06/08/2026
اوچ گل امام،
ایک پسماندہ گاؤں،ایک تحصیل،ایک نیم خود مختار ریاست جہاں 17ویں عیسوی میں چاول کے کھیت،خوبصورت لہلہاتے کھیت ودرخت،سبزہ زاروں کی زمین اور تو اور اوچ کے قلعہ و شہر کے سامنے جھیل،اور جھیل میں پانی میلوں دور دریائے جہلم سے ماچھیوال کے مقام سے نہر کھود کے لایا گیا ہو
ہے نا تخیلاتی تصویر لیکن یہ حقیقت ہے جس کا اعتراف انگریز نے اپنی کتاب گیزیٹر میں کیا
1,,اوچ کے سادات جھنگ کے وہ آ خری قبیلہ سادات ہیں جن کے بارے میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ کبھی نیم خود مختار تھے اس خاندان کے بانی سید گل امام بلوٹ سے تشریف لائے جو دریائے سندھ کے کنارے واقع ہے اس وقت جھنگ کی عملداری عنایت اللہ سیال کے پاس تھی
2,,,سید گل امام سب سے پہلے روڈو سلطان آ ئے یہاں پہ ایک بزرگ روڈو سلطان آ پ کے مرید ہوئے
3,,,سید گل امام شیمو بھڑ کے ریتلے ٹیلے پر منتقل ہو گئے جس جگہ کو آ ج دنیا اوچ گل امام کے نام سے جانتی ہے
4,,, چند ہی سالوں میں لوگ آ پ کے گرویدہ ہو گئے آ پ نے قلعہ اوچ تعمیر کرنا شروع کر دیا،عنایت اللہ سیال والئ جھنگ نے آ پ کی مدد کی اور جاگیر کے طور پر کئی علاقے آ پ کے سپرد کر دیئے سید گل امام ولئی کامل کے ساتھ ساتھ وسیع النظر شخصیت کے مالک تھے
5,,,,, سید گل امام نے اپنے علاقے میں کئی قلعے تعمیر کروائے تا کہ تھل کی طرف سے آ نے والے حملہ آ وروں کو روکا جا سکے جن میں قلعہ ماچھیوال،،ست،،دولوانہ،سیدا،،سونی،،ہزارہ،،چاندنہ شامل ہیں
6,,,, سید گل امام کا سب سے بڑا عوامی فلاحی منصوبہ اوچ نہر کی تعمیر ہے جو ماچھیوال کے مقام سے دریا جہلم سے نکالی گئی اور اوچ تک لائی گئی،جس سے زمینوں کو سیراب کرنے سے علاقہ ویرانے سے لہلہاتے کھیتوں میں تبدیل ہو گیا یہ نہر 60 سال کے بعد ختم ہو گئی
6,,,,اوچ کے قلعہ و شہر کے سامنے ایک جھیل بنائی گئی اور کشتی رانی ہوتی اور آ بی گزر گاہ کے طور پر استعمال ہوتی
7,,, رنجیت سنگھ کے حملے کے ساتھ اوچ گل امام ویران کر دیا گیا اوچ سے لوگ نکل مقانی کر گئے
محو حیرت ہوں کہ کیا سے کیا ہو گیا،،،غلطی کی نشاندھی کمنٹ میں،دعاؤں سے نوازیں ❤️ سے اگر پوسٹ اچھی لگے شئیر کریں دوسروں کو،ہو سکتا ہے کسی کو اچھی لگے .