul-Quran International [Official]
Minhaj-ul-Quran Malmö
Minhaj-ul-Quran International Denmark Valby
Minhaj-ul-Quran International Spain
Minhaj ul Quran International Italy
Minhaj-ul-Quran International Greece
Minhaj-ul-Quran International Denmark Nordvest
Minhaj-ul-Quran International Amager Denmark
Minhaj-ul-Quran International Denmark Women League
Shaykh ul Islam Dr Muhammad Tahir-ul-Qadri
Prof. Dr. Hussain Mohi-ud-Din Qadri
Minhaj-ul-Quran International Sweden
Dr. Hassan Mohiuddin Qadri

داڑھی کو عربی میں ’’لحیۃ‘‘ کہتے ہیں۔ اور اَئمہ لغت نے اس کی تعریف یوں کی ہے: اللِّحْيَةُ شَعَرَ الخَدَّيْنِ والذقْنِ.’’ر...
26/04/2024

داڑھی کو عربی میں ’’لحیۃ‘‘ کہتے ہیں۔ اور اَئمہ لغت نے اس کی تعریف یوں کی ہے: اللِّحْيَةُ شَعَرَ الخَدَّيْنِ والذقْنِ.

’’رخساروں اور ٹھوڑی کے بالوں کو ’ لحیہ ‘ کہتے ہیں۔‘‘

ابن منظور، لسان العرب، 15: 243، بيروت: دار صادر
الزبيدي، تاج العروس، 39: 442، دار الهداية
ابراهيم مصطفیٰ، المعجم الوسيط، 2: 820، دار الدعوة
محمد يعقوب، القاموس المحيط، 2: 1714، بيروت: مؤسسة السالة
لہٰذا ٹھوڑی کے بال بھی داڑھی کا حصہ ہیں اس لیے پیمائش کرتے ہوئے ان بالوں کو بھی داڑھی میں شامل کیا جائے گا۔

علی بن سلطان محمد القاری حنفی رحمہ اﷲ، شرح مسند ابو حنیفہ میں لکھتے ہیں: فالتقدير: لو أخذتم نواحي لحية طولا وعرضا، وترکتم قدر المستحب وهو مقدار القبضة، وهي الحد المتوسط بين الطرفين امذمومين من إرسالها مطلقاً، ومن حلقها وقصهاعلی وجه استئصالها.

’’(حضور نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ابو قحافہ رضی اللہ عنہ کو جو داڑھی کاٹنے کا حکم دیا تھا) اس میں حکماً یہ ارشاد ہے کہ اگر تم داڑھی کو طولاً عرضاً اور اس قدر مستحب چھوڑ دو (تو بہتر ہے) اور وہ مستحب قبضہ کی مقدار ہے اور یہ مطلقاً داڑھی چھوڑنے یا منڈوانے اور جڑ سے کاٹنے کی افراط اور تفریط والی مذموم جانبوں میں حد متوسط ہے۔‘‘

ملا علي قاري، شرح مسند أبي حنيفة: 423، 424، بيروت، لبنان: دار الکتب العلمية

شریعت میں واجب کے لئے حکم کا پایا جانا ضروری ہے۔ لہٰذا داڑھی کی مقدار کو قبضہ بھر واجب ثابت کرنے کے لئے کوئی حکمِ شرعی موجود نہیں ہے۔

احادیث مبارکہ میں ہے:

حضرت عمرو بن شعیب رضی اللہ عنہ بواسطہ والد اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں۔

أَنَّ النَّبِيَ صلیٰ الله عليه وآله وسلم کَانَ يَأْخُذُ مِنْ لِحْيَتِهِ مِنْ عَرْضِهَا وَطُولِهَا.

’’نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی داڑھی مبارک لمبائی اور چوڑائی میں کم کرتے تھے۔‘‘

ترمذي، السنن، 5: 94، رقم: 2762، بيروت: دار احياء التراث العربي

سیدنا امام علی المرتضٰی (علیہ الصلوٰۃ والسلام) اپنی داڑھی کو چہرے کے قریب سے کاٹتے تھے... اس روایت کو امام ابی شیبہ، امام محمد بن عبدالبر، امام زید سمیت عالم عرب کے سینکڑوں محدثین نے کتابوں کی زینت بنایا جب کہ پاکستان میں بھی بہت سارے محدثین مفتی عبدالقیوم ہزاروی، مفتی یوسف وغیرہ نے نقل کیا!

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی الله عنه قَالَ، قَالَ: رَسُولُ ﷲِ
صلیٰ الله عليه وآله وسلم جُزُّوا الشَّوَارِبَ وَأَرْخُوا
اللِّحَی خَالِفُوا الْمَجُوسَ: إِنَّهُمْ يُوَفِّرُونَ سِبَالَهُمْ، وَيَحْلِقُونَ لِحَاهُمْ، فَخَالِفُوهُمْ:

""حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مونچھیں کم کرو اور داڑھیاں بڑھاؤ، مجوسیوں کی مخالفت کرو
وہ مونچھیں بڑھاتے ہیں اور داڑھیاں منڈاتے ہیں پس تم ان کی مخالفت کرو۔""

📚بخارى الصحيح، 2: 875، ر قم: 5893
📚مسلم، الصحيح، 1: 222، رقم: 260
📚أحمد بن حنبل، المسند، 2: 365، رقم: 8764، مصر: مؤسسة قرطبة
📚المصنف ابن ابي شيبه:۸؍۵۶۷۔۵۶۶،
📚المعجم الاوسط للطبراني:۱۰۵۵۔۱۶۴۵،
📚السنن الكبري للبيهقي:۱؍۱۵۱،
📚شعب الايمان للبيهقي:۶۰۲۷،وسنده الصحيح،

حدیث کی تشریح:
"آقا کریم صلی علیہ و آلہ وسلم کے اس فرمان میں داڑھی رکھنے کا حکم تو ہے مگر داڑھی رکھنے کی کسی بھی مقدار کا حکم نہیں نبی کریم نے فقط اتنی داڑھی رکھنے کا حکم دیا جس سے داڑھی منڈوانے والے کی مخالفت ہو سکے یہی وجہ ہے کہ تمام صحابہ اکرام اپنی اپنی پسند کے مطابق داڑھی رکھتے تھے."

امام اعظم ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ مسلک حنفی یوں بیان کرتے ہیں ۔

عن أبى حنيفة عن حماد عن إبراهيم أنه قال لابأس ان ياعذ الرجل من لحية مألم مشتبه باهد الشرك
(امام ابو يوسف يعقوب بن إبراهيم متوفي ١٥٠ ه ، كتاب الآثار ٢٣٤)

امام اعظم ابو حنیفہ روایت کرتے ہیں کہ داڑھی کو چھوٹا
رکھنے میں کوئی حرج نہیں بشرطیکہ مشرکین (داڑھی منڈوانے والے) کی مخالفت ہو ۔۔

٢٥٤٨٠-- حدثنا وكيع عن أبي هلال قال : سألت الحسن و ابن سيرين فقالا : لابأس به أن نأخذ صول لحيتك :
📚كتاب المصنف ابن أبي شيبة حديث ٢٥٤٨٠

ابو الھلال رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے حسن رضی اللہ عنہ اور ابن سرین رضی اللہ عنہ سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ داڑھی کو چھوٹا رکھنے میں کوئی حرج نہیں ۔۔۔

حضرت محمد صلی علیہ و آلہ وسلم
فرماتے ہیں ۔۔

" عَنِ اِبْنِ عَبَاسْ عن النبي صلى الله عليه و آله
وسلم قَالَ مِنْ سَعَادَةِ الرَّجُلِ خِفَّةُ لِحْيَتِهِ:

" ابن عباس روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا داڑھی کا چھوٹا ہونا مرد کی سعادت میں سے ہے-"
📚رواه الطبرانى ،باب البأس
مطبوعة بيروت
📚شرح المشكوة جلد ٨ ص ٢٩٨
باب الرجل فصل ثانى.
الکامل، ج 7 ص 128

تشریح """"ثابت ہوا کہ داڑھی کو چھوٹا رکھنا سعادت والی بات ہے ۔۔۔

عَنِ سَمَاکْ رضي الله عنه
كَانَِ عَلَيً رضي الله عنه يَأخُذُ مِنْ
لِحْيَتِهِ مِمَّا يَالِيْ وَجْهَهُ:

"حضرت امام علی المرتضیٰ (علیہ السلام) اپنی داڑھی کو چہرے کے قریب سے داڑھی کاٹتے تھے۔"

📚المصنف ابن أبي شيبة، ٥ : ٢٢٥
رقم: ٢٥٤٨٠ مكتبة الرشد الرياض،

وہ احادیث مبارکہ جن میں داڑھی بڑھانے کا حکم ہے اُن کی اسناد کو قوائد وضوبط کے مطابق پرکھیں تو واجب ثابت نہیں ہوتا۔ اِس لئے یہ عمل سنتِ مؤکدہ بنتا ہے۔ کسی فعل کا وجوب شریعت کے لازمی مطالبہ سے ثابت ہوتا ہے۔ احناف کے ہاں واجب کی تعریف درج ذیل ہے: ما طلب الشرع فعله طلباً جازماً بدليل ظني فيه شبهة.

’’ایسا حکم جس کے کرنے کا شرع نے لازمی مطالبہ کیا ہو اور دلیل ظنی سے ثابت ہو اس طرح کہ اس میں کوئی شبہ رہ جائے۔‘‘

اور غیر احناف کے ہاں واجب کی تعریف یہ ہے:

ما طلب الشرع فعله طلباً جازماً بدليل قطعي أو ظني.

’’ایسا فعل جس کے کرنے کا شارع نے لازمی مطالبہ کیا ہو خواہ دلیل قطعی سے ثابت ہو یا دلیل ظنی سے۔‘‘

وهبه زحيلي، الفقه الإسلامي وأدلته، 1: 52، دمشق، شام: دار الفکر

لہٰذا مطلقاً داڑھی رکھنا سنتِ مؤکدہ ہے کیونکہ اسناد کے اعتبار سے روایات وجوب کے درجہ پر پوری نہیں اترتیں۔

اہم علمی نقطہ ۔۔۔

امام اعظم ابو حنیفہ سے لے کر امام ابن عابدین شامی تک اہلسنت والجماعت کی 14 سو سالہ تاریخ میں کسی محدث نے بھی ایک مشت داڑھی کو واجب نہیں کہا مگر برصغیر پاک وہند میں اگیارویں صدی عیسوی میں برصغیر کے ایک متاخر عالم شیخ عبدالحق محدث دہلوی نے محض اپنی رائے سے ایک مشت داڑھی کو واجب کہنے کی بدعت کا آغاز کیا ۔۔انڈیا و پاکستان میں بعد کے محدثین نے شیخ عبدالحق محدث دہلوی کی پیروی کی ۔۔۔

یاد رہے کہ شیخ عبدالحق محدث دہلوی نے داڑھی کے وجوب پر کوئی دلیل پیش نہیں کی ۔۔۔

یاد رکھیں کہ اصول فقہہ کے 11 مراتب ہیں ۔۔
ہر بڑے فتوی کے شروع کے صفحات میں علم فقہہ کے یہ 11 مراتب درج ہوتے ہیں ۔۔۔۔

اصول فقہہ کا ایک عام سا طالب بھی اگر داڑھی کی مقدار کو ان 11 مراتب پر پرکھے تو با آسانی پتہ چل جاتا کہ کہ داڑھی کی مقدار سنت غیر موقعدہ ہے کیوں کہ نبی کریم صلی علیہ و آلہ وسلم نے داڑھی رکھنے کی کوئی مقدار مقرر نہیں ۔۔۔۔

"امام ابن عابدین شامی کا مایہ ناز فتوی فتوی درمختار
میں اصول فقہہ کے یہی 11 مراتب درج ہیں

امام ابن عابدین شامی واجب کی تعریف یوں لکھتے ہیں
واجب اسے کہتے ہیں جو دلیل ظنی سے ثابت ہو یہنی کہ جس کام کا نبی کریم صلی علیہ و آلہ وسلم حکم دیں اور پھر اس کے نا کرنے پر وعید فرمائیں اسے واجب
کہتے ہیں."

📚شامی ، درمختار ج 1 ص 53

جب کہ دنیا جانتی ہے کہ نبی کریم نے تو داڑھی رکھنے کی کوئی بھی مقدار مقرر نہیں ۔۔۔ ایک مشت داڑھی رکھنے کا تو حکم ہی نہیں دیا وعید سنانا تو بہت دور کی بات ہے ۔۔۔ ثابت ہوا کہ داڑھی کی مقدار سنت غیر موکدہ ہے اس کی کوئی حد مقرر نہیں ۔۔۔۔

منہاج القرآن علماء کونسل
مفتی محمد شبیر قادری

میں نے یہ پوسٹ فقط اس لیے اپلوڈ کی کیوں کہ دیکھا گیا ہے کہ ملاں...... شیخ عبدالحق محدث دہلوی کے صرف قول کا سہارا لے کر چھوٹی داڑھی رکھنے والوں کی عزت کو مجروح کرنے سے باز نہیں آتے ۔۔۔۔ تاکہ بغیر کسی شرعی دلیل کے لوگوں کی عزت کو مجروح کرنے سے باز آ جائیں ۔

ان تمام تر دلائل سے ثابت ہوا کہ محدیثین کے آپس میں اختلافات بھی ہو سکتےہیں اور ان اختلافات کی وجہ سے کوئی اسلام یا سنیت سے خارج نہیں ہوتا وہ اختلاف چاہے شیخ محقق عبد الحق محدثِ دہلوی سے ہو یا مولانا احمد رضا بریلوی سے ۔
نقل بطرف صدائے نجف

تحریک منہاج القرآن کراچی کے سیکرٹری اطلاعات راؤ اشتیاق احمد منہاج یونیورسٹی کے اسکالر،ڈاءریکٹر نظامت دعوت علامہ سعید رضا...
07/04/2024

تحریک منہاج القرآن کراچی کے سیکرٹری اطلاعات راؤ اشتیاق احمد منہاج یونیورسٹی کے اسکالر،ڈاءریکٹر نظامت دعوت علامہ سعید رضا بغدادی کو معروف شاعر و ناول نگار پروفیسر خیال آفاقی کا نعتیہ کلام پیش کررہے ہیں ۔اس موقع پر علامہ محمود مسعود،مرزا جنید علی،محمد کرامت ودیگر بھی موجود ہیں

31/10/2023

Address

Karachi
74100

Telephone

+923242309007

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when مصطفوی معاشرہ posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to مصطفوی معاشرہ:

Share