Bajeer Photography

Bajeer Photography Advocate Muhammad Ramzan Bajeer Contact Ramzan Bajeer

04/12/2025

Super sixes League chachro season 1

المیہ یہ ہے کہ ہر شخص انفرادی طور پر کرپٹ رہتے ہوئے اجتماعی طور پر معاشرے کو بہتر اور بااخلاق دیکھنا چاہتا ہے           ...
19/11/2024

المیہ یہ ہے کہ ہر شخص انفرادی طور پر کرپٹ رہتے ہوئے اجتماعی طور پر معاشرے کو بہتر اور بااخلاق دیکھنا چاہتا ہے

Deer in the Zoo.Follow Bajeer Photography
14/05/2024

Deer in the Zoo.

Follow Bajeer Photography

Injustice anywhere is a threat to justice everywhere . ⚖️City Court Karachi ♎⚖️Everyone
25/01/2024

Injustice anywhere is a threat to justice everywhere . ⚖️
City Court Karachi ♎⚖️

Everyone

Wishing you a day filled with happiness and a year filled with joy. Happy birthday!Happy Birthday Brother Advocate Aamir...
15/11/2023

Wishing you a day filled with happiness and a year filled with joy. Happy birthday!

Happy Birthday Brother Advocate Aamir Ali Bhutto
May you have many more Dear 🥰

رجسٹرار کے اختیارات کے متعلق سپریم کورٹ کا ایک اہم فیصلہ ! فیصلے کی تفصیل میں جانے سے پہلے کیس کے مختصر حقائق کچھ یوں ہی...
13/11/2023

رجسٹرار کے اختیارات کے متعلق سپریم کورٹ کا ایک اہم فیصلہ !

فیصلے کی تفصیل میں جانے سے پہلے کیس کے مختصر حقائق کچھ یوں ہیں کہ:

قوسین فیصل، ایڈووکیٹ سپریم کورٹ نے بطور درخواست گزار اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل ایک سو چوراسی (تین) کے تحت ایک آئینی درخواست دائر کی گئی جس کو سپریم کورٹ کے رجسٹرار نے مندرجہ ذیل نکات کی بنیاد پر خارج کر دیا :

ا) یہ کہ آئین کا آرٹیکل ایک سو چوراسی (تین) کا دائرہ کار غیر معمولی حالات کے لئے ہے اور اس کے تحت انفرادی نوعیت کے شکایتوں کا ازالہ نہیں کیا جاسکتا ۔
نوٹ : رجسٹرار نے اپنے نکتے کے لئے سپریم کورٹ کے کیس لا (1998 SCMR 793 ) پر انحصار کیا ہے ۔

ب) یہ کہ ریسپانڈنٹ کو نہ تو درخواست کی کاپیاں فراہم کی گئی ہیں اور نہ ہی ان کو بیجھا جانے والا نوٹس درخواست میں واضح طور پر مینشن ہے اور اس کے علاؤہ اس درخواست کا مقصد بھی واضح نہیں ہے کہ یہ کس مقصد کے لیے دائر کیا گیا ہے ۔

ج) یہ کہ درخواست گزار نے صراحتاً کہیں پر بھی یہ زکر نہیں کیا کہ اس کیس میں بنیادی انسانی حقوق جو کہ آئین پاکستان میں درج ہیں تو اس کے کونسے متعلقہ حقوق کی پامالی کا سوال ہے ۔

ح) یہ کہ درخواست گزار نے قانون میں موجود اور کوئ راستہ اپنائے بغیر یہ درخواست دی ہے اور درخواست گزار کی جانب سے اس قدم کی کوئ توجیہ بھی پیش نہیں کی گئی ۔

خ) یہ کہ یہ درخواست ان بنیادی باتوں کو پورا نہیں کرتی یا ان بنیادی باتوں پر پورا نہیں اترتی جس کی رو سے آئین کے آرٹیکل ایک سو چوراسی (تین) کے تحت درخواست دی جاسکتی ہے ۔

ع) یہ کہ درخواست میں اوور رائیٹنگ اور کٹنگ جا بجا موجود ہے ۔

درخواست گزار نے رجسٹرار کی جانب سے درخواست خارج ہونے کے بعد سپریم کورٹ رولز کے تحت رجسٹرار کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی جس پر جسٹس منصور علی شاہ صاحب کی طرف سے مندرجہ ذیل فیصلہ دیا گیا ۔

فیصلے کا آغاز جسٹس منصور علی شاہ صاحب اس بات سے کرتے ہیں کہ رولز کے تحت رجسٹرار کے پاس جو اختیارات ہیں تو ان میں زیادہ تر انتظامی اور وزارتی حیثیت رکھتے ہیں ۔ اس کے بعد فیصلے میں رولز کے تحت رجسٹرار کے اختیارات بیان کئے گئے ہیں جیسا کہ کوئ بھی درخواست ، اپیل جو کہ سپریم کورٹ میں دائر کی جارہی ہو تو اس میں پریکٹس اور پروسیجر کے مطابق ترامیم کا اختیار ، کوئ دستاویز وصول کرنے سے انکار جو کہ خلاف اصول دی جارہی ہو۔ یہاں پر جسٹس صاحب نے ایک مرتبہ پھر رجسٹرار کے اختیارات کو صرف انتظامی کہا ہے اور صراحتاً اس بات کا زکر کیا ہے کہ رجسٹرار کے پاس قطعا ایسا کوئ اختیار نہیں کہ جس کی رو سے رجسٹرار یہ فیصلہ کرے کہ کسی درخواست میں اٹھائے جانے والا نکتہ قانونی اور حقیقی ہے یا نہیں اور اس بات کا اختیار صرف عدالت کے پاس ہے ۔ اس کے جسٹس صاحب نے ایک مرتبہ پھر مزید صراحت کے ساتھ اس بات کا زکر کیا ہے کہ رجسٹرار کے اختیارات صرف انتظامی ہیں اور وہ کسی صورت عدالتی اختیارات کو استعمال نہیں کر سکتا اور یہ آئین میں ایسی کوئ شق نہیں کہ جس کی رو سے رجسٹرار درخواستوں کے قابل سماعت اور ناقابل سماعت کے فیصلے کرے اور یہ کہ درخواستوں کے قابل سماعت اور ناقابل سماعت کا اختیار مکمل طور پر عدالت کے پاس ہے ۔ اس کے بعد جسٹس صاحب نے قرار دیا کہ جن وجوہات کی بناء پر درخواست گزار کی درخواست خارج کی تو اس وجوہات میں میں وجہ سےا ، ج ، ح ، خ کا تعلق عدالتی اختیارات کے ساتھ ہے اور ان وجوہات کی بنیاد پر فیصلہ کرنا صرف عدالت کا دائرہ اختیار ہے جبکہ وجہ ب اور ع کی بابت فیصلہ انتظامی امور میں آتا ہے اور اس وجہ سے ان امور کی بابت رجسٹرار فیصلہ کر سکتا ہے اور ان وجوہات کی بابت رجسٹرار کے فیصلے کو درست قرار دیتے ہوئے درخواست گزار کو دو ہفتوں کے اندر یہ دو نقائص دور کرنے کا وقت دیا اور ایسا کرنے کے بعد رجسٹرار کو حکم دیا گیا کہ یہ درخواست قبول کر کے اس کو عدالت کے مقرر کیا جائے۔

This Important Judgement Can Be Searched And Cited As C.M Appeal No 87 Of 2022۔

مندرجہ بالا مقدمہ PLD 2022 SC 675 پر رپورٹ کیا گیا ہے۔

Aamir Ali Bhutto Librarian Post

08/10/2022

میں اگر اپنی جوانی کہ سنا دوں قصے۔۔ 👉👉🤫
یہ جو لونڈے ہیں میرے پاؤں دبانے لگ جائیں۔ ۔ 💪💪🤫🤫
پیارے دادا جان۔ ۔ ۔
لو یو۔ ۔ ۔🥰🥰

Bajeer Photography & Videography
Plzzz Like, Comment & Share. .

29/09/2022

دیکھا ہزاروں دفہ آپ کو پھر بیکراری کیسی ہے۔ ۔ ۔
With Piyara Bhanjha. .
Bajeer Photography
Video Credit Ramzan Bajeer
Follow my page to get more beautiful Pics, Videos & many more. . . .
Thank you. . .🥰🥰

Address

Rathore Moholla Ward#311 Umerkot
Karachi

Telephone

+923465221475

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Bajeer Photography posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Bajeer Photography:

Share

Category