08/09/2024
جس کی جھنکار میں دل کا آرام تھا وہ تیرا نام تھا
میرے ھونٹوں پہ رقصاں جو اک نام تھا وہ تیرا نام تھا
تہمتیں مجھ پہ آتی رھی ہیں کئی ایک سے ایک
خوبصورت مگر جو اک الزام تھا وہ تیرا نام تھا
دوست جتنے بھی تھے ناآشنا ھو گئے پارسا ھو گئے
جو میرے ساتھ رسوا سرِ عام تھا وہ تیرا نام تھا
صبح سے شام تک جو میرے پاس تھا وہ تیری آس تھی
شام کے بعد جو کچھ لبِ بام تھا وہ تیرا نام تھا
تیرے ھی نام سے ھے قتیل آج شاعری کا ولی
اُس کے شعروں میں کل بھی جو الہام تھا وہ تیرا نام تھا
قتیل شفائی