20/05/2026
آج ایک عجیب ناانصافی کا سامنا ہوا۔ اپنی ذاتی گاڑی میں اپنا سامان لے جا رہا تھا کہ ٹریفک وارڈنز نے “اوور لوڈنگ” کے نام پر 5000 روپے کا چالان کر دیا۔
حالانکہ نہ سامان گاڑی کی چھت پر تھا، نہ باہر نکلا ہوا تھا، نہ کسی کے لیے کوئی خطرہ تھا۔ میں سیٹ بیلٹ لگا کر، قانون کے مطابق گاڑی چلا رہا تھا۔
افسوس اس بات کا ہے کہ ہمارے ملک میں قانون اکثر وہاں نافذ ہوتا ہے جہاں ایک عام آدمی کمزور ہو۔ بااثر لوگ، سفارش والے، اور بڑے خاندانوں کے لوگ اکثر بچ نکلتے ہیں، جبکہ ایک عام شہری دن بھر محنت کے بعد بھی ذلت اور جرمانوں کا سامنا کرتا ہے۔
آخر ایک عام بندہ کرے تو کیا کرے؟ اگر اپنی ذاتی گاڑی میں اپنا سامان لے جا کر کاروبار بھی نہیں کر سکتا، تو پھر ایسی سواری رکھنے کا فائدہ ہی کیا رہ جاتا ہے؟
شاید اسی لیے آج لوگ اس ملک کو چھوڑنے کا سوچتے ہیں، کیونکہ جہاں انصاف برابر نہ ہو وہاں دل بھی آہستہ آہستہ ٹوٹ جاتا ہے۔
Copy