Explore the World

Explore the World 107 Gilgit Baltistan Pakistan

گلگت بلتستان آنے والے سیاح گلگت بلتستان میں گاڑی کی رفتار ہمیشہ مناسب رکھیں تاکہ کوئی حادثہ  پیش نہ آئے چند روز قبل لاپت...
24/05/2025

گلگت بلتستان آنے والے سیاح گلگت بلتستان میں گاڑی کی رفتار ہمیشہ مناسب رکھیں تاکہ کوئی حادثہ پیش نہ آئے چند روز قبل لاپتہ ہونے والے سیاحوں کو بھی روندو کے مقام پر حادثہ پیش آیا شاہراہ بلتستان پر حادثے کا شکار چاروں نوجوانوں کی میت کو ریسکیو کرلیا گیا.
انکا تعلق گجرات سے تھا

اس یورپی پرندے نے جس کے ساتھ ٹریکر بندھا تھا صرف 42 دنوں میں 10000 کلومیٹر سفر طے کیا یعنی اوسط تقریبا 230 کلومیٹر روزان...
06/09/2024

اس یورپی پرندے نے جس کے ساتھ ٹریکر بندھا تھا صرف 42 دنوں میں 10000 کلومیٹر سفر طے کیا یعنی اوسط تقریبا 230 کلومیٹر روزانہ۔ حیرت انگیز طور پر اس نے واپس فن لینڈ جانے کے لئے شمال کی سیدھی لائن کیسے لی۔ صرف ایک دفعہ یہ مادہ پرندہ سمندر کو avoid کرنے کو دریاے نیل کی طرف مڑی لیکن پھر اس نے اپنی لائن سیدھی کر لی۔ انسان ٹیکنالوجی پہ بھروسہ کرتا ہے جبکہ جانور اور پرندے اپنی جبلت پہ،،
ویسے حیرت ہے یہ پہلے فن لینڈ سے موسم سرما گزارنے ساؤتھ افریکہ آئ پھر دوبارہ چلی گئی اور اس 20 ہزار کلومیٹر کے سفر میں اسے کسی نے نقصان نہیں پہنچایا۔

 # **زمین پر پانی کہاں سے آیا**              ترجمہ و تلخیص: قدیر قریشی                  آپ جو پانی پیتے ہیں، جس سے نہاتے...
28/04/2023

# **زمین پر پانی کہاں سے آیا**

ترجمہ و تلخیص: قدیر قریشی

آپ جو پانی پیتے ہیں، جس سے نہاتے ہیں، کپڑے دھوتے ہیں، کھانا پکاتے ہیں، اس پانی کی عمر زمین کی عمر سے بھی زیادہ ہے- یہ پانی کم از کم 4.6 ارب سال پرانا ہے-

زمین کی سطح کا لگ بھگ 70 فیصد حصہ پانی سے ڈھکا ہوا ہے- بظاہر زمین نظام شمسی کا واحد سیارہ ہے جس کی سطح پر پانی مائع حالت میں موجود ہے- سوال یہ ہے کہ زمین پر پانی کیسے آیا- کیا یہ پانی زمین کی تشکیل کے وقت سے ہی زمین کا حصہ ہے یا پھر زمین کی تشکیل کے بعد زمین پر پہنچا-

پانی کی تشکیل کے پراسیس کو سمجھنے کے لیے ہمیں کائنات میں اربوں سال پہلے کے حالات کو سمجھنا ہو گا- کائنات کا آغاز آج سے 13.8 ارب سال پہلے بگ بینگ سے ہوا۔ بگ بینگ کے فوراً بعد کائنات میں صرف تین عناصر موجود تھے، ہائیڈروجن، ہیلیئم، اور انتہائی کم مقدار میں لیتھیم- اس وقت کائنات میں کہیں آکسیجن موجود نہیں تھی جو پانی کی تشکیل کے لیے ضروری ہے (پانی کے ہر مالیکیول میں دو ایٹم ہائیڈروجن کے اور ایک ایٹم آکسیجن کا ہوتا ہے)

بگ بینگ کے لگ بھگ تیس سے چالیس کروڑ سال بعد کائنات میں پہلے ستارے روشن ہوئے- یہ ستارے صرف ہائیڈروجن اور ہیلیئم پر مشتمل تھے- ان کی کور میں فیوژن سے زیادہ بڑے مرکزے بننے لگے جن میں آکسیجن کے مرکزے بھی شامل تھے- جب یہ ستارے سپر نووا ہو کر پھٹتے تو یہ بھاری عناصر (بشمول آکسیجن کے) سینکڑوں نوری سال دور تک پھیل جاتے- انہی دھماکوں میں آکسیجن اور ہائیڈروجن کے ایٹم آپس میں مل کر کثیر تعداد میں پانی کے مالیکیول یعنی H2O بھی بناتے- گویا پانی اربوں سال پہلے تشکیل پایا اور کائنات میں جگہ جگہ موجود ہے

اب سوال یہ ہے کہ یہ پانی زمین تک کیسے پہنچا- ہمارے نظام شمسی کی تشکیل ہائیڈروجن کے جس بادل سے ہوئی اس کے چند نوری سال دور ایک ستارہ سپرنووا ہو کر پھٹا جس سے بہت سے بھاری عناصر اور پانی کے مالیکیول ہائیڈروجن کے اس بادل میں بھی پھیل گئے- سپر نووا کی پریشر ویوو سے یہ بادل سکڑنے لگا اور اس میں گھماؤ بھی پیدا ہو گیا- اس میٹیریل کے سکڑنے سے سورج کی تشکیل ہوئی اور بچے کھچے میٹیریل سے شمسی سیارے، سیارچے، اور شہابیے تشکیل پائے- اس اجسام میں پانی کثیر مقدار میں موجود تھا

جو اجسام سورج کے نسبتاً پاس تھے (جن میں زمین بھی شامل تھی) وہاں سورج کی حرارت اور سولر ونڈ کی وجہ سے پانی کے مالیکیول ابتدا میں ہی خارج ہو گئے- زمین ابتدا میں انتہائی گرم میگما پر مشتمل تھی جس سے زمین کا تمام پانی جلد ہی بھاپ بن کر خارج ہو گیا- اکثر سائنس دان اس بات پر متفق ہیں کہ زمین کی کرسٹ کے ٹھنڈا ہونے کے بعد زمین کی سطح پر کروڑوں کی تعداد میں شہابیے گرے جن میں بہت سا پانی برف کی صورت میں موجود تھا- یہ شہابیے سورج سے بہت دور تشکیل پائے تھے جہاں سورج کی حرارت اس قدر کم تھی کہ پانی برف کی صورت میں رہ سکتا تھا- زمین کی تشکیل کے چند کروڑ سال بعد ہی مشتری اور زحل کی کشش ثقل کی وجہ سے بہت سے سیارچے اپنے مدار سے بھٹک گئے اور زمین اور قریبی سیاروں (اور چاند) پر گرنے لگے- اس کے علاوہ کچھ پانی دم دار ستاروں یعنی comets کے ساتھ بھی زمین پر آیا

ہم یہ کیسے معلوم کر سکتے ہیں کہ زمین پر موجودہ پانی شہابیوں کے ذریعے آیا یا دم دار ستاروں یعنی comets کی وجہ سے؟ یہ سمجھنے کے لیے ہمیں پہلے ہائیڈروجن کے آئسوٹوپس کو سمجھنا ہو گا- ہائیڈروجن کے اکثر ایٹموں کے نیوکلیس میں صرف ایک پروٹان ہوتا ہے- لیکن ہائیڈروجن کے کچھ ایٹموں کے نیوکلیس میں پروٹان کے علاوہ ایک نیوٹران بھی ہوتا ہے- ہائیڈروجن کی اس قسم کو ڈیوٹیریم کہا جاتا ہے- اس نیوٹران کی وجہ سے ڈیوٹیریم کا ایٹم ہائیڈروجن کے ایٹم سے دوگنے ماس کا حامل ہوتا ہے- ہائیڈروجن کی طرح ڈیوٹیریم بھی بگ بینگ کے فوراً بعد یعنی بگ بینگ کے لگ بھگ بیس منٹ کے اندر اندر تشکیل پا چکی تھی-

جب سائنس دانوں نے سمندر کے پانی میں ہائیڈروجن اور ڈیوٹیریم کے تناسب کو سٹڈی کیا تو انہیں معلوم ہوا کہ یہ تناسب عین وہی ہے جو کئی شہابیوں میں پایا گیا ہے- زمین پرکئی ایسے شہابیے گر چکے ہیں جو ساڑھے چار ارب سال پرانے ہیں اور ان میں پانی کے مالیکیول موجود ہیں- ان شہابیوں میں موجود پانی میں ڈیوٹیریم کا تناسب وہی ہے جو سمندر کے پانی میں ہے- اب تک دم دار ستاروں میں پائی جانے والی ہائیڈروجن پر جو تحقیق کی گئی ہے اس کے مطابق دم دار ستاروں میں ڈیوٹیریم کی مقدار کا تناسب شہابیوں اور سمندر کے پانی میں پائی جانے والی ڈیوٹیریم کے تناسب سے دوگنا ہے- اس سے ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ زمین کی سطح پر پائے جانے والے پانی کا بیشتر حصہ شہابیوں سے ہی زمین پر آیا ہے، دم دار ستاروں سے نہیں-

عینک والی 5فیصد
27/12/2018

عینک والی 5فیصد

27/12/2018

سالگرہ مرزا اسد اللہ غالب

27/12/2018

شہادت سابق وزیر اعظم محترمہ بے نظیر بھٹو

ہو جس سے اختلاف اسے مار دیجیے۔
26/12/2018

ہو جس سے اختلاف اسے مار دیجیے۔

کراچی میں فائرنگ، ایم کیو ایم پاکستان کے سابق رکن قومی اسمبلی علی رضا عابدی جاں بحق
25/12/2018

کراچی میں فائرنگ، ایم کیو ایم پاکستان کے سابق رکن قومی اسمبلی علی رضا عابدی جاں بحق

جلد بڑی سکرین پر آنے والی ہے
25/12/2018

جلد بڑی سکرین پر آنے والی ہے

Address

Skardu
Karachi

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Explore the World posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category